قرآن کی سورہ مریم میں پچھلی امتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فخلف من بعدہم خلفٌ أضاعوا الصلوۃ واتبعوا الشہوات، فسوف یلقون غیّا (مریم:59 ) یعنی پھراُن کے بعد ایسے لوگ اُن کے جانشین ہوئے جنھوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خوہشات کے پیچھے پڑ گئے، پس عن قریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے۔قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی امت کی بعد کی نسلوں میں کس قسم کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ بعد کی نسلوں میں وہ ظاہرہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں ’’اضاعتِ صلوٰۃ‘‘ کہاگیا ہے۔اضاعتِ صلوۃ صرف ایک ظاہرے کا نام نہیں ہے۔ کسی امت کے دورِ زوال میں جب اس کے افراد کے اندر اضاعتِ صلوۃ کا واقعہ پیش آتا ہے، تو اُس کی نسبت سے ان کی زندگی کے دوسرے مظاہر بھی لازمی طورپر متاثر ہوتے ہیں۔ اضاعتِ صلوۃ عملاً اضاعتِ دین کے ہم معنیٰ بن جاتا ہے۔
قرآن کی اِس آیت میں، اضاعتِ صلوۃ سے مراد ترکِ صلاۃ نہیں، اور نہ اس سے یہ مراد ہے کہ زوال کے زمانے میں نماز کے ظاہری آداب کا اہتمام باقی نہیں رہتا۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ نماز کے آداب تو بظاہر پوری طرح باقی رہتے ہیں، لیکن اس کی روح لوگوں کے اندر ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ لوگوں کی نماز اُس آدمی جیسی نماز بن جاتی ہے جس کی نماز کو دیکھ کر رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا تھا: ارجع فصلّ فإنّک لم تصلّ(الترمذی، رقم: 2636 ) یعنی جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔امت کے دور زوال میںایسا نہیں ہوتا کہ لوگ نماز کے ظاہری آداب کو بھی چھوڑ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری آداب کے اعتبار سے نماز کبھی کسی امت میں متروک نہیں ہوتی۔ اصل چیز جو متروک ہوجاتی ہے، وہ نماز کی روح (spirit) ہے۔ اِسی روح کو قرآن میں ’’خشوع‘‘ کہا گیا ہے۔ اضاعتِ صلوۃ کی پہچان یہ ہے کہ لوگ وقتی طورپر نماز کے ظاہری آداب کا تو اہتمام کرتے ہوں، لیکن عملی طورپر ان کی دلچسپیاں تمام تر مادی چیزوں سے جڑی ہوئی ہوں۔ اِسی ظاہرہ کو ’’اتباعِ شہوات‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔