قرآن کی سورہ نمبر 89میں ارشاد ہوا ہے: ’’پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب خدا اس کو آزماتا ہے اور اس کا زرق اُس پر تنگ کردیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا‘‘ (الفجر:15-16 )
اِس آیت میں انسان کی ایک کمزوری کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو شخص اپنی اِس کمزوری کو جانے اور اُس پر کنٹرول رکھے، وہ کامیاب ہوگا، اور جو شخص اپنی اِس کمزوری سے بے خبر ہو اور اُس پر کنٹرول نہ کرسکے، وہ خدا کی اِس دنیا میں ناکام ہو کر رہ جائے گا۔
دنیامیں کسی کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اُس کو کبھی زیادہ ملتا ہے اور کبھی کم۔ دونوں ہی معاملہ خدا وند ذوالجلال کے فیصلے کے تحت ہوتا ہے۔
مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب اُس کو زیادہ ملے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے اور اُس نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے جس کو برتر اندازہ (over-estimation) کہا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جب آدمی کو کم ملے تو وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ مجھ کو نظر انداز کیاگیا ہے اور پھر وہ اُس نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے جس کو کم تر اندازہ (under-estimation) کہاجاتا ہے۔
یہ دونوں ہی قسم کی نفسیات کسی شخص کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔جو آدمی اپنا زیادہ اندازہ کرلے، وہ غیر واقعی طورپر برتری کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے گا۔ اِس کے برعکس، جو شخص اپنا کم تر اندازہ کرے، وہ غیر واقعی طورپر کم تری کی نفسیات کا شکار ہوجائے گا۔
صحیح انسان وہ ہے جو اِن دونوں قسم کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو قرآن میں النفس المطمئنۃ (الفجر:27 )کہاگیا ہے، یعنی ہر صورت میں یکساں حال پر قائم رہنا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔