داعی یا مصلح کا ایک کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سچائی کی بات بتائے- وہ لوگوں کو امر ِحق سے باخبر کرے- اِس کام کا تقاضا یہ ہے کہ داعی اور مصلح سچائی کا گہرا علم رکھتا ہو- وہ ایسی زبان میں کلام کرے جو لوگوں کے دماغ کو اپیل کرنے والی ہو- اس کا دعوتی کلام اپنی زبان اور اپنے اسلوب، دونوں کے اعتبار سے، مخاطب کے لیے پوری طرح قابلِ فہم ہو- اس کے کلام میں وضوح (clairty) ہو- اس کا کلام کنفیوژن سے مکمل طورپر پاک ہو- دعوت اور اصلاح کی کوشش کے نتیجے میں جب کچھ لوگ اس سے متاثر ہوں اور وہ کم یا زیادہ تعداد میں اس کے گرد اکھٹا ہوجائیں تو اس کے بعد داعی کی ایک اور ذمے داری شروع ہوجاتی ہے، یہ کہ وہ اِن متاثر افراد کو قریب کرے اور ان کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے- دعوت اور اصلاح کی اِس دوسری ضرورت کو قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے- اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’(اے رسول) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اُن کے لیے نرم ہو- اگر تم تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس سے بھاگ جاتـے‘‘ -(3:195)
متاثر افراد کے درمیان اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی صفت یہ ہے کہ داعی لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے، وہ اُن کے ساتھ سخت معاملہ نہ کرے- اِس کو ایک لفظ میں، لوگوں کے مزاج کی رعایت کہا جاسکتا ہے- جب بھی کچھ لوگ اکھٹا ہوں تو اُن کی طرف سے بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو ناگواری کا پہلو لیے ہوتی ہیں- جہاں اجتماعیت ہو، وہاں لازمی طورپر مسائل بھی ہوتے ہیں، کیوں کہ ہر آدمی کا مزاج الگ الگ ہوتاہے- ایسی حالت میں، اجتماعیت کو برقرار رکھنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے- ان کی ناگوارباتوںکو نظر انداز کیا جائے- ایسے پروگرام رکھے جائیں جو لوگوں کے درمیان آپس کے تعلقات بڑھانے والے ہوں- مثلاً سادہ طورپر اجتماعی کھانا، وغیرہ-
دعوت اور اصلاح کے کام میں یہ دوسرا پہلو عملی اعتبار سے بہت زیادہ اہم ہے- نظریاتی صداقت کے ساتھ اجتماعی حکمت اگر موجود نہ ہو تو کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔