ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عن ابن عباس، رضی اللہ عنہما، قال:قال رجل: یا رسول اللہ، من أولیاء اللہ؟ قال:الذین إذا رؤوا ذکر اللہ (مسند البزار، حدیث نمبر5034)۔ یعنی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اے اللہ کے رسول، اولیاء اللہ کون ہے، آپ نے فرمایا: وہ لوگ جن کو دیکھا جائے تو اللہ کی یاد آئے۔
اس حدیث رسول میں’’ وہ لوگ جن کو دیکھا جائے‘‘ ـکا مطلب ہے، جب تم ان سے ملو۔ اصل یہ ہے کہ ایک ربانی انسان جب سچائی کو دریافت کرتا ہے، اور وہ اللہ کے خوف و محبت میں جینے والا بن جاتا ہے تو اس کے اندر سنجیدگی کا انداز پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی ہر بات میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ ہر معاملے کو اللہ کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی، عام انسان سے مختلف زندگی بن جاتی ہے۔ اس کی باتوں میں اللہ کا رنگ پیداہوجاتا ہے۔ وہ جو کچھ کہتا ہے، اس میں سننے والوں کے لیے رزق رب موجود ہوتا ہے۔ غیر متعلق باتیں اس کی زبان سے نہیں نکلتیں۔ بلکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ تعلق باللہ کے زیر اثر ہوتا ہے۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس بیٹھنے والوں کو اس سے ایسی چیزیں ملنے لگتی ہیں جو دوسروں سے نہیں ملتی۔
محمد بن إسماعیل بن صلاح نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے یہ کہا ہے: ویحتمل أن المراد أنہم یذکّرون العباد باللہ تعالى(التَّنویر شرح الجامع الصغیرِ، الریاض، 2011، جلد 2، صفحہ 588)۔ یعنی احتمال یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ لوگوں کو تذکیر کرتے ہیں، لوگوں کو اللہ کی یاد دلاتے ہیں۔ اس شرح کے مطابق، جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ صرف رویت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ تذکیر کا نتیجہ ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پر اسرار بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک معلوم صفت ہے جو فطری اسباب کے تحت کسی کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔