حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: لا تطرونی، کما أطرت النصارى ابن مریم، فإنما أنا عبدہ، فقولوا عبد اللہ، ورسولہ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3445)۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو، جیسا کہ نصاری نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا۔ میں تو صرف اللہ کا ایک بندہ ہوں، تم صرف یہ کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔اس طرح کی اور بھی روایتیں حدیث کی کتابوں آئی ہیں۔ ان روایتوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سختی کے ساتھ منع کیا تھا کہ وہ اپنے پیغمبر کے ساتھ وہ معاملہ نہ کریں جو پچھلی امتوں نے اپنے پیغمبروں کے ساتھ کیا۔ یعنی پیغمبر کو صرف پیغمبر کے درجے میں رکھیں۔ اس کے ساتھ مبالغہ آمیز مدح خوانی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس نصیحت میں ایک اہم حکمت چھپی ہوئی ہے۔ امت جب پیغمبر کو عبد اور رسول کا درجہ دے تو امت کے اند ر یہ مزاج بنے گا کہ وہ اپنی زندگی میں پیغمبر کی پیروی کرے، وہ اپنے آپ کو پیغمبر کے نمونے پر ڈھالے، وہ ہر معاملے میں اپنے آپ کو ویسا ہی بنائے جیسا کہ پیغمبر نے اپنے آپ کو ہر معاملے میں بنایا۔اطراء کا مطلب ہے مبالغہ آمیز مدح خوانی (to praise highly)۔ امت جب اپنے پیغمبر کے بارے میں اطراء کی روش میں مبتلا ہوجائے تو امت کے افراد کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ پیغمبر کے بارے میں ہمارا کام یہ ہے کہ اس کی مبالغہ آمیز نعت خوانی کریں۔ اس کے نام کے ساتھ بڑے بڑے القاب شامل کریں۔ پیغمبر کی اسی طرح قصیدہ خوانی کریں ، جس طرح پہلے زمانے میں بادشاہوں کی قصیدہ خوانی کی جاتی تھی۔ اس اطراء کا ایک ظاہرہ یہ ہے کہ امت کے افراد اپنے پیغمبر کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق اگر کوئی شخص پیغمبر کی ذات کےمعاملے میں گستاخی کا کلمہ کہہ دے تو وہ بھڑک اٹھیں گے، اورچاہیں گے کہ ایسے آدمی کو قتل کر ڈالیں۔ ایسے لوگ اپنے پیغمبر کے بارے میں جو کتابیں لکھیں گے ان میں شاعرانہ مبالغہ آرائی تو بہت ہوگی لیکن علمی اور تاریخی مواد ان کے اندر بہت کم پایا جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔