Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala December 2012
Al-Risala December 2012

بے بنیاد اندیشہ

Urdu · 3 min read

ایک اردو میگزین میں ایک ہندستانی عالم کا مضمون نظر سے گزرا- یہ مضمون موجودہ مسلمانوں کے بارے میں تھا- اِس مضمون کی سرخی یہ تھی: ’’عالمی سطح پر ملتِ اسلامیہ کو گھیرنے کی کوشش‘‘- اِس موضوع پر ایک اور مسلم پروفیسر کا انگریزی مضمون نظر سے گزرا- اس کا عنوان یہ تھا— موجودہ مسلمان محاصرے کی حالت میں:

Present Muslims Under Siege.

مسلم علما اور مسلم رہنماؤں کی طرف سے آج کل ہر جگہ اِس طرح کی تحریریں چھپ رہی ہیں اور اِس طرح کی تقریریں کی جارہی ہیں- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام ذہن یہی ہے- وہ سمجھتے ہیں کہ ہر جگہ وہ مخالفین کی طرف سے کی جانے والی دشمنی اور سازش کے درمیان گھرے ہوئے ہیں- ان کے خیال کے مطابق، یہ صورتِ حال اتنی عام ہے کہ وہ خود مسلم ملکوں میں بھی پائی جاتی ہے-

اِس قسم کی منفی سوچ یقینی طورپر ایک غیر اسلامی سوچ ہے، وہ قومی ذہن سے نکلی ہوئی سوچ ہے، حقیقی اسلامی سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیں- جو مسلمان اِس طرح سوچتے ہیں، اُن کو قرآن کی حسب ذیل آیات پر غور کرنا چاہیے: الذین قال لہم الناسُ إن الناس قد جمعوا لکم فاخشوہم فزادہم إیمانا وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل- فانقلبوا بنعمة من اللہ وفضل لم یمسسہم سوء واتبعوا رضوان اللہ، واللہ ذو فضل عظیم- إنما ذلکم الشیطنُ یخوف أولیاءہ، فلاتخافوہم وخافونِ إن کنتم مؤمنین (3:173-175) یعنی یہ وہ ہیں کہ جن کو لوگوں نے بتایا کہ دشمن نے تمھارے لیے بڑی طاقت اکھٹا کی ہے تو تم اُن سے ڈرو، اِس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور اللہ بہترین کارساز ہے- پس وہ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے- اُن لوگو ں کو کوئی برائی پیش نہ آئی اور وہ اللہ کی رضامندی پر چلے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں ’’قد جمعوا لکم‘‘ کے الفاظ میں جو بات نقل کی گئی ہے، وہ قدیم مدینہ کے منافقین کی بات تھی- منافقین نے جب یہ بات پھیلائی تو اس کو سن کرسچے اہلِ ایمان کا جواب کیا تھا، وہ قرآن کے اِن الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: حسبنا اللہ ونعم الوکیل- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن اندیشہ ناک باتوں کو سن کر سچے اہلِ ایمان کے دلوں میں کوئی خوف پیدا نہیں ہوا، بلکہ اُن کا ایمان اور زیادہ بڑھ گیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

منافق مسلمانوں اور سچے اہلِ ایمان کے درمیان یہ فرق کیوں تھا-اِس کا سبب یہ ہے کہ منافق مسلمانوں کو صرف’’مخالفین‘‘ نظر آتے تھے، وہ اِن مخالفین کی باتوں سے اپنی رائے بناتے تھے- اُن کا حال یہ تھا کہ مخالفین کی طرف سے جو پروپیگنڈہ انھوں نے سنا، اس کو اُسی طرح مان لیا اور لوگوں کے درمیان اس کا چرچا کرنے لگے-

سچے اہلِ ایمان کا معاملہ اِس سے مختلف تھا- سچے اہلِ ایمان کی توجہ ہمیشہ اللہ کے وعدوںاور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی بشارتوں پر ہوتی تھی- سچے اہلِ ایمان کا ذہن قرآن سے اور پیغمبر کی باتوں سے بنا تھا، نہ کہ کسی اور چیز سے- اِس بناپر سچے اہلِ ایمان کے اندر یہ بصیرت پیدا ہوچکی تھی کہ وہ منفی پروپیگنڈہ کا تجزیہ کرسکیں اور مخالفین کی باتوں سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے بنائیں-

یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: أشداء على الکفار (48:29) یعنی وہ غیرتاثر پذیر ذہن کے مالک ہیں- وہ مخالفین کی باتوں سے آزاد ہو کر اپنی رائے بناتے ہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سچے اہلِ ایمان کے اِس ذہن نے ان کے اندر یہ اتھاہ یقین پیدا کردیا تھا کہ جب وہ حق کے راستے پر چل رہے ہیں تو کوئی ان کو نقصان پہنچانے والا نہیں- اپنے اِس ذہن کی بنا پر ان کا یہ حال تھا کہ وہ دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنے کے بجائے ہمیشہ خود اپنا جائزہ لیتے رہتے ـتھے، کیوں کہ ان کو یقین تھا کہ وہ حق پر ہیں، ان کو ضرور اللہ کی مدد پہنچتی رہے گی- اُن کے نزدیک اصل مسئلہ خود اپنے آپ کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنا تھا، نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے کا-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content