Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2012
Al-Risala December 2012

دورِ جدید موافقِ اسلام دور

Urdu · 2 min read

آج اسلام شدید خطرے میں ہے، وہ عصری طوفانوں کی زد میں ہے— یہ بات موجودہ زمانے میں تقریباً تمام مسلمان مختلف انداز میں دہرا رہے ہیں، مگر یہ بات جتنی زیادہ دہرائی جاتی ہے، اتنی ہی زیادہ وہ بے اصل ہے- جو لوگ یہ باتیں کہتے ہیں، ان کے بارے میں یقینی طورپر کہاجاسکتا ہے کہ وہ نہ اسلام کو سمجھتے ہیں اورنہ عصری تقاضوں کو-اِس جملے میں پہلی غلطی یہ ہے کہ اس میں اسلام اور مسلم قوم دونوں کو ایک سمجھ لیاگیا ہے- موجودہ زمانے میں اگر بالفرض کوئی خطرہ ہے تو وہ صرف مسلم قوم کے لیے ہے- جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں، کیوں کہ اسلام ایک دین ِ محفوظ ہے، اللہ نے خوداس کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے، اور جس دین کا محافظ خود اللہ تعالی ہو، اس کے لیے خطرے کاکوئی سوال نہیں- اِس واقعے کا ایک عملی ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، اتنی زیادہ سرگرمی اِس سے پہلے کبھی موجود نہ تھیں-

یہی معاملہ دورِ جدید کا ہے- دور جدید اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک موافقِ اسلام دور ہے، نہ کہ مخالفِ اسلام دور- دور جدید کو مخالفِ اسلام دور بتانا، صرف اِس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دورِ جدید کی الف ب بھی نہیں جانتا- ایسا آدمی دراصل مسلم قومی ذہن کے تحت سوچ رہا ہے اور غلط فہمی کی بنا پر اس کو وہ اسلام کے اوپر منطبق کررہا ہے-

دورِ جدید کیا ہے، دورِ جدید عقلی طرز فکر (rational thinking) کا نام ہے، اور عقلی طرز فکر مکمل طورپر اسلام کے لیے مفید ہے- دورِ جدید مذہبی آزادی کا دور ہے، اور مذہبی آزادی مکمل طورپر اسلام کے لیے مفید ہے- دورِ جدید کمیونکیشن کا دور ہے، اور کمیونکیشن مکمل طورپر اسلام کے لیے مفید ہے- دورِ جدید پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا مکمل طورپر اسلام کے لیے مفید ہے، وغیرہ- ایسی حالت میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ دورِ جدید کے موافقِ اسلام پہلوؤں کو دریافت کرکے اس کو اسلام کےحق میں استعمال کریں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.