Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Al-Risala December 2012
Al-Risala December 2012

دورِ فتنہ کی واپسی

Urdu · 8 min read

عبد اللہ بن زبیر (وفات: 73 ہجری) کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان آپس میں جنگ ہوئی- اُس زمانے میں مشہور صحابی عبد اللہ بن عمر (وفات: 73ہجری) موجود تھے، لیکن انھوں نے اِس جنگ میں حصہ نہیں لیا- اُس زمانے کا ایک واقعہ کتابوں میں اِس طرح آیا ہے: سعید بن جبیر تابعی کہتے ہیں کہ ایک دن عبد اللہ بن عمر ہمارے پاس آئے- ایک آدمی نے اُن سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے فتنہ کے خلاف جنگ کے معاملے میں- عبد اللہ بن عمر نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے- پھر انھوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے جنگ کرتے تھے، اور مشرکوں کے یہاں جانا فتنہ تھا، نہ کہ تمھاری طرح اقتدار کے لیے جنگ کرنا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4651)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک اور روایت میں اِس طرح کے الفاظ آئے ہیں: نافع تابعی کہتے ہیں کہ فتنہ ابن زبیر کے زمانے میں دو آدمی عبد اللہ بن عمر کے پاس آئے - انھوں نے کہا کہ لوگ ہلاک ہورہے ہیں اور آپ عمر بن الخطاب کے بیٹے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں- آپ کو کیا چیز اِس سے روک رہی ہے کہ آپ نکلیں اور اِس جنگ میں شریک ہوں- عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کا خون میرے لیے حرام قرار دیا ہے- پھر اُن آدمیوں نے کہا: کیا اللہ نے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ: وقاتلوہم حتى لا تکون فتنة (8:39) یعنی اُن سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے- اِس کے بعد عبد اللہ بن عمر نے کہا: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ- وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ(ہم نے جنگ کی، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوگیا اور دین، اللہ کے لیے ہوگیا- اور تم لوگ چاہتے ہو کہ تم جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ لوٹ آئے اور دین دوبارہ غیر اللہ کے لیے ہو جائے)- صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4513

unverifiedAttribution could not be verified automatically

نافع تابعی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبد اللہ بن عمر کے پاس آیا- اس نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ خدا نے اپنی کتاب میں یہ کہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دوگروہ آپس میں لڑیں تو تم اُن کے درمیان صلح کراؤ(49:9)- آپ کو اِس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ وہ جنگ کریں جس کا حکم اللہ نے اپنی کتاب میں دیا ہے-عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ تم مجھ کو اِس آیت سے غیرت دلاتے ہو کہ مجھ کو لڑنا چاہئے، مگر مجھ کو یہ زیادہ محبوب ہے کہ تم مجھ کو اُس آیت سے غیرت دلاؤ جس میں اللہ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا(4:93)- اُس آدمی نے کہا کہ اللہ نے تو کہا ہے کہ تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے- عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ وہ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کرچکے- یہ اُس وقت کی بات ہے جب کہ اسلام قلیل تھا، چناں چہ آدمی اپنے دین کی وجہ سے ستایا جاتا تھا- لوگ یا تو اہلِ دین کو قتل کردیتے تھے یا وہ اس پر زیادتی کرتے تھے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور فتنہ باقی نہ رہا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4650 )

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس روایت میں ’’وکان الدخول علیہم فتنة‘‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی مشرکین کے یہاں جانا ایک فتنہ تھا- یہ جانے والے کون لوگ ہوتے تھے- یہ وہ لوگ ہوتے تھے جو موحد اور داعی تھے- جب وہ مشرکین کے یہاں موحد کی حیثیت سے اور توحید کے داعی کی حیثیت سے جاتے تو مشرکین اُن کو طرح طرح سے ستاتے تھے، کیوں کہ توحید کا عقیدہ مشرکین کے عقیدہ شرک کے خلاف تھا- اِس کا سبب یہ تھا کہ اُس زمانے میں مذہب، سیاسی اقتدار کا ایک حصہ بنا ہوا تھا- اِسی واقعے کو ایک قدیم مقولے میں اِس طرح کہاگیا ہے: الناس على دین ملوکہم (لوگ اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتے ہیں)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانے میں مذہب، ریاست (state) سے وفاداری کی علامت بن گیا تھا- جو آدمی بادشاہ کے مذہب پر ہو، وہ ریاست کا وفادار سمجھا جاتا تھا، اور جو آدمی ریاست کے مذہب پر نہ ہو، وہ ریاست کا باغی قرار پاتا تھا- شرک اور اقتدار کے اِس تعلق کی بنا پر قدیم زمانے میں وہ چیز پیداہوئی جس کو قرآن میں فتنہ کہاگیا ہے، یعنی مذہبی جبر(religious persecution) - یہ فتنہ یا مذہبی جبر خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف تھا- خدا کی منشا یہ ہے کہ لوگوں کو مذہب کے معاملے میں آزادئ اختیار (freedom of choice) حاصل ہو، تاکہ اُس کے مطابق، آخرت میں اُن کے مثبت یا منفی مستقبل کا فیصلہ کیا جاسکے- اِس بنا پر اللہ تعالی نے رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا کہ اہلِ شرک اگر پُرامن نصیحت کے ذریعے مذہبی جبر کے اِس کلچر کو ختم کرنے پر راضی نہ ہوں تو تم جنگ کرکے اِس کلچر کو ختم کردو، تاکہ انسان کو اختیار کی آزادی حاصل ہوجائے، جو کہ منصوبہ تخلیق کے مطابق، لازمی طورپر مطلوب ہے-قرآن کے الفاظ (8:39)پر غور کیا جائے تو یہ حکم صرف استیصالِ فتنہ کے لیے تھا، وہ کسی قسم کے نظام (system) کی اقامت یا نفاذ کے لیے نہ تھا، یعنی یہ حکم سلبی معنوں میں تھا، نہ کہ ایجابی معنوں میں- اِس کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی آزادی کی راہ میں جو رکاوٹ حائل ہے، وہ ختم ہوجائے- اِس کے بعد یہ آدمی کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کی اطاعت کے لیے استعمال کرتا ہے، یا خدا سے انحراف کے لیے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

فتنہ ابن زبیر میں شریک ہونے والوں سے عبد اللہ بن عمر نے کہا تھا کہ: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ- وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ- اِس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ قرآن میں جنگ کا حکم صرف ایک مقصد کے لیے دیاگیا تھا اور وہ تھا مذہبی تعذیب (religious persecution) کو ختم کرنے کے لیے، اور اصحابِ رسول نے جنگ کرکے اس کو ختم کردیا- اب تم لوگ قرآن کی اِس آیت کے نام پر اقتدار کی جنگ کررہے ہو، جس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ دنیا میں مذہبی تعذیب کی جگہ سیاسی تعذیب (political persecution) کا دور آجائے- یہ اصلاح کے نام پر صرف فساد ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عبد اللہ بن عمر کے اِس قول کو ایک حدیث کی روشنی میں سمجھئے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو انتباہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: إذا وضع السیف فی أمتی، لم یرفع عنہا إلى یوم القیامة (الترمذی، رقم الحدیث: 2202) یعنی جب میری امت میں تلوار داخل ہوجائے گی تو وہ اُس سے قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پیشین گوئی کی زبان میں اُس صورتِ حال کی خبر ہے جو بعد کے زمانے میں امت کے اندر بہت بڑے پیمانے پر ایک واقعہ بن گئی- تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے تقریباً 25 سال بعد مسلمانوں کے درمیان’’اصلاحِ سیاست‘‘ کے نام پر باہمی جنگ کا آغاز ہوا- اِس کو قدیم اصلاح کے مطابق، ’’خروج‘‘ کہاجاتا ہے- تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ سیاسی جنگ ایک بار شروع ہونے کے بعد دوبارہ کبھی ختم نہ ہوئی- ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے یہ جنگ امت مسلمہ کے اندر جاری ہے، کبھی ایک صورت میں اور کبھی دوسری صورت میں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاریخ بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان مذہب کے نام پر سیاست شروع ہوگئی- یہ طریقہ بلاشبہ اسلام کی اصل تعلیمات سے انحراف تھا- اگر اِس طریقے کو اسلام کا مطلوب طریقہ قرار دیا جائے تو کوئی کہنے والا جائز طورپر یہ کہہ سکتا ہے کہ — اسلام نے مذہبی تعذیب کو ختم نہیں کیا، بلکہ اسلام نے مذہبی تعذیب کی جگہ سیاسی تعذیب کا طریقہ رائج کردیا-اِس طرح یہ ہوا کہ مذہبی تعذیب کا دور ختم ہوگیا، لیکن اس کی جگہ شدید تر انداز میں سیاسی تعذیب کا د ور انسانی تاریخ میں واپس آگیا- یہ دوسرا دور اب تک جاری ہے— اِس پورے دور کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ الفاظ (إذا وضع السیف فی أمتی الخ) لفظ بلفظ درست ثابت ہوئے ہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ قدیم مذہبی تعذیب صرف جبر کے زور پر قائم تھی، اُس کی پشت پر کوئی فلسفہ یا نظریہ موجود نہ تھا، اس لیے اُس کو ختم کرنا آسان تھا، مگر بعد کے زمانے میں سیاسی تعذیب کا جو طریقہ رائج ہوا، اس کے ساتھ ایک مبرَّر (justification) موجود تھا- اُس کو اسلامی طورپر جائز کردہ تعذیب (Islamically justified persecution) کہاجاسکتا ہے- بعد کے دور میں پیدا ہونے والے تشدد کا یہی وہ نظریاتی پہلو ہے جس کی بنا پر اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ شروع ہونے کے بعد وہ پھر کبھی ختم نہ ہوسکا-اِس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ قدیم طرز کا فتنہ صرف سیاسی جبر کا ایک فتنہ تھا، اُس کو جنگ کے ذریعے ختم کیا جاسکتا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والا فتنہ ایک نظریاتی فتنہ ہے، اس کو جنگ کے ذریعے ختم کرنا ممکن نہیں- اُس کو ختم کرنے کے لیے ایک طاقت ور جوابی نظریہ (counter ideology) درکار ہے- کوئی بھی دوسری تدبیر اِس دوسرے فتنے کو ختم کرنے کے لیے موثر (effective) نہیں ہوسکتی-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content