قرآن میں حکم دیاگیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر تدبر کرو (ص:29 )۔ اس کی ایک سادہ مثال یہ ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت کو جب وہاں کا رزق دیا جائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ایسا ہی رزق ہم کو دنیا میں بھی ملا تھا (البقرۃ:25 )۔
اِس آیت میں جنت کی نعمتوں کے لیے رزق کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دنیا کی نعمتوں کے لیے بھی رزق کا لفظ ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آخرت کی جنت کا رزق بھی عین وہی ہوگا جو موجودہ دنیا میں انسان کو ملتاہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے—
کیوںکہ جنت کی ہر چیز کامل (perfect) ہوگی اور موجودہ دنیا کی ہر چیز غیر کامل (imperfect) ہوتی ہے۔
اِس سوال پر غور کرتے ہوئے ہم اِس حقیقت تک پہنچتے ہیں کہ ہر لفظ کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا اس کا انتہائی مفہوم۔ مذکورہ آیت میں دنیا کی نسبت سے، رزق کا لفظ اپنے ابتدائی مہفوم میں آیا ہے، اور جنت کی نسبت سے، رزق کا لفظ اپنے انتہائی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں ہر چیز اپنے ابتدائی درجۂ لذت کے اعتبار سے ملتی ہے، جب کہ جنت میں ہر چیز اپنے انتہائی درجۂ لذت کے اعتبار سے ملے گی۔
اِس سادہ مثال سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن میں تدبر کا مطلب کیا ہے۔ تدبر کا مطلب اصلاً یہ ہے کہ آپ کسی قرآنی آیت کو لے کر اُس پر سوال قائم کرسکیں۔ جب سوال سامنے آئے گا تو ذہن غوروفکر کے ذریعے اُس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرے گا۔
اِس طرح آیت کے اندر چھپے ہوئے معانی کھلیں گے، آیت کے گہرے معانی تک آپ کی رسائی ہونے لگے گی۔ اِس طرح آپ کا یقین بڑھے گا، آپ کی معرفت میں اضافہ ہوگا، آپ کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل شروع ہوجائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔