ایک حدیث رسول میں ایک دعا ان الفاظ میںآئی ہے: اللہم اہدنی وسدّدنی (صحیح مسلم، حدیث نمبر2725)۔ یعنی اے اللہ ، مجھ کو ہدایت دے اور مجھ کو راہ راست کی طرف رہنمائی فرما۔اس دعا میں اھدنی کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت فرما۔ اس کے بعد دعا میں دوسرا لفظ سدّدنی ہے۔ یعنی مجھ کو راہ راست کی طرف رہنمائی (show the right way) فرما۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت کے بعد بھی انسان کو ایک خدائی توفیق کی ضرورت ہے۔ اسی کو یہاں سدّدنی کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ ہے ڈسٹرکشن (distraction) سے بچنا۔ یہ وہی بات ہے جس کو قرآن میں اتباع سبل (الانعام 153) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی شاہراہ سے اپنے سفر کا آغاز کرے، اس کے بعد وہ درمیان میں چھوٹے چھوٹے غیر متعلق راستوں کی طرف مڑ جائے۔ یہاں تک کہ چلتے چلتے وہ اصل شاہراہ سے دور ہو جائے۔
انسان کی ایک گمراہی یہ ہے کہ وہ ہدایت کی صراطِ مستقیم کو اختیار نہ کرسکے۔ انسان کی دوسری گمراہی یہ ہے کہ وہ آغاز میں شاہراہ سے اپنے سفر کو شروع کرے۔ لیکن درمیان میں اس کو شاہراہ کے دائیں یا بائیں ایسی چیزیں ملیں جو اس کے سفر کے رخ کو بدل دیں، وہ شاہراہ سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے غیر متعلق راستوں میں چل پڑے۔ یہ دونوں قسم کا انسان بھٹکا ہوا انسان ہے۔ پہلا انسان اگر سفر کے آغاز میں بھٹکا ہوا تھا، تو دوسرا انسان سفر کے درمیان میں بھٹک کر راہ سے بے راہ ہوگیا۔جس طرح مادی سفر کے لیے ایک شاہراہ ہوتی ہے، اوراسی کے ساتھ شاہراہ کے دونوں طرف چھوٹے راستے بھی۔ اسی طرح سچائی کے سفر کی بھی ایک شاہراہ ہے، اسی کے ساتھ شاہراہ کے دونوں طرف چھوٹے راستے بھی۔ جو آدمی سچائی کی شاہراہ پر چلتا رہے، وہ مطلوب منزل پر پہنچے گا۔اس کے برعکس، جو آدمی چھوٹے راستوں کو اختیار کرے، وہ اپنی منزل سے بھٹک جائے گا۔ اس گمراہی سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اللہ سے بھٹکاؤ سے بچنے کی توفیق مانگتا رہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔