عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ(ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3976)۔یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس کام کو چھوڑدے جس میں کوئی فائدہ نہیں۔
یہ حدیث رسول ہم کو ایک معیار (criterion) دیتی ہے۔ جس کی کی روشنی میں ہم اپنے عمل کو جانچتے رہیں۔ جو عمل عملا نتیجہ خیز ثابت ہو، اس پر قائم رہیں، اور جو عمل بے نتیجہ ثابت ہو اس کو چھوڑ دیں۔
اس حدیث کا تعلق عبادت جیسے معاملات سے نہیں ہے۔ بلکہ ان امور سے ہے جو دنیا میں کسی نتیجے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ مثلا دشمن سے قتال کا معاملہ اگر ہمارا کوئی دشمن پایا جائے اور ایسے حالات پیدا ہوں کہ اس کے ساتھ قتال کرنا چاہیے ۔ تب بھی قتال برائے قتال کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، بلکہ قتال برائے نتیجہ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
مثال کے طور پر موجودہ زمانے کے مسلمان سو سال سے زیادہ مدت سے جہاد کے نام پر قتال کررہے ہیں، وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف متشددانہ جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، لیکن جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود اس عمل کا مطلوب نتیجہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ اب مذکورہ حدیث کے مطابق، مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ توبۂ جمیع (24:31) پر عمل کریں، اور یک لخت اپنی تمام متشددانہ سرگرمیوں کو ختم کردیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ان کو نظر آئےگا کہ ان کے کرنے کا اصل کام پرامن دعوت ہے نہ کہ متشددانہ سرگرمیاں۔
یہی اس وقت اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ تشدد خواہ جہاد کے نام سے کیا جائے، لیکن وہ تشدد ہے۔ اور عملی اعتبار سے اس کا مثبت نتیجہ نہیں نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ کوئی مطلوب اسلامی عمل نہیں۔ اگر وہ مطلوب اسلامی عمل ہوتا تو اس پر ضرور اللہ کی نصرت نازل ہوتی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ (30:47)۔ یعنی اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔