Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala December 2012
Al-Risala December 2012

قلب اور عقل

Urdu · 3 min read

انسان ایک سوچنے والا حیوان (thinking animal) ہے- انسان کی تمام سرگرمیاں سوچ سے کنٹرول ہوتی ہیں- کہاجاتا ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے-سوچنے کی اس فیکلٹی (faculty) کو ذہن (mind) کہاجاتا ہے- ذہن کے لئے قرآن میں حسب ذیل الفاظ آئے ہیں — عقل، لُب، فواد، حِجر، نُہىٰ اور قلب-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قلب کو عام طورپر دل کے ہم معنى سمجھا جاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ قلب کا لفظ عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے-عربی زبان کے مشہور لغت لسان العرب میں قلب کی تشریح کے تحت یہ الفاظ آئے ہیں: وقد یُعبربالقلب عن العقل- قال الفراء فی قولہ تعالى: إن فی ذلک لذکرى لمن کان لہ قلب، أی: عقل- قال الفراء: وجائز فی العربیة أن تقول: مالک قلب، وما قلبک معک- تقول: ما عقلک معک، وأین ذہب قلبک- أی: أین ذہب عقلک- (لسان العرب، 1/687)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یعنی قلب کو عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے- فرا نحوی نے کہا ہے کہ قرآن کی آیت: إن فی ذلک لذکرى لمن کان لہ قلب (50:37) میں قلب سے مراد عقل ہے- عربی زبان میں یہ طریقہ درست ہے کہ عقل کے موقع پر قلب کا لفظ بولا جائے- مثلاً کہاجاتا ہے کہ تمھارا قلب کہاں چلا گیا، یعنی تمھاری عقل کہاں چلی گئی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر سب سے بڑی چیز ذہن (mind) ہے، قلب کا لفظ اور عقل کا لفظ دونوں اِس معنی میں استعمال ہوتے ہیں- فرق صرف یہ ہے کہ عقل کے لفظ کو لفظی طور پر ذہن کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، اور قلب کا لفظ ادبی استعمال کے لحاظ سے ذہن کے معنی میں بولا جاتا ہے-

موجودہ زمانے میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ قلب صرف حرکتِ خون کا مرکز ہے اور سوچنے کا مرکز صرف دماغ ہے، لیکن ادبی استعمال کی بنا پر اب بھی، ہول مائنڈڈلی (wholemindedly) نہیں بولا جاتا، بلکہ ہول ہارٹڈلی (wholeheartedly) بولاجاتا ہے- یہی طریقہ ہر زبان میں رائج ہے-

قرآن کا موضوع علمِ تشریح الاعضا (anatomy) نہیں ہے، بلکہ قرآن کا موضوع انسان کی ہدایت ہے- ہدایت کا تعلق کامل طورپر تعقل اور تفقہ سے ہے- ایسی حالت میں قرآن میں جہاں بھی قلب کا لفظ آئے گا، تو قرآن کے موضوع کی بناپر اُس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا-

قلب کا لفظ جب دو معنی میں آتا ہے — ایک، معروف طورپر دل کے معنی میں اور دوسرے، عقل کے معنی میں، تو ایسی حالت میں قرآن میں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا- قلب بمعنی دل، قرآن میں قابلِ انطباق (applicable) نہیں ہوگا، بلکہ قرآن میں قلب بمعنی عقل ہی قابلِ انطباق قرار پائے گا-

یہ اصول، بلاغت کا ایک مسلّم اصول ہے، اور یہ قرآن اور غیر قرآن دونوں کے لیے قابلِ انطباق ہے- مثلاً ایک کتاب جو علم تشریح الاعضا (anatomy) پر لکھی گئی ہو، اُس میں اگر کہیں قلب (heart) کا لفظ آتا ہے تو وہاں قلب کے لفظ کو عقل (mind)کے معنی میں نہیں لیا جائے گا، بلکہ دل کے معنی میں لیا جائے گا- اس کے برعکس، جب قرآن میں قلب کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کو عقل (mind) کے معنی میں لیاجائے گا- علمِ تشریح الاعضا کے موضوع پر لکھی جانے والی کتاب میں قلب کامفہوم اس کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوتا ہے- اِسی طرح قرآن میں اگر قلب کا لفظ کسی آیت میں آئے تو یہاں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا، یعنی اِس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا- یہ بلاغت کا ایک معروف اصول ہے-

ہر زبان میں ایسا ہے کہ اکثر کسی لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں- یہ معنی سیاق (context) سے متعین ہوتا ہے- مثلاً عربی زبان کا ایک لفظ دین ہے، جس کے کئی معنی ہوتے ہیں- مثلاً مالک یوم الدین(1:3)میںیہ لفظ روزِ جزا کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور أقیموا الدین ( 42:13) میں یہ لفظ مذہب (religion) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، وغیرہ-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content