← Al-Risala December 2012Al-Risala December 2012
مغربی تہذیب کا مسئلہ
Urdu · 5 min read
امت مسلمہ کی تاریخ میں بہت سے ایسے مسئلے پیش آئے جن کو فتنہ کہاجاتا ہے- مثلاً باطنیت کا فتنہ، وحدتِ وجود کا فتنہ، انکارِ حدیث کا فتنہ، قادیانیت کا فتنہ ، وغیرہ- تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ماضی میں اِس قسم کا کوئی فتنہ پیدا ہوا تو بہت سے علما اٹھے جنھوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کا بھرپور رد کیا- اس کے بعد یہ ہوا کہ بہت سے مسلمان جو ان فتنوں سے متاثر ہوئے تھے، انھوںنے ان سے توبہ کی اور وہ امت مسلمہ کی مین اسٹریم (mainstream) میں شامل ہوگئے-
تاریخ مزید بتاتی ہے کہ اِن موقعوں پر ایسا نہیں ہوا کہ ایک فتنہ دوبارہ ایک نئے فتنے کی شکل اختیار کرلے، یعنی جو لوگ ان فتنوں سے ذہنی طورپر متاثر ہوئے تھے، انھو ں نے اپنی اصلاح کر لی اور اربابِ فتنہ سے الگ ہوکر وہ اسلامی زندگی گزارنے لگے-
موجودہ زمانے میں بھی اِسی قسم کا ایک ’’فتنہ‘‘ پیش آیا- یہ مغربی تہذیب کا فتنہ تھا- یہ فتنہ ابتدائی طورپر یورپ کی نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں اپنے عروج پر پہنچ گیا- اُس وقت بہت سے عرب اور غیر عرب مصلحین پیدا ہوئے جنھوں ے مغربی تہذیب کے خلاف زبان وقلم کے ذریعے جہاد شروع کیا- یہ جہاد بظاہر کامیاب رہا- بہت سے مسلم نوجوان جو مغربی تہذیب سے متاثر ہوئے تھے، وہ اس سے تائب ہوگئے-
اِس کامیابی کا عمومی طور پر اعتراف کیاگیا- حتی کہ ان مصلحین میں سے کئی افراد ایسے تھے جن کو بڑے بڑے القاب دئے گئے- مثلاً مفکرِ اسلام، معمارِ ملت، عہد ساز شخصیت، مجدّدِ دوراں، وغیرہ-مگر واقعات بتاتے ہیں کہ قدیم فتنوں کے مقابلےمیں جدید فتنے کا معاملہ اپنے حقیقی نتیجہ (result) کے لحاظ سے بالکل مختلف ثابت ہوا، یعنی بظاہر نظری سطح پر خاتمہ کے نتیجے کے اعتبار سے وہ دوبارہ مزید اِضافے کے ساتھ زندہ ہوگیا- اِن مصلحین نے مسلمانوں کی جدید نسلوں کو یہ باور کرایا تھا کہ — مغربی تہذیب زہریلے پھل کا ایک درخت ہے-جدید تہذیب ایک مسلم دشمن تہذیب ہے- مغربی تہذیب کے تحت پیدا شدہ تعلیمی ادارے قتل گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں- مسلمانوں کا تعلق مغربی تہذیب سے بائیکاٹ کا ہونا چاہئے، نہ کہ اس سے تعاون کا-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ابتدائی طورپر مسلم نوجوانوں پر بظاہر ان باتوں کا اثر ہوا- مسلم نوجوان مغربی تہذیب کے علم برداروں سے لڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے- انھوں نے مغربی تہذیب کے تحت قائم شدہ تعلیمی اداروں کو چھوڑ دیا، انھوں نے مغربی اداروں میں جاب لینے سے انکار کردیا، وغیرہ- مگر بعد کو آسمان نے یہ منظر دیکھا کہ انھیں مسلم نوجوانوں نے بڑے پیمانے پر یوٹرن (U turn) لیا- انھوں نے اور ان کی اولاد نے مغربی تہذیب کے تحت قائم شدہ اداروں میں ڈگریاں حاصل کیں- وہ مغربی تہذیب کے اداروں کے کارکن بن گئے- وہ بہت بڑی تعداد میں مسلم ملکوں سے ہجرت کرکے مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور وہاں سٹل (settle) ہونے پر فخر کرنے لگے-
قدیم فتنوں اور جدید تہذیب کے فتنہ میں نتیجہ (result) کے اعتبار سے یہ فرق کیوں ہے- اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم طرز کے فتنے صرف اعتقادی فتنے تھے، مگر مغربی تہذیب کا معاملہ یہ تھا کہ دنیا کی مادی ترقی سے وہ براہِ راست جڑا ہوا تھا- مغربی تہذیب کے علم برداروں نے جو نئی دنیا بنائی، وہ مادی اعتبار سے ایک نہایت شاندار دنیا تھی- اس کے مکانات، اس کے شہر، اس کے دفاتر، اس کی سواریاں، اس کے سامانِ حیات، ہر چیز نہایت اعلی معیار کی تھی- اِسی حقیقت کو موجودہ زمانے کے ایک مسلم شاعر نے طنزیہ انداز میں اس طرح بیان کیا تھا:
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جااٹکا ہے واں کنسٹر سب بلوری ہیں، یا ںایک پرانا مٹکا ہے
انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے ہمیشہ ترقی کا طالب ہوتا ہے- وہ اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے زیادہ ترقی یافتہ مستقبل دیکھنا چاہتا ہے- مغربی تہذیب میں یہ پہلو نہایت اعلی درجے میں موجود تھا- یہی وجہ ہے کہ مسلم مفکرین کی خلافِ مغرب مہم ابتداء ً نظر ی طورپر کامیاب ہو کر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مکمل طورپر ناکام ہوگئی- مسلم نوجوان ابتدائی طورپر رومانوی جذبات کے تحت جدید تہذیب کے خلاف ہوگئے، مگر بعد کو جب انھوں نے دیکھا کہ ساری ترقیاں مغربی تہذیب اور مغربی علوم سے وابستہ ہیں، تو وہ سب کچھ بھول کر اس کے اوپر ٹوٹ پڑے- جن تعلیمی اداروں کو قتل گاہ سمجھ کر انھوں نے وقتی طورپر چھوڑ دیا تھا، وہ دوبارہ اُسی میں داخل ہوئے اور انھوں نے وہاں سے ڈگریاں حاصل کیں-جن مغربی قوموں کو انھوں نے مسلم دشمن قرار دیا ، انھیں کے اداروں میں جاب لینے کو وہ اپنے لئے قابلِ فخر سمجھنے لگے- اُن کے بزرگوں نے جن مغربی ملکوں سے ہجرت کا فتوی دیا تھا، انھیں ملکوں میں واپس جاکر وہ پُرفخر طورپر آباد ہونے لگے، وغیرہ-
اصل یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دو حصے تھے — ایک، اس کی سائنس اور دوسرے، اس کا کلچر- مغربی سائنس حقائقِ فطرت کے انکشاف پر مبنی تھی- اُس کے اندر ذاتی طورپر غلطی کا کوئی پہلو شامل نہ تھا- حقیقت یہ ہے کہ مغربی سائنس، قرآن کی اِس آیت کی انفولڈنگ تھی: وسخّرلکم ما فی السموات وما فی الأرض جمیعا منہ (45:13)- وہ قرآن کے الفاظ میں: وآتاکم من کل ما سألتموہ کا ٹکنالوجکل اظہار تھا- وہ آفاق وانفس کی آیات کی وہ تبیین تھی جس کی پیشگی اطلاع قرآن (41:53) میں دے دی گئی تھی-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مغربی تہذیب کا دوسرا پہلو اس کا کلچر تھا- یہ کلچر براہِ راست طورپر سائنس کی پیداوار نہ تھا، بلکہ وہ قومی اور سماجی عوامل کی پیداوار تھا- قومی اور سماجی دائرے میں خالق نے ہر انسان کو آزادی دی ہے- اِس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اس کا غلط استعمال کرے- مغربی کلچر کے جن پہلوؤں کو لے کر ہمارے علما نے اُس کے خلاف ہنگامہ آرائی کی، وہ دراصل آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom) کا نتیجہ تھا، نہ کہ حقیقةً مغربی سائنس کا نتیجہ- اِس معاملے میں ہمارے مفکرین کو اصولِ تمییز (principle of differentiation) کو منطبق کرنا تھا، مگر وہ ایسا نہ کرسکے- نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے افراد ایک فتنے کے استیصال کے نام پر ایک شدید تر فتنے کا شکار ہوگئے، یعنی دہراپن- اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ وہ مغربی تہذیب کے پیدا کردہ مثبت مواقع کے استعمال سے محروم ہو کر رہ گئے-