Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala August 2020
Al-Risala August 2020

انتظار کی مدت ختم

Urdu · 2 min read

بظاہرِ حالات قیامت اب بہت قریب آگئی ہے، اتنا ہی قریب جتنا کہ آج کی شام کے بعد کل کی صبح کا آنا۔ دوسری مادی علامتوں کے علاوہ، ایک معلوم علامت یہ ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی میں مسلم اور غیر مسلم دونوں اپنے بگاڑ کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں پہنچ کر انسان نے یہ جواز (justification) کھودیا ہے کہ موجودہ زمین پر اس کو مزید بسنے کا موقع دیا جائے۔ یہ معاملہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کا ہے۔

مسلمانوں کے بگاڑ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ ان کے درمیان نہی عن المنکر کا عمل بالکل ختم ہوگیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان واضح طورپر محرمات میں مبتلا ہیں، لیکن ان کے خلاف علماء نہی عن المنکر کی مہم نہیں چلاتے۔

مثلاً موجودہ زمانے میں بہت سے مسلم گروپ مسلم حکومتوں کے خلاف خروج کئے ہوئے ہیں جو کہ یقینی طورپر حرام ہے۔ بہت سے مسلم گروپ، غیر حکومتی سطح پر مسلح تنظیمیں بنائے ہوئے ہیں، حالاں کہ اسلام میں اِس قسم کی تنظیم جائز نہیں۔ بہت سے مسلم گروپ، خود کش بم باری (suicide bombing) کے عمل میں مشغول ہیں، حالاں کہ خود کش بم باری اسلام میں سرتا سر حرام ہے، وغیرہ۔ یہ سب محرمات موجودہ زمانے میں کھلے طور پر کئے جارہے ہیں، لیکن ان کے خلاف مذمت کی کوئی مہم نہیں چلائی جاتی۔ یہ صورتِ حال بلاشبہہ اللہ کی رحمت سے محروم کردینے والی ہے۔

دوسری طرف، غیر مسلم قومیں بگاڑ کی آخری حد پر پہنچ چکی ہیں۔ ان کا سب سے زیادہ نمایاں بگاڑ عریانیت (nudity) ہے۔ اِس کی مختلف صورتیں بالکل عام ہوچکی ہیں۔ مثلاً کھلے طورپر غیر شادی شدہ جوڑے کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا(live-in relationship)، کھلے طورپر ہم جنس پرستی (homosexuality)، کھلے طورپر ورجنٹی (virginity) کا نیلام کیا جانا، وغیرہ۔ اِس طرح کی کھلی ہوئی برائیوں کے بعد بظاہر انسان کے لیے موجودہ زمین پر رہائش کا کوئی جواز نہیں رہتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.