قرآن میں جنت کے بارے میں مختلف آیتیں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (32:17)۔ تو کسی کو خبر نہیں کہ ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جنت کے بارے میں ما اخفی لھم کے الفاظ آئے ہیں، یعنی کیا چھپا رکھا گیا ہے (which is kept hidden)۔ اخفی ماضی کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت آئندہ بننے والی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ قرآن کے نزول کے وقت بنی ہوئی موجود تھی۔ اسی لیے قرآن میں دوسری جگہ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ (3:133) کا لفظ آیا ہے۔ یعنی وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے۔
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے انسان کے لیے دو دنیائیں بنائی ہیں۔ ایک موجودہ دنیا (planet earth)، اور دوسری وہ دنیا جس کے لیے قرآن اور حدیث میں جنت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کو ابتلا (آزمائش)کی مصلحت کے تحت بنا یا گیا ہے، اور جنت کو ابدی انعام کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔
قرآن کے مطالعےسے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے کے مشابہ (2:25)ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ دنیا عارضی ہے اور جنت کی دنیا ابدی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی دی گئی ہے، تاکہ ہر فرد کو جانچ کردیکھا جائے کہ کیا اس کے اندر وہ کردار ہے جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے مطلوب ہے۔ جنت چونکہ انعام کی دنیا ہے اس لیے وہاں ہر چیز پرفکٹ اور آئڈیل درجے میں موجود ہے۔جنت ہر قسم کی محدودیت (limitation) اور نقص (disadvantage) سے پاک ہے۔ موجودہ دنیا وقتی ضرورت کے اعتبار سے بنائی گئی ہے، اور جنت انسان کے کامل فُل فِل مینٹ (fulfillment)کے اعتبار سے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔