← Al-Risala August 2011Al-Risala August 2011
Main Content
Urdu · 84 min read
الرساله ، اگست2011
فهرست
تاریخ دعوت— ایک جائزہ 2
حالات نہیں تو کیفیات نہیں 40
روزہ اور تزکیۂ نفس 41
اعتکاف کی دو قسمیں 47
تاریخِ دعوت— ایک جائزہ
قرآن، خالقِ کائنات کی کتاب ہے۔ قرآن کا موضوع ہے انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے آگاہ کرنا۔ اِس سلسلے میں قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت یہ ہے أفغیر دین اللہ یبغون، ولہ أسلم من فی السماوات والأرض طوعاً وکرہاً (3: 83) یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اوردین چاہتے ہیں، حالاں کہ اللہ ہی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کی کامیابی اِس میں ہے کہ وہ اِس دین اللہ کو اختیار کرے۔ اِس معاملے میں، انسان کے لیے دوسرا کوئی چوائس (choice) نہیں۔ اِس دین اللہ کے دو پہلو ہیں— توحید، اور امن۔ توحید (oneness of God) اِس دینِ کائنات کی نظریاتی بنیاد(ideological base) ہے۔ دین کے تمام فکری اورعملی تقاضے اِسی توحید کے نظریے سے پیدا ہوتے ہیں۔ توحید کا آغاز دریافت (discovery) سے ہوتا ہے، یعنی خالق کائنات کی دریافت ۔یہ دریافت جب کسی کو حقیقی طورپر حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اس کی پوری زندگی اس میں ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کی طرف سے آنے والے تمام انبیاء اِسی توحید کا پیغام لے کر آئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امن (peace) کا لفظ دین اللہ کے اجتماعی تقاضے کو بتاتا ہے۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ انسانی سماج میں نارمل فطری حالت کو برقرار رکھا جائے۔ اِسی فطری حالت کی برقراری پر زندگی کی تمام تعمیری سرگرمیوں کا انحصار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی اعتبار سے، امن کی حیثیت خیرِ اعلیٰ (summum bonum) کی ہے۔ امن دراصل سماج کی صحت مند حالت کا دوسرا نام ہے۔ امن کے بغیر کوئی بھی انسانی سرگرمی درست طورپر جاری نہیں رکھی جاسکتی، نہ دینی سرگرمی اور نہ دنیوی سرگرمی۔
انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان جب آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے تو سماج میں معتدل ماحول بنتا ہے۔ ہر قسم کی صحت مند سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہوجاتی ہیں۔ اِس کے برعکس، انسان جب اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتاہے تو سماج میں وہ ماحول بن جاتا ہے جس کو قرآن میں فساد (7: 85) کہا گیا ہے۔ایسی حالت میں کسی بھی کام کو خوش گوار طورپر انجام دینا ناممکن ہوجاتاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی سورہ النساء میں کہاگیا ہے الصلح خیر (4: 128) یعنی صلح بہتر ہے۔ صلح سے مراد امن اور مسالمت (conciliation) ہے، یعنی نزاع (controversy) کے وقت ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرنا، اِس کے بجائے وہ طریقہ اختیار کرنا جس میں ٹکراؤ (conflict) کے بغیر نزاع ختم ہوجائے اور دوبارہ معتدل فضا میں کام ہونے لگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زندگی میں نزاع کیوں پیداہوتی ہے۔ اِس کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص آپ کا دشمن بن گیا ہے، وہ آپ کے خلاف سازش کررہاہے۔ اِس صورتِ حال کا اصل سبب خدا کا قائم کردہ تخلیقی نظام ہے۔ انسان کے پیدا کرنے والے نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جس طرح چاہے، اپنی آزادی کو استعمال کرے۔ اِس صورت حال سے، مسابقت (competition) اور چیلنج کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اِس چیلنج کو اگر منفی معنی میں لیں تو وہ نزاع ہے اور اگر اُس کو مثبت معنی میں لیں تو وہ ترقی کے لیے محرک (incentive) بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو وہ انسانی معاشرہ پسند ہے جس میں امن کا ماحول پایا جاتاہو۔ امن خدا کے نقشۂ حیات کے مطابق ہے اور تشدد خداکے نقشۂ حیات کے خلاف۔ قرآن کی سورہ یونس میں ارشاد ہوا ہے واللہ یدعو إلی دار السلام (10: 25) یعنی اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتاہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And God calls to the home of peace.
قرآن کی اس آیت میں ’’دار السلام‘‘ سے مراد اصلاً آخرت کی جنت ہے۔ جنت کامل معنوں میں امن کا مقام ہے۔ یہی پرامن زندگی موجودہ دنیا میں بھی انسان سے مطلوب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ موجودہ دنیا میں پُرامن زندگی کا ثبوت دیں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں کامل امن کی جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امن کا برعکس، تشدد (violence) اور جنگ ہے۔ اہل علم، امن کی تعریف (definition) اِس طرح کرتے ہیں کہ امن ناجنگ حالت (absence of war) کا نام ہے۔ لیکن یہ امن کی ایک منفی تعریف (negative definition) ہے۔ امن کی مثبت تعریف یہ ہے کہ امن مواقع کی موجودگی (presence of opportunity) کا نام ہے۔ امن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مواقع کا دروازہ کھولتی ہے۔ امن کے ماحول میں ہر قسم کے مواقع قابلِ حصول ہوجاتے ہیں۔ اِسی لیے خالق کا منشا یہ ہے کہ امن کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ امن کو لازمی طور پر قائم رکھا جائے، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت (price) دینی پڑے۔
ایگو کا مثبت اور منفی پہلو
انسان کو پیدائشی طورپر ایگو (ego) کے ساتھ پیدا کیاگیا ہے۔ ایگو کیا ہے، ایگو اپنے وجود کا احساس ہے۔ یہ انسانی دماغ کی وہ صلاحیت ہے جو آدمی کے اندر سیلف (self) کا احساس پیدا کرتی ہے
Ego: The part of the mind that is responsible for your sense of who you are.
ایگو کا مثبت پہلو بھی ہے اور منفی پہلو بھی۔ ایگو کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اُس سے اپنے آپ پر اعتماد (confidence) پیداہوتا ہے۔ ایگو کے ذریعے آدمی عزم (determination) کے ساتھ کسی کام کو کرنے کے قابل بنتا ہے۔ ایگو آدمی کو یقین عطا کرتا ہے، ایگو آدمی کے اندر استحکام پیدا کرتاہے، ایگو آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ زندگی کے چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا سفر آگے کی طرف جاری رکھے۔ ایگو اپنے مثبت معنی کے اعتبار سے، قوتِ حیات ہے۔ ایگو سے وہ تمام اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو مردانگی (manliness) کہاجاتا ہے۔یہ دراصل ایگو ہے جو کسی آدمی کو مردِ آہن (iron-man) بناتاہے۔
اِسی کے ساتھ ایگو کا ایک منفی پہلو ہے۔ یہ منفی پہلو کبر (arrogance) ہے۔ ایگو جب منفی صورت اختیار کرلے تو اُس سے شدید ترین برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً غصہ، نفرت، تشدد، سرکشی، ناانصافی، انتقام، حتی کہ ناحق قتل، وغیرہ۔ اِس کی ایک انتہائی مثال قرآن میں آدم کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کی صورت میں بیان کی گئی ہے۔ ہابیل اور قابیل دونوں سگے بھائی تھے۔ قابیل کسی بات پر اپنے بھائی ہابیل سے غصہ ہوگیا اور بے رحمی کے ساتھ اس کو مار ڈالا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابتدائی دور کے اِس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک قانون مقرر فرمایا۔ اِس قانون کا ذکر قرآن کی سورہ المائدہ میںاِن الفاظ میں آیا ہے مِن أجل ذلک، کتبنا علی بنی إسرائیل أنہ من قتل نفساً بغیر نفسٍ أو فساد فی الأرض فکأنما قتل الناس جمیعاً، ومَن أحیاہا فکأنما أحیا الناس جمیعاً۔ ولقد جائتہم رسلنا بالبینات ثم إن کثیراً منہم بعد ذلک فی الأرض لمسرفون (5: 32) یعنی اِسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا اُس نے زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کرڈالا، اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے، اِس کے باوجود اُن میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آدم اور حوا سے انسان کی نسل شروع ہوئی۔ توالد وتناسل کے نتیجے میں انسان کی آبادی بڑھتی رہی۔ دھیرے دھیرے انسان زمین کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے انبیاء کے ذریعے ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ ہر مقام پر اور ہر گروہ میں مسلسل انبیاء آتے رہے۔ انھوںنے پرامن جدوجہد کے ذریعے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچایا۔
توحید اور امن
اِس پیغامِ نبوت کے دو خاص اجزا تھے — توحید، اور امن۔ خدا کی نسبت سے، انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ ایک اللہ کو اپنا الٰہ (معبود) بنائے اور اُس کی عبادت کرے، وہ اللہ کے حکموں کے مطابق، دنیا میں زندگی گزارے۔ یہ بات پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے، خاص طورپر سورہ الاعراف (7: 59-85) اور سورہ الشعراء (26: 105-180) میں اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کی طرف سے آنے والی پیغمبرانہ ہدایت کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان اِس دنیا میں دوسروں کے درمیان امن کے ساتھ زندگی گزارے۔ خدا کے نزدیک، امن کا تصور کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان اِس دنیا میں فطرت کے نقشے کے مطابق رہے۔ خالق نے فطرت کا جو نظام بنایا ہے، وہ اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کرے۔ یہ حکم قرآن میں اِن الفاظ میں دیاگیاہے قد جائتکم بینۃ من ربکم، فأوفوا الکیل والمیزانَ، ولا تبخسوا الناس أشیاء ہم، ولا تفسدوا فی الأرض بعد إصلاحہا (7: 85) یعنی تمھارے پاس تمھارے رب کے پاس سے کھلی ہوئی دلیل آچکی ہے، تو تم ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر مت دو اور زمین میں فساد نہ ڈالو، اس کی اصلاح کے بعد۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امن (peace) ہر قسم کی تعمیری سرگرمیوں کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے۔ امن کیا ہے، امن دراصل کوئی قائم کرنے کی چیز نہیں۔ فطرت کا نظام تمام تر امن ہی پر مبنی ہے۔ خالق نے جو دنیا بنائی ہے، اس میں خود تخلیقی نظام کے تحت، امن کی حالت قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ امن کی اِس فطری حالت کو برقرار رکھے۔ انسان اگر فطرت کے اِس نظام کو براقرار رکھے تو اس کا نام اصلاح ہے، اور انسان اگر فطرت کے اِس نظام میں خلل ڈالے تو اِس کا نام فساد ہے۔
قرآن میں وارننگ کے طورپر بتایا گیا ہے کہ انسان اگر فطرت کے نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کا ہر حصہ آلودگی (pollution) سے بھر جائے گا۔ ہوائی آلودگی (air pollution) اور آبی آلودگی (water pollution) جیسی چیزوں کے ذریعے دنیا انسان کے لیے رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ انسانی عمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اِس فساد کے خلاف یہ انتباہ (warning) قرآن کی حسب ذیل آیت میں موجود ہے ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت أیدی الناس، لیذیقہم بعض الذی عملوا، لعلہم یرجعون (30: 41) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید وہ باز آئیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پچھلی تاریخ میںآنے والے تمام پیغمبروں نے انسانی نسلوں کو اِن دونوں حقیقتوں (توحید اور امن) کی طرف متوجہ کیا، مگر عجیب بات ہے کہ انسان پیغمبروں کو اپنا رہنما نہ بنا سکا۔ اس نے پیغمبروں کو حقیر سمجھ کر اُن کو نظر اندازکردیا۔ اِس تاریخی واقعے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اِس نوعیت کی ایک قرآنی آیت یہ ہے یا حسرۃً علی العباد، ما یأتیہم من رسول إلا کانوا بہ یستہزؤن (36: 30) یعنی افسوس ہے بندوںکے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
توحید اور امن سے انحراف
توحید کے معاملے میں انسان نے یہ انحراف کیا کہ اُ س نے خالق کے بجائے مخلوق کی پرستش شروع کردی۔ مخلوقات میں جو چیز بھی نمایاں نظر آئی، مثلاً سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، وغیرہ ہر چیز انسان کے لیے پرستش کا موضوع بن گئے۔ اِس معاملے کو مذاہب کی تاریخ میں فطرت کی پرستش (nature worship) کہا جاتاہے۔ مظاہر فطرت میں چوں کہ تعدد (diversity) تھا، اِس لیے لوگوں کے معبود بھی متعدد ہوگئے۔ اِسی تعدّدِ اٰلہہ کے تصور کو قرآن میں شرک کہا گیاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی قسم کا انحراف امن کے معاملے میں پیش آیا۔ انسان اپنے مقصد کو پُرامن جدوجہد کے بجائے، پُر تشدد جدوجہد کے ذریعے حاصل کرنے لگا۔ اِس طرح پوری تاریخ جنگ اور ٹکراؤ کی تاریخ بن گئی — قبائلی سرداروں کے درمیان جنگ، راجاؤں کے درمیان جنگ، بادشاہوں کے درمیان جنگ، وغیرہ۔ فطرت کے نظام میں یہ انحراف حضرت نوح کے زمانے میں شروع ہوا۔ وہ مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم کا زمانہ آگیا۔
نیا منصوبہ
اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اِس منصوبے کا خلاصہ یہ تھا کہ نظریاتی طورپر انسان کے لیے توحید اورامن ہی واحد آپشن (option) کے طور پر باقی رہے۔ توحید اور امن کے سوا دوسرے آپشن کے لیے کوئی نظریاتی جواز (ideological justification) باقی نہ رہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا تھا، البتہ یہ ممکن تھا کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ انسان کے لیے اِس معاملے میں نظریاتی جواز باقی نہ رہے۔
یہ منصوبہ معجزاتی طورپر اچانک ظہور میں نہیں آسکتا تھا، اِس عالمِ امتحان میں یہی ممکن تھا کہ اِس منصوبے کو اسباب کے ماحول کے تحت ظہور میں لایا جائے۔ چناں چہ ایسا ہی کیا گیا ۔ اِس منصوبے کے آخری مرحلے کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے وقاتلوہم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلّہ للہ (8: 39) یعنی اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں جس واقعے کا ذکر کیاگیاہے، وہ کوئی سیاسی واقعہ نہیں ہے، وہ تمام تر ایک نظریاتی واقعہ ہے۔ اِس میں اُس خدائی منصوبے کا ذکر ہے جس کا آغاز ہاجرہ اور اسماعیل سے ہوا اور اصحاب رسول پر اس کا ایک مرحلہ مکمل ہوا۔ اِس منصوبے کے نتیجے میں تاریخ میں یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ انسان کے لیے نظریاتی اعتبار سے، شرک کا آپشن ختم ہوگیا۔ اِسی طرح نظریاتی اعتبار سے، انسان کے لیے جنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔
چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ وہاں انھوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہوچکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اِس منصوبے کا آغاز اِس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اِس غیر آباد ماحول میں بسا دیا۔
اِس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میںایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اِسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اِسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحاب رسول کہاجاتاہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی خصوصی جدوجہد کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ اِس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری ہوا جو بیسویں صدی عیسویں میںاپنی آخری تکمیل کو پہنچا۔
اِسی تاریخی پراسس (historical process)کے وہ نتائج ہیں جن کو ہم موجودہ زمانے میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً انسانی مساوات، مذہبی جبر کا خاتمہ، جمہوریت اور سائنسی انقلاب جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید کمیونکیشن کادور دنیا میں آیا۔ اِس کے علاوہ، فطرت (nature)کے نئے حقائق دریافت ہوئے جو دینِ توحید کے لیے تصدیق کی حیثیت رکھـتے تھے۔
نظریاتی جواز کا خاتمہ
اِس جدیدانقلاب کے نتیجے میںجو موافق باتیں پیدا ہوئیں، اُن میں سے دو خاص چیزیں یہ تھیں کہ نظریاتی طورپر توحیداور امن کے سوا کوئی اور انتخاب انسان کے لیے باقی نہ رہا۔سائنسی دریافتوں (scientific discoveries)کے نتیجے میں ایک طرف یہ ہوا کہ توحید اب ایک ثابت شدہ علمی حقیقت بن گئی۔ اب کوئی شخص اِس امتحان کی دنیا میں اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے توحید سے انحراف کرسکتا ہے، لیکن خالص اصولی اعتبار سے اس کے لیے اپنے انحراف کا کوئی نظریاتی جواز (ideological justification) موجود نہ ہوگا۔
یہی معاملہ امن کے اصول کا ہے، جو کہ صحت مند سماجی تعمیر کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ مسلح طاقت ہی اصل طاقت ہے۔ کوئی بڑا مقصد صرف مسلح طاقت کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جدید انقلاب کے ذریعے یہ قدیم مفروضہ یکسر بدل گیا ہے۔ اِس تبدیلی کے دو خاص پہلو ہیں — ایک، یہ کہ موجودہ زمانے میں جدید حالات کے نتیجے میں ایک نئی چیز ظاہر ہوئی ہے جس کو ایک لفظ میں مواقع کا انفجار (opportunity explosion) کہاجاسکتا ہے۔ اِن مواقع کو استعمال کرکے آج ہر مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اب کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ یا سیاسی طاقت کی قطعاً ضرورت نہیں۔ قدیم زمانے میں سیاسی ایمپائر (political empire) ہوا کرتے تھے، آج اُس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر غیر سیاسی ایمپائر (non-political empire)بنانا ممکن ہوگیا ہے۔
دوسری چیز وہ ہے جس کو عمومی تخریب کے ہتھیار (weapons of mass destruction) کہاجاتا ہے۔ اِن نئے ہتھیاروں کے ظہور میںآنے کے بعد اب جنگ انسان کے لیے سرے سے کوئی آپشن ہی نہ رہا۔ اب جنگ کا مطلب صرف تباہی ہے۔ اب کوئی بھی مثبت نتیجہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اِس طرح امن اب انسان کے لیے واحد آپشن (option) بن گیا۔ اب انسان کے لیے جو آپشن ہے، وہ امن اور جنگ کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ امن اور تباہی کے درمیان ہے۔ آج کے انسان کو یا تو امن کا طریقہ اختیار کرنا ہے یا اپنے آپ کو تباہی کے حوالے کردینا ہے۔
اِس طرح اب تاریخِ انسانی کا سفر اُس مقام پر پہنچ گیا ہے جس کی طرف قرآن کی مذکورہ آیت (وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ، ویکون الدین کلّہ للہ)میں اشارہ کیاگیا تھا۔ تاریخ میں یہ انقلاب اتفاقی طورپر پیش نہیں آیا، وہ براہِ راست خدا کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ خدا نے تاریخی عمل (historical process) کو اِس طرح مینیج (manage)کیا کہ وہ ایک ایسے انجام تک پہنچے جو دعوتِ حق کے کام کے لیے آخری حد تک موافق ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاریخِ کائنات کا پہلا دور
کائنات کو اس کے خالق نے ایک بامقصد کائنات کے طورپر پیدا کیا ہے۔ اِس مقصد کی تکمیل ایک تدریجی اصول پر قائم ہے۔ اِس لحاظ سے، یہ کہا جاسکتاہے کہ کائنات کی ابتدائی تاریخ 6 بڑے ادوار (periods) پر مبنی ہے۔ یہ 6ادوار حسب ذیل ہیں
1 - بگ بینگ (Big Bang) 2 - لٹل بینگ (Little Bang)
3 - واٹر بینگ (Water Bang) 4 - پلانٹ بینگ (Plant Bang)
5 - انیمل بینگ (Animal Bang) 6 - ہیومن بینگ (Human Bang)
سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً 15 بلین سال پہلے خلا (space)میں ایک عظیم دھماکا ہوا جس کو بگ بینگ کہاجاتاہے۔ اُس وقت کائنات کے تمام اجزا (particles) ایک سپر ایٹم کے اندر جمع تھے۔ اِس سپر ایٹم (super atom)میں دھماکا ہوا، اس کے بعد اس کے مادی اجزا وسیع خلا میں پھیل گئے۔ پھر یہ مادی اجزا مختلف اجسام کی صورت میں جمع ہوئے اور وہ مادی دنیا وجود میں آئی جس کو ستارے (stars) اور سیارے (planet) کہا جاتا ہے۔
غالباً ایک بلین سال پہلے ایک ستارہ (star) میں لٹل بینگ (Little Bang) کا واقعہ ہوا۔ اُس کے بعد اس ستارے کے مختلف ٹکڑے ہوگئے۔ اس کے بعد خلا (space)میں وہ مجموعہ بنا جس کو شمسی نظام (Solar System) کہاجاتا ہے۔ یہ شمسی نظام ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) کے کنارے واقع ہے۔
اِس کے بعد واٹر بینگ (Water Bang) ہوا، یعنی فضا میں موجود دو گیس (ہائڈروجن اور آکسیجن) کے ملنے سے پانی وجود میں آیا۔ یہ پانی لمبے عرصے تک بارش کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر وہ گہرے سمندروں میں ذخیرہ (reservoir) کی صورت میں جمع ہوگیا۔اِس کے بعد پلانٹ بینگ (Plant Bang) ہوا، یعنی زمین کی سطح پر سبزہ اور درخت وجود میں آئے۔ سمندروں کے سوا زمین کی پوری سطح جو زمین کے تقریباً چوتھائی حصے پر مشتمل ہے، وہ سبزہ سے ڈھک گئی۔ اِس کے بعد انیمل بینگ (Animal Bang) ہوا اورمختلف قسم کے حیوانات وجود میں آئے۔ سمندر میں مچھلیاں اور خشکی پر چرند وپرند بڑی تعداد میں پیدا ہوگئے۔اِس کے بعد ہیومن بینگ (Human Bang) ہوا۔ خالق نے انسان کو پیدا کرکے اُس کو زمین پر آباد کیا۔ یہاں سے سیارۂ زمین کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی۔ اِس تاریخ کو دوسرے الفاظ میں، تہذیب کی تاریخ (history of civilization) کہاجاتاہے۔
انسان کے سوا جو کائنات ہے، وہ سب کی سب قانونِ فطرت (law of nature) کے تحت کام کرتی ہے۔ ہر چیز کی سرگرمیوں کے لیے خالق نے ایک نظام مقرر کردیا ہے۔ اِس نظام کے تحت تمام چیزیں اپنا کردار (role) ادا کرتی ہیں۔ مگر انسان کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ انسان کو اُس کے خالق نے کامل آزادی (complete freedom) عطا کی ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال۔ آزادی کے اِسی صحیح یا غلط استعمال کی بنیاد پر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
ہدایت کا انتظام
یہی وہ مصلحت ہے جس کی بنا پر انسان کے لیے ہدایت کا خصوصی انتظام کیاگیا۔ انسانوں کی ہر نسل کے درمیان خدا نے اپنے پیغمبر بھیجے۔ اِن پیغمبروں نے انسان کو بتایا کہ انسان کے لیے اِس دنیا میں صحیح روش کیا ہے اورغلط روش کیا۔ پیغمبر نے بتایا کہ موت سے پہلے کی زندگی انسان کے لیے امتحان کی زندگی ہے۔ موت کے بعد انسان کی ابدی زندگی (eternal life)شروع ہوگی، جہاں وہ اپنے عمل کے مطابق، یا تو انعام پائے گا یا وہ سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔پیغمبروں کی آمد کا یہ سلسلہ ہزاروں سال تک جاری رہا۔ مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ یہ تمام پیغمبرصرف انفرادی اعلان (announcement) کے درجے میں اپنا کام کرسکے، اُن کا مشن اجتماعی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔
اجتماعی انقلاب کا دور
اِس کے بعد تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک نئی نسل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ تقریباً ڈھائی ہزار سال کے عرصے میں یہ نسل بن کر تیار ہوئی۔ اِس نسل کو تاریخ میںبنو اسماعیل (Ishmaelites) کہاجاتا ہے۔ اِسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پیداہوئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں کے ذریعہ وہ گروہ بن کر تیار ہوا جس کو اصحابِ رسول کہاجاتاہے۔ اصحابِ رسول کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہواکہ دعوتِ نبوت، اعلان سے آگے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ گئی۔ یہاں اِس سلسلے کی چند مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعے یہ واضح ہوسکے گا کہ دعوتِ نبوت کا اعلان سے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ جانے کا مطلب کیا ہے۔
1 - قرآن کی سورہ الانفال میں یہ آیت آئی ہے وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ، ویکون الدین کلّہ للّٰہ (8: 39) ۔ یہ آیت مدنی دور میں اتری۔ قرآن کی اِس آیت میں ایک آنے والے مستقبل کی خبر دی گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اصحاب رسول کی جدوجہد سے دنیا میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) جاری ہوگا۔ اِس پراسس کی تکمیل یہ ہوگی کہ دین سب کا سب اللہ کے لئے ہوجائے۔ اِس سے مراد دین کی سیاسی حکومت (political rule) نہیں ہے، بلکہ دین کا نظریاتی (ideological) غلبہ ہے، یعنی دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا غیر مدلل ہوجانا، دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا نظریاتی جواز (ideological justification) سے محروم ہوجانا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ واقعہ موجودہ زمانے میں مکمل طور پر پیش آچکا ہے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے، اِس لیے یہاں قیامت سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوسکتاکہ لوگوں سے ان کی آزادی چھین لی جائے۔ آزادی کے غلط استعمال کا موقع آدمی کے لیے پہلے بھی تھا اور وہ آج بھی باقی ہے۔ لیکن جہاں تک نظریاتی جواز (ideological justification) کی بات ہے، وہ دینِ خداوندی کے سوا کسی اور دین کے لیے باقی نہیںرہے گا۔اِس انقلابی عمل کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے ذریعے ہوا اور بیسویں صدی کے آخر میں یہ عمل اپنے اختتام تک پہنچ گیا۔ اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ اکیسویں صدی میں جو کام کرنا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ پیدا شدہ مواقع کو بھر پور طور پر دعوتِ حق کے لیے استعمال کیا جائے۔
2 - قرآن کی سورہ البقرہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (companions) کی طرف سے یہ دعا منقول ہوئی ہے ربّنا، ولا تحمل علینا إصراً کما حملتہ علی الذین من قبلنا (2: 286) یعنی اے ہمارے رب، تو ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تونے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس دعا میں ’’ہم‘‘ سے مراد صرف اصحابِ محمد نہیں ہیں،توسیعی معنوں میں یہ دعا پوری امتِ محمد کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اِس دعا میں اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگی گئی ہے، وہ یقینا پوری ہوئی، لیکن یہ اُسی وقت ساتویں صدی میں پوری نہیں ہوئی، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کے طورپر انسانی تاریخ میں جاری ہو ئی اور وہ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر مکمل ہوئی۔
اب اکیسویں صدی میں حالات مکمل طورپر بدل چکے ہیں۔ آج کے داعیانِ حق کو دعوت الی اللہ کے راستے میں نہ وہ مسائل (problems) پیش آئیں گے جو صحابہ سے پہلے کے داعیوں کو پیش آئے تھے اور نہ اُن کو اُن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اصحابِ رسول کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ آج کے داعی، تاریخ کی اِس تبدیلی کو سمجھیں اور اس کو دعوت کے لیے استعمال کریں۔موجودہ زمانے میں دعوت حق کے لیے تمام رکاوٹیں کلی طور پر ختم ہوچکی ہیں۔ اب اگر کسی داعی کے لیے رکاوٹ پیدا ہو تو وہ یقینی طورپر اس کی اپنی کسی غلط پالیسی کا نتیجہ ہوگی، وہ ہرگز حالات کے تحت پیش آنے والی رکاوٹ نہیں ہوسکتی۔
3 - قرآن کی سورہ حم السجدہ میں مستقبل کے اعتبار سے، ایک پیشین گوئی اِن الفاظ میں آئی ہے سنریہم اٰیاتنا فی الاٰفاق وفی أنفسہم حتی یتبین لہم أنہ الحق (41: 53) یعنی عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ امر پوری طرح ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں دراصل اُس عمل کا ذکر ہے جو صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد شروع ہوا۔ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ میں وہ علمی واقعہ پیش آیا جس کو تاریخ میں اسپریچول کروسیڈس (spiritual crusades) کہاجاتا ہے۔اس اسپریچول کروسیڈ کے بعد یورپ کے تمام بڑے بڑے دماغ سائنسی تحقیق میں مصروف ہوگئے۔ انھوں نے فطرت کے پوشیدہ رازوں کو دریافت کیا۔ بیسویں صدی میں یہ عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب آفاق وانفس کے وہ تمام چھپے ہوئے حقائق علمی طورپر ایک معلوم واقعہ بن چکے ہیں جو قرآن کے الفاظ میں تبیینِ حق کے لیے ضروری تھے۔ اکیسویں صدی کے داعیوں کا کام یہ ہے کہ وہ اِن سائنسی حقائق کو جانیں اور اُن کو دعوتِ حق کے لیے استعمال کریں۔ یہ سائنسی حقائق دعوت کو مسلّمہ علمی سطح پر مدلل کرنے والے ہیں۔
4 - قرآن کی سورہ الحج میں بتایا گیاہے کہ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے کعبہ کی تعمیر کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک اعلانِ عام کیا۔ اِس کا ذکر قرآن کے اِن الفاظ میں آیاہے وأذّن فی الناس بالحج یأتوک رجالاً وعلی کلّ ضامر یاتین من کل فجّ عمیق (22: 27) یعنی تم لوگوں میں حج کا اعلان کردو۔ لوگ تمھارے پاس آئیں گے پیدل بھی اور لاغر اونٹنیوں پر بھی، جو پہنچیں گی دور دراز گہرے پہاڑی راستوں سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت کا براہِ راست تعلق حج کے سفر سے ہے۔ لیکن توسیعی طور پر اُس میں یہ مفہوم شامل ہے کہ تدریجی عمل کے تحت ایک وقت آئے گا جب کہ لوگ دور دور سے سفر کرکے مکہ پہنچیں، یہاں تک کہ مکہ عالمی سفر کا مرکز بن جائے۔
قرآن کی اِس آیت میں اشاراتی طورپر یہ بات موجود ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سفر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ موجودہ زمانے میں جدید مواصلات (modern communication) کی ایجاد نے اس پیشین گوئی کو واقعہ بنا دیا ہے۔ عالمی آمد ورفت اتنی بڑھی ہے کہ یہ کہاجاتاہے کہ ساری دنیا ایک گلوبل ولیج (global village) بن گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں سیاحت (tourism) نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ایک مستقل ٹورسٹ انڈسٹری (tourist industry) وجود میں آگئی ہے۔ سیاحت اور تجارت، وغیرہ کے تحت روزانہ لوگ کروروں کی تعداد میں اِدھر سے اُدھر جاتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس واقعہ نے موجودہ زمانے میں دعوت کا ایک نیا موقع کھول دیا ہے۔ اب دعوتی موقع روز مرہ کی زندگی میں شامل ہوگیاہے۔ اِس کے نتیجے میں یہ ہورہا ہے کہ ہر روز کثیر تعداد میں داعی، مدعو کے علاقے میں جاتاہے اور مدعو، داعی کے علاقے میں آتا ہے۔ اِس صورتِ حال نے دعوت کے نئے عالمی مواقع کھول دئے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ اہلِ ایمان اِن نئے مواقع کو دریافت کریں اور اُن کو دعوت کے حق میں استعمال کریں۔
5 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ یہ زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں کچھ لوگ جو آپ کے اوپر ایمان لائے، اُن کو وہاں مشرکین ستانے لگے۔وہ ان کو جسمانی اذیت پہنچاتے تھے۔
اُس وقت کچھ اہلِ ایمان نے پیغمبر اسلام سے اِس صورتِ حال کی شکایت کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اِن حالات کو ہمارے لیے ختم کردے۔ اُس وقت رسول اللہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ یہ سن کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے یہ حال تھا کہ ایک مومن کے جسم پر لوہے کی کنگھی کی جاتی تھی، اور اس کے سر پر آرا چلایا جاتاتھا، مگر اِس قسم کی اذیت کے باوجود وہ اپنے دین پر قائم رہتا تھا۔ اِس کے بعد آپ نے فرمایا واللہ لیتمنّ ہذا الأمر حتی یسیر الراکب من صنعاء إلی حضرت موت، ولا یخاف إلا اللہ (صحیح البخاري، کتاب الأنبیاء، باب من اختار الضرب والقتل، رقم الحدیث (6943 یعنی خدا کی قسم، یہ امر (اسلام) ضرور اپنی تکمیل تک پہنچے گا، یہاں تک کہ یہ حال ہوگا کہ ایک شخص سوار ہو کر صنعا سے حضرت موت تک جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا ڈر نہ ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیث میں صرف ایک زمانی واقعے کو نہیں بتایا گیاہے، بلکہ وہ مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد جو انقلاب آیا، اُس سے انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوگا جو آخر کار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا دور ختم ہوجائے گا اور دنیا میں مذہبی آزادی کا دور شروع ہوجائے گا۔
اکیسویں صدی میں یہ پیغمبرانہ پیشین گوئی آخری حد تک واقعہ بن چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ آ ج کے داعی اِس زمانی حقیقت کو دریافت کریں اور پھر جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اس کے مطابق، دعوتِ حق کے کام کی منصوبہ بندی کریں۔
6 - ایک حدیث میں بتایاگیا ہے کہ بعد کے زمانے میں توحید کا پیغام دنیا کے ہر گھر میں پہنچ جائے گا۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں لا یبقیٰ علی ظہر الأرض بیتُ مدرٍ ولا وبرٍ إلا أدخلہ اللہ کلمۃَ الإسلام (مسند احمد، رقم الحدیث23814 ) یعنی زمین کی سطح پر کوئی خیمہ یا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس خیمہ یا گھر کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ دراصل مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی ہیں۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی، جب کہ یہ ممکن ہوجائے گا کہ اسلام کی دعوت ہر انسان تک پہنچ جائے، ہر چھوٹے یا بڑے گھر میں اسلام کا پیغام داخل ہوجائے۔
hadithQuotes a hadith
اِس قسم کا عالمی ادخالِ کلمہ پر اسرار طور پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اساب کے تحت واقع ہوگا۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام اسباب مکمل طورپر واقعہ بن چکے ہیں۔ آج وہ تمام مواقع (opportunities) کھل چکے ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی کے مطابق، دعوتِ حق کے کام کو عالمی سطح (global level) پر ممکن بنایا جاسکے۔
ضرورت ہے کہ آج کے اہلِ ایمان اِن امکانات کو دریافت کریں۔ موجودہ زمانے کے اہلِ ایمان کی نسل گویا کہ اِن تبدیلیوں کی وارث ہے۔ اُس پر فرض کے درجے میں یہ ضروری ہے کہ وہ شعوری طور پر اِن تبدیلیوں کو جانیں اور اُن کو استعمال کرتے ہوئے مذکورہ حدیث کی پیشین گوئی کو واقعہ بنائیں۔
7 - دجال کے ظہور کے ذیل میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اِس میں بتایاگیاہے کہ دجال جب ظاہر ہوگا تو اُس وقت اہلِ ایمان کی جماعت میں سے ایک شخص اُس کے مقابلے کے لیے نکلے گا۔ اِس رجلِ مومن کے پاس تلوار یا اور کوئی اسلحہ نہیں ہوگا، لیکن اللہ کی توفیق سے وہ اِس مقابلے میں حجت اور برہان کے ذریعے دجال پر غالب آجائے گا۔ اِس کے بعد حدیث کے الفاظ یہ ہیں ہذا أعظم الناس شہادۃً عند ربّ العالمین (صحیح مسلم، کتاب الفتن) یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک تاریخ کی سب سے بڑی گواہی ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ کوئی سادہ واقعہ نہیں، اور نہ وہ کوئی پراسرار واقعہ ہے۔ یہ دراصل اُس لمبے تاریخی عمل (historical process) کے نقطۂ انتہا (culmination) کو بتاتا ہے، جس کے نتیجے میں کسی رجلِ مومن کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ہتھیار استعمال کئے بغیر صرف دلیل کی طاقت سے دجالی فتنہ (عظیم ترین شیطانی فتنہ) کا خاتمہ کردے۔ اِس قسم کا دعوتی موقع چوں کہ پہلی بار وجود میں آئے گا، اِس لیے اُس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت (greatest witness) کانام دیاگیاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ عظیم دعوتی موقع اکیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح ظہور میں آچکا ہے۔ آج کے اہلِ ایمان پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اِن جدید امکانات کو دریافت کریں اور پُرامن منصوبہ کے ذریعے اُس کو استعمال کرتے ہوئے وہ عظیم دعوتی رول انجام دیں جس کا آج کی تاریخ کو انتظار ہے۔
8 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی اِن الفاظ میں آئی ہے إذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ، وإذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ (صحیح مسلم، کتاب الفتن، رقم الحدیث 7511) یعنی جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔ اور جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیثِ رسول میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا تعلق ایک بادشاہ کے خاتمے سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ایک دور کے خاتمہ سے ہے۔ اِس حدیث میں دراصل یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوگا جو آخر کار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں شخصی حکمرانی (dynasty) کا دور ختم ہوجائے گا اور عوامی حکمرانی (democracy) کادور آجائے گا۔ اِسی طرح ایک اور حدیث ِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ — اہلِ ایمان پیش قدمی کرتے ہوئے ایک شہر تک پہنچیں گے۔ وہ نہ کسی ہتھیار سے جنگ کریں گے اور نہ وہ تیر چلائیں گے۔ وہ صرف لا اِلٰہ إلا اللہ، واللہ أکبرکہیں گے اور شہر کی دیواریں گر جائیں گی، یہاں تک کہ وہ اس کے اندر داخل ہوجائیں گے (صحیح مسلم، کتاب الفتن)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِن روایات میں مستقبل کے بارے میںایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوگا۔ اِس عمل کا نقطہ انتہا یہ ہوگا کہ دنیا سے مطلق العنان بادشاہت (dictatorship)کا دور ختم ہوجائے گا، یعنی وہ دور ختم ہوجائے گا جب کہ سیاسی طاقت ہی اصل طاقت ہوا کرتی تھی۔ اِس کے بعد وہ حالات پیدا ہوں گے جب کہ نظریہ (ideology) کو طاقت کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ پر امن فکری جدوجہد کے ذریعے اُن مقاصد کو حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا جن کو پہلے صرف سیاسی طاقت کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا تھا۔
یہ انقلابی دور اب دنیا میں پوری طرح آچکا ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف طاقت کا ڈی سنٹرلائزیشن (de-centralization of power) پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ آج وہ دور ختم ہوچکا ہے جب کہ طاقت صرف ایک سیاسی حاکم کے پاس ہوا کرتی تھی۔ اب ہر انسان کو یہ موقع ہے کہ وہ سیاسی عہدہ (political seat) پر قابض نہ ہوتے ہوئے بھی جس مقصد کے لیے چاہے کام کرے۔ وہ ہتھیار کا استعمال کئے بغیر صر ف امن کی طاقت سے اپنے مطلوب کو حاصل کرسکے۔
اِسی طرح یہ پیشین گوئی بھی موجودہ زمانے میں پوری طرح ایک واقعہ بن چکی ہے کہ لا إلٰہ إلا اللہ واللہ أکبرکا مشن لے کر اٹھنے والے لوگ کسی قسم کا مسلح ٹکراؤ کئے بغیر شہروں میں نُفوذ کریں اور لوگوں کے دلوں میں داخل ہوجائیں۔ حدیثِ رسول کی اِس پیشین گوئی کو دوسرے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتاہے — دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اکیسویں صدی میں اب اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اِس تاریخی تبدیلی کو دریافت کریں، وہ اِن جدید امکانات کو استعمال کرکے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی سطح پر انجام دیں۔ موجودہ زمانے میں ایک عظیم دعوتی امکان پیداہوا ہے، مگر اِس عظیم دعوتی امکان کو صرف وہی لوگ استعمال کر سکیں گے جو اپنے شعور کے اعتبار سے اُ س کے فکری وارث بن سکیں۔
9 - قرآن کی سورہ النساء میں داعیانِ اسلام کوخطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے أولئک الذین یعلم اللہ ما في قلوبہم، فأعرض عنہم وعِظْہُم، وقل لہم فی أنفسہم قولاً بلیغا (4: 63) یعنی اُن کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ پس تم اُن سے اعراض کرو اور اُن کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Speak to them in such terms as will address their minds.
قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ قدیم زمانہ روایتی اسلوب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں روایتی اسلوب بھی مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا بن سکتا تھا، مگر آج کا دور تعقل کا دور (age of reason) ہے۔ آج کے انسان کا مائنڈ صرف اُس وقت ایڈریس ہوتا ہے جب کہ اس کے سامنے کسی بات کو عقلی اسلوب میں بیان کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک پہلو ہے کہ جب وہ ایک چیز کا حکم دیتاہے تو اِسی کے ساتھ وہ اُس کے اسباب بھی فراہم کردیتاہے۔ اسلامی دعوت، اہلِ ایمان کی ابدی ذمے داری ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی اہلِ ایمان کو اُسی طرح اپنا دعوتی فریضہ انجام دینا ہے جس طرح دورِ قدیم کے اہلِ ایمان نے اِس فریضے کو انجام دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے داعیانِ حق کی اِس ضرورت کو سمجھا اور موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر وہ فکری تبدیلی پیدا کردی جس کو استعمال کرکے اسلامی دعوت کو عقلی اسلوب میں پیش کیاجاسکے۔
اسلام کے بعد کے زمانے میں ایک فکری عمل شروع ہوا۔ اکیسویں صدی میں یہ فکری عمل اپنے نقطۂ اختتام تک پہنچ چکا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہوگیا ہے کہ اسلام کی دعوت کو اُس اعلیٰ عقلی اسلوب پر پیش کیا جاسکے جو دورِ جدید کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ ضرورت ہے کہ آج کے داعیانِ حق اِس حقیقت کو جانیں اور اس کو جدید دورمیں دعوتِ حق کے لیے استعمال کریں۔
10 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے إن اللہ لیؤیّد ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاري، کتاب الجہاد) یعنی اللہ تعالیٰ ضرور اِس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔
hadithQuotes a hadith
اِس حدیثِ رسول میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق ایک پوری تاریخ سے ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے عرب میں جو انقلا ب آیا، اس کے بعدتاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اِس عمل کا نشانہ یہ تھاکہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوں جس کے بعد اسلامی دعوت کو اس کی اعلیٰ ترین سطح پر انجام دینا ممکن ہوجائے۔ حقائق ربانی کے عالمی اظہار کے تمام ممکن ذر ائع وجود میں آجائیں، تاکہ دورِ آخرکے اہلِ ایمان اتمامِ حجت کی سطح پر دعوتِ حق کا کام انجام دے سکیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ منصوبہ کوئی معمولی منصوبہ نہ تھا۔ یہ تاریخ کے رخ (cause of history) کو انقلابی طورپر بدل دینے کے ہم معنی تھا۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں سال سے جاری روایتی دور ختم ہو جائے اور ایک نیا دور شروع ہو۔ یہ وہی دور ہے جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اِس دور کو وجود میں لانا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ اتنا بڑا کام تھا جس کو تنہا اہلِ ایمان انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ضرورت تھی کہ اِس میں پوری انسانیت شامل ہو، حتی کہ ایسے محرکات پیدا ہوں کہ فاجر(secular) طبقہ بھی اِس عمل میں یکساں طورپر شریک ہوجائے — مذکورہ حدیثِ رسول میں اِسی عمومی انسانی عمل کا ذکر کیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی آخری حد تک مکمل ہوچکی ہے۔ لمبے تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ تمام اسباب واقعہ بن چکے ہیں جو دعوتِ حق کے لیے تائید کی حیثیت رکھتے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ اہلِ ایمان زمانے کی اِس تبدیلی کو سمجھیں اور اُس کو دعوتِ حق کے لیے استعمال کرکے دورِ جدید میں اتمامِ حجت کا وہ مطلوب کام انجام دیں جس کا خدائی منصوبے کے مطابق، قیامت سے پہلے ظہور میںآنا ضروری ہے۔
تاریخ کائنات کا دوسرا دور
تاریخ کائنات کے پہلے 6 دور گویا کہ اس کے مادّی دور تھے۔ اِس کے بعد تاریخ کائنات کا دوسرا دور شروع ہوا۔یہ دوسرا دور بھی 6 دوروں پر مشتمل ہے۔ اِس دوسرے دور کو تاریخِ کائنات کا فکری دور کہاجاسکتاہے۔ یہ دوسرے 6 دور حسب ذیل ہیں
1 - پیغمبروں کا دور 2 - بنو اسماعیل کادور 3 - اصحابِ رسول کا دور
4 - مسلم تہذیب کا دور 5 - مغربی تہذیب کا دور 6 - اخوانِ رسول کا دور
پیغمبروں کادور
پیغمبروں کا دورآدم سے شروع ہوا جو پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ آدمی کی پیدائش کی تاریخ معلوم نہیں۔ یہ دور آخر کار محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پر ختم ہوا، جو آخری پیغمبر کی حیثیت رکھتے تھے۔ قرآن میں صرف 25 پیغمبروں کا ذکر ہے۔ البتہ بائبل میں مزید پیغمبروں کا تذکرہ ہے جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔ تاہم تمام پیغمبروں میں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات استثنائی طورپر محفوظ ہیں۔ اب قیامت تک کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہی ہدایتِ الٰہی کا واحد مستندماخذ (authentic source) کی حیثیت رکھتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بنو اسماعیل کا دور
بنو اسماعیل کادور اُس وقت شروع ہوتاہے جب کہ حضرت ابراہیم نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اِس کا مقصد عرب میں ایک نئی نسل تیار کرنا تھا۔ یہ واقعہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے پیش آیا۔ اُس کا مقصد دراصل پیغمبر اسلام کے لیے ایک تیار شدہ نسل (prepared generation) فراہم کرنا تھا۔ یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب ہوا۔ بنو اسماعیل کی اِسی نسل میں پیغمبر اسلام پیدا ہوئے اور اِسی نسل میں کام کرکے آپ کو ساتھیوں کی وہ ٹیم حاصل ہوئی جس نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
اصحاب رسول کا دور
اصحابِ رسول سے مراد اصحابِ محمد ہیں۔ اصحابِ محمد، پیغمبروں کی تاریخ میں ایک مستثنیٰ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی اجتماعی کوشش سے، تاریخ میں پہلی بار یہ کارنامہ انجام دیا کہ توحید کے مشن کو دعوت کے مرحلے سے آگے بڑھا کر، انقلاب کے مرحلے تک پہنچا دیا۔ اصحابِ رسول کی کوششوں سے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ بعد کے تمام سماجی اور سیاسی اور سائنسی انقلابات اِسی تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں۔
مسلم تہذیب کا دور
مسلم تہذیب کے دور سے مراد وہ دور ہے جو رسول اور اصحابِ رسول کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد شروع ہوا۔ یہ دور مکہ اور مدینہ میں شروع ہوا، پھر دمشق اور بغداد اور قرطبہ ہوتے ہوئے وہ مغربی یورپ تک پہنچ گیا۔ اِس دور کو مسلم تہذب کاد ور کہا جاسکتا ہے۔
مسلم تہذیب کے دور میں، فطرت (nature) کو پرستش کے بجائے تدبر اور تسخیر کا موضوع بنایا گیا۔ جن ستاروں کو اِس سے پہلے انسان دیوتا سمجھ کر پوجتا تھا، ان کے مطالعے اور مشاہدے کے لیے مسلم شہروں میں رصد گاہیں قائم ہوئیں، وغیرہ۔ مسلم تہذیب کے رول کا اعتراف مورخین نے واضح طورپر کیا ہے۔مثال کے طورپر بریفالٹ(Robert Briffault) نے لکھا ہے کہ — یہ بہت زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہ آتی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It is highly probable that but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all. (The Making of Humanity, p. 202)
other sourceWords of another person or source
مغربی تہذیب کا دور
مغربی تہذیب (western civilization) کو عام طور پر قدیم یونانی تہذیب کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کہاجاتاہے، مگر یہ انتساب درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید مغربی تہذیب دراصل قدیم مسلم تہذیب کی نشاۃِ ثانیہ ہے۔ مغربی تہذیب نے اُس سائنسی علوم کو تکمیل تک پہنچایا، جس کا آغاز مسلم تہذیب کے زمانے میں ہوا تھا۔ مغربی تہذیب نے فطرت(nature) میں چھپے ہوئے قوانین (laws of nature) کی دریافت کرکے یہ کیا کہ اسلام کی صداقت اور اسلام کی دعوت کے تمام امکانات اعلیٰ ترین سطح پر کھول دئے۔ غالباً یہی تاریخی واقعہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں کی گئی تھی إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیثِ رسول میں جس تائید ِ دین کا ذکر ہے، اُس سے مراد تہذیب (civilization) کے ذریعے وجود میں آنے والی تائید ہے، یعنی فکر وعمل کی سطح پر دینِ حق کے لیے تمام مواقع کا کھل جانا۔ تائید دین کے اِس واقعے کا ابتدائی نصف حصہ مسلم تہذیب کے زمانے پیش آیا، اور تائید دین کے اِس واقعے کا بقیہ نصف حصہ مغربی تہذیب کے ذریعے انجام پایا۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں، فاجر انسان سے مراد دراصل سیکولر انسان ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اخوانِ رسول کا دور
اخوانِ رسول سے مراد امتِ محمدی کا وہ دوسرا گروہ ہے جو تاریخِ انسانی کے آخری دورمیں قیامت سے پہلے غالباً اکیسویں صدی میں ظاہر ہوگا۔ وہ حالات کے اعتبار سے اکیسویں صدی عیسوی میں وہی دعوتی جہاد کرے گا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول نے اپنے حالات کے اعتبار سے انجام دیا تھا۔ اصحابِ رسول اپنے زمانے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے وارث بنے تھے۔ اخوانِ رسول اپنے زمانے سے پہلے کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کے وارث ہوں گے۔
اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں میں سے کسی کا کام پراسرار کام نہیں ہوگا، بلکہ دونوں ہی کا یہ معاملہ ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے معلوم مواقع کو دریافت کریں گے اور اُن کو استعمال کرکے انسانیت کے معاملے میں خدا کے منصوبہ کو پورا کریں گے۔
اخوانِ رسول
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، دورِ آخر میں اہلِ ایمان کے درمیان ایک دعوتی گروہ ظاہر ہوگا۔ حدیث میں اِس گروہ کو اخوانِ رسول کہاگیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں وددتُ أنا قد رأینا إخواننا۔ قالوا أولسنا إخوانک یا رسول اللہ، قال بل أنتم أصحابي، وإخواننا الذین لم یأتوا بعد (صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ)یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میںاپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھوں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان (بھائی) نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہوں گے جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دینِ توحید کی جو تاریخ شروع ہوئی، اُس میں دو گروہ ایسے ہیں جن کے لیے مقدر تھا کہ وہ دینِ توحید کے دعوتی اظہار میں نمایاں رول ادا کریں۔ اِن میں سے ایک گروہ وہ ہے جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول نے ساتویں صدی کے نصف اول میں اپنا خصوصی رول ادا کیا۔ موجودہ زمانے میں دعوت واظہار دین کا یہی رول وہ دوسرا گروہ انجام دے گا جس کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔
دونوں گروہوں میں سے کسی گروہ کا رول پراسرار کرامت کے طورپر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت ہوگا۔ دونوں زمانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے جن کو استعمال کرتے ہوئے دونوں گروہ اپنا مطلوب رول انجام دیں گے۔ دونوں گروہ دراصل دو الگ الگ تاریخی عمل کے نقطۂ انتہا (culmination) ہوں گے۔
اخوانِ رسول کی صفات
اخوانِ رسول کی دو خاص صفتیں ہوں گی — ایک صفت کا تعلق معرفتِ دین سے ہے، اور دوسری صفت کا تعلق دعوتِ دین سے۔ یہ دونوں صفات یکساں طورپر ضروری ہیں۔ اِن میں سے کسی ایک صفت کا فقدان بھی کسی گروہ کو اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کے لیے نااہل بنا دیتاہے۔
پہلی صفت کو سمجھنے کے لیے اِس حدیث رسول کا مطالعہ کیجئے بدأ الإسلام غریباً وسیعود کما بدأ، فطوبیٰ للغرباء (صحیح مسلم، کتاب الإیمان)یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ اِسی طرح دوبارہ اسلام اجنبی ہوجائے۔ پس مبارک باد ہو اجنبیوں کے لیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیثِ رسول میں بتایا گیاہے کہ عام قانونِ فطرت کے مطابق، مسلمانوںکی اگلی نسلوں کے اندر زوال (de-generation) پیدا ہوگا۔ وہ بدستور اسلام کا نام لیں گے، لیکن وہ حقیقی اسلام سے نا آشنا ہوچکے ہوں گے۔ وہ لوگ قابلِ مبارک باد ہیں جو بعد کے زمانے میں اصل اسلام کو دریافت کریں اور ازسرِ نو اُس پر قائم ہوجائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعد کے مسلمانوں میں اِس قسم کا زوال کیوں پیش آئے گا۔ اِس کا سبب رسول کے زمانے سے دوری ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے اسلام کو سمجھنے کا قریبی ماخذ رسول نہیں ہوتا، بلکہ بعد کے زمانے کے اکابر اُن کے لیے اُن کے دین کا قریب ماخذ بن جاتے ہیں، جن کو قرآن میں اَحبار ورُہبان (10: 30) کہاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صحابہ کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ رسول تھا۔ تابعین کے لیے اُن کے دین کا قریبی ماخذ صحابہ بن گئے۔ اس کے بعد تبع تابعین کے لیے اُن کے دین کا قریبی ماخذ تابعین بن گئے۔ اِسی طرح ہر نسل کے لیے اس کے دین کا قریبی ماخذ بدلتا رہا۔ یہ تبدیلی ہمیشہ تدریجی طورپر ہوتی ہے۔ اِس بنا پر وہ غیر محسوس طور پر جاری رہتی ہے۔ اِس کا اندازہ لوگوں کو صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ بڑھتے بڑھتے وہ بڑی تبدیلی تک پہنچ جائے۔
مثلاً رسول سے جو دین صحابہ کو ملا، اُس میں سارا زور اسپرٹ (spirit) پر تھا۔ اِس کے بعد ہر نسل میں اس کے اندر تبدیلی آتی رہی، یہاں تک کہ عباسی دور میں جب فقہاء کا زمانہ آیا تو اب سارا زور مسائل، بالفاظ دیگر فارم (form) پر دیا جانے لگا۔ رسول کے زمانے میں، دین مبنی بر روح (spirit-based) تھا۔ فقہاء کے زمانے میں، دین مبنی بر مسائل (form-based) بن گیا ہے۔
اِسی طرح رسول کے زمانے میں اسلام کا خارجی نشانہ صرف دعوت تھا۔ اُس زمانے میں اسلام ایک دعوتی مذہب کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے دعوتی ذہن کم ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب آٹھویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہوگیا تو مسلمانوں کے اندر دعوتی نشانہ سرے سے ختم ہوگیا۔ اب صرف ایک چیز اُن کا نشانہ بن گئی اوروہ تھا سیاسی اقتدار۔
اِسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کا کوئی کلچر نہیں تھا۔ اُس زمانے میں رسول اور اصحاب رسول اسلام کو ایک مشن کے طورپر اختیار کئے ہوئے تھے۔ پھر جب اسلام مختلف ملکوں میں پھیلا اور دوسری قوم کے لوگوں سے مسلمان کے تعلقات قائم ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل انٹرایکشن (interaction) کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان ایک کلچر بننے لگا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آگئی جس کو مسلم کلچر کہاجاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان یہ تبدیلیاں پوری طرح واقع ہوچکی ہیں، یہاں تک کہ رسول والا اصل اسلام مسلمانوں کے لیے اب اجنبی (غریب) بن چکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام پر ہیں، حالاں کہ باعتبار حقیقت وہ ایک بدلے ہوئے اسلام پر ہیں، نہ کہ اصل اسلام پر۔
اب اگر چہ اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کا وقت آگیا ہے، لیکن اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو رسول اور اصحابِ رسول والے اسلام کو دوبارہ دریافت (rediscover) کریں، موجودہ مسلمانوں کا زمانہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے درمیان جو دوری (distance) واقع ہوچکی ہے، اس کو عبور کرکے وہ دوبارہ عہد صحابہ میں پہنچیں۔
اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے والے اگرچہ اکیسویں صدی میں ہوں گے، لیکن اپنی فکر اور اپنی سیرت اور اپنے مشن کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو اصحابِ رسول کے ہم زمانہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا رول اگرچہ زمانے کے اعتبار سے مختلف ہے، لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے، دونوں کا رول ایک ہے۔
سیرتِ رسول کے موضوع پر راقم الحروف کی ایک کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ (صفحات 208 ) پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اِس کتاب کے آخری باب میں دو بڑے دعوتی گروہوں کا ذکر تھا جو پیغمبرانہ مشن میں عظیم تاریخی رول ادا کرے گا۔ کتاب کی یہ سطریں یہاں نقل کی جاتی ہیں
’’سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقت ور اہلِ کفر بظاہر کمزور اہلِ ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدتِ احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے۔ اِس نازک لمحہ میںآپ کی زبان سے جو کلمات نکلے، ان میں سے ایک جملہ یہ تھا اللہم إن تہلک ہذہ العصابۃ، لا تُعبد بعدہا فی الارض (خدایا، اگر یہ گروہ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی)۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سوتیرہ روحیں جو بے سرو سامانی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں، یہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ عصابہ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اِسی طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو، جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو، جو اپنے کردار کے اعتبار سے اُن امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لئے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اُس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اِس قابل ہوجاتاہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے، کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانے سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ (cog) میں اپنا کاگ ملائیں گے، اور بالآخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے‘‘۔ (صفحہ 204 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس اقتباس میں جن دو عصابہ کا ذکر تھا، اُن میں سے پہلا عصابہ وہ ہے جس کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ دوسرا عصابہ وہ ہے جس کا ذکر پیشین گوئی کے طورپر حدیثِ رسول میں آیا ہے۔ اِس دوسرے عصابہ کو حدیث میں اخوانِ رسول (إخواننا الذین لم یاتوا بعد) کہا گیا ہے—اصحابِ رسول وہ گروہ ہے جس نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنا معلوم تاریخی رول ادا کیا۔ اخوانِ رسول غالباً وہ گروہ ہوگا جو اکیسویں صدی عیسوی میں اپنا مطلوب رول ادا کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قسم کا رول ادا کرنا کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ ایسا گروہ ہمیشہ ایک لمبے تاریخی عمل کا نقطۂ انتہا ہوتا ہے۔ اصحابِ رسول اپنے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا نقطۂ انتہا تھے، اِسی طرح اخوانِ رسول اپنے سے پہلے کے ایک ہزار سال سے زیادہ لمبے تاریخی عمل کا نقطۂ انتہا ہوں گے۔پہلے عصابہ (اصحابِ رسول) نے اپنا مطلوب رول پیغمبر کی رہنمائی میں ادا کیا۔ بار بار ایسا ہوا کہ صحابہ پر یہ امر واضح نہ تھا کہ پیش آمدہ صورت حال میں اُنھیں کیا کرنا چاہیے۔ پیغمبر پر خدا نے وحی بھیجی اور پیغمبر نے اس کے مطابق، صحابہ کی رہنمائی کی۔ اس کی ایک مثال معاہدہ حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ اُس وقت صحابہ میں سے کسی بھی شخص کو یہ معلوم نہ تھا کہ اِس نازک موقع پر اُنھیں کیا کرنا چاہیے۔ آخر کار، پیغمبر کی رہنمائی میں فیصلہ کیاگیا۔ اِسی طرح صحابہ کا پورا رول پیغمبر کی رہنمائی میں انجام پایا۔
دوسرے عصابہ (اخوانِ رسول) کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ اخوانِ رسول کا رول تمام تر اجتہادی رول ہوگا۔ اُن کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ حالات کے گہرے مطالعہ کے ذریعے اپنا رول دریافت کریں اور اُس کے مطابق، عمل کرکے اخوانِ رسول کے درجے کے مستحق ٹھہریں۔ اِس معاملے میں اخوانِ رسول کے لیے صرف دو ہی چیزیں مدد گار ہوسکتی ہیں، وہ دو چیزیں ہیں — دعا، اور اجتہاد۔
راقم الحروف نے اِس موضوع پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ اس تمام متعلق لٹریچر کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اِسی کے ساتھ لمبی مدت تک اپنے دن اور اپنی راتوں کو دعا میں گزارا ہے۔ اِن مسلسل کوششوں کے بعد ذاتی طورپر میں اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکیسویں صدی میں وہ تمام حالات پوری طرح ظاہر ہوچکے ہیں جو اخوانِ رسول کو اپنا تاریخی رول ادا کرنے کے لیے درکار ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اب انتظار کا وقت ختم ہوچکا ہے اور عمل کا وقت آخری طور پر آچکا ہے۔
اخوانِ رسول کے لیے خوش خبری
قرآن کی سورہ الفیل (105) اور سورہ قریش (106) دو تَواَم (twin) سورتیں ہیں۔ یہ دونوں سورتیں تقریباً ایک ہی وقت میں مکی دورکی ابتدا میں نازل ہوئیں ۔ یہ دونوں صورتیں اصحاب رسول کے لیے خوش خبری کی حیثیت رکھتی تھیں۔
اِن سورتوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اصحاب رسول کو اپنے زمانے میں جو رول ادا کرنا ہے، اُس میں خدا پوری طرح اُن کے ساتھ ہے۔ اصحابِ رسول خدا کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں۔ خدا نے اُن کے لیے پیشگی طورپر وہ اسباب مہیا کردئے ہیں جن کی تائید سے وہ اپنے مطلوب رول کو بخوبی طورپر ادا کرسکیں۔
سورہ الفیل میں کعبہ کے تحفظ کا ذکر ہے۔ کعبہ دراصل وہ تاریخی عمارت تھی جس کے لیے یہ مقدر تھاکہ وہ اسلام کی تحریکِ توحید کا عالمی مرکز بنے۔ اِسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو معجزاتی طورپر ابرہا کے حملے سے بچایا۔ اِس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ اصحابِ رسول، کعبہ اور بلدِ امین کو مرکز بنا کر مبنی بر توحید انقلاب برپا کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سورہ قریش میں، قریش کے لیے خدا کی خصوصی نصرت کا ذکر ہے۔ یہ قریش کون لوگ تھے، یہ اسماعیلی نسل کے وہ منتخب لوگ تھے جو دراصل مستقبل کے اصحاب رسول تھے۔ خدا کو مطلوب تھا کہ وہ محفوظ رہیں اور آخر کار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے کر وہ تاریخی رول ادا کریں جو اُن کے لیے مقدر ہوچکا ہے۔ قرآن کے ساتھ خدا کا جو خاص معاملہ ہوا، اُس میں سے ایک معاملہ وہ تھا جس کو سورہ قریش کے اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے أطعمہم من جوع، و اٰمنہم من خوف (106: 4) یعنی اُن کے لیے خصوصی طورپررزق کی فراہمی اور خصوصی طورپر امن کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِن دونوں سورتوں میں براہِ راست طورپر اُس تاریخی معاملے کا ذکر ہے جو اصحابِ رسول کے ساتھ پیش آیا۔ اسی کے ساتھ بالواسطہ طورپر اِن دونوں سورتوں میں اُس واقعے کی طرف بھی اشارہ ہے جو بعد کے اخوانِ رسول کے ساتھ پیش آنے والا تھا، یعنی اخوانِ رسول کے لیے ایک طرف مرکز عمل کی فراہمی اور دوسری طرف مواقعِ کار کے دروازے کا کھل جانا۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں نصرتِ الٰہی کا یہ وعدہ امکانی طورپر ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اصحابِ رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے کہا تھا کہ مَن سرّہ أن یکون مثل ہذہ الامّۃ فلیؤدّ شرط اللہ فیہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات جو عمر فاروق نے قدیم زمانے میں اصحابِ رسول کے بارے میں کہی تھی، اُسی کو موجودہ زمانے میں اِس طرح کہاجاسکتا ہے کہ — جو لوگ اخوانِ رسول کی جماعت میں شامل ہونے کی خوش قسمتی حاصل کرنا چاہتے ہوں، اُن کو چاہیے کہ وہ عصرِ حاضر کو سمجھیں اور جدید مواقع کو استعمال کرکے وہ رول اداکریں جو اخوانِ رسول کے لیے مقدر ہوچکا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصحابِ رسول کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں تین خاص امکانات فراہم کئے گئے تھے۔ اکیسویں صدی عیسوی میں اخوانِ رسول کے لیے بھی جدید حالات کے اعتبار سے تین خاص مواقع پوری طرح فراہم ہوچکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ کچھ با حوصلہ اہلِ ایمان اِن مواقع کو دریافت کریں اور اپنے حکیمانہ عمل کے ذریعہ اِس امکان کو واقعہ بنائیں۔ اِن تینوں امکانات کو حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے
1 - متلاشی ٔ حق نسل (seeker generation) 2 - الیکٹرانک مرکز (electronic centre)
3 - امن اور کشادہ رزق (peace and plenty)
متلاشی حق نسل
مکہ میں قبائلِ قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، حق کے متلاشی (truth seeker) لوگ تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو حُنَفاء کہاگیاہے، یعنی متلاشی۔
اِنھیں حنفاء میں سے ایک زید بن عمر بن نُفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زیدبن عمرو بن نفیل کو دیکھا ہے۔ وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور یہ کہہ رہے ـتھے اللہم إنّی لو أعلم أحبَّ الوجوہ إلیک، عبدتک بہ، ولکنی لا أعلم (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 154 ) یعنی اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، لیکن میں اس کو نہیں جانتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شعوری یا غیر شعوری طور پر بنو اسماعیل کے تقریباً تمام افراد کا یہی حال تھا۔ اپنی خصوصی صحرائی تربیت کے نتیجے میں یہ لوگ متلاشی ٔ حق(truth seeker) تھے، نہ کہ منکرِ حق۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے اُن کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ابتدا میں اُن کی مخالفت بے خبری کی بنا پر تھی، نہ کہ حقیقۃً سرکشی کی بنا پر۔ موجودہ زمانے کی جدید نسل کاکیس بھی عام طورپر یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب اور دوسرے فکری انقلابات کے نتیجے میں لوگوں کاجو ذہن بنا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، منکرِ حق کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشیٔ حق (truth seeker) کا کیس ہے۔ اس معاملے کو ایک حالیہ مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔
ایک انگریز جوڑا مغربی تہذیب سے غیر مطمئن تھا۔ آخر کار دونوں لندن چھوڑ کر دہلی آگئے۔ دہلی میں آج کل وہ بیمار حیوانات کا ایک اسپتال چلا رہے ہیں۔ وہ حیوانات کی خدمت میں اپنے لیے اطمینان تلاش کررہے ہیں۔ ہماری دعوتی ٹیم کے ایک صاحب اُن سے ملے اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ انھوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا اور کہا کہ میں اس کو ضرورپڑھوں گا۔ انھوںنے کہا کہ— میری ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ میں سچائی کے دوسرے تصور کو جانوں
I always wanted to know another version of the truth.
یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ نئے افکار اور نئے تجربات نے اُن کو شعوری یا غیر شعوری طورپر سچائی کا متلاشی بنا دیا ہے۔ یہ صورتِ حال اکیسویں صدی کے اخوانِ رسول کو عین وہی موقع فراہم کررہی ہے جو ساتویں صدی کے اصحابِ رسول کے حصے میں آیا تھا۔ جو لوگ اِس موقع کو دریافت کرکے اس کواستعمال کریں، وہی دراصل اخوانِ رسول کا رول ادا کریں گے۔
الیکٹرانک مرکز
دعوتی کام کو منظم کرنے کے معاملے میں بھی یہی امکان پوری طرح پیدا ہوچکا ہے۔ قدیم زمانے میں کوئی دعوتی کام عملاً صرف محدود علاقے میں ہوسکتا تھا۔ حدیث کے الفاظ میں، آج یہ مطلوب ہے کہ سطحِ زمین کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں اسلام کا کلمہ داخل کردیا جائے۔ (لایبقیٰ علی ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللّٰہ کلمۃَ الإسلام)۔ اس سے کم درجے کے کسی کام کو مطلوب درجے کا کام قرار نہیں دیاجاسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں جو دعوتی کام مطلوب ہے، وہ عالمی دعوت کاکام ہے۔ اِسی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمانے میں ایسے حالات پیدا کئے جس کی بنا پر پوری دنیا ایک گلوبل ولیج (global village) بن گئی۔ آج یہ ممکن ہوگیاکہ جدید وسائل کو استعمال کرکے عالمی دعوت کاکام کیاجائے۔ آج عالمی دعوت کے مشن کو مقامی مرکزدرکار نہیں ہے، بلکہ اس کو عالمی مرکز درکار ہے۔
خدا کی خصوصی نصرت کا یہ امکان آج پوری طرح وجود میںآچکا ہے۔ اِس امکان کو ایک لفظ میں، دعوت کا الیکٹرانک سنٹر کہاجاسکتاہے۔ دورِ جدید کا الیکٹرانک سنٹر بظاہر ایک محدود رقبۂ زمین پر ہوگا، لیکن اپنے دعوتی رول کے اعتبار سے وہ عالمی سطح پر اپنے کام کو منظم کرنے کا اہل ہوگا۔
امن اور کشادہ رزق
امن اور رزق کی کشادگی کے اعتبار سے بھی یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ پورے معنوں میں وہ زمانہ ہے جب کہ امن اور رزق کی کشادگی دونوں کے مواقع پوری طرح حاصل ہوچکے ہیں۔ اصولی طور پر آج کے انسان کے لیے صرف امن کا چوائس (choice) باقی رہا ہے۔ تشدد اور جنگ کا چوائس اب اصولی طور پر ختم ہوچکا ہے۔ عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) کے وجود میں آنے کے بعد اب صرف پر امن طریقِ کار ہی کے ذریعے کوئی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اب متشددانہ طریقِ کار کے ذریعے کسی مثبت مقصد کا حصول ممکن ہی نہیں رہا۔
مزید یہ کہ آج مذہبی آزادی (religious freedom) کا حق ایک مطلق حق کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے جارحانہ انداز اختیار نہ کرے تو وہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر دعوتی کا کام انجام دے سکتاہے۔ گویا کہ قدیم عرب (قریش) کو جو امن محدود طورپر کعبہ کی نسبت سے ملا تھا، وہ امن اب جدید دنیا میں ایک زمانی انقلاب کے نتیجے میں عالمی سطح پر حاصل ہوچکا ہے۔
یہی معاملہ رزق کی کشادگی کا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہلِ اسلام کے لیے رزق کی کشادگی کاواقعہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے جیسا واقعہ اِس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔
اِس کشادگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے تیل کا خزانہ دریافت ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تیل کے ذخائر کا 75 فی صد حصہ مسلم ملکوں میں واقع ہے۔ دوسری طرف، جدید صنعتی انقلاب نے کسبِ رزق کے مواقع سیکڑوں گنا زیادہ بڑھا دئے ہیں۔ اگر اہلِ اسلام اپنی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا نہ کریں تو آج وہ دعوت الیٰ اللہ کا کام رزق کی فراوانی کے ماحول میں انجام دے سکتے ہیں، جب کہ پچھلے لوگوں کو رزق کی تنگی کے ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا پڑتا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مطالعہ بتاتا ہے کہ جدید دور (modern age) ہر اعتبار سے ایک نیا دور ہے۔ ایک لفظ میں، اس کو روایتی دور کا خاتمہ اور غیر روایتی دور کا ظہور کہہ سکتے ہیں۔ آج کا دور فکر وعمل کے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے کامل طورپر ایک بدلا ہوا دور ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ قدیم زمانے کا آدمی اگر اچانک زندہ ہو کر آج کے زمانے میں آئے تو وہ سمجھے گا کہ شاید میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ یہاں کی ہر چیز اس کو ناقابلِ قیاس حد ک بدلی ہوئی دکھائی دے گی۔
جدید تبدیلی کا مقصد
یہ تبدیلیاں دنیا میں کس لیے آئی ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو آرام وعیش فراہم کرنا نہیں ہے۔ اِس کا مقصد یہ ہے کہ اِن تمام مواقع اور اِن تمام امکانات کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا کام اتنا زیادہ مطلوب کام ہے کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے پورے دورکو بدل دیا۔ موجودہ زمانے میں زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہر اعتبار سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ یہ تبدیلیاں تمام تر دعوت الی اللہ کے حق میں ہیں۔ یہ تبدیلیاں دعوت الی اللہ کے کام ہی کے لیے ظہور میں آئی ہیں۔ جو لوگ اِن تبدیلیوں کو جانیں اور اُن کو بھر پور طورپر دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے استعمال کریں، وہی آخری دور کے وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوانِ رسول کہاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ادخالِ کلمہ
اخوانِ رسول کو جو کام کرنا ہے، اس کو واحد نام دینا ہوتو وہ ’ادخالِ کلمہ‘ ہوگا۔ حدیث میں اِس سلسلے میں أدخلہ اللہ کلمۃ الإسلام کا لفظ آیا ہے۔ اِس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ادخالِ کلمہ کے اِس عمل میں مُدخِل خود اللہ ہوگا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اساب خود اللہ کی طرف سے مہیا کئے جائیں گے جو عالمی ادخالِ کلمہ کے لیے ضروری ہیں۔ ادخالِ کلمہ کا پورا پراسس خدا کی طرف سے ہوگا۔ اخوانِ رسول کو صرف یہ سعادت ملے گی کہ وہ اِس عمل کا ایک شعوری حصہ قرار پائیںگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت الی اللہ کا کام ہمیشہ خدا کی نصرتِ خاص کے تحت انجام پاتاہے۔ تاریخ کے آخری دور میں دعوت الی اللہ کا جو کام ہوگا، وہ بھی خدا کی خصوصی نصرت کے تحت انجام پائے گا۔ یہ نصرتِ خاص ہمیشہ معجزہ کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔ اِس معاملے میں، معجزہ سے کم درجے کی کوئی چیز نصرت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ البتہ یہ فرق ہے کہ قدیم زمانے میں دعوت کے حق میں یہ معجزاتی نصرت خرقِ عادت کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی، اب موجودہ زمانہ میں یہ معجزاتی نصرت اسباب کی صورت میں ظاہر ہوگی، یعنی تاریخی عمل (historical process) کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے انفجارِ مواقع (opportunity explosion) کے ذریعے۔
اِس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قدیم زمانے کے داعیوں کو جو نصرت بذریعہ معجزات دی گئی تھی، موجودہ زمانے کے داعیوں کو وہ نصرت پورے دور کی تبدیلی کی صورت میں فراہم کردی گئی ہے۔ قدیم داعیوں کو یہ نصرت اگر وقتی معجزہ کے ظہور کے ذریعے ملی تھی، تو آج کے داعیوں کے لیے یہ نصرت پورے دور کو اُن کے موافق بنانے کی صورت میں عطاکردی گئی ہے۔
ہندستان میں خصوصی مواقع
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصابتان من أمتی أحرزہما اللہ من النار عصابۃ تکون مع عیسی بن مریم، وعصابۃ تغزوا الہند (صحیح الجامع للألباني، رقم الحدیث4012 ) یعنی میری امت میں دو گروہ ہیں جن کو اللہ نے آگ کے عذاب سے بچا لیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جو عیسی بن مریم کے ساتھ ہوگا، اور دوسرا گروہ وہ ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔
hadithQuotes a hadith
اِس حدیث رسول میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ بظاہر اِس کا مطلب یہ ہے کہ دورِ آخرمیںدعوت الی اللہ کا جو کام مقدر ہے، وہ غالباً ہندستان میں انجام پائے گا۔ دعوت الی اللہ کا یہ کام قیامت سے پہلے ہوگا۔ اِس کام کی انجام دہی کے بعد قیامت آجائے گی اور انسان کے لیے دوسرا دورِ حیات شروع ہوجائے گا، جہاں انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے، اور ایک گروہ کے لیے انعام اوردوسرے گروہ کے لیے سزا کا فیصلہ کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں دنیا میں تقریباً 200 ممالک ہیں۔ اُن میں سے ایک ہندستان ہے۔ مختلف ممالک کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات بہت زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ قیامت سے پہلے دعوت الی اللہ کا جو آخری کام ہونے والا ہے، اس کا مرکز غالباً ہندستان ہوگا۔
دعوت الی اللہ کا یہ کام عالمی سطح پر انجام پائے گا، لیکن مرکزِ عمل کے اعتبار سے، ہندستان کو اُس میں خصوصی مقام حاصل ہوگا۔ عجیب بات ہے کہ اکیسویں صدی کے ہندستان میں صرف دو گروہ ہیں جو دعوت الی اللہ کے کام میں خصوصی طورپر سرگرم عمل ہیں۔ میرے علم کے مطابق، موجودہ زمانے میں یہی دو گروہ ہیں جن کے اندر دعوت کاحقیقی اور بے آمیز شعور پایا جاتاہے۔ اِن دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ کا مرکز جنوبی ہند میں ہے، اور دوسرے گروہ کا مرکز نئی دہلی میں۔ ہذا ما عندي، والعلم عند اللہ۔
دور کی تبدیلی
قرآن کی سورہ النور میں اہل ایمان کے لیے استخلاف في الارض (24: 55) کاوعدہ کیاگیا ہے۔ اِس سلسلے میں مستقبل کے لیے یہ خبر دی گئی ہے کہ — خدا اہلِ ایمان کی حالتِ خوف کے بعد اُس کو امن سے بدل دے گا (ولیبدّلنہم من بعد خوفہم أمنا)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں جس تبدیلی کا ذکر ہے، اس کا تعلق نہ صرف سیاسی تبدیلی سے ہے اور نہ صرف زمانی تبدیلی سے۔ اِس آیت میں دراصل دور کی تبدیلی کی خبر دی گئی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ دورِ اول میں اسلام کے ذریعے جو انقلاب آیا، اُس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک پراسس (process) جاری ہوا۔ یہ پراسس آخر کار اِس انجام تک پہنچے گا کہ دنیا سے خوف کا دور ختم ہوجائے اور امن کا دور قائم ہوجائے۔ اِس کے بعد اہلِ ایمان توحید کے مشن کو مذہبی آزادی کے ماحول میں انجام دینے کے قابل ہوجائیں گے، جب کہ اِس سے پہلے توحید کے مشن کو مذہبی جبر کے ماحول میں انجام دینا پڑتا تھا۔
بیسویں صدی عیسوی میں یہ تبدیلی مکمل طورپر آچکی ہے۔ بیسویں صدی مذکورہ تاریخی پراسس کے نقطۂ انتہا (culmination) کی صدی ہے۔ اب لڑائی یا متشددانہ طریقِ کار کا مل طورپر ایک غیر متعلق (irrelevant) طریقہ بن چکا ہے۔ اب اگر اہلِ ایمان کو دوبارہ ’’خوف‘‘ کی حالت پیش آئے گی تو وہ خود اُن کی اپنی غلط پالیسی کی بنا پر پیش آئے گی، نہ کہ زمانی حالت کی بنا پر۔
دَور کی یہ تبدیلی پُرامن دعوتی مشن کے لیے ایک عظیم تائید کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو لوگ اِس راز کو نہ سمجھیں اور بدستور متشددانہ کارروائی کرتے رہیں، وہ اپنے بارے میں اندھے پن کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ اندھا پن اتنا زیادہ سنگین ہے کہ اُس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں کفر وانکار کا نام دیاگیاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنتی تہذیب
تہذیب (civilization) کا آغاز قدیم زمانے میں اُس وقت ہوا جب کہ انسان نے لوہے کو دریافت کیا۔ یہ دور ہزاروں سال تک چلتا رہا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلم تہذیب کا آغاز ہوا۔ مسلم تہذیب کا بنیادی کارنامہ یہ تھا کہ اُس نے فطرت (nature) کو پرستش کے مقام سے ہٹا کر اس کو تحقیق (investigation) کے دور میں داخل کیا۔ اِس کے بعد سولھویں صدی میں مغربی تہذیب کا دور شروع ہوا۔ اِس دورکا خاص پہلو میکانائزیشن آف پاور (mechanization of power) تھا۔
تہذیب کا سفر امکان کے اعتبار سے، ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بیسویں صدی عیسوی میں اس کی ترقی اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ انسان کی قائم کردہ میکانکل صنعت ایک لازمی مسئلے سے دوچار ہے، اور وہ کثافت (pollution) ہے۔
کثافت کے مسئلے نے موجودہ زمانے میں فضاؤں اور سمندروں کو آلودگی سے بھر دیا۔ قرآن کے یہ الفاظ آج پوری طرح واقعہ بن چکے ہیں ظہر الفساد فی البرّ والبحر بما کسبت أیدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا، لعلم یرجعون (30: 41) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آجائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عارفانہ دریافت کا سفر
قرآن میںبتایاگیا ہے کہ ولو أن ما فی الأرض من شجرۃ أقلام والبحر یمدّہ من بعدہ سبعۃ أبحر، ما نفدت کلمات اللہ، ولو جئنا بمثلہ مددا (31: 27) یعنی اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آیت میں کلمات اللہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر، آلاء اللہ کہاگیا ہے، یعنی عجائب خداوندی (wonders of God) ۔ قرآن میں بتایاگیا ہے کہ انسان کو عبادت (51: 56) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صحابی مفسر عبداللہ بن عباس نے اِس آیت میں، عبادت کا مطلب معرفت بتایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خصوصی مخلوق کے طورپر پیدا کیا ہے، انسان کو سوچنے والا دماغ دیا ہے جو کسی اور کو نہیں دیا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور وفکر کے ذریعے تخلیقات میں چھپے ہوئے آلاء اللہ کو دریافت کرے، اور استعجاب کے درجے میںاُن کا اعتراف کرے۔ گویا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ کہا گیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
I created man only to discover and appreciate the wonders of God.
تہذیب کا سفر دراصل اِسی عارفانہ دریافت کا سفر تھا، مگر اِس سفر کا ابھی ایک فی صد سے بھی بہت کم حصہ طے ہوا تھا کہ اس کی حد آگئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کلمات اللہ یا آلاء اللہ ابھی لامتناہی حد تک باقی ہیں، پھر کیا ایسا ہوگا کہ انسانی تاریخ یوں ہی ناتمام طورپر ختم ہوجائے اور کلمات اللہ اِسی طرح مخفی حالت میں باقی رہیں۔ ایسا ہونا ناممکن ہے۔ ضروری ہے کہ تخلیق کا منصوبہ پورا ہو، اتمامِ نور(61: 8) کا عمل اپنی آخری حد تک پہنچے، وہ خدائی پیشین گوئی واقعہ بنے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے وأشرقت الأرض بنور ربہا (39: 69) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قیامت کے بعدبننے والی دنیا دراصل اِسی ربانی تہذیب یا ان فولڈنگ کے عمل (process of unfolding) کا تسلسل (continuation) ہے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں صالح انسان اور غیر صالح انسان دونوں ملے ہوئے ہیں۔ قیامت کے بعد دونوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے گا۔ غیر صالح لوگوں کو ابدی طورپر محرومی کی دنیا میں ڈال دیاجائے گااور صالح انسانوں کو الگ کر کے ایک کامل اور معیاری دنیا میں بسایا جائے گا، اِسی کا نام جنت ہے۔
ربانی تہذیب
جنت دوسرے الفاظ میں، ربانی تہذیب (divine civilization) کی دنیا ہے۔ ربانی تہذیب کے تحت جو عمل انجام پائے گا، اُس کو ایک لفظ میں، آلاء اللہ کی اَن فولڈنگ (unfolding of divine wonders) کہاجاسکتا ہے۔
یہ عمل سادہ طورپر ایک عمل نہیں ہوگا، بلکہ وہ اعلیٰ ترین مسرت(super joy) کاتجربہ ہوگا۔ یہاں انسان ہر لمحہ ایک نئی پر اہتزاز دریافت (thrilling discovery) کرے گا۔ لازوال مسرت کی اِس دنیا کی کوئی انتہا نہ ہوگی اور نہ وہ کبھی ختم ہوگی۔ اِسی جنت کے بارے میں قرآن میںآیا ہے خالدین فیہا لا یبغون عنہا حولا(18: 108) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن اور حدیث میں اہلِ جنت کے آرام وراحت کے لیے بہت سی چیزیں موجود ہوں گی۔ جنت میں آرام وراحت کی حیثیت دراصل خدائی ضیافت (divine hospitality) کی ہوگی، یعنی اہلِ جنت کی اصل سرگرمیاں اِس لیے ہوں گی کہ وہ ربانی تہذیب کو بروئے کار لائیں۔ اِسی کے ساتھ اہلِ جنت کے لیے خدا کی طرف سے ہر قسم کے آرام وراحت کا سامان فراہم کیا جائے گا، یہاں تک کہ اُن کی تمام خواہشیں کامل فل فل مینٹ (total fulfilment) کے درجے میں پوری ہونے لگیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معرفت کا ابدی سفر
وہ کون خوش نصیب لوگ ہوں گے جو آخرت کی روحانی تہذیب (spiritual civilization) کو ظہور میں لائیں گے اور تخلیق میں خدائی عجائب کو اَن فولڈ (unfold) کرنے کا ابدی رول ادا کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میںاِس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیں کہ وہ دنیا کے محدود حالات میں معرفتِ خداوندی کی دریافت کی آخری حد تک پہنچیں۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو اُن کواِس کا اہل ثابت کرے گی کہ وہ آخرت کے لامحدود حالات میں خدائی معرفت کی دریافت کا ابدی سفر طے کریں۔
ساتویں صدی عیسوی میں بنو اسماعیل کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کے اصحاب بن کر روایتی دور میں وہ عمل (process) جاری کریں جو آخرکار جنت کی روحانی تہذیب (spiritual civilization) تک پہنچنے والا تھا۔
بنو اسماعیل کی وہ صفت کیا تھی جس کی بناپر وہ اصحاب رسول کا درجہ پانے کے مستحق قرار پائے، اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔قدیم مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، حق کے متلاشی تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو حُنفاء کہاگیا ہے، یعنی متلاشی۔ اِنھیں حنفاء میں سے ایک زید بن عمر بن نُفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میںنے زید بن عمر بن نفیل کو دیکھاہے۔ وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے اللہم إنّی لو أعلم أحبَّ الوجوہ إلیک، عبدتک بہ، ولکنی لا أعلم (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، 1/154 ) یعنی اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، مگر میں اس طریقے کو نہیں جانتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک شخصی واقعہ نہیں، یہ دراصل بنو اسماعیل کی عمومی صفت کی ایک شخصی نمائندگی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے بنو اسماعیل قبل از اسلام کی مذہبی روایات میں آخری حد تک پہنچ چکے تھے، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن کو چنا کہ وہ بعد از اسلام کے انقلابی مذہبی رول کو انجام دیں۔
آخرت کے دور میں جومطلوب رول ادا کرنا ہے، اُس کو ایک لفظ میں، روحانی تہذیب (spiritual civilization)کو ظہور میں لانے کا رول کہاجاسکتا ہے۔ اِس رول کو انجام دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے روحانی سائنس داں(spiritual scientists) درکار ہیں ۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کا شعور موجودہ دنیا کے اعتبار سے، آخری دریافت کے مرحلے تک پہنچ گیا۔ یہ وہ اعلیٰ روحیں ہیں جو خدائی تخلیقات میں اس کے اندر چھپے ہوئے خدائی عجائب (divine wonders) کو دریافت کریں۔ اُن کی یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ محسوس کریں کہ اُس کے اظہار کے لیے اُن کے پاس الفاظ موجود نہیں ہیں۔ کائناتی عجائب کو دیکھنے کے بعد دوبارہ وہ کہہ سکیں کہ — خدایا، میںنہیں جانتا کہ میں تیرے تخلیقی عجائب کا بیان کس طرح کروں، اگر میں اس کو جانتا تو یقینا میں اُنھیں مطلوب الفاظ میں اس کا اظہار کرتا
O God, I don’t know how to appreciate your wonders. If I had known it, I would certainly have appreciated it in those words.
موجودہ دنیا میں خدائی عجائب (divine wonders) کی اَن فولڈنگ (unfolding) عام انسانی الفاظ میں ہوئی تھی، آخرت کی دنیا میں خدائی عجائب کی ان فولڈنگ خدا کی طرف سے دئے ہوئے خصوصی الفاظ کے ذریعے ہوگی۔ دنیا میں یہ کام انسان کی مدد سے انجام پایا تھا، آخرت میں یہ کام فرشتوں کی مدد سے انجام پائے گا۔ اِس کے بعد عجائبِ خداوندی کے ظہور کا وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے وأشرقت الأرض بنورِ ربہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حالات نہیں تو کیفیات نہیں
ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عرض ربي لیجعل لي بطحاء مکۃ ذہباً، فقلت لا یا ربّ، ولکن أشبع یوماً وأجوع یوماً۔ فإذا جعتُ تضرعتُ إلیک وذکرتک، وإذا شبعتُ حمدتُک وشکرُک (رواہ احمد والترمذی، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث5190 )
hadithQuotes a hadith
یعنی میرے رب نے مجھے پیش کش کی کہ وہ مکہ کی وادی کو میرے لیے سونا بنا دے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب نہیں، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں، اور جب میں شکم سیر ہوں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔
hadithQuotes a hadith
اِس حدیثِ رسول کا براہِ راست تعلق (direct relevance)روزے سے نہیں ہے، لیکن روزے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے وہ بے حد اہم ہے۔ اِس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کیفیات کا تعلق اَحوال سے ہے۔ اگر احوال نہیں تو کیفیات بھی نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ اصول اتنا زیادہ حتمی ہے کہ حدیث کے مطابق، پیغمبر کا بھی اِس میں کوئی استثنا (exception)نہیں۔ حدیث میں تضرع اور شکر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تضرع اور شکر دونوں اعلیٰ ایمانی کیفیات کا نام ہے۔ مگر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تضرع اور شکر دونوں معمول کے حالات میں پیدا نہیں ہوتے۔ ضروری ہے کہ انسان کے اوپر غیر معمولی حالات گزریں، اِس کے بعد ہی وہ تضرع اور شکر جیسی اعلیٰ ایمانی کیفیات سے آشنا ہوسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ر وزہ بظاہر ایک سلبی (negative) عمل ہے، لیکن اگر اس کو حقیقی طورپر انجام دیا جائے تو اس کے بعد وہ ایک عظیم ایجابی (positive) عمل بن جاتا ہے۔ وہ انسان کے لیے ایسی ذہنی اور روحانی ترقیوں کے سفر کا دروازہ کھول دیتا ہے جس کی آخری منزل جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔
روزہ اور تزکیۂ نفس
یہ ایک واقعہ ہے کہ روزہ تزکیہ نفس (purification of soul) کا ذریعہ ہے۔ مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ روزہ رکھنے سے پُراسرار طور پر اپنے آپ آدمی کا تزکیہ ہوجاتا ہے۔ تزکیہ نفس ایک شعوری واقعہ ہے، نہ کہ کوئی پراسرار واقعہ۔ روزہ آٹومیٹک طورپر کسی کا تزکیہ نہیں کرتا۔تزکیہ کا عمل ایک شعوری پراسس (process)کے ذریعے طے ہوتاہے اور روزہ اِس پراسس کا ابتدائی مرحلہ ہے۔
تزکیہ ایک نتیجہ کا نام ہے۔ اِس نتیجے سے پہلے ایک پریپریٹری کورس (preparatory course) درکار ہے۔ جہاں یہ ابتدائی کورس نہ پایا جائے، وہاں نتیجہ بھی نہیں پایا جائے گا۔ روزہ دراصل اِسی قسم کا ایک پریپریٹری کورس ہے، روزہ اپنے آپ ایک مطلوب نتیجہ نہیں۔
اِس پریپریٹری کورس کا عمل ایک صاحب ایمان کے اندر ہر روز جاری رہتا ہے۔مثلاً وہ شخص جس کو شعوری ایمان حاصل ہو، وہ ہر روز مختلف تجربات کے درمیان اپنے عجز کو دریافت کرتا رہتا ہے۔ مثال کے طورپر اس کی توجہ اپنے دل کی طرف جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دل اگر مسلسل پمپنگ کا کام نہ کرے تو میں ایک لمحے کے اندر مر جاؤںگا۔ دل کی یہ پمپنگ مشین میں اپنے ارادے سے نہیں چلاتا۔ یہ خدا کا ایک داخلی تصرف ہے جو اس کو مسلسل طورپر بلا وقفہ چلا رہا ہے۔ یہ مشین اگر دو منٹ کے لیے بھی رک جائے تو یقینی طورپر میری موت واقع ہوجائے گی۔یہی سانس کا معاملہ ہے۔ انسان ہر وقت سانس لیتا ہے۔ سانس کا مطلب ہے ہوا کے ذریعے آکسیجن کو اِن ہیل (inhale) کرنا اور اندر کے کاربن کو ایکس ہیل (exhale) کرنا، یعنی آکسیجن کو لینا اور کاربن کو باہر نکالنا۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو بلا وقفہ جاری رہتا ہے، مگر اِس میں میرے ارادے کو کوئی دخل نہیں، وہ تمام تر خدا کے ایک داخلی نظام کے تحت ہوتا ہے۔
یہ دونوں واقعات ہر شخص کی زندگی میں ہر لمحہ پیش آتے ہیں۔ جس آدمی کا شعور زندہ ہو، وہ اِن واقعات پر غور کرے گا۔ اِس طرح وہ ہر لمحہ اپنے عجز کو دریافت کرتا رہے گا۔یہ صرف دل کی حرکت یا نظامِ تنفس کی بات نہیں، اِس طرح کے ہزاروں واقعات ہیں جو ہر انسان کے ساتھ ہر لمحہ پیش آتے رہتے ہیں۔ مگر عام طورپر انسان غفلت کی حالت میں رہتا ہے، اِس لیے وہ اپنے اِن تجربات سے عجز کی غذا نہیں لے پاتا۔
غافل انسان کی اِسی غفلت کو توڑنے کے لیے سال میں ایک مہینے کا روزہ رکھا گیا ہے۔ روزے کی حیثیت گویا ایک کمپلسری کورس (compulsory course) کی ہے۔ کھانا اور پانی انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ اِس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ روزے کے مہینے میں اِن بنیادی ضرورتوں پر روک لگا کر ایک لازمی تجربہ کرایا جاتا ہے۔ روزے کا مہینہ گویا کہ ایک کمپلسری رُٹین (compulsory routine)ہے۔ اِس کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک پابند کورس کے ذریعے عجز وافتقار کا لازمی تجربہ کرایا جائے، تاکہ وہ تزکیہ کے مراحل طے کرنے کے قابل ہوسکے۔
جو لوگ اِس طرح روزہ رکھتے ہیں کہ وہ سحری کے وقت اتنا زیادہ کھاتے ہیں کہ شام ہونے تک انھیں بھوک نہ لگے، اُن کا روزہ روزہ نہیں، بلکہ ایک خود ساختہ عمل کے ذریعے صرف روزے کا فرضی کریڈٹ لینے کی کوشش ہے جو کبھی کسی کو نہیں ملتا۔ روزے کا مقصد آدمی کو بھوک پیاس کا تجربہ کرانا ہے اور جس روزے دار کو بھوک پیاس کا تجربہ ہی نہ ہو، اس کو روزے کا مطلوب فائدہ کیوں کر حاصل ہوگا۔
ضروری ہے کہ آدمی کو بھوک لگے، وہ بھوک سے تڑپے، یعنی اس کی وہ کیفیت ہوجائے جو پانی کے بغیر زندہ مچھلی کی ہوتی ہے۔ جب کسی شخص کو اِس طرح بھوک اور پیاس کا شدید تجربہ ہو، اس کے بعد ہی اس کے اندر وہ اعلیٰ ایمانی کیفیت پیدا ہوگی جس کو تضرع کہاگیاہے۔ اِسی طرح شکر ایک اعلیٰ ترین کیفیت ہے۔ لیکن شکر کی حقیقی کیفیت بھی اُسی شخص کے اندر پیدا ہوگی جو پہلے شدید محرومی کا تجربہ کرے اور اس کے بعد اس کو یافت کا تجربہ حاصل ہو۔ اس کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شکر کی دریافت کرتا ہے، یعنی انعام کے بعد منعم کی معرفت۔ یہی شکر ہے اور بلا شبہہ شکر سے بڑی کوئی چیز نہیں۔
روزہ ایک مہینے تک مسلسل اِسی اعلیٰ حقیقت کا تجربہ کراتاہے۔ ایک طرف وہ دن کے روزے کی شکل میں انسان کے اندر گہرائی کے ساتھ تضرع کی کیفیت پیدا کرتا ہے، پھر بھوک پیاس کے تجربے سے گزر کر شام کو وہ آزادی کے ساتھ کھاتا اور پیتا ہے۔ اِس طرح وہ دریافت کرتا ہے کہ کھانا اور پانی اس کے وجود کے لیے کتنا زیادہ ضروری ہے۔ یہی دریافت جب ربانی کیفیت میں ڈھل جائے تو اِسی کا نام شکر ہے۔
تزکیہ نفس میں تزکیہ سے مراد تطہیر (purification)ہے، یعنی نفسیاتی تطہیر ،اور روح سے مراد ذہن (mind) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہن ہی کا دوسرا نام انسانی وجود ہے۔ انسانی وجود کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ جو بولے جاتے ہیں، مثلاً روح، نفس اور فطرت وغیرہ، وہ اس کے ادبی استعمالات (literary usage) ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی شخصیت(human personality)، نفسیاتی اصطلاح میں، صرف ذہن یا مائنڈ کا نام ہے۔ دوسری تمام چیزیں جو انسان کی زندگی میں نظر آتی ہیں، وہ سب اِسی اصل وجودکے مظاہر ہیں، ان کا مستقل بالذات کوئی وجود نہیں۔
تزکیہ نفس کا مطلب شخصیت کی تعمیر ہے۔ روزہ انسان کے اندر اِسی اعلیٰ شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔اِس اعلیٰ شخصیت کا تحقق صرف ایک انسان کے اندر ہوتا ہے۔ انسان کے سوا کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو اِس نادر ظاہرہ کا ثبوت دے سکے۔ رمضان کا روزہ اپنے آپ میں اِس اعلیٰ انسانی واقعہ کو ظہور میں نہیں لاسکتا۔ رمضان کا روزہ دراصل ایک ابتدائی کورس ہے، وہ ایک پراسس کا آغاز ہے، وہ تزکیہ کے ایک ربانی راستے پر انسان کو چلانے والا ہے۔ روزہ نقطۂ آغاز ہے، وہ نقطۂ اختتام نہیں۔ روزہ پہلاقدم ہے، وہ آخری قدم نہیں۔ روزہ ایک سفر کی طرف روانگی ہے، وہ سفر کی آخری منزل نہیں۔ روزہ اپنے آپ کسی کو تزکیہ نفس کا یہ فائدہ نہیں دے سکتا۔ روزہ کا یہ فائدہ صرف اُس انسان کو ملے گا جس نے پہلے سے اپنے شعور کو بیدار کررکھا ہو اور جو مسلسل شعوری عمل کے ذریعے روزہ سے یہ فائدہ حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتا رہے۔
روزے کی اِس غیر معمولی اہمیت کو ایک حدیث قدسی میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے کل عمل ابن آدم یضاعف الحسنۃ بعشر أمثالہا إلی سبع مأۃ ضعف، قال اللہ تعالیٰ إلاّ الصوم فإنہ لي وأنا أجزی بہ۔ یدع شہوتہ وطعامہ من أجلی۔ للصائم فرحتان— فرحۃ عند فطرہ، وفرحۃ عند لقاء ربہ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل الصوم)یعنی انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مگر روزہ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لیے اپنی خواہشات (desires)کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں— ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ر وزہ کے ذریعے تزکیہ نفس کس طرح ہوتا ہے، یہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی پراسس ہے جو روزہ کے ذریعے انسان کے اندر جاری ہوتا ہے اور نہ صرف رمضان کے مہینے میں بلکہ پورے سال جاری رہتا ہے۔ روزہ رکھ کر جب انسان کو بھوک اور پیاس تڑپاتی ہے، اُس وقت اس کو اپنی حیثیتِ واقعی کا تجربہ ہوتا ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ کی مدد کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تجربہ انسان کو آخری حد تک کٹ ٹو سائز (cut to size)کردیتا ہے۔ ایک حقیقی روزہ انسان کے اندر اُن چیزوں کو بالکل ختم کردیتا ہے جو اُس کو اللہ سے دور کرنے والی ہیں، مثلاً فخر، بڑائی، فراموشی، غفلت، وغیرہ۔ ایک حقیقی روزہ انسان کی پوری شخصیت کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ حقیقی روزہ رکھ کر آدمی اُسی طرح تڑپنے لگتا ہے جس طرح پانی کے بغیر مچھلی تڑپتی ہے۔ روزہ انسان کے لیے ایک طرف اپنے بے کچھ ہونے کا تعارف ہے اور دوسری طرف، اللہ کے سب کچھ ہونے کا تعارف۔
یہی تجربہ تزکیہ کی روح ہے۔ یہ تجربہ آدمی کے لیے کلی تطہیر (total purification)کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ انسان عام زندگی میں مختلف قسم کی فرضی بڑائی (false glory)کے احساس میں جیتا ہے۔ فرضی بڑائی کا یہی احساس آدمی کے لیے خدا سے دوری کا سبب بن جاتا ہے۔ روزے کا تجربہ آدمی کو آخری حد تک کٹ ٹو سائز کردیتا ہے۔ جب آدمی عجز کے اِس تجربے تک پہنچتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ میری طرف صرف ’نہیں‘ ہے اور خدا کی طرف صرف ’ہے‘۔ اِسی دو طرفہ دریافت کا نام تزکیہ نفس ہے۔ اِس دریافت کے بغیر کسی انسان کو تزکیہ کا درجہ حاصل ہونے والا نہیں۔
تزکیہ نفس کا ایک پہلو وہ ہے جس کو تطہیر کہاجاتا ہے، یعنی نفس کو تمام غیر مطلوب کیفیات سے پاک کرنا۔ مگر یہ پاک کرنا کوئی محدود عمل نہیں ہے۔ نفس کی تطہیر آدمی کے لیے معاً ایک اور دروازہ کو کھول دیتی ہے۔ یہ روحانی ارتقا کا دروازہ ہے۔ انسان کی شخصیت اپنے آپ میں ٹھیک اُسی طرح ایک نمو پذیر چیز ہے جس طرح درخت کا ایک بیج نموپذیر ہوتا ہے۔ بیج سے اگر ہر قسم کے موانع (obstacles)کو ہٹا دیا جائے تو اپنے آپ وہ اگنا شروع ہوجائے گا اور بتدریج ایک مکمل درخت بن جائے گا، ایک ایسا درخت جس میں شاخیں ہوں، ہری پتیاں ہوں، خوشبودار پھول ہوں، صحت بخش پھل ہوں، وغیرہ۔
اِسی طرح قرآن کے مطابق، انسان کی شخصیت بھی توانائی سے بھرا ہوا ایک بیج ہے۔ وہ اپنے آپ میں بڑھنا چاہتا ہے اور فضاؤں میں پھیل جانا چاہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کے مادی موانع کو ہٹا جائے۔روزہ یا روزے کا پراسس اگر حقیقی طور پر موجود ہو تو وہ اِسی طرح انسانی شخصیت کے بیج سے تمام نفسیاتی موانع کو ہٹا دیتا ہے۔ اِس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ انسانی شخصیت خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کرنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے اس کا وہ حال ہوجاتا ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے أصلہا ثابت وفرعہا فی السماء (14:24) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک شخص جو روزے سے پہلے خدا کو دریافت (discover)کرچکا ہو، جو ایک تیار ذہن (prepared mind) کے ساتھ روزے کے مہینے میں داخل ہو۔ ایک ایسا انسان جب حقیقی معنوںمیں روزہ رکھے گا تو اس کو پورے مہینے کی راتوں اور پورے مہینے کے دنوں میں انوکھے تجربات ہوں گے۔ ایسے آدمی کا روزہ اس کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچائے گا، ایسے آدمی کا روزہ اس کو ہر طرف سے یکسو کرکے خدا کی یاد میں لگا دے گا۔ اس کا یہ حال ہوگا کہ نماز پڑھتے وقت اس کو مزید خشوع کا تجربہ ہوگا، قرآن کی تلاوت کرتے وقت اُس پر نئے نئے معانی کھلیں گے، فطرت کے مشاہدے میںاس پر فطرت کے نئے نئے تخلیقی پہلوظاہر ہوں گے، ہر تجربہ اس کے لیے پہلے سے زیادہ گہرا تجربہ بن جائے گا، ہر چیز سے اس کا ذہن زیادہ اعلیٰ قسم کی فکری اور روحانی غذائیں حاصل کرنے لگے گا، وہ اپنی زندگی کی معنویت کو زیادہ بہترطورپر دریافت کرے گا، اس کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو مزید اضافے کے ساتھ موت کی یاد دلائے گی، اس کا پورا مہینہ اس طرح گزرے گا کہ گریہ وزاری کے درمیان ذکر و دعا کے نئے الفاظ اس کی زبان پر آئیں گے، اس کا سونا ایک نیا سونا بن جائے گا، اس کا جاگنا ایک نیا جاگنا بن جائے گا، صبح کی روشنی اور شام کی تاریکی اس کو بالکل نئے تجربات سے ہم کنار کرے گی۔
اِس طرح کیفیات سے بھرا ہوا ایک پورا مہینہ گزارنے کے بعد جب وہ یکم شوا ل کی صبح کو نماز ادا کرنے کے لیے عید گاہ کی طرف روانہ ہوگا، تو اس کو وہ حدیث یاد آئے گی جس کو محدثین نے اِن الفاظ میں نقل کیا ہے ’’… فإذا کان یومُ عیدِہم، یعني یومَ فِطرہم، باہیٰ بہم ملائکتَہ، فقال ملائکتي، ماجزائُ أجیرٍ وفّیٰ عملَہ۔ قالوا ربّنا، جزائُہ أن یُوفّیٰ أجرُہ۔ قال ملائکتي، عبیدي وإمائي قضَوا فریضتي علیہم، ثمّ خرجوا یعُجُّون إلی الدّعاء، وعزّتي وجَلالِي وکَرمي وعُلوّي وارْتفاعِ مکاني لأجیبنَّہم۔ فیقول ارجعوا فقد غفرتُ لکم، وبدّلتُ سیّئاتکم حسنات۔ قال فیرجعون مغفوراً لہم۔ (رواہ البیہقي في شعب الإیمان، باب الصیام، فصل في لیلۃ العید ویومہما)یعنی جب عید کا دن آتا ہے، یعنی عید الفطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے روزے دار بندوں اور بندیوںپر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے اے میرے فرشتو، اُس کی جزا کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کردیا۔ فرشتے کہتے ہیںکہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔خدا کہتاہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندو ں اور میری بندیوں نے میرے اُس فرض کو ادا کردیاجو اُن پر عائد تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم ، میرے کرم ، میرے عُلو ِ شان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّاٰت کو حسنات میں تبدیل کر دیا۔ پس وہ لوگ اِس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
روزہ بظاہر ایک مہینے کے لیے ہوتا ہے، لیکن اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے وہ پورے سال کے لیے، بلکہ پوری عمر کے لیے مطلوب ہے، حتی کہ اُن لوگوں کے لیے بھی جو کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ رکھنے کے قابل نہ رہیں ، اُن سے بھی یہ اسپرٹ والا روزہ ہمیشہ مطلوب رہے گا، یعنی یہ کہ آدمی روز مرہ کے واقعات اور مختلف تجربات کے درمیان اپنے عجز و افتقار کو دریافت کرتا رہے۔ یہی روزہ کی اصل حقیقت ہے۔ جو آدمی اِس معنی میں مسلسل روزہ دار بنا رہے، وہ ہمیشہ روزہ کے فائدے کو حاصل کرتا رہے گا، روزے کا روحانی فائدہ کبھی اس سے منقطع ہونے والا نہیں۔
اعتکاف کی دو قسمیں
ایک اعتکاف وہ ہے جو رمضان کے مہینے میں مسجد کے اندر کیا جاتا ہے۔ اِس اعتکاف کا ذکر قرآن کی سو رہ البقرہ میں ان الفاظ میں آیا ہے وأنتم عاکفون فی المساجد (2: 187) ۔ دوسرا اعتکاف فکری اعتکاف (intellectual seclusion) ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متواصل الأحزان، دائم الفکرۃ ( الشمائل للترمذي، رقم الحدیث 225 ) اِس سے مراد یہی فکری اعتکاف ہے، یعنی خاموشی کے ساتھ سوچتے رہنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسجد کا اعتکاف منمم (minimum) اعتکاف ہے۔ اِس کے برعکس، ذہنی اعتکاف میکسمم (maximum) اعتکاف ۔ صحابہ کے درمیان اِس ذہنی اعتکاف کا عام رواج تھا۔ بعض صحابہ کے بارے میں صراحۃً اِس کی مثال ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ابو الدرداء انصاری کے بارے میں اُن کی وفات کے بعد اُن کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کی خاص عبادت کیا تھی۔ ام الدرداء نے جواب دیا کہ — التفکر والإعتبار، یعنی غور کرنا اور نصیحت پکڑنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ فکری اعتکاف وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں—
تفکر، تدبر، تذکر، توسم اور تعقل، وغیرہ۔ اِس سے مراد ہے چیزوں پر سوچنا۔ سوچنے کا یہ عمل بے حد اہم ہے۔ سوچنے کے عمل سے تمام اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً حکمت ، معرفت، ذہنی ارتقا، ازدیادِ ایمان، گہرے معانی کی دریافت، وغیرہ۔
یہ فکری اعتکاف کسی مومن کے لیے بے حد اہم ہے۔ مگر اس کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ ہے، ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction) سے اپنے آپ کو بچانا۔ اِس کے بغیر فکری اعتکاف کسی آدمی کے لیے ممکن نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ذہنی اعتکاف ایک مسلسل فکری عمل کا نام ہے۔ اِسی فکری عمل سے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو قرآن میں ازدیادِ ایمان کہاگیا ہے۔ فکری عمل نہیں، تو ازدیادِ ایمان بھی نہیں۔