شرح صدر کا مطلب ہے، سینہ کھول دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے: شرح اللہ صدرہ بقبول الخیر فانشرح (اللہ نے اس کے سینے کو حق کی قبولیت کے لیے کھول دیاتو وہ کھل گیا)۔یہ حق کے متلاشی (seeker) کا معاملہ ہے۔ حق کے متلاشی کو جب اللہ کی توفیق سے حق کی دریافت ہوجائے تو اس وقت اس کے دل کی جو مثبت کیفیت ہوتی ہے، اسی کو شرحِ صدر کہا گیا ہے۔
انسان فطری طور پر حق کا متلاشی (seeker of truth) ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ اپنی اور کائنات کی تخلیق کے راز کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کی یہ جستجو جب اس حد کو پہنچے کہ سچائی اس کے لیے ایک خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) بن جائے تو اس کے بعد فطری طور پراس کو ایک ذہنی سکون (peace of mind) حاصل ہوجا تا ہے۔ اسی واقعہ کو شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
سچائی کو دریافت کرنا انسان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے سے پہلے انسان ایک حیوان کی مانند ہوتا ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے کے بعد انسان حقیقی معنوں میں انسان بن جاتا ہے۔ سچائی کی دریافت یہ ہے کہ انسان کو اپنے تمام سوالات کے جواب مل جائیں۔ وہ اپنے وجود کی معنویت سے باخبر ہوجائے۔ وہ جان لے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی منزل کیا ہے۔ وہ راستہ کون سا ہے، جس کو اختیار کرکے وہ اس مقام پر پہنچ سکتا ہے، جو اس کی حقیقی منزل ہے۔
شرح صدر آدمی کو یقین (conviction) عطا کرتا ہے۔ شرح صدر کے بعد آدمی کنفیوزن (confusion) سے باہر آجاتا ہے۔ اس کی سوچ میں وضوح (clarity) پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ چیزوں کا صحیح تجزیہ (right analysis) کر سکے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ چیزوں کو صحیح زاویۂ نظر (right angle) سے دیکھنے لگے۔ شرح صدر کے بعد آدمی اس قابل ہوجا تا ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کر لے، اور اسی کے ساتھ اپنے آپ کو بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔