← Al-Risala August 2013Al-Risala August 2013
فکری مستویٰ کے مطابق خطاب
Urdu · 8 min read
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُعثنا معاشر الأنبیاء نخاطب الناس، على قدر عقولہم (المقاصد الحسنة للسخاوی، رقم الحدیث: 120) یعنی تمام پیغمبروں کو یہ حکم دیاگیا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن کے عقلی معیار کے مطابق، خطاب کریں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیث میں ’قدرِ عقل‘ سے مراد فکری مستوی (intellectual level) ہے، یعنی لوگوں سے ایسی زبان میں خطاب کرنا جو اُن کے لیے قابلِ فہم ہو اور ان کے ذہن کو ایڈریس کرے- جس دعوتی خطاب میں مدعو کی یہ رعایت شامل نہ ہو، وہ مطلوب دعوتی خطاب نہیں- اِس حدیثِ رسول کا ایک تقاضا یہ ہےکہ داعی اور مدعو کے درمیان اگر ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہو جائے تو داعی کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اِس طرح تیار کرے کہ مدعو کے ذہن کے اعتبار سے، اس کا کلام ایک موثر کلام بن جائے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے کی نسبت سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلم علما اپنی تعلیم کے اعتبار سے، صرف روایتی ذہن کو خطاب کرنا جانتے ہیں- اِس بنا پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ، علما کی پہنچ سے باہر ہوگیا ہے- علما کا روایتی طرزِ خطاب جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتا- ایسی حالت میں علماکا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اِس طرح تیار کریں کہ وہ جدید ذہن کو خطاب کرنے کے قابل ہوسکیں-
جدید فکری مستوی کوئی پراسرار چیز نہیں، وہ دراصل عقلی مستوی (rational level) کا دوسرا نام ہے- آج کا انسان صرف اُس کلام سے متاثر ہوسکتا ہے جو جدید عقلی معیار پر پورا اترتا ہو، جو دورِ جدید کے مسلّمات سے مطابقت رکھنے والا ہو، جو دینی حقائق کو عقل کے معروف اصولوں پر ثابت شدہ بناتا ہو- قدیم اسلوب کو اگر روایتی اسلوب کہاجائے تو جدید اسلوب کو سائنسی اسلوب کہا جائے گا-
جو بات مذکورہ حدیثِ رسول میں کہی گئی ہے، اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے- قرآن کی سورہ ابراہیم میں یہ آیت آئی ہے: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُم(14:4) یعنی ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ اُن سے اچھی طرح بیان کردے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And We have not sent any Messenger except with the language of his people in order that he might make the message clear to them.
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن کی یہ آیت پیغمبر کے حوالے سے ہر دور کے تمام داعیوں کے لیے ہے- بعد کے زمانے میں اپنے ہم عصر مخاطبین کی نسبت سے داعیوں کی بھی وہی ذمے داری ہے جو قدیم زمانے میں اپنے ہم عصر مخاطبین کی نسبت سے پیغمبروں کی ذمے داری تھی- قرآن کی اِس آیت کے مطابق، دعوت الی اللہ کے سلسلے میں داعی کی ذمے داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ مدعو کی زبان میں بول کر اس کو دعوت کا پیغام دے دے- اِسی کے ساتھ لازمی طورپر وہ چیز بھی ضروری ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں ’’تبیین‘‘ کہاگیاہے- تبیین کا مطلب ہے واضح کرنا، بات کو پوری طرح قابلِ فہم بنادینا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سے معلوم ہوا کہ داعی کے لیے صرف مدعو کی زبان کا جاننا کافی نہیں، اِسی کے ساتھ ضروری ہےکہ وہ مدعوکے مزاج کو سمجھے، وہ مدعو کی ذہنی ساخت کے مطابق، اُس سے خطاب کرے، تاکہ اس کا ذہن ایڈریس ہوسکے- اِس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانے میں داعی کی ذمے داری بہت بڑھ گئی ہے- قدیم زمانہ اگر روایتی اسلوب کا زمانہ تھا تو موجودہ زمانہ سائنٹفک اسلوب کا زمانہ ہے- آج کا مدعو کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ اُس بات کو عقلی اسلوب میں مدعو کے سامنے پیش کیا جائے-اِس شرط کا تقاضا ہےکہ داعی نہ صرف آج کی زبان سیکھے، بلکہ وہ آج کے ذہن کو پوری طرح سمجھے اور جدید ذہن کو سمجھنے کا یہ کام صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ انتہائی بے تعصبانہ انداز میں جدیدافکار کا مطالعہ کیا جائے- یہ کام صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ داعی کے دل میں مدعو کے لیے کامل خیر خواہی موجود ہو- اگر کامل خیرخواہی موجود نہ ہو تو نہ زبان کا جاننا کافی ہوسکتا ہے اور نہ جدید علوم کا مطالعہ-
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے تمام علما مستشرقین (orientalists) کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں- وہ مستشرقین کو اسلام کا دشمن اور اسلام کے خلاف سازش کرنے والا قرار دیتے ہیں، حتی کی ایک عرب عالم نے مستشرقین کو دورِ جدید کے تین اژدہوں میں سے ایک اژدہا قرار دیاہے- (ملاحظہ ہو: أجنحة المکر الثلاثة، تالیف: عبد الرحمن حبنکہ المیدانی)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مستشرقین کے بارے میں یہ رائے یقینی طورپر درست نہیں- اصل یہ ہے کہ مسلم علما، مغربی مستشرقین کو غیر متعصبانہ ذہن کے ساتھ نہ پڑھ سکے، اِس لیے وہ اُن کے کیس کو بھی سمجھنے سے قاصر رہے- مستشرقین کے کیس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس فرق کو سمجھا جائے جو مسلم علما اور مستشرقین کے درمیان پایا جاتاہے- مسلم علما دین اسلام کو وحی (revelation)کے ظاہرہ کے تحت دیکھتے ہیں- اِس کے برعکس، مستشرقین اپنے طریقِ مطالعہ کے تحت دینِ اسلام کو صرف ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon)یا تاریخی ظاہرہ (historical phenomenon) کے طورپر دیکھتے ہیں- طریقِ مطالعہ کے اِس فرق کی بنا پر فطری طورپر ایسا ہوتاہے کہ دونوں کی رائے میں کچھ فرق واقع ہوجاتا ہے- یہ فرق یقینی طورپر کسی سازشی ذہن یا بدنیتی کی بنا پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف طریقِ مطالعہ (method of study)میں فرق کی بنا پر ہوتاہے-
استشراق کی حقیقت
استشراق (orientalism) کیا ہے، استشراق اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، صرف ایک چیز کا نام ہے، وہ یہ ہے کہ نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد مختلف اسباب سے یورپ میں ایک ذہن ابھرا جس کو روحِ تجسس (spirit of inquiry) کہاجاتاہے- اِس روحِ تجسس نے مزید ترقی پاکر موضوعی طریقِ مطالعہ (objective method of study) کا عنوان اختیار کیا- نشاةِ ثانیہ کے بعد یورپ میں پیدا ہونے والے تمام علوم، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ اصلاً اِسی طریق ِ مطالعہ کی پیداوار ہیں-اِس طریقِ مطالعہ کا استعمال بنیادی طورپر دو بڑے میدانوں میں ہوا— ایک، علمِ فطرت(natural sciences) اور دوسرا، علمِ انسانیات (humanities) - اِس طریقِ مطالعہ سے بہت زیادہ فائدے حاصل ہوئے- ہر شعبے میں نئی نئی حقیقتیں سامنے آئیں، تحقیق کے نئے نئے دروازے کھلے، سوالات کے نئے نئے جوابات ملے، زندگی کے لیے نئی نئی رہنمائیاں حاصل ہوئیں- تاہم علم کے دونوں شعبوں میں ایک بنیادی فرق تھا- علمِ فطرت کا میدان فطرت کے اٹل قوانین تھے- اس میں یہ ممکن تھا کہ علمِ ریاضی (mathematics) کے قطعی فارمولے کو استعمال کرتےہوئے قطعی نتیجے تک پہنچا جائے اور اگر بالفرض کوئی انسان اپنے اندازے میں غلطی کرجائے تو دوسرا انسان مزید تجزیہ کے ذریعے اس کی تصحیح کرسکے- اِسی لیے اِن علوم کو قطعی علوم (exact sciences)کہاجاتاہے-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
لیکن علم انسانیات، بہ شمول مذہب، میں اِس کے استعمال کا معاملہ بالکل مختلف تھا- اِس شعبے میں حتمی نوعیت کا کوئی ریاضیاتی طریقہ قابلِ حصول نہ تھا، اِس لیے یہاں لازمی طورپر یہ ہونا تھا کہ انسانیات کے شعبے میں مطالعہ کرنے والوں کی رائے میں اختلاف پیدا ہو، وہ کسی معاملے میں غلط استنباط (wrong inference) کا شکار ہوجائیں- اِس بنا پر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ انسانیات کے دائرے میں مطالعہ کرنے والا انسان کوئی ایسا اصول وضع کرسکے جس میں سرے سے کوئی غلطی نہ پائی جاتی ہو- انسانیات کے مطالعے میں جو غلطیاں پائی جاتی ہیں، وہ اختلافِ رائے کی بنا پر ہیں، نہ کہ سازش یا بدنیتی کی بنا پر- یہی استشراق کا معاملہ ہے- استشراق کا کیس ایک طریقِ مطالعہ کا کیس ہے، نہ کہ سازش یا بدنیتی کاکیس-
اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مستشرقین کے اِس ذہن کو مدعو کے ذہن کے طورپر لیا جائے، نہ کہ کسی دشمن کے سازشی ذہن کے طورپر- ہر مدعو کی اپنی سوچ ہوتی ہے- اِس طرح مستشرقین کا کیس بھی مدعو کا کیس ہے اور ان کی بھی اپنی ایک سوچ ہے- اگر ہم مستشرقین کے کیس کو مدعو کے کیس کے طورپر لیں تو ہمارے دل میں اُن کے بارے میں وہی خیرخواہی پیدا ہوجائے گی جو ہر مدعو کے لیے ایک داعی کے دل میں ہوتی ہے- اِس طرح یہ ممکن ہوجائے گا کہ ہم مستشرقین کے ذہن کو غیرجانب دارانہ انداز میں سمجھیں اور اُن سے داعیانہ ذہن کے تحت ڈسکشن کریں اور اُن کو اسلام کا فطری پیغام پہنچائیں-مستشرقین بھی انسان ہیں- اُن کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے- اگر اُن کی فطرت ایڈریس ہوجائے تو اُن کے ساتھ وہی واقعہ پیش آسکتا ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ( 41:34)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاریخ بتاتی ہے کہ مستشرقین کے معاملےمیں اِس طرح کے واقعات بار بار پیش آئے ہیں- بہت سے ایسے مستشرق ہیں جنھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا- وہ اسلام کی صداقت سے متاثر ہوئے اور انھوں نے اسلام کے بارے میں بہت سی اعلی کتابیں لکھیں- مثلاً ٹامس کارلائل (وفات: 1881)، ٹی ڈبلو آرنلڈ (وفات: 1930 )، فلپ کے ہٹی (وفات: 1978)، وغیرہ- کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کے تفصیلی مطالعے کے بعد باقاعدہ اسلام قبول کرلیا- مثلاً ہنگری کے عبدالکریم جُرمانوس (وفات: 1979)، وغیرہ-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مستشرق عام طورپر اُس کو کہا جاتا ہے جو کسی مغربی ملک میں پیدا ہوا ہو اور پھر وہ مشرقی مذاہب کا مطالعہ کرے- لیکن توسیعی طورپر اِس فہرست میں ایسے افراد بھی شامل کیے جاسکتے ہیں جو کسی دوسرے مذہب میں پیداہوئے ہوں اور پھر وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کریں اور مطالعہ کے بعد اسلام قبول کرلیں- اِس دوسری قسم میں بھی بہت سے افراد پائے جاتے ہیں- مثلاً ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے، وغیرہ-ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے کا مختصر تعارف در ج ذیل ہے:
Chattopadhyay, Nishikanta (1852-1910) research scholar and the first Bengali to obtain a PhD degree (1882) from a European university, was born in July 1852 in the village of Pashchimpara in Vikrampur, Dhaka. Nishikanta passed the FA from Presidency College. He then went to Germany to study German, Sanskrit, linguistics, history and philosophy at Leipgiz University. But he was expelled from there for being an atheist. He proceeded to Switzerland and completed his doctoral studies at the University of Zurich. He returned to India in 1883 and subsequently taught at different colleges in Hyderabad, Mysore and Muzaffarpur. Towards the end of his life, he embraced Islam.
other sourceWords of another person or source
(http://www.banglapedia.org)