انسان ایک انتہائی با معنی وجود ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے وجود کی اس اعلیٰ معنویت کو دریافت کرسکے تو یہ دریافت اس کے لیے ایک عظیم دعا کا پائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جائے گی۔ وہ کہہ سکے گا کہ خدایا، تو نے مجھے ایک با معنی وجود کے طورپر پیدا کیا اور پھر اس وجود کوایک ایسی دنیا میں ڈال دیا جس کو ظالموں نے بے معنی بنا دیا تھا۔ خدایا، تو اپنی رحمت سے اِس بامعنیٰ وجود کو ایک زیادہ بہتر اور با معنی دنیا بھی عطا فرما۔ یہ دعا بلاشبہہ اسم اعظم کی دعا ہے۔ لیکن یہ دعا صرف اُس دل سے نکلے گی جس کو دریافت والی معرفت حاصل ہوئی ہو۔ فانی بدایونی (وفات: 1940 ) کو وراثت میں ایک بڑا گھر ملا تھا۔ لیکن اِس بڑے گھر نے ان کو سکون نہیں دیا۔چناں چہ انھوںنے اپنی ایک نظم میں اِس معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
اپنے دیوانے پہ اتمامِ کرم کر، یا رب درودیوار دئے، اب انھیں ویرانی دے
فانی بدایونی صرف اپنے گھر کو جانتے تھے۔ اگر وہ اُس تخلیقی معجزہ کو دریافت کرتے جس کا نام فانی بدایونی تھا، تو وہ برعکس طورپر یہ کہتے :
اپنے دیوانے پہ اتمامِ کرم کر، یارب جب دیا ذوقِ طلب، پھر اسے مطلوب بھی دے
فانی بدایونی کو ’’امامِ یاسیات‘‘ کہاجاتا ہے۔ زیادہ بہتر تھا کہ فانی امامِ دریافت ہوتے، پھر وہ اپنی حقیقت کو جانتے۔ وہ جانتے کہ یہ معاملہ طالب کا اپنے مطلوب سے محرومی کا معاملہ ہے۔پھر وہ طالب بن کر اپنے مطلوب کے لیے خدا سے درخواست کرتے۔ وہ کہتے کہ خدایا، اِس تڑپتی ہوئی مچھلی کو دوبارہ پانی کی تلاش ہے۔ مگر اس کو یہ پانی خود اپنے بل پر نہیں مل سکتا۔ خدایا، تو اِس تڑپتی ہوئی مچھلی کو اپنی خصوصی رحمت سے اس کے مطلوب پانی تک پہنچا دے۔بیش تر انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف رد عمل کے تحت سوچنا جانتے ہیں، رد عمل سے اوپر اٹھ کر سوچنا ان کو نہیں آتا۔ مگر تمام انسانی کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ اسی طرزِ فکر کا نام صابرانہ سوچ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔