قرآن کی سورہ نمبر 9 میں یہ آیت آئی ہے: یا أیہا الذین آمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین (التوبۃ:119 ) یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ رہو۔
اِس آیت میں صادق کا لفظ آیا ہے۔ اِس سے مراد کون لوگ ہیں۔ مفسر القرطبی نے نقل کیا ہے کہ اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر وباطن یکساں ہو (ہم الذین استوت ظواہرہم وبواطنہم)۔ ظاہر وباطن میں یکسانیت کا مطلب کیا ہے۔
ظاہر وباطن میں یکسانیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جو سوچے، وہی کرے اور جو کرے، وہی سوچے۔ مثلاً اگر وہ وعدہ کرے تو اس کو مکمل طورپر پورا کرے، اور اگر پورا نہیں کرنا ہے تو وہ وعدہ بھی نہ کرے۔اُس کی شخصیت کو سمجھنا پوری طرح ممکن ہو۔ ایسے انسان کے اندر وہ کردار ہوتا ہے جس کو قابلِ پیشین گوئی کردار (predictable character) کہاجاتا ہے۔
صادق کا لفظ منافق کے لفظ کی ضد ہے۔ صادق انسان کے اندر وہ شخصیت ہوتی ہے جس کو انٹگریٹیڈ شخصیت (integrated personality) کہا جاتا ہے، یعنی وہ انسان جو نفسیاتی پیچیدگی (complex) سے پاک ہو، جس کی شخصیت کے مختلف پہلو کامل توافق کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ انسان فطری طور پر تضادات کا مجموعہ (mixture of opposites) ہوتا ہے۔ جو انسان اپنی شخصیت کے اِن مختلف اور متنوع پہلوؤں کو ایک ہم آہنگ کُل (integrated whole) میں ڈھال سکے، وہی انسان صادق انسان ہے۔
صادق انسان خلقِ عظیم (القلم: (4 کا مالک ہوتا ہے۔ صادق انسان کا ذہنی سانچہ وہ اعلیٰ سانچہ (mould) ہوتا ہے جس کو قرآن میں شاکلۂ خداوندی (الاسراء:84 ) کہاگیا ہے۔ صادق انسان دنیا میں فرشتوں کی صحبت میں رہتا ہے، اور موت کے بعد آخرت میں اس کو انبیاء اور شہداء اور صالحین (النساء:69 ) کی صحبت میں رہنے کی سعادت حاصل ہوگی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔