Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala August 2015
Al-Risala August 2015

شرحِ صدر کیا ہے

Urdu · 2 min read

شرح صدر کا مطلب ہے، سینہ کھول دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے: شرح اللہ صدرہ بقبول الخیر فانشرح (اللہ نے اس کے سینے کو حق کی قبولیت کے لیے کھول دیاتو وہ کھل گیا)۔یہ حق کے متلاشی (seeker) کا معاملہ ہے۔ حق کے متلاشی کو جب اللہ کی توفیق سے حق کی دریافت ہوجائے تو اس وقت اس کے دل کی جو مثبت کیفیت ہوتی ہے، اسی کو شرحِ صدر کہا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان فطری طور پر حق کا متلاشی (seeker of truth) ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ اپنی اور کائنات کی تخلیق کے راز کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کی یہ جستجو جب اس حد کو پہنچے کہ سچائی اس کے لیے ایک خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) بن جائے تو اس کے بعد فطری طور پراس کو ایک ذہنی سکون (peace of mind) حاصل ہوجا تا ہے۔ اسی واقعہ کو شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے۔

سچائی کو دریافت کرنا انسان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے سے پہلے انسان ایک حیوان کی مانند ہوتا ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے کے بعد انسان حقیقی معنوں میں انسان بن جاتا ہے۔ سچائی کی دریافت یہ ہے کہ انسان کو اپنے تمام سوالات کے جواب مل جائیں۔ وہ اپنے وجود کی معنویت سے باخبر ہوجائے۔ وہ جان لے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی منزل کیا ہے۔ وہ راستہ کون سا ہے، جس کو اختیار کرکے وہ اس مقام پر پہنچ سکتا ہے، جو اس کی حقیقی منزل ہے۔

شرح صدر آدمی کو یقین (conviction) عطا کرتا ہے۔ شرح صدر کے بعد آدمی کنفیوزن (confusion) سے باہر آجاتا ہے۔ اس کی سوچ میں وضوح (clarity) پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ چیزوں کا صحیح تجزیہ (right analysis) کر سکے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ چیزوں کو صحیح زاویۂ نظر (right angle) سے دیکھنے لگے۔ شرح صدر کے بعد آدمی اس قابل ہوجا تا ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کر لے، اور اسی کے ساتھ اپنے آپ کو بھی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content