پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے بارے میں فرمایا: شھر یزداد فیہ رزق المومن (صحیح ابن خزیمہ،حدیث نمبر 1887) یعنی رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے۔یہاں رزق سے مراد مادی رزق نہیںہے، بلکہ معرفت کا رزق ہے۔یہ وہی رزق ہے جس کو قرآن میں رزقِ رب (20:131)کہا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ روزے کی حالت میں فطری طورپر روزہ دار کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے رب کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کا مطالعہ کرتا ہے۔ روزہ کے دوران وہ زیادہ یکسوئی کے ساتھ زندگی کی حقیقت پر غور کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میںاس کے اندر روحانیت جاگ اٹھتی ہے، اس کی ذہنی بیدار ی میں اضافہ ہوتا ہے، وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اللہ کی باتوں پر غور وفکر کرنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی حقیقتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ زیادہ حکمت کے ساتھ اپنے اور دین کے تعلق کو سمجھ سکے۔وہ قرآن کی آیتوں کے گہرے معانی کو دریافت کرے۔
رزق کا اضافہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھے تو اس کا ذہن عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ بیدار ہوجاتا ہے، اس کی سوچ میں زیادہ گہرائی آجاتی ہے، وہ اللہ کی باتوں میں زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے لگتا ہے۔ روزہ دار کے اندر یہ بڑھی ہوئی کیفیت اس کو اس قابل بنادیتی ہے کہ وہ دین کے زیادہ گہرے پہلوؤں کا ادراک کرسکے۔ وہ زیادہ گہرے انداز میں معرفت کا رزق حاصل کرسکے۔
روزہ دار کے لیے رزقِ معرفت میں اضافہ صرف بھوک پیاس کی بنا پر اپنے آپ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھے۔ اس کا روزہ ، قرآن کے الفاظ میں،تقوی اور شکر کا روزہ بن گیا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔