آج کل تربیت کے بہت سے طریقے نکلے ہیں— پانچ دن کا مدرسہ، روزانہ ایک آیت، چالیس دن کا چلہ، پندرہ روزہ تربیتی کورس،وغیرہ۔ ان طریقوں کو ایک لفظ میں ٹکنکل طریقہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ طریقے عوامی طور پر کافی مقبول ہیں۔ لیکن نتیجہ کے اعتبار سے وہ سب کے سب غیر مفید ہیں۔
ان تمام طریقوں میں ایک بات مشترک ہے۔ وہ یہ ہے کہ بظاہر دھوم کے باوجودان طریقوں کے ذریعے کوئی انسان بن کر تیار نہیں ہوتا۔اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی تربیت کبھی بھی مبنی بر روٹین عمل سے نہیں ہوتی۔ تربیت ہمیشہ ذہنی بیداری (intellectual awakening) کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ کسی ٹکنکل طریقہ کو دہرانے سے۔
تربیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کی جائے۔ مسلسل ذہنی خوراک کے ذریعے انسان کو ایسا بنایا جائے کہ وہ خود اپنا مربی بن جائے۔ وہ خود اپنا محاسبہ کرے۔ وہ اپنے اندر اصلاح کا عمل جاری کرے۔ وہ خود اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو دریافت کرے۔ وہ خود مسلسل طور پر اپنا نگراںبن جائے۔
پیشہ ورانہ تربیت (professional training) کسی دوسرے شخص کے ذریعے ممکن ہے، لیکن دینی تربیت ایک ایسا کام ہے جو ہر آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ہر آدمی کو خود یہ جاننا پڑتا ہے کہ کس موقعے پر اس کو کیا سیکھنا ہے، کس موقعے سے اس کو کیا تربیتی غذا لینا ہے، کس موقعے پر اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تربیت ایک دوامی عمل ہے۔ ہر لمحہ اپنے ساتھ تربیت کا ایک موقع لے کر آتا ہے۔ ہر آدمی کو خود یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ تربیت کے اس موقعے کو پہچانے، اور اس کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کرے۔ تربیت ایک سیلف ٹریننگ (self-training ) کا معاملہ ہے۔ اپنی تربیت آپ وہی شخص کر سکتا ہے، جس کے اندر دو صفت پیدا ہوجائے— محاسبہ اور تفکیر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.