دعا کی اعلیٰ قسم وہ ہے جب کہ ایک بندۂ مومن کو ایک عارفانہ دریافت ہو اور اِس دریافت کے بعد اس کی زبان سے دعا کے تخلیقی (creative) کلمات نکلیں۔ یہ دعا کی سب سے زیادہ اعلیٰ قسم ہے۔ اِس قسم کی دعا اُن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو تدبر اور غور فکر میں زندگی گزارتے ہیں، جو مسلسل طورپر معرفت کے روحانی تجربات میں جیتے ہیں۔
مثال کے طورپر ایک بندۂ مومن نے گہرائی کے ساتھ سوچا اور پھر اس پر منکشف ہوا کہ ظاہری اختیار کے باوجود وہ کامل طورپر عاجز ہے۔ پھر اُس نے دریافت کیا کہ اس کے کمالِ عجز کے باوجود اللہ نے اس کو موجودہ دنیا میں زندگی کا تمام سامان عطا کردیا۔
اِس طرح گویا اللہ نے اس کے عجز کی تلافی فرمائی۔ اللہ اس کے اور اس کے عجز کے درمیان حائل ہوگیا۔ اِس طرح اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر وہ دنیا کی زندگی میںاپنے عجز (helplessness) کے برے انجام سے بچا رہا۔
ایک بندۂ مومن کو جب یہ دریافت ہوتی ہے تو اُسی کے ساتھ وہ ایک اور چیز کی دریافت کرتا ہے، وہ یہ کہ آخرت میں دوبارہ اپنی بے عملی کی بنا پر وہ اِسی قسم کے شدید تر مسئلے سے دوچار ہوگا۔ اُس کو محسوس ہوگاکہ میری بے عملی یقینا وہاں مجھے محروموں کی فہرست میں ڈال دے گی۔
یہ سوچ کر وہ تڑپ اٹھے اور اس کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے کہ خدایا، دنیا کی زندگی میں تو میرے اور میرے عجز کے درمیان حائل ہوگیا اور اِس طرح مجھ کو میرے عجز کے برے انجام سے بچا لیا۔ اِسی طرح تو آخرت میں میرے اور میری بے عملی کے درمیان حائل ہوجا اور آخرت میں دوبارہ تو مجھ کو میری بے عملی کے برے انجام سے بچا لے— یہ دعا ایک تخلیقی دعا ہے اور وہ گہری دریافت کے بعد ایک بندۂ مومن کی زبان سے نکلتی ہے۔ یہی وہ عارفانہ دعا ہے جس کے اور قبولیت کے درمیان کوئی فاصلہ حائل نہیں ہوتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.