قرآن کی سورہ یونس میں ارشاد ہوا ہے: ربنا لا تجعلنا فتنةً للقوم الظالمین (10:85) یعنی اے ہمارے رب، تو ہم کو ظالم لوگوں کے لیے ہدفِ فتنہ نہ بنا-
ایک اسلوبِ کلام یہ ہے کہ بظاہر مخاطب کوئی اور ہوتا ہے، لیکن اصل مقصود کوئی دوسرا ہوتا ہے- مثلاً عربی میں کہاجاتا ہے: لا یضربنک زید- اِس جملے کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ زید تم کو ہرگز نہ مارے، مگر اِس کا اصل مطلب زید کو مارنے سے منع کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل خطاب آدمی کی اپنی ذات ہے، یعنی تم اپنے کسی عمل سے زید کو یہ موقع نہ دو کہ وہ تم کو مارے-
قرآن میں اِس اسلوب کی ایک مثال یہ آیت ہے: فلاینازعنّک فی الأمر (22:67)- اِس آیت کا بظاہر ترجمہ یہ ہے کہ وہ ’امر‘ میں تم سے نزاع نہ کریں- مگر اِس آیت کا خطاب خود اہلِ ایمان سے ہے، یعنی تم دوسروں کو یہ موقع نہ دو کہ وہ تم سے ’امر‘ میں نزاع کرنے لگیں-
یہی اسلوب قرآن کی مذکورہ آیت میں ہے- بظاہر آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ظالم لوگ ہم کو ہدفِ فتنہ نہ بنائیں، مگر اِس دعائیہ کلام کا اصل خطاب خود اہلِ ایمان سے ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ، تو ہم کو اِس سے بچا کہ ہم کوئی ایسا فعل کریں جو ہمارے مخالفین کو یہ موقع دے دے کہ وہ ہم کو اپنے ظلم کا تختہ مشق بنائیں-
دوسرے لفظوں میں، یہ کہ مذکورہ آیت میں اہلِ ایمان کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی طرف سے ہر گز کوئی ایسا فعل نہ کریں جو اُن کے مخالفین کے لیے اُن کے خلاف ظالمانہ کارروائی کا مبرّر (justification) بن جائے-
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ مصری حکومت نے 1956 میں سوئز کمپنی سے پٹہ (lease) کو یک طرفہ طورپر قبل ازوقت منسوخ کردیا- اِس منسوخی نے فریقِ ثانی کو یہ مبرّر دے دیا کہ وہ 1967 میں مصر پر تباہ کن حملہ کردے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔