← Al-Risala August 2020Al-Risala August 2020
دعوتی شعور کا فقدان
Urdu · 6 min read
امتِ مسلمہ کا اصل فریضہ شہادت، یعنی دعوت الی اللہ ہے، مگر موجودہ زمانے کے تمام مسلح علماء اور مسلم رہنما اس باب میں انحراف کا شکار ہوگئے۔ یہ انحراف اب اِس درجہ کو پہنچا ہے کہ امتِ محمدی نے اپنی اصل حیثیت ہی کھو دی ہے۔ اب پوری امت عام قوموں کی طرح ایک قوم بن گئی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں ایک دعوتی جماعت۔ ذیل میں اِس معاملے کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
شیخ محمد عبدہ کی مثال
سید جمال الدین افغانی (وفات:1897 ء) کا زمانہ یورپی نو آبادیات (colonialism) کا زمانہ تھا، اُن کے زمانے میں برطانیہ اور فرانس کی فوجیں مسلم ملکوں میں داخل ہوگئیں اور وہاں اپنا تہذیبی اور سیاسی غلبہ قائم کرلیا۔
سید جمال الدین افغانی غیر معمولی صلاحیت کے آدمی تھے، وہ عربی کے علاوہ کئی عالمی زبانیں جانتے تھے۔ ان کو 59 سال کی عمر ملی، انھوں نے اپنی پوری زندگی برطانوی استعمارکے خلاف سیاسی لڑائی میں گزار دی۔
مصر اور عالمِ عرب میں ان کوکئی اعلیٰ صلاحیت کے ساتھی ملے، ان میں سے ایک ممتاز نام شیخ محمدعبدہ (وفات: 1905 )کا ہے۔ وہ ایک بڑے عرب عالم تھے۔ انھوں نے فرنچ زبان بھی سیکھی تھی۔ یورپی استعمار (colonialism)کے زمانے میں وہ بھی استعمار کے خلاف سیاسی لڑائی میں شامل ہوگئے۔ وہ سید جمال الدین افغانی کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔
انیسویں صدی کے آخر میں سید جمال الدین افغانی اور مفتی محمد عبدہ سفر کرکے پیرس (Paris) گئے، وہاں سے انھوں نے ایک عربی جریدہ العروۃ الوثقی (The Firmest Bond) جاری کیا۔ یہ جریدہ صرف 18 شماروں کے بعد بند ہوگیا۔
پیرس کے زمانۂ قیام (1884 ء) میں سید جمال الدین افغانی اور شیخ محمد عبدہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔شیخ محمد عبدہ کا خیال تھا کہ ہم لمبی مدت سے استعمار کے خلاف سیاسی لڑائی میں مصروف ہیں، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، اب ہم کو یہ سیاسی کام چھوڑ کر کوئی نتیجہ خیز تعمیری کام کرنا چاہئے۔ سیدجمال الدین افغانی اِس نقطۂ نظر سے اتفاق نہ کرسکے، اس کے بعدشیخ محمد بن عبدہ نے سید جمال الدین افغانی کا ساتھ چھوڑ دیا۔
وہ 1899 ء میں مصر واپس آگئے۔انھوں نے مصر میں قاہرہ کے قریب ایک بڑی جگہ حاصل کی اور جمعیّۃ إحیاء العلوم العربیۃ لنشر المخطوطات کے نام سے وہاں 1900 ء میں ایک ادارہ قائم کیا، مگر وہ زیادہ مدت تک اِس ادارہ کی خدمت نہ کرسکے۔ 56 سال کی عمر میں 1905 میں قاہرہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔
سید جمال الدین افغانی اور شیخ محمد عبدہ دونوں نہایت اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے، لیکن ان کی صلاحیتیں صحیح سمت میں استعمال ہونے سے رہ گئیں۔ اِس واقعہ کا جو پہلو زیادہ عبرت ناک ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال نہ کرسکے۔ مغربی قومیں ان کے لئے مدعو گروہ کا درجہ رکھتی تھیں۔ان کا فرض تھا کہ وہ ان قوموں کو اللہ کے دین کی طرف بلائیں، لیکن انھوں نے ان قوموں کو صرف جنگ و جہاد کا موضوع سمجھا، نہ کہ دعوت الی اللہ کا موضوع۔ انھوں نے ان قوموں کو مدعو کے بجائے دشمن کا درجہ دے دیا۔
شیخ محمد عبدہ کے لئے پیرس سے واپسی ایک نیا موڑ بن سکتی تھی، لیکن مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی چھیڑنے کے بعد دوسرا کام جو انھیں نظر آیا، وہ صرف اپنی قوم کی اصلاح تھی، نہ کہ مدعو گروہ کو اللہ کا پیغام پہنچانا— یہی وہ غلطی ہے جس میں موجودہ زمانے کے تمام مسلم علماء اور مسلم رہنما مبتلا ہوئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مولانا محمود حسن دیوبندی کی مثال
مولانا محمود حسن (وفات:1920 ء) جن کو شیخ الہند کہاجاتا ہے، وہ دیوبند کے اکابر علماء میں سے تھے۔ ان کے زمانے میں انڈیا میں برطانیہ کا سیاسی اقتدار قائم ہوا۔ دوسرے علماء کی طرح مولانا محمود حسن دیوبندی برطانیہ کے خلاف سرگرم سیاسی لڑائی میں مشغول ہوگئے، یہاں تک کہ برطانوی حکومت نے ان کو گرفتار کرکے مالٹا کے قلعہ میں نظر بند کردیا۔
وہاں وہ 3 سال سے زیادہ مدت تک رہے۔ اس دوران وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوگئے، چناںچہ ان کو رہا کرکے انڈیا واپس بھیج دیا گیا۔ یہ واقعہ جون 1920 کا ہے۔مولانا محمود حسن دیوبندی مالٹا سے واپس آکر دیوبند میں مقیم ہوگئے۔ ان کے شاگرد ِ خاص مفتی محمد شفیع عثمانی (وفات: 1976 )کا بیان ہے کہ :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد حضرت ایک رات بعد عشاء دار العلوم میں تشریف فرما تھے، علماء کا بڑا مجمع سامنے تھا، اس وقت فرمایا کہ ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں۔ یہ الفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہوگیا کہ اس استاذ العلماء درویش نے لمبی مدت تک علماء کو درس دینے کے بعد آخرمیں جو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں۔ حضرت شیخ الہند نے فرمایا کہ — میںنے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اِس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے، ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اِس لئے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناًعام کیا جائے، بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کئے جائیں، بڑوں کو عوامی درسِ قرآن کی صورت میںاس کے معانی سے روشناس کرایا جائے، اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے، اور مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے‘‘۔(جماعتِ شیخ الہند اور تنظیم اسلامی، از: ڈاکٹر اسرار احمد، صفحہ 346 )
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مولانا محمود حسن دیوبندی جب مالٹا کی اسیری سے واپس آئے تو وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوچکے تھے۔ 1920 میں دیوبند میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کی عمر 69 سال تھی۔
مولانا محمود حسن دیوبندی کا معاملہ بھی وہی تھا جو دوسرے علماء کا تھا۔ اپنے قومی اور سیاسی فکر کی بنا پر وہ بھی ثنائی طرزِ فکر (dichotomic thinking) میں مبتلا تھے۔ وہ صرف دو انتخاب (options) کو جانتے تھے — یا انگریزوں سے سیاسی لڑائی، یا مسلم ملت کی خدمت۔
قرآن اور حدیث کے عالم ہونے کے باوجود ان کو تیسرے انتخاب کا علم نہ تھا، وہ یہ کہ انگریزوں کو ایک مدعو قوم سمجھنا، اور ان کے سامنے حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ پر امن طورپر دین حق کا پیغام پہنچانا۔ مذکورہ دو مثالوں میں سے ایک عرب سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری عجم سے۔ یہ مثالیں بطور نمونہ ہیں۔ اسی پر موجودہ زمانے کی پوری مسلم ملت کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔
موجودہ زمانے کے تمام مسلم علماء اور مسلم رہنما ایک ہی مشترک غلطی میں مبتلا ہوئے، اور وہ ہے دعوت الی اللہ کے فریضہ سے غافل ہوجانا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ امتِ محمدی، پیغمبر کی وفات کے بعد پیغمبر کے قائم مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔
امت محمدی کو وہی دعوتی ذمہ داری انجام دینا ہے جس کو پیغمبر نے اپنے زمانے میں انجام دیا تھا۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اگر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اللہ کی نظر میں اس کی پیغمبرانہ حیثیت ہی غیر متحقق ہوجاتی تھی (المائدۃ: 67 )۔ اسی طرح امتِ محمدی اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اس کا امت ِ محمدی ہونا غیر متحقق ہوجائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it