Maulana Wahiduddin Khan
81 min left
0:00

← Al-Risala August 2006
Al-Risala August 2006

Main Content

Urdu · 81 min read

۹ مارچ کی صبح کو ہم لوگ فجر کی نماز کے بعد ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمارا قافلہ تین گاڑیوں پر سوار ہو کر ائرپورٹ پہنچا۔ ائر پورٹ مسافروں کی کثرت کے اعتبارسے چھوٹا نظر آیا۔ ائرپورٹ پر بھیڑ کا یہ منظر ترقی یافتہ ملکوں میں نظر نہیں آتا۔ ائر پورٹ پر جدید سہولیات بھی کم نظر آئیں۔

حکومت ہند کا یہ منصوبہ ہے کہ ہندستان کے ائرپورٹوں کو ماڈرنائز کیا جائے اور ان کو وقت کی ضرورت کے مطابق بنایا جائے۔ مگر بہت سے نام نہاد ’’سماج وادی‘‘ لوگ اس کے مخالف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومتِ ہند خوش حال طبقہ (haves) کی سہولیات کے لیے اس قسم کے کام کررہی ہے۔ جب کہ ملک میں محروم طبقہ (have nots) بڑی تعداد میں موجود ہے اور اس کے مفاد کے لیے حکومت کچھ نہیں کر تی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ ایک ناعاقبت اندیشانہ اعتراض ہے۔ یہ قانونِ فطرت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ سماجی فلاح کا کوئی کام اِس طرح نہیں ہوسکتا کہ پورا پورا سماج بیک وقت مساوی انداز میں اس سے فائدہ اٹھانے لگے۔ سماجی فلاح یا سماجی خوش حالی کے کام کے لیے ایک نقطۂ آغاز(starting point) درکار ہوتا ہے۔ ترقی کا یہ عمل ہمیشہ اُن لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو صاحبِ وسائل ہیں۔ بے وسائل افراد کسی بھی نتیجہ خیز کام کا آغاز نہیں کرسکتے۔ ترقیاتی عمل میں وسائل رکھنے والے افراد ابتدائی محرّک (prime mover) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ابتدائی محرک کے بغیر کبھی کوئی نتیجہ خیز حرکت وجود میں نہیں آتی۔

میں نے کہا کہ اِس حقیقت کاایک کھلا ہوانمونہ حیدرآباد (آندھرا پردیش) میں نظر آتا ہے۔ پچھلی حکومت کے زمانے میں یہاں زبردست ترقیاتی کام ہورہا تھا۔ میں اُس زمانے میں حیدر آباد آیا تومیں نے پایا کہ حیدرآباد شہر میں ہر طرف ترقی کی جھلکیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ مگر ترقی کا یہ عمل فطری طور پر شہروں سے شروع ہوا تھا، اور دھیرے دھیرے وہ گاؤں تک پہنچ رہا تھا۔ مگر اس عمل کی تکمیل سے پہلے الیکشن کا وقت آگیا۔ اب ’’سماج وادی‘‘ طبقے کے لوگ حرکت میں آگئے۔ انھوں نے دھوم کے ساتھ یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ موجودہ حکومت سرمایہ داروں کو خوش کرنے کے لیے شہروں کو ترقی دے رہی ہے۔ جب کہ گاؤں کے لوگ ابھی تک اِس ترقی میں حصہ پانے سے محروم ہیں۔ یہ بات اتنی پھیلائی گئی کہ گاؤں میں رہنے والے عوام کا ذہن حکومت کے بارے میں منفی ذہن بن گیا۔ چنانچہ الیکشن میں یہ ہوا کہ شہر کے لوگوں نے تو حکمراں پارٹی کو ووٹ دیا لیکن گاؤں کے لوگوں کی اکثریت نے اپنے ووٹ کو حکمراں پارٹی کے خلاف استعمال کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکمراں پارٹی ہار گئی۔ اور نتیجۃً ترقی کا ہوتا ہوا عمل رُک گیا۔

میں نے کہا کہ حقیقی ترقیاتی عمل کے لیے دو چیزیں ناگُزیر طور پر ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اَربابِ کار کو یہ معلوم ہو کہ ترقی کا عمل ہمیشہ ایک ابتدائی مقام سے شروع ہوتا ہے۔ پورے پورے سماج کو بیک وقت اچانک ترقی یافتہ نہیں بنایاجاسکتا۔ یہ کوئی ایکسپلائٹیشن کی بات نہیں ہے، یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ جو لوگ اِس اصول کو نہ جانیں وہ اپنے خود ساختہ نظریے کے تحت، صرف تخریب کاری کریں گے، وہ کسی حقیقی تعمیر کو وجود میں نہیں لاسکتے۔

دوسری ذمّے داری اُن لوگوں کی ہے جن کو موجودہ سیاسی اصطلاح میں حزبِ مخالف (opposition group) کہاجاتا ہے۔ اِن لوگوں کو سنجیدگی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ملک کے مفاد کے لیے اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیں اور ترقی کے عمل میں غیر ضروری رُکاٹ نہ ڈالیں۔

یہ سفر ائر دکن (Air Deccan) کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ دہلی سے حیدرآباد تک یہ دوگھنٹے کا سفر تھا۔ سفر کے دوران مطالعے کے لیے ائر دکن کا فلائٹ میگزین (Simplifly) کا شمارہ مارچ ۲۰۰۶ موجود تھا۔ اس میں کئی چیزیں قابلِ مطالعہ تھیں۔ میگزین کے آغاز میں کمپنی کے ڈائریکٹر کی طرف سے ایک میسیج تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ائر دکن ایک پیوپل فرینڈلی ائر لائن (people-friendly airline) ہے۔ اس کو میں نے پڑھا تو اس میں مجھے زندگی کا ایک اصول نظر آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیوپل فرینڈلی کردار کسی ائرکمپنی کا فارمولا نہیں، وہ زندگی کا ایک عمومی اصول ہے۔ جو شخص بھی اِس دنیا میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو وہی کردار اپنانا ہوگا جس کو پیوپل فرینڈلی کردار کہا جاتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اِس دنیا میں کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، یعنی سب کے لیے اپنے دل میں محبت کا جذبہ ہونا۔

میگزین کے ایک صفحے پر بڑے بڑے لوگوں کے بہت سے اقوال درج تھے۔ یہ اقوال،وقت کی قدر و قیمت (value of time) کے بارے میں تھے۔ ایک قول یہ تھا کہ—ایک شخص جو اپنے وقت کا ایک گھنٹہ بھی ضائع کرتا ہے اس نے زندگی کی قدر و قیمت کو دریافت نہیں کیا

A man who dares to waste one hour of life has not discovered the value of life. (Charles Darwin)

other sourceWords of another person or source

میرا تجربہ ہے کہ لوگ عام طور پر دو چیزوں کی قدر وقیمت نہیں جانتے۔ ایک، وقت اور دوسرے، سادگی۔ حالاں کہ یہ دونوں چیزیں کسی بھی میدان میں حقیقی ترقی کے لیے لازمی طورپر ضروری ہیں۔ جو آدمی وقت کی اہمیت کو نہیں جانے گا وہ اپنی عمر کا بڑا حصہ ضائع کردے گا۔ اِسی طرح جو آدمی سادگی کی اہمیت کو نہ جانے وہ اپنے وسائل کا بڑا حصہ بے فائدہ طورپر کھودے گا۔

موجودہ دنیا میں آدمی کے پاس بہت تھوڑا وقت ہے اور اسی طرح بہت تھوڑے وسائل۔ ایسی حالت میں یہ ہر شخص کی لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرنا جانے۔ جو آدمی ایسا نہیں کرے گا اس کو آخر میں حسرت کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔ آخر میں وہ مایوسی کے ساتھ یہ کہے گا کہ میں نے کتنا قیمتی موقع کھودیا

Mine was the case of missed opportunity.

عقل مند وہ ہے جو خاتمۂ حیات سے پہلے اس حقیقت کو سمجھ لے۔ زندگی کے سفر کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے لیے ایک ایسے خاتمے پر پہنچنے والا ہے جہاں سے واپسی کسی بھی عورت یا مرد کے لیے ممکن نہ ہوگی۔

ہندستان ٹائمس (۹ مارچ ۲۰۰۶) کے درمیانی صفحے پر ایک مضمون تھا۔ اس کے لکھنے والے مسٹرویر سنگھوی(Vir Sanghvi) تھے۔ اِس مضمون کا عنوان یہ تھا

Against the Current.

یہ مضمون ۷ مارچ ۲۰۰۶ کو بنارس میں ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں تھا۔ اِس تاریخ کو بنارس کے ہنومان مندر میں بم دھماکہ ہوا۔ اس سے مندر کو کافی نقصان پہنچا۔ اِس طرح کے واقعات پر اس سے پہلے شدید رد عمل ہوتا تھا اور فرقہ وارنہ فساد بھڑک اٹھتا تھا۔ مگر اس بار عوامی رد عمل کے اعتبار سے یہ بم دھماکہ بالکل مختلف (completely different) ثابت ہوا۔ پچھلی روایت کو دیکھتے ہوئے یہ بم دھماکہ سخت اشتعال انگیز ثابت ہوسکتا تھا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ اِس واقعے کے بعد نہ بنارس میں کوئی منفی ردعمل ہوا، اور نہ اس کو لے کر کسی دوسرے مقام پر۔

۷ مارچ کے بم دھماکے کے بعد کچھ انتہا پسند ہندو بنارس کے ہنومان مندر پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ ہم مندجر کو پَوتر کرنے کے لیے اس کو گنگا جل سے دھوئیں گے ۔ لیکن مندر کے مہنت نے سختی کے ساتھ انھیں روکا، اور انھیں اپنا عمل کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کردیا۔ میڈیا میں بھی اس کی رپورٹنگ زیادہ سنسنی خیز انداز میں نہیں ہوئی۔

بنارس ، ہندوؤں کا مقدس شہر ہے۔ اس مقدس شہر میں ہندو عقیدے کے مطابق، ایک مقدس مندر میں بم بلاسٹ ہوا۔ میڈیا میں یہ خبر بھی آئی کہ لشکرِ قہر نامی ایک مسلم تنظیم نے اِس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ اس کے باوجود امن برقرار رہا اور پچھلی روایات کے خلاف، تشدد اور توڑ پھوڑکے واقعات نہیں ہوئے۔میرے نزدیک اِس کا سبب یہ ہے کہ پچاس سالہ تجربے کے بعد اب ہندو کمیونٹی اور مسلم کمیونٹی دونوں نے بلا اعلان ایک خاموش فیصلہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ اب اشتعال کے باوجود وہ مشتعل نہیں ہوں گے، وہ ہر حال میں امن کو برقرار رکھیں گے۔ کیوں کہ اِس میں دونوں فرقوں کا فائدہ ہے۔ اور اس کے خلاف طریقے میںدونوں کا نقصان۔

جو لوگ ماہ نامہ الرسالہ پڑھتے رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ راقم الحروف نے اِس سے پہلے بار بار یہ لکھا تھا کہ ہندستان کے فرقہ وارانہ فسادات صرف اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دونوں فرقے امن کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ جیسے ہی وہ جان لیں گے کہ سارا فائدہ امن میں چھپا ہوا ہے اور تشدد میں صرف نقصان ہی نقصان ہے، فرقہ وارانہ فسادات کا خاتمہ ہوجائے گا۔بنارس کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہندستان کی تاریخ میں وہ دَور آچکا ہے۔

کل شام کی ڈاک سے پاکستان کا ماہ نامہ ’’سوئے حرم‘‘ (مارچ ۲۰۰۶ ) ملا تھا۔ آج صبح کو اسے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک مضمون (مولانا وحید الدین خاں کی فکرکا تجزیاتی مطالعہ) میرے بارے میں تھا۔اردو صحافت میں لکھنے کا جو انداز ہے اسی انداز میں یہ مضمون لکھا گیا تھا۔ یعنی کسی دلیل کے بغیر صرف بیانیہ انداز میں تبصرہ کرنا۔ مثلا ً اس مضمون میں کہا گیا تھا کہ —’’ میں صاحبِ دعوت کی ان عظیم تحریکوں کو مسترد کرتے ہوئے ہر ایرے غیرے کو دعوت کے کام پر اکسا کر اسلامی کی حقیقی تعلیمات سے ناآشنا جدید تعلیم یافتہ افراد کو علمائِ ربّانی، صوفیا اور تبلیغی جماعت جیسے دعوتی اداروں سے دور کرنے کا بھی فریضہ انجام دے رہا ہوں‘‘۔ (صفحہ ۸۷)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس اقتباس میں جوبات کہی گئی ہے اس کے بارے میں میں کہوں گا کہ مضمون نگار نے علمی تنقید کو تردید کے ہم معنی سمجھ لیا۔ تنقید ایک صحت مند عمل ہے جو ساری امت میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ آج بھی ہر دینی مدرسے میں درسِ حدیث کے دوران ہر محدّث یہی فعل انجام دیتا ہے۔ اسی طرح تمام علماء ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مثلاً ابن تیمیہ نے صوفیاء پر تنقید کی۔ اقبال نے مولانا حسین احمد مدنی پر تنقید کی۔مولانا ابوالحسن علی ندوی نے تبلیغی جماعت پر تنقید کی۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے جماعتِ اسلامی پر تنقید کی، وغیرہ۔تجزیاتی تنقید کبھی تردید کے ہم معنی نہیں ہوتی۔ وہ علمی اظہارِ خیال کے ہم معنیٰ ہوتی ہے۔ وہ ایک صحت مند فعل ہے جو علمی ترقی کا ذریعہ ہے۔ مذکورہ اقتباس میں اِس عمل کو بُرا نام دے کر مطعون کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالاں کہ کسی چیز کو برا نام دینا سر تاسر ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ (بئس الاسم الفسوق بعد الایمان،الحجرات ۱۱)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

علمی تنقید و تجزیہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اسلاف سے بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے، یہ بلاشبہہ ایک صحیح چیز کو غلط نام دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمی تنقید مکمل معنوں میں ایک تعمیری سرگرمی ہے۔ وہ فکری ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ علمی تنقید کا خاتمہ صرف اِس قیمت پر ہوگا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہوجائے۔ جو بلاشبہہ فکری اور روحانی موت کے ہم معنٰی ہے۔

جہاز کے اندر پینے کے لیے کافی دی گئی۔ کافی کی پیالی پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے— ہوشیار جس چیز سے آپ محظوظ ہونے جارہے ہیں وہ بہت زیادہ گرم ہے

Careful, the drink you are about to enjoy is extremly hot!

اِس کودیکھ کر مجھے خیال آیا کہ گرم چائے کا جو معاملہ ہے وہی پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ یہ دنیا جس کے اندر انسان زندگی گذارتا ہے وہ بظاہر بہت پُر کشش ہے لیکن اِسی کے ساتھ وہ فتنوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ دنیا گویا ایک کانٹے دارجھاڑی ہے جس سے بہت زیادہ بچتے ہوئے انسان کو اپنا سفر کرنا ہے۔ اِس حقیقت کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ جو لوگ اِس حقیقت کو سمجھے بغیر دنیا کی زندگی میں داخل ہوجائیں وہ یقینی طور پر خطرات میں مبتلا ہوجائیں گے۔

راستے میں ایک موقع پر یہ اعلان کیاگیا کہ موسم خراب ہے۔ آپ لوگ اپنی پیٹیاں باندھ لیں۔ اِس کے اگلے لمحے جہاز ہلنے لگا۔ وہ تیزی سے نیچے اور اوپر ہورہا تھا۔ یہ کیفیت کچھ منٹ باقی رہی اس کے بعد جہاز معتد ل طور پر پرواز کرنے لگا۔

جہازوں میں پرواز کے دوران اکثر ایسا ہوتا ہے۔ اِس کو موسم کی خرابی یا اَپ ڈارفٹ، ڈاؤن ڈرافٹ(up draft, down draft) کہاجاتا ہے۔ جب جہاز تیزی سے ہل رہا تھا تو میں نے سوچا کہ ہماری زمین بھی ایک بہت بڑا جہاز ہے۔ وہ ہم کو لے کر رات دن مسلسل پرواز کی حالت میں رہتی ہے۔ مگر زمین میں کبھی اِس طرح کی جنبش نہیں ہوتی۔ وہ کروڑوں سال سے بالکل ہموار انداز میں حرکت کررہی ہے۔ مگر انسان اِس عظیم نعمت کا احساس نہیں کرتا۔ وہ انعام سے فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن وہ مُنعم کا اعتراف نہیں کرتا۔

انسان کی اِس بے خبر ی کو توڑنے کے لیے زمین پر بھونچال آتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کوئی بھونچال انسان کی یاد ہانی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ جب بھونچال آتے ہیں تو وہ وقتی طور پر آہ وواویلا کرتا ہے اور پھر پہلے کی طرح ہوجاتا ہے۔ قیامت کا بڑا بھونچال اس لیے آئے گا کہ وہ آخری طور پر انسان کی بے خبری کو توڑ دے، اگرچہ اُس وقت بے خبری کا یہ ٹوٹنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

۹ مارچ ۲۰۰۶ کی دوپہر کو ہمارا جہاز ٹھیک وقت پر حیدرآباد ائر پورٹ پر پہنچا۔ یہاں حبیب بھائی، احمد بھائی، مولانا عبد الرؤف قاسمی وغیرہ کئی لوگ ائر پورٹ پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر حبیب بھائی کی رہائش گاہ (جُبلی ہل) پہنچا۔ یہاں شہر کے کچھ تعلیم یافتہ افراد موجود تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ دن کا کھانا یہاں کھایا گیا۔ اس کے بعد ہم لوگ قافلے کی صورت میں حبیب بھائی کے سنٹر پر گئے۔ یہ سنٹر انھوں نے جبلی ہل کی ایک بلڈنگ میں قائم کیا ہے۔ جبلی ہل کا ایریا حیدر آباد کا سب سے زیادہ ممتاز ایریا سمجھا جاتا ہے۔ اِس علاقے میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں جن کو جدید سہولیات کہا جاتا ہے۔

سنٹر میں کئی لوگ پہلے سے موجود تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہوئیں، اور ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ یہاں ادا کی گئی۔نماز کے بعد حبیب بھا ئی کے سنٹر کا افتتاحی پروگرام تھا۔ اس کی صدارت حیدرآباد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر شیو کمار نے کی۔ان کی تمہیدی تقریر کے بعد میں نے خطاب کیا۔ سامعین میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو الرسالہ مشن سے فکری طورپر وابستہ ہیں۔ میںنے اپنی تقریر میں کہا کہ حبیب بھائی نے یہ سنٹر جو حیدرآباد میں قائم کیا ہے وہ بہت اچھا قدم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سنٹر ترقی کرے گا اور نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر انسانیت کا اعلیٰ پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنے گا۔

پروفیسر کمار اس سے پہلے انگریزی کے پروفیسر تھے پھر وہ وائس چانسلر بنائے گیے۔ اب ان کی عمر ۸۵ سال ہوچکی ہے لیکن اب بھی وہ روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ سنٹر کی طرف سے انھیں میری کچھ کتابیں (انگریزی، تامل) دی گئیں۔ انھوںنے ان کتابوں کو خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے کہا کہ—کم ازکم دو مہینہ مجھے مولانا صاحب کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا۔ اِس موقعے پر حاضرین کے درمیان لٹریچر تقسیم کیاگیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک گفتگو کے دَوران میںنے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق، سادگی(simplicity) صرف ایک چیز نہیںہے،وہ ایک مکمل لائف اسٹائل ہے۔ سادگی کا تعلق تمام چیزوں سے جڑا ہوا ہے۔ مثلاً سادگی ہے تو کفایت شعاری ہے۔ سادگی ہے تو وقت کا صحیح استعمال ہے۔ سادگی ہے تو آدمی وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچ جاتا ہے۔ سادگی ہے تو تندرستی ہے۔ سادگی ہے تو ساؤنڈ سلیپ ہے۔ سادگی ہے تو ہاضمے کی درستگی ہے۔ سادگی ہے تو تعمیری سرگرمیاں ہیں۔ سادگی ہے تو ذہنی سکون ہے۔ سادگی ہے تو سب کچھ ہے۔ انگریزی کا مثل ہے کہ—سادہ زندگی، اونچی سوچ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Simple living, high thinking.

سادہ زندگی اور اونچی سوچ دونوں الگ الگ چیزیں نہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔ سادہ زندگی ہوگی تو اونچی سوچ ہوگی۔ سادہ زندگی نہیں تو اونچی سوچ بھی نہیں۔

سادہ زندگی کا مطلب یہ ہے کہ صرف اہم چیز کو اہم سمجھنا، اور تمام غیر اہم چیزوں کو ثانوی درجے کے خانے میںڈال دینا۔ حقیقت یہ ہے کہ سادہ زندگی با مقصد انسان کا کلچر ہے۔ با مقصد انسان غیر سادہ زندگی کا تحمل نہیں کرسکتا۔ غیر سادہ زندگی مقصدیت سے انحراف کے ہم معنیٰ ہے۔ غیر سادہ زندگی آدمی کو بے مقصد چیزوں میںمشغول کردیتی ہے۔ جو آدمی بامقصدزندگی گذارنا چاہتا ہو اس کو لازماً ہر معاملے میں سادگی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ کسی بھی عُذر کی بنا پر سادگی کو چھوڑنا،اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے ہم معنیٰ ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، سادگی کے راستے میں سب سے بڑی رُکاوٹ بیوی، بچے اور رشتے دار ہیں۔ جو آدمی بیوی، بچوں اور رشتے داروں کے فتنے سے اوپر نہ اٹھ سکے وہ کبھی سادہ زندگی اختیار نہیں کرسکتا۔

ایک صاحب سے میں نے کہا کہ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کسی بھی دن اپنی نئی زندگی شروع کرسکے۔ اِس معاملے میں کوئی بھی تاخیر حقیقی تاخیر نہیں۔ اِس نئی زندگی کا تعلق، جسمانی اعتبار سے بھی ہے اور ذہنی اور روحانی اعتبار سے بھی۔ البتہ اس کی ایک قیمت ہے اوروہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی کسی کو یہ درجہ مل سکتا ہے۔ یہ قیمت ہے وسیع تر معنوں میں صبر۔

مثلاً ایک شخص ہے جس کی جسمانی صحت خراب ہوچکی ہے۔ وہ ہر دن اِس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک نئی صحت مند زندگی حاصل کرسکے۔ جسمانی صحت کیوں خراب ہوتی ہے، اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے غلط عادت—زیادہ کھانا، لذیذ کھانوں کا استعمال، تمباکو اور شراب جیسی چیزیں استعمال کرنا، غصہ اور نفرت میں جینا، جنسی ہوس کا شکار رہنا، آرام طلب بن جانا، وغیرہ۔ اگر آدمی ایسا کرے کہ وہ اس قسم کی تمام خلافِ صحت عادتوں کو چھوڑ دے تو کسی بھی دن وہ اپنے لیے ایک نئی جسمانی صحت حاصل کرسکتا ہے۔

یہی معاملہ ذہنی اور روحانی ترقی کا ہے۔ آدمی ہر دن اِس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ ذہنی ترقی کا ایک نیا سفر شروع کرسکے۔ مگر یہاں بھی اس کو اس کی ضروری قیمت ادا کرنا ہے—وقت کا بھر پور استعمال، غیر ضروری تفریحات سے اپنے آپ کو بچانا، سطحی دل چسپیوں سے اپنے آپ کو اوپر اٹھانا، متعصّبانہ طرز فکر سے اپنے آپ کو پاک کرنا، اپنے اندر کامل تواضع کی صفت پیدا کرنا، ہر وقت اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار رہنا، مطالعہ اور غور وفکر کی زندگی اختیار کرنا، وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے امکانات لامتناہی طورپر بہت زیادہ ہیں۔ ہر آدمی اِس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں کو ختم کرکے نئی زندگی شروع کرسکے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس کی ضروری قیمت دینے کے لیے تیار ہو، اِس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آدمی کسی بھی عذر کو عذر نہ بنائے

If you have a good excuse don't use it.

اس دنیا میں ہر چیز قابلِ حصول ہے۔ بشرطیکہ آدمی اس کی قیمت ادا کرے۔ قیمت کی ادائیگی کے بعد مطلوب چیز مل کر رہتی ہے۔ قیمت کی ادائیگی کے بغیر کسی کو کچھ بھی نہیں ملتا، خواہ وہ کسی اور اعتبار سے اپنی تمناؤں کا پہاڑ کھڑا کردے۔

۹مارچ ۲۰۰۶ کی سہ پہر کو ساڑھے تین بجے حیدرآباد یونیورسٹی میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اِس خطاب کا موضوع امن (peace) مقرر کیا گیا تھا۔ اِس موضوع پر بولنے کے لیے مجھے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا، میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ امن کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے امن کو قائم کیا جائے۔

امن کی اصل اہمیت یہ ہے کہ امن حالات کو معتدل بناتا ہے۔ امن کی حالت قائم ہونے کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر قسم کی سرگرمیاں کسی رُکاوٹ کے بغیر جاری کی جائیں۔ میںنے کہا کہ اگر آپ کسی سے بات کریں تو ہر آدمی حتی کہ جنگ جُو لوگ بھی یہی کہیں گے کہ ہم امن چاہتے ہیں مگر ہم کو عدل کے ساتھ امن(peace with justice) چاہیے۔ یہ ایک غیر فطری شرط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدل، امن کا نتیجہ نہیں۔ عدل خوداپنے عمل کا نتیجہ ہے۔ امن کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ مواقع (opportunities) کھل جاتے ہیں، اور اِن مواقع کو استعمال کرکے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو عدل کہاجاتا ہے۔

تقریر کے بعد سوال اورجواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حدیث میں آیا ہے کہ رجعنا من الجہاد الأصغر إلی الجہاد الأکبر۔ اِس میں جہاداکبر سے کیا مراد ہے۔ جہاد بالنفس یا کوئی اور عمل۔ میں نے کہا کہ جہاد اکبر سے مراد دعوت کا عمل ہے، اور یہ خود قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن میں ہے کہ وجاہدہم بہ جہاداً کبیراً (الفرقان ۵۲)۔ اِس آیت میں جہاد سے مراد جہاد بالقرآن ہے۔ یہاں جہاد بالقرآن کو جہاد کبیر کہاگیا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جس چیز کو جہادِ اکبر کہا گیا ہے اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں جہاد کبیر کہاگیا ہے، یعنی دعوتی جہاد۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال یہ تھا کہ ہندستان کے حالات دعوت کے لیے سخت مخالف ہیں۔ پھر یہاںدعوت کا عمل کس طرح انجام دیا جائے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے کہ ہندستان میں دعوت کے عمل کے لیے حالات سازگار نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہندستان میں دنیاکے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندستان کی اکثریت استثنائی طورپر یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ گویا کہ وہ اسلام کی صداقت کو پہلے ہی سے امکانی طورپر مانے ہوئے ہیں۔ اس لیے اسلام کی دعوت اُن کے لیے کوئی غیر مانوس چیز نہیں۔ پھر بھی میں مانتا ہوں کہ یہاں اِس سلسلے میں کچھ رکاوٹیں ہیں مگر اس کا سبب خود مسلمان ہیں۔ انگریزی دور سے لے کر اب تک مناظرہ (debate) کیا جاتا رہا ہے۔ پہلے یہ مناظرہ اردو زبان میں ہوتا تھا۔ اب اردو زبان کے ساتھ ہندی اور انگریزی میں بھی یہ مناظرہ کیا جانے لگا ہے۔

مناظرے کی نفسیات یہ ہے کہ اس سے نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہیں ہوتا بلکہ دونوں کے درمیان حریفانہ اور رقیبانہ رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ اِس طرح دعوت کے مواقع غیر ضروری طور پر ختم ہوجاتے ہیں۔ اِس سلسلے میں میں نے مناظرہ بازی کی تاریخ سے کئی مثالیں پیش کیں۔

ایک انگر یزی تعلیم یافتہ نوجوان نے سوال کیا کہ ہم خدا کی معرفت کیسے حاصل کریں اور خدا کے پسندیدہ راستے کو کیسے جانیں۔میں نے اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اِس کا طریقہ بالکل آسان ہے۔ آپ یہ کریں کہ پہلے کھُلے ذہن کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کریں۔ اِس کے بعد موجودہ زمانے میں چھپنے والے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ اِس مطالعے کے بعد بھی اگر آپ کے سوالات باقی رہتے ہیں تو آپ اہلِ علم سے رجوع کریں، اور ساتھ ساتھ خدا سے دعا کرتے رہیں۔ انشاء اللہ آپ کا ذہن کھل جائے گا۔

ایک سوال یہ تھا کہ آپ اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہندستان میں ہمارے لیے مسلم ملکوں سے بھی زیادہ مواقع موجود ہیں۔ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ میںنے کہا کہ اِس کا سبب یہ ہے کہ کسی تعمیری کام کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ پُرامن ماحول ہے۔ ہندستان میں استثنائی طورپر امن کی یہ حالت موجود ہے۔میں نے کہا کہ ہندستان میں مخصوص اسباب کی بنا پر وہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس کو میں جبری امن (compulsive peace)کہتا ہوں۔ ہندستان میں دو بڑے فرقے ہیں— ہندو اور مسلمان۔ اِس جبری امن کا تعلق دونوں ہی فرقوں سے ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہندو اِس لیے پُرامن رہنے پر مجبور ہیں کہ وہ ایک دولت پرست قوم ہیں۔ بار بارکے تجربے کے بعد انھوں نے دیکھ لیا ہے کہ جب کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے اور بے امنی کی صورت پیدا ہوتی ہے تو ان کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ اُن کے اندر وہ ذہن پیدا ہوگیا ہے جس کو ایک ہندو تاجر نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا—ہم فرقہ وارانہ فساد کا تحمل نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ جب بھی کسی مقام پر فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو ہمارا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہمیں اس کی بھاری مالیاتی قیمت دینی پڑتی ہے۔اِس لیے خود اپنے تجارتی مفاد کے لیے ضروری ہے کہ ہم فرقہ وارانہ فساد سے دور رہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی معاملہ دوسرے انداز میں مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اپنے پُرجوش رہنماؤں کی باتوں سے متاثر ہو کر ایسے خیالات میں جی رہے تھے جن کو ایک معروف مسلم شاعر نے اِن الفاظ میںادا کیا ہے

شعلہ بن کر پھونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تو!

۱۹۴۷ کے بعد مسلمان انھیں خیالات کو لے کر نیے ہندستان میں داخل ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے بار بار شعوری یا غیر شعوری طور پر ’’باطل کی غارت گر ی‘‘ کا عمل کرنا چاہا مگر ہر بار انھیں یک طرفہ طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ آخر کار انھوںنے یہ محسوس کرلیا کہ ہندستان میں وہ بڑی اکثریت کے مقابلے میں چھوٹی اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس لیے ’’باطل کی غارت گری‘‘ کا فارمولا یہاں قابلِ عمل نہیں۔ اپنی مجلسوں میں مسلمان اگر چہ اب بھی اِس قسم کے اشعار کو پڑھ کر خوش ہوتے ہیں لیکن عملی زندگی میں انھوں نے اِس نظریے کو مکمل طورپر چھوڑ دیا ہے۔ اب مسلمانوں میں وہی حالت قائم ہوگئی ہے جس کو میںنے جبری امن سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ہندستان میں دونوں فریقوں کی طرف سے امن کی حالت قائم ہوگئی ہے۔ یہ حالت ہم کو موقع دیتی ہے کہ ہم سکون کے ساتھ اپنے تعمیری منصوبے کو بروئے کار لاسکیں۔

پروگرام کے سلسلے میں اکثر میںنے لوگوں کو اپنی ایک کمزوری بتائی ہے۔ لیکن لوگ اس کا دھیان نہیں رکھ پاتے ہیں۔ وہ کمزوری یہ ہے کہ میں کار سِک (car sick) ہوں۔ کار خواہ کتنی ہی اچھی ہو لیکن جب میںکار میں سفر کرتا ہوں تو بہت جلد میرے سر میں چکّر شروع ہوجاتا ہے۔ حتی کہ میں معتدل انداز میں بولنے کے قابل نہیں رہتا۔ میںنے بار بار لوگوں کو یہ بات بتائی ہے۔ لیکن چوں کہ دوسرے لوگوں کایہ مسئلہ نہیں، اس لیے وہ میری اِس کمزوری کو سمجھ نہیں پاتے اور ایسی جگہ پروگرام رکھ دیتے ہیں جہاں مجھے قیام گاہ سے دور جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر عام طورپر کار کے ذریعے ہوتا ہے۔ چنانچہ بہت جلد میرے سر میں چکر شروع ہوجاتا ہے، اور انشراح ختم ہوجاتا ہے۔میرے ذوق کی بات یہ ہے کہ پروگرام کسی ایک جگہ ہو مجھ کو اِدھر اُدھر جانا نہ پڑے۔ میری قام گاہ اور اجتماع گاہ دونوں ایک ہو۔ میںاپنے حالات اور اپنے مزاج کی وجہ سے اسی طریقے کو زیادہ درست سمجھتا ہوں۔

حیدرآباد یونیورسٹی کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ واپس روانہ ہوئے۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر پہنچے تو مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد نشست ہوئی تو بہت سے لوگ یہاں جمع ہوگیے۔ مثلاً محمد خورشید اکرم سوز ، ایو ت مال (عمر ۴۱ سال) اور ڈاکٹر پی۔ کے۔ حسین مڈاوڈر، کالی کٹ (عمر ۴۸ سال)۔ میں نے اپنی گفتگو میںکئی دینی مسائل کا ذکر کیا۔

ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں مجادلہ (النحل ۱۲۵)کی اجازت آئی ہے۔ کیا یہ مجادلہ وہی چیز ہے جس کو عام طور پر مناظرہ یا ڈبیٹ کہاجاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہاں مجادلہ کا مطلب مناظرہ نہیں، بلکہ پُر امن ڈائلاگ ہے۔ ایسا ڈائلاگ جس سے نفرت اور دوری پیدا نہ ہو۔ اِس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن میںاِس آیت کے اترنے کے بعد رسول اور اصحاب رسول نے کبھی کسی سے مناظرہ نہیں کیا۔ اُن کا طریقِ دعوت عام طور پر یہ تھا کہ قرآن کو پڑھ کر سُنانا، اور اگر ضرورت ہو تو معمولی وضاحت کرنا۔ قرآن کا طریقِ تبلیغ وہی ہے جس کو دوسرے مقام پر قولاً بلیغاً (النساء ۶۳)کہا گیا ہے، یعنی دل میں اتر جانے والی بات۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایوت مال سے محمد خورشید اکرم صاحب پروگرام میںشرکت کے لیے آئے تھے۔ انھوںنے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی دعوتِ حق سرکل کے نام سے ایوت مال میں دعوت کاکام کررہے ہیں۔ یہ لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات سے براہِ راست مل کر ان سے گفتگو کرتے ہیں، اور پھر انھیں CPS International کے تحت، چھپے ہوئے دعوتی لٹریچر دیتے ہیں۔

اِسی طرح مختلف مقامات پر لوگ حلقے قائم کرکے دعوت اوراصلاح کا کام کررہے ہیں۔ مثلاً حیدرآباد، بنگلور، کالی کٹ، بمبئی، ناگپور، میرٹھ، سہارن پور، وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی کام کا فطری طریقہ ہے۔ اِسی طرح کام زیادہ نتیجہ خیز طورپر آگے بڑھتا ہے۔

حیدر آباد کے زمانۂ قیام میں۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو جناب حسن الدین احمد صاحب (آئی۔اے۔ایس) میری قیام گاہ پر تشریف لائے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے بتایا کہ ان کی ایک کتاب (طُلوعِ فکر) زیرِ طبع ہے۔ اِس کتاب کے ایک ٹائپ شدہ باب کی کاپی انھوں نے مجھے دی۔ یہ دراصل ان کا ایک خطبۂ صدارت تھا۔ حیدر آباد میں ۵جون ۱۹۸۸ کو اسلامی مرکز دہلی کی برانچ کے افتتاح کے طور پر ایک جلسہ ہوا تھا۔ اِس جلسے کے صدر جناب حسن الدین احمد صاحب تھے۔ اِس موقع پر میں نے اسلامی مرکز کے مقاصد پر ایک تفصیلی تقریر کی تھی۔ جناب حسن الدین احمد صاحب نے آٹھ صفحے کا ایک خطبۂ صدارت پیش کیا۔ اِس میں انھوں نے راقم الحروف کی علمی اور دعوتی خدمات کا مکمل اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ

unverifiedAttribution could not be verified automatically

’’آج مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں۔ البتہ عوامی طرزِ عمل یہ ثابت کررہا ہے کہ مولانا بلند پایہ شخصیت کے حامل ہیں۔ مخالفت برائے مخالفت کرنے والے اُن پر ایسے الزامات عائد کرتے ہیں جن سے وہ بَری ہیں۔ ان کی نیت پر شبہہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ (صفحہ ۴۵۸)

یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں کی ہرچیز پرچۂ امتحان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آپ کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ بھی آپ کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اس امتحان میں پورا اُترنے کی صرف دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اُس پر ایسی تنقید کریں جو مسلّمہ علمی معیار کے مطابق، درست قرار پاتی ہو۔ اور اگر آپ کے اندر یہ صلاحیت نہیں تو آپ پر فرض ہے کہ آپ اس کے بارے میں خاموشی کا طریقہ اختیار کریں (من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً أو لیصمت)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بجائے تیسرا طریقہ اختیار کرنا فعلِ حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔یعنی بے بنیاد تنقید کرنا، حوالے کے بغیر صرف بیانیہ انداز میں تبصرہ کرنا، نیت پر شک کا اظہار کرنا، علمی تجزیہ کے بجائے تنقیص کا طریقہ اختیار کرنا، خود ساختہ معیار پر غلط قرار دینا ، یہ سب تنقید کی ناجائز صورتیں ہیں۔ جو آدمی یہ تیسرا طریقہ اختیار کرے وہ اپنے امتحان میں فیل ہوگیا۔

حیدررآباد یونیورسٹی سے فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر واپس آگیے۔ یہاں پر کچھ لوگ اکھٹا ہوگیے تھے، ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام میں علم اور تعلیم کی بے حد اہمیت ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں جو پہلی وحی آئی اس میں کہا گیا تھا کہ پڑھو۔ اِس سلسلے میں روایت میں آتا ہے کہ فرشتہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ پڑھو۔ آپ نے فرمایا کہ ما أنا بقاریٔ ۔ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس کے بعد فرشتے نے دوبارہ کہا کہ پڑھو۔ اسی طرح تیسر بار بھی یہی مکالمہ دہرایا گیا۔ آخر چوتھی بار آپ نے فرشتے کے تلقین کیے ہوئے الفاظ کو پڑھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس مکالمے میں سوال اور جواب دونوں کو ملا کر دیکھیے تو اس کا مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ پڑھنا نہیں جانتے تب بھی پڑھو، لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو۔ اِس گفتگو کے بارے میں کہاجاسکتا ہے کہ یہ ایک بامعنیٰ ڈائلاگ تھا۔ یہ علم اور تعلیم کی لامحدود اہمیت کا اظہار تھا۔ یہ تعلیمی جدوجہد کا سبق تھا۔

۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو فجر کی نماز کے بعد ہم لوگ گھر کے ایک بڑے کمرے میں بیٹھ گیے۔ یہاں دیر تک دینی مباحث پر باتیں ہوتی رہیں۔ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں مکّی دور ابتدائی پیریڈ کا دَور تھا، اور مدنی دور اتمامی پیریڈ کا دَور۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مکّی دَور اسلام کی اُس حالت کا نمائندہ ہے جو مستقل طور پر ہر حال میں جاری رہتی ہے۔ اور مدنی دَور اُس حالت کا نمائندہ ہے جو اسلام میں وقتی طورپر پیش آتی ہے۔ اور پھر مکی دَور دوبارہ مستقل حالت کی حیثیت سے لوٹ آتا ہے۔

غالباً یہی نکتہ ہے جو ایک مشہور حدیث میںبتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک (۹ھ) سے واپس ہوئے تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا رجعنا من الجہاد الأصغر إلی الجہاد الأکبر (ہم چھوٹے جہاد سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آئے ہیں) دوسرے لفظوںمیں یہ کہ ہم وقتی جہاد سے واپس ہوکر مستقل جہاد کی طرف آگیے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مکی دور میں قرآن میںیہ آیت اتری کہ الدین کو قائم کرو۔ (أن أقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (الشوریٰ ۱۳) اِس آیت میںالدین سے مراد مکمل دین نہیں ہے بلکہ دین کا وہ حصہ ہے جوہر حال میں قابلِ عمل ہوتا ہے۔ یہاں الدین میںشرائع مراد نہیں ہیں۔ یہ الدین جس پر اہلِ ایمان مکّی دور میں قائم تھے وہی اصل دین ہے، اور وہ ہر حال میں مطلوب ہے۔ بقیہ چیزیں حالات پر منحصر ہیں۔ مثلاً تنظیمِ معاشرہ، اقامتِ حدود، سیاسی امارت کا قیام وغیرہ اُس وقت مطلوبِ شرعی بنتے ہیں جب کہ حالات اس کے موافق ہوچکے ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مزید یہ کہ ’’مکمل دین کا نفاذ‘‘اسلامی مشن کا نشانہ نہیںہے۔ اسلامی مشن کا نشانہ صرف دو چیزیں ہیں—شخصی اصلاح اور پُر امن دعوت۔ اِن دو کے سوا جو چیزیں ہیں وہ سب حالات پر مبنی ہیں، وہ اسلامی مشن کا براہِ راست نشانہ نہیں۔

پیغمبر اسلام کی زندگی مکہ سے شروع ہوئی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو اسلام مدنی دَور میں پہنچ چکا تھا۔ اِس بنا پر ایسا ہوا کہ بعد کے لوگوں نے مدنی دَور کو اپنے لیے ماڈل سمجھ لیا۔ مکّی دَور کی حیثیت ان کے لیے ماڈل کی نہ رہی۔ یہ شدید غلط فہمی ہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ بعد کی مسلم نسلوں میں حاکمانہ مزاج آگیا۔ حالاں کہ حاکمانہ دور کی حیثیت ماڈل کی نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک درمیانی حالت کی ہے۔ مکّی دَور ہی اسلام کا ابدی ماڈل ہے۔ مدنی دَور، مکی دَور کے تابع ہے نہ کہ اس سے آزاد۔

اسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طورپراہلِ علم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام میں اقتدار کی حالت (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، لیکن اسلام میں بے اقتدار کی حالت (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکّی دَور امت کے ذہن سے عملاً حذف ہوگیا ہے۔ اب امت کے ذہن میں صرف مدنی دَور، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں عباسی دَور اور اسپینی دَور اور مغل دَور اور عثمانی دَور موجود ہے۔ اِسی بعد کے سیاسی دَور سے لوگ انسپریشن لیتے ہیں۔ مکّی دَور لوگوں کے ذہن میں زندہ شعور کی حیثیت سے موجود نہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ غلو کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ غلو دراصل دورِ زوال کا ظاہرہ ہے۔ غلو کا تعلق اسپرٹ سے نہیں ہے بلکہ ظواہر سے ہے۔ جب اسپرٹ ختم ہوجائے اور دین صرف ظواہر کی سطح پر باقی رہے، اُس وقت ایساہوتا ہے کہ لوگ ظواہر کا بہت زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔ لوگ ظواہر کے معاملے میں انتہا پسند بن جاتے ہیں۔ اِسی کا نام غلو ہے۔ غلو ،دین داری کی علامت نہیں ہے بلکہ وہ اصل دین سے انحراف کی علامت ہے۔ غلو اِس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے اندر روحِ اسلام باقی نہیں رہی ہے اِس لیے وہ ظواہر دین کا اہتمام کرکے اپنے آپ کو اعلیٰ دین دار ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مَیں نے کہا کہ سادگی (simplicity) کوئی معمولی چیز نہیں۔ سادگی کا گہرا تعلق اسلامی کردار سے ہے۔ زندگی کے معاملات میں سادگی کا طریقہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کا پیسہ، اس کا وقت اور اس کی توجہ غیر ضروری چیزوں میں نہ لگے۔ آدمی اپنے سارے وسائل، اپنی ساری توجہ اور اپنے تمام وقت کو صرف اپنے اعلیٰ مقصد کے راستے میں خرچ کرسکے۔ سادگی با مقصد انسان کا کلچر ہے۔ بامقصد انسان اس کا تحمّل نہیں کرسکتا کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی سادگی کا طریقہ چھوڑ دے۔ با مقصد انسان کے لیے سادگی کے طریقے کو چھوڑنا مقصدی اعتبار سے اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے ہم معنی ہے۔ سادگی اور بامقصد زندگی دونوں ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کی صبح کو ناشتے کے بعد ہم لوگ جامعہ دار الفرقان (للبنات) گیے۔ یہ ادارہ حیدرآباد کے سعید آباد علاقے میں واقع ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ ۱۹۸۹ میں قائم ہوا۔ اس کے قیام کا مقصد اس کے تعارف نامے کے مطابق، یہ ہے —’’عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کو عام کرنا، تاکہ خواتین میںعلمی اور دینی بیداری کے ساتھ ساتھ صحیح اسلامی تعلیم کے ذریعے دینِ حق کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے راہ ہموار ہوسکے۔جامعہ کا نصاب اِس طرح سے ترتیب دیاگیا ہے کہ طالبات (انٹرنس مماثل S.S.C. دسویں جماعت) پِری ڈگری کورس (مماثل انٹرمیڈیٹ (L) B.A. کی ڈگری سندِ فضیلت کے ساتھ ساتھ عثمانیہ یونیورسٹی سے حاصل کرسکیں‘‘۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس ادارے کے بانی سیّد قطب الدین مرحوم تھے۔ اور اس کے موجودہ پرنسپل مولانا محمد اسحاق کمال صاحب ہیں۔جامعہ دار الفرقان میں میرے خطاب کا پروگرام تھا۔ اِس خطاب کا عنوان تھا اسلام میں عورت کا مقام۔ میں نے اِس موضوع پر ایک تفصیلی تقریر کی۔ میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اسلام میں عورت کو اعلیٰ انسانی مرتبہ دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، عورت اور مرد دونوں عزت اور احترام کے اعتبار سے برابر ہیں۔ البتہ دونوں کے سماجی کردار میںفرق ہے

Equal in respect, but different in role.

میں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ایک مغربی اسکالر ایڈورڈ ولیم لین (وفات ۱۸۷۶) نے لکھا تھا کہ اسلام کا تباہ کن پہلو یہ ہے کہ وہ عورت کو ڈی گریڈ (degrade) کرتا ہے۔ حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ اسلام میں عورت کو برابر کا درجہ دیاگیا ہے۔ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ النساء شقائق الرّجال۔ یعنی عورت اور مرددونوں ایک وحدت کے دو نصف حصے ہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Men and women are two equal halves of a single unit.

لیکن فطرت کی تقسیم کے مطابق، عورت اور مرد کا رول ایک دوسرے سے کو آپریٹ کرنا ہے نہ کہ ایک دوسرے سے ہم سَری کرنا (ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض، النساء ۳۲) قرآن کے مطابق، مرد کا رول قوّامیت کا رول ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت کا رول تعاون کا رول ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے زوجۃ صالحۃ تعین علیٰ دینہ یعنی زندگی میں مرد کا مدد گار بننا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے مثال دیتے ہوئے کہا کہ والی بال کا کھیل ایک ٹیم کا کھیل ہوتا ہے۔ والی بال میں ایک والر ہوتا ہے اور دوسرا بوسٹر۔ بوسٹر کا کام گیند والر کو دینا ہے اور والر کا کام گیند کو مارنا۔ اِسی طرح زندگی میں عورت کا رول بوسٹر (booster) کا رول ہے، اور مرد کا رول پرفارمر(performer) کا رول۔ قانونِ فطرت کے مطابق، یہی صحیح تقسیم ہے۔ اِسی تقسیم کو اسلام میں اختیار کیاگیا ہے۔

میںنے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سائنس داں مارگریٹ اَلوا ایڈیسن (وفات ۱۹۳۱) میٹرک پاس بھی نہ تھا۔ اس کے باوجود اس نے ایک ہزار سے زیادہ چیزیں ایجاد کیں۔ ٹیوب لائٹ اسی کی ایک ایجاد ہے۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ وہ اِس طرح ممکن ہوا کہ ایڈیسن کی ماں(Nancy) اپنے بیٹے کے لیے بوسٹر بن گئی۔ ماں کا حصہ ایڈیسن کی زندگی میں اتنا زیادہ ہے کہ ایڈیسن نے کہا

The real force behind all of my successes is my mother.

ایڈیسن کی ماں جو کہ ایک ٹیچر تھی اس نے اپنی پوری زندگی ایڈیسن کی تعلیم وتربیت کے لیے وقف کردی۔ اس نے ایڈیسن کے اندر علم کا شوق بھی پیدا کیا اور علم کے حصول میں بھی اس کی پوری مدد کی۔ ایڈیسن نے اپنی ماں کے بارے میں کہا کہ

She instilled in me the love and the purpose of learning.

میں نے کہا کہ اسلام کے مطابق، مرداور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے ذہنی رفیق (intellectual partner) ہیں۔ اِس دنیا میں سب سے بڑی نعمت ایک ذہنی رفیق کا ملنا ہے۔ عورت کی صورت میںمرد کو یہی چیز دی گئی ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیںہوتا۔ اِس عظیم فطری امکان کے واقعہ نہ بننے کی سب سے بڑی ذمے داری مردوں پر عائد ہوتی ہے۔ مردوں کا یہ حال ہے کہ وہ عورت کو صرف گھرکا ایک ساتھی سمجھتے ہیں، وہ اس کو ذہنی رفیق کے روپ میں نہیں دیکھتے۔ اس کا نقصان دونوں کو سنگین صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔

خطاب کے بعد سوال اور جواب کا وقفہ تھا۔ اساتذہ اور طالبات کی طرف سے بہت سے سوالات آئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے النساء شقائق الرجالوالی حدیث کا حوالہ عورت اور مرد کے درمیان عمومی برابری کے لیے دیا ہے۔ حالاں کہ یہ روایت کتاب الطہارۃکے تحت آئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے کہا کہ فہمِ حدیث کا ایک اصول ہے کہ کوئی حدیث قریبی سیاق کے اعتبار سے ایک خاص مفہوم میں ہوسکتی ہے لیکن اسی کے ساتھ اس کا ایک توسیعی مفہوم بھی ہوتا ہے۔ یہ حدیث ایک سوال کے جواب میں آئی ہے۔ سوال ہمیشہ کسی مخصوص صورت حال کی نسبت سے ہوتا ہے۔ لیکن جب اس کا جواب دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس میں ایک کُلّی مفہوم بھی بیان کردیا جاتا ہے جو عمومی حکم بتانے کے ساتھ زیرِ سوال مسئلے کے دوسرے پہلوؤں کا بھی احاطہ کررہا ہو۔

تقریر کے دَوران میں نے قرآن کے بارے میں ایک حدیث لاتنقصی عجائبہ (الترمذی) کا حوالہ دیا تھا۔ اِس پر اساتذہ کی طرف سے ایک سوال یہ آیا کہ اس حدیث کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے۔ پھر آپ کیوں اِس حدیث کو بنائِ استدلال بنا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ سند کے اعتبار سے بالفرض یہ روایت ضعیف ہو تب بھی حقیقت کے اعتبار سے وہ قوی ہے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ قرآن کے بہت سے عجائب (معانی) بعد کے زمانے میں ظاہر ہوئے جو کہ نزولِ قرآن کے وقت لا معلوم تھے۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کی لاش خدا نے محفوظ کردی ہے۔ یہ بات نزولِ قرآن کے وقت بالکل لا معلوم تھی۔ نزولِ قرآن کے بارہ سوسال بعد اس کا انکشاف ہوا، وغیرہ۔ اِس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب عظمتِ قرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ حدیث کو جانچنے کا اصول صرف وہی نہیں ہے جو عموماً فنِ حدیث میں مقرر کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ حدیث کی صحت کو جانچنے کا ایک اور اہم تراصول بھی ہے۔ وہ یہ کہ حدیث اگر قرآن کے بیان سے مطابقت کررہی ہو تو اس کو صحیح مانا جائے گا۔ اِس حدیث کا معاملہ یہی ہے۔ کیوں کہ قرآن میں اس مفہوم کا بیان موجود ہے۔ وہ یہ کہ آئندہ آفاق اور انفس میں خدائی نشانیاں ظاہر ہوں گی (حم السجدہ ۵۳) ۔ گویا جو بات قرآن میں ایک قسم کے الفاظ میں بیان ہوئی وہی حدیث میں دوسرے قسم کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال یہ تھا کہ عورت کے پردے کے بارے میں آپ نے شیخ ناصر الدین البانی کا حوالہ دیا ہے۔لیکن جو علماء وجہ اور کفّین کو حجاب سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں وہ بھی موجودہ زمانے میں اس کے قائل نہیں ہیں۔ کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ زمانہ فتنے کا زمانہ ہے، اور جب فتنے کا زمانہ آجائے تو احتیاط کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اِس رعایت پر عمل نہ کیا جائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میںنے کہا کہ فتنے کا تعلق ، صرف عورت سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مرد سے بھی ہے۔ قرآن میں مال کو سب کے لیے فتنہ کہاگیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ لکل أمۃ فتنۃ وفتنۃ امتی المال (ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے)۔ ظاہر ہے کہ مال کا تعلق ننانوے فیصد مردوں ہی سے ہوتا ہے۔ کیا ایسی حالت میں یہ کہا جائے گا کہ مرد مال کمانا چھوڑ دیں کیوں کہ اب وہ فتنہ بن گیا ہے۔ کسی چیز کا فتنہ بننا، ہمیشہ صرف احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے نہ کہ ترک کا، اور احتیاط اور ترک میں بہت زیادہ فرق ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال یہ تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ عورت مرد کے لیے انٹلکچول پارٹنر ہے۔ آپ کی یہ رائے تعلیم یافتہ مردوں کے لیے تو سمجھ میںآتی ہے لیکن غیر تعلیم یافتہ مرد کس طرح اپنی بیویوں کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنا سکتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ سوال اس مفروضے پر مبنی ہے کہ تعلیم یافتہ مرد اپنی بیویوں کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنائے ہوئے ہیں ۔ مگریہ مفروضہ بذاتِ خود غلط ہے۔ کم از کم میں نے اپنی زندگی میں کسی ایک مرد کو بھی نہیں دیکھا جو حقیقی معنوں میں اپنی بیوی کو انٹلکچول پارٹنر بنائے ہوئے ہو، خواہ اس کی بیوی تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ۔ اصل یہ ہے کہ اِس معاملے میں سب سے پہلے عورتوں اور مردوں کو باشعور بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد لوگوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو اِس کے لیے تیار کریں۔ مزید یہ کہ انٹلکچول پارٹنر شپ کچھ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ اِس کے بغیر یہ امکان واقعہ نہیں بن سکتا۔ وہ قربانی یہ ہے کہ لوگوںکے اندر سادگی، صبر، ایثار، تواضع، علمی اور دینی مزاج، وغیرہ پیدا کیا جائے۔

اصل یہ ہے کہ عورت کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنانا ابتدائی طورپر ایک امکان ہے۔ اِس امکان کو واقعہ بنانے کے لیے باقاعدہ تیاری کی ضرورت ہے۔ ہر تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ آدمی کو تیاری کے اِس کورس سے گذرنا ہوگا۔اس کے بعد ہی وہ اِس امکان کو اپنے لیے واقعہ بنا سکتا ہے۔ تیاری کے اِس عمل میں سب سے زیادہ اہمیت مکمل سادگی کی ہے۔ سادگی ایک لائف اسٹائل کا نام ہے۔ اِس لائف اسٹائل کو اپنائے بغیر کوئی گھر انٹلکچول پارٹنر شپ کا مقام نہیں بن سکتا۔

ایک صاحب نے بتایا کہ وہ ایک سیمنار کرنے والے ہیں۔ انھوںنے مجھے اِس سیمنار میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے شرکت سے معذوری ظاہر کی۔ میں نے کہا کہ میں سیمنار کو ایک بے فائدہ کام سمجھتا ہوں۔ چنانچہ میںنے آج تک کبھی کوئی سیمنار نہیں کیا۔ البتہ دوسرے لوگوں کے سیمنار میں حسب موقع مَیں شرکت کرتا رہا ہوں، انڈیا کے اندر بھی اور انڈیاکے باہر بھی۔ یہ شرکت صرف تجربے اور مشاہدے کے لیے ہوتی ہے۔ جہاں تک سیمنار کے مقصد کا تعلق ہے، اِس اعتبار سے ہر سیمنار بالکل بے فائدہ ہوتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے کہا کہ سیمنار کیا ہے۔ سیمنار انٹلکچول(intellectuals) لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ اعلان کے مطابق، اس کا مقصد کسی پہلو پر ڈسکشن کرناہوتا ہے۔ مگر میںنے دیکھا کہ ہر سیمنار، بظاہر ڈائلاگ کے لیے ہوتا ے مگر عملاً وہ مونولاگ (monologue) بن جاتا ہے۔

اس کا سبب انٹلکچول لوگوں کی ایک کمزوری ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، ہر انٹلکچول ایگوئسٹ(egoist) ہوتا ہے۔ اس کو صرف اپنی بات سنانے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر نہ دوسروں کی بات کھلے ذہن کے ساتھ سُنتا ہے اور نہ وہ اس کو ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سمینار ایک طرح کا فکری تصادم بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ کسی فکری اتحاد تک نہیں پہنچتا۔ سیمنار کے مفید بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شرکت کرنے والے کے اندر ماڈسٹی (modesty) کی صفت پائی جاتی ہو، ظاہری ماڈسٹی نہیں بلکہ حقیقی ماڈسٹی۔ بدقسمتی سے یہ صفت آج معدوم کے درجے میں ہے۔ اِس لیے ہزاروں سیمنار ہونے کے باوجود ان کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں میںنے کہا کہ دوسروں کے طریقے اور میرے طریقے میںایک بنیادی فرق ہے۔ لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ بھیڑ کو خطاب کرتے ہیں۔ جتنی زیادہ بھیڑ ہو اتنا ہی زیادہ وہ اپنے پروگر ام کو کامیاب سمجھتے ہیں۔ اگر بھیڑ کو خطاب کرنا کوئی کام ہو تو لاؤڈسپیکر کا زمانے آنے کے بعدلاکھوں بار لوگوں نے بھیڑ کو خطاب کیا ہے مگر یہ سارے خطابات بالکل بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ اِس کے مقابلے میں میرا طریقہ انفرادی ذہن کو خطاب کرنا ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ بیوی کے لیے رفیق حیات ایک معروف لفظ ہے جس میں سب کچھ آجاتا ہے۔ پھر آپ ایک نیا لفظ انٹلکچول پارٹنر کیوں بولتے ہیں۔ میںنے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ لفظی طورپر رفیق حیات میں ساری بات آجاتی ہے، لیکن رفیقِ حیات استعمال کے اعتبار سے ایک رسمی لفظ بن گیا ہے۔ ہر آدمی رفیقِ حیات کا لفظ بولتا ہے لیکن کسی کو بھی یہ پتہ نہیں کہ رفیقِ حیات کے لفظ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اپنی بیو ی کو انٹلکچول پارٹنر بنایا جائے۔ اِس کاثبوت یہ ہے کہ عورت کے موضوع پر لکھی جانے والی کسی بھی کتاب میںانٹلکچول پارٹنر کا تصور موجود نہیں اور نہ آپ ایسے کسی مسٹر یا مولوی کا نام بتا سکتے ہیں جس نے شعوری طورپر اِس حقیقت کو جانا ہو اور واقعۃً اپنی رفیقِ حیات کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنایا ہو۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ ایک عام اصول ہے کہ جب کوئی لفظ ناقص استعمال کی بنا پر اپنی معنویت کھودے تو ایک نیا لفظ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ جو سننے والوں کے لیے زیادہ قابلِ فہم ہو، اور جس کے ذریعے اصل مفہوم فوراً لوگوں کے ذہن میںآجائے ۔ اس لیے میں نے انٹلکچول پارٹنر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مجھے اپنے تجربے میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو یہ جانتا ہو کہ رفیقِ حیات کا مطلب اپنی بیوی کو انٹلکچول پارٹنر بنانا ہے۔ اس لیے دعوتی اور اصلاحی نقطۂ نظر سے ضروری ہوا کہ اِس مفہوم کو واضح کرنے کے لیے ایک نیا لفظ استعمال کیا جائے جس کو سن کر فوراً اصل مفہوم واضح ہوجائے۔ آپ کو اِس معاملے میں شک ہو تو آپ یہ دیکھیے کہ کیا وہ لوگ جو رفیقِ حیات کے لفظ سے واقف ہیں کیا وہ اِس بات کو جانتے تھے کہ رفیقِ حیات کا مطلب اپنی شریکِ زندگی کو انٹلکچول پارٹنر بنانا ہے۔

۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو جامعہ دار الفرقان کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے ایک قریبی مسجد میں گیے۔ ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو وہاں خطبے سے پہلے کی تقریر ہورہی تھی۔ امام صاحب لاؤڈسپیکر پر اِس قدر زور زور سے بول رہے تھے جیسے کہ کسی دشمن نے حیدرآباد پر حملہ کردیا ہے اور وہ لوگوں کو اس کی خبر دے رہے ہیں۔ اکثر علماء اِس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ پُر جوش انداز میں تقریر کی جائے گی اتنا ہی زیادہ اصلاح کا کام مؤثر ہوسکے گا۔ یہ لوگ شاید اقبال کے اِس شاعرانہ تخیّل سے متاثر ہو کر ایساکررہے ہیں

نوا را تلخ تر می زن، چو ذوقِ نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں، چو محمل را گراں بینی

میرے نزدیک اِس قسم کی شعلہ بیانی سرتاسر ایک بے فائدہ کام ہے۔ لوگوں کی اصلاح کے لیے شعلہ بیانی کی ضرورت نہیں بلکہ سنجیدہ انداز میں ذہنی تعمیر کی ضرورت ہے، اور ذہنی تعمیر کا کام شعلہ بیانی کے ذریعے نہیںہوتا۔

نمازِ جمعہ سے فراغت کے بعد ہم لوگ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر واپس آئے۔ یہاں دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کے بعد اگلے پروگرام کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ پروگرام اُس بلڈنگ میںتھا جس کو حبیب بھائی نے دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہے۔ یہاں زیادہ تر وہ لوگ اکھٹا ہوئے تھے جو ماہ نامہ الر سالہ کے پڑھنے والے ہیں اور جنھوں نے الرسالہ کی دوسری کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کو الرسالہ کی دعوتی تحریک سے اتفاق ہے۔

یہاں میں نے دعوت کی اہمیت کے موضوع پر ایک مفصّل تقریر کی۔ اور بتایا کہ دعوت کا عمل ایک مستقل عمل ہے۔ پیغمبر آخر الزماں سے پہلے یہ کام مسلسل طورپر پیغمبروں کے ذریعے ہوتا رہا۔ اب ختمِ نبوت کے بعد امتِ محمدی کی یہ ذمّے داری ہے کہ وہ اِس کام کو نسل در نسل ساری دنیا میں جاری رکھے۔ دعوہ ورک کوئی قومی ورک نہیں۔ دعوہ ورک کااصل مقصد یہ ہے کہ تمام انسانوں کو خداکے تخلیقی نقشہ (Creation Plan of God) سے باخبر کیا جائے۔

پھر میں نے کہا کہ اکثر لوگ دعوہ ورک اور کمیونٹی ورک کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ کمیونٹی ورک کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں وہ دعوہ ورک کر رہے ہیں۔ اس طرح کچھ لوگ اصلاحِ مدرسہ اور اصلاحِ مسجد کا کام کرتے ہیں اور سمجھتے کہ وہ دعوہ ورک کررہے ہیں۔یہ سب بے خبری کی باتیں ہیں۔ ایسے لوگ اِس بات سے بے خبر ہیں کہ دعوت الی اللہ کیا ہے اور وہ اسلام میں کیوں مطلوب ہے۔

کچھ لوگ موجودہ مسائل کو عذر بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے ہوتے ہوئے دعوہ ورک کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق، دعوہ ورک ہی ان مسائل کا حل ہے(المائدہ ۶۷)۔ کسی بھی عذر کی بنا پر دعوت کے کا م کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑنے کے بعد امتِ محمدی کا امتِ محمدی ہونا ہی مشتبہ ہوجائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھر میں نے بتایا کہ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام رک گیا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں سے قومی اور سیاسی شکایتیں پیدا ہوئیں۔ وہ دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگے۔ حتی کہ ان کے خلاف متشددانہ جہاد چھیڑ دیا۔ اِس بنا پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے اندر وہ اسپرٹ ہی ختم ہوگئی جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ضروری ہے۔ یعنی دوسرے انسانوں کے لیے خیر خواہی۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دل دوسری قوموں کے خلاف شکایتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اِسی شکایت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ معمولی معمولی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں اور دوسری قوموں سے لڑنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں دعوت الی اللہ کا سنجیدہ کام کبھی انجام نہیں دیا جاسکتا۔ دعوت الی اللہ مسلمانوں کی لازمی ذمے داری ہے۔ اور اِس ذمے داری کی ادائیگی کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ مسلمان، غیر مسلم قوموں کے مقابلے میں صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ اگر غیر مسلموں کی کسی روش سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تب بھی مسلمانوں کے لیے بھڑکنا اور ٹکراؤ کا ماحول پیدا کرنا ہر گز جائز نہیں۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اُن سے ایسے انداز میں بات کرو جو اُن کے دل میں اُتر جانے والی ہو (النساء  ۶۳) اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا اسلوب اختیار کرو جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرے۔ جو اُن پر خدائی پیغام کی صداقت کو اِس طرح کھول دے کہ وہ اس کوقبول کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دعوت سے پہلے اصلاح ضروری ہے جب تک اپنی اصلاح نہ ہوجائے دعوت کا کام انجام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ ایک خود ساختہ شرط ہے۔ قرآن اور حدیث میں اِس قسم کی شرط کہیں مذکور نہیں۔صحابہ اور تابعین کا گروہ اسلام میں معیاری گروہ مانا جاتا ہے۔ انھیں لوگوں کے دعوتی عمل سے اسلام ہرجگہ پھیلا۔ مگر ان کے حالات پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اُن میں سے کوئی بھی شخص نہیں جو اپنے کو مومنِ کامل سمجھتا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ کامل مؤمن یا باعمل مومن کی شرط اگر ضرور قرار دی جائے تو کبھی دعوت کا عمل انجام نہیں پائے گا۔ کیوں کہ کوئی مخلص انسان یا اللہ سے ڈرنے والا انسان کبھی اِس احساس میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ وہ پورے معنوں میں مومن کامل یا با عمل مسلمان بن گیا ہے۔اس لیے وہ اپنے آپ کو ناقص سمجھ کر دعوت کے عمل سے رُکا رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کی شرط ایک خود ساختہ شرط ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دعوت الی اللہ کا محرّک یہ نہیں ہے کہ میں پوری طرح با عمل مسلمان بن گیا ہوں اس لیے اب مجھے دعوت کا عمل کرنا چاہیے۔ دعوت کا محرک دوسرے انسانوں کے ساتھ خیر خواہی ہے۔ جو لوگ مذکورہ قسم کی شرطیں لگاتے ہیں ان کے دل انسانوں کی خیر خواہی سے بالکل خالی ہیں۔ اگر ان کے اندر انسانوں کے لیے خیر خواہی موجود ہوتو وہ کبھی اِس قسم کی بے بنیاد بات نہیں کہیں گے۔

مولانا محمد ذکوان ندوی نے بتایا کہ انھوں نے ۱۰مارچ ۲۰۰۶ کو حیدرآبادکی ایک قدیم جامع مسجد میںجمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ مسجد بہت بڑی تھی۔ مسجد کے اندر جگہ جگہ بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے تھے جس پرلکھا ہوا تھا— براہِ کرم مسجد میں اپنا موبائل فون بند کردیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے بتایا کہ خطبے سے پہلے کی تقریر میں امام صاحب نے کہا کہ مسجد میںبڑے بڑے بورڈ پر لکھ کر یہ لگایا گیا ہے کہ لوگ مسجد میں اپنا موبائل بند رکھیں پھر بھی لوگ اس کا خیال نہیں رکھتے۔ یہ دراصل یہود و نصاریٰ کی سازش ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان، مسجد میں بھی عبادت اور دعا کے لیے یکسو نہ رہ سکیں۔ اِس لیے انھوںنے مسلمانوں کے اندر موبائل پھیلا دیئے ہیں۔

other sourceWords of another person or source

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے واعظین کی بے شمار تقریروں کے باوجود کیوں مسلمانوں کی اصلاح نہیں ہوتی۔ اِس لیے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی ہر داخلی خرابی میں ایک خارجی دشمن کی سازش کو دریافت کرلیتے ہیں اور اس کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر داخلی احتساب کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ خارجی دشمنوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عام طورپر منفی اندازِ فکر کا شکار ہو کر رہ گیے ہیں۔

۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو عصر کی نماز کے بعدہم لوگ بھارتیہ ودّیا بھون کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں کے وسیع ہال میں خطاب کا ایک پروگرام تھا۔ اس خطاب کا انتظام ایک ہندو تنظیم پر گنا بھارتی (آندھرا پردیش) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یہاں کے خطاب کا عنوان یہ تھا

Co-existence in Islam

یہ پروگرام پورا کا پورا انگریزی زبان میں تھا۔ اِس میں حیدر آباد کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہند و اور مسلمان شریک ہوئے۔ مجھے تقریر کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا، اور اس کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام پرگنا بھارتی والوں نے اصلاً صرف میری تقریر کے لیے کیا تھا۔ اس کے صدر ڈاکٹر چودھری تھے۔ وہ پرگنا بھارتی کے چیر مین ہیں۔

میںنے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ دنیا میں بقائے باہم(co-existence) ایک فطری فارمولا ہے۔ اور ہر فارمولا جو فطری ہو وہ اسلام کا فارمولا بھی ہے۔ کیوں کہ قرآن اور حدیث کے مطابق، اسلام فطرت کادین ہے۔اِس فطری فارمولے کی ایک مثال قرآن میںیہ دی گئی ہے کہ وسیع خلا میں ستارے اور سیارے مسلسل حرکت میں ہیں۔ لیکن ہر ایک اپنے مدار میں حرکت کرتا ہے۔اِس لیے ایک اور دوسرے کے درمیان ٹکراؤ نہیں ہوتا (یٰس ۴۰) ستاروں اور سیاروں کے اِس نظام کو یونیورسل ماڈل آف کواگزسٹنس کہا جاسکتا ہے۔ یہی فطری فارمولا انسان سے بھی مطلوب ہے، اِس طرح کہ خلا کے اجرام جس طریقے کو لازمی قانونِ فطرت کے تحت، مجبورانہ طورپر اختیار کیے ہوئے ہیں اس کو انسان اپنی اجتماعی زندگی میں خود اپنے ارادے اور شعور کے تحت اختیار کرے— اسی کا نام بقائے باہم ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا ہماری دنیا فرق (difference) کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہرطرف فرق اور اختلاف پایاجاتا ہے۔ میںنے آر۔ایس۔ ایس کے سابق چیف گر و گول والکر کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ بھی اس کو مانتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Nature abhors uniformity.

ایسی حالت میں کوئی ایسا فارمولا قابلِ عمل ہی نہیں جو فرق اور اختلاف کو مٹانے کے اصول پر قائم ہو۔ صحیح اور قابلِ عمل بات یہ ہے کہ —ہم فرق کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں، ہم فرق کے باوجود متحد ہوکر جینا سیکھیں 

We have to learn the art of difference management.

میں نے کہا کہ اسلام میں دو قسم کا بقائے باہم پایا جاتاہے۔ ایک، بلا اعلان بقائے باہم (undeclared co-existence) اور دوسرا، اعلان کے ساتھ بقائے باہم (declared co-existence) ۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ روز مرّہ کی زندگی میں مسلمان اِس طرح رہیں کہ وہ کسی دوسرے کے لیے پرابلم پیدا نہ کریں۔ وہ معاشرے میں نو پرابلم انسان بن کررہیں۔ یہ بلا اعلان بقائے باہم کی مثال ہے۔

اسی طرح میں نے صلح حدیبیہ کی مثال دی۔ میںنے کہا کہ حدیبیہ کا معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فریقِ ثانی کے درمیان اِس بات پر ہوا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف جنگی اقدام نہیں کریں گے۔ یہ اعلان کے ساتھ بقائے باہم کی مثال ہے۔

پروگرام کے خاتمے پر ڈاکٹر چودھری صدر جلسہ کی حیثیت سے اسٹیج پرآئے۔ وہ آر۔ایس۔ایس کے مقامی لیڈر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں میری باتوںکا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بتایا کہ اسلام امن اور بقائے باہم کے اصول کو مانتاہے۔ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہندوؤں میں گاندھی پیدا ہوئے جنھوں نے امن جیسی مثبت قدروں کی بات کی اور اس کے خلاف چلنے والوں کو کنڈم کیا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں مولانا صاحب ہی اکیلے اِس قسم کی بات کہتے ہیں۔ آخر دوسرے مسلم علماء ایسا کیوں نہیں کہتے۔ اس کے جواب میں میںنے مائک پر آکر یہ کہا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

Gandhi was one and also Maulana is one. Moreover, Gandhi was shot dead, and Maulana is alive, addressing this mixed gathering.

اس موقع پر ہمارے ساتھی CPS International کے دعوتی بروشر اور پمفلٹ اپنے ساتھ لے گیے تھے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا۔ لوگوں نے بہت شوق کے ساتھ اس کو لیا اور اس کو پڑھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ دوبارہ حبیب بھائی کے گھر واپس آگیے۔ یہاں اُس وقت باقاعدہ طورپر کوئی پروگرام نہیں تھا۔ البتہ کچھ تعلیم یافتہ افراد وہاںآگیے اور ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ بھارتیہ ودیا بھون کے پروگرام میں ڈاکٹر چودھری نے موجودہ مسلمانوں کے طرزِ عمل کے خلاف کئی باتیں کہی تھیں مگر آپ نے ان کا جواب نہیں دیا۔ مثلاً ڈاکٹرچودھری نے کہا تھا کہ مولانا محمد علی جوہر نے ایک بار اپنے بیان میں کہا کہ جہاں تک پالٹکس کا تعلق ہے مہاتما گاندھی میرے لیڈر ہیں۔ مگر جہاں تک مذہبی حیثیت سے مسلمانوں کا تعلق ہے میں ایک فاسق وفاجر مسلمان کو مہاتما گاندھی سے اچھا سمجھتا ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آپ لوگ چوں کہ اسلام اور مسلمانوں کو ایک سمجھتے ہیں اس لیے آپ کو یہ چیز مسئلہ معلوم ہوتی ہے۔ مگر میں اسلام اور مسلمانوں کو ایک نہیں سمجھتا۔ اس لیے یہ میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے کہا کہ میری پالیسی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے خلاف بولے تو میں ضرور اس کا جواب دیتا ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص مسلمانوں کے رویّے پر تنقید کرے تو میں کہہ دیتا ہوں کہ میں اسلام کا ایڈوکیٹ ہوں نہ کہ مسلمانوں کا۔آپ لوگ مسلمانوں کے طرزِ عمل کے بارے میں مسلمانوں سے دریافت کرسکتے ہیں۔

حبیب بھائی نے یہ سوال کیا کہ آپ امن(peace) کا جوپیغام دے رہے ہیں کیا ایسی کوئی آئڈیل سوسائٹی دنیا میں رہی ہے جہاں پوری طرح امن کا ماحول قائم ہوگیا ہو۔ اگر ایسی کوئی سوسائٹی ہو تو اس کے متعلق، ہم کو بتائیں۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

میںنے کہا کہ یہ سوال صرف آپ کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ سارے مفکروں اور رہنماؤں کا سوال ہے۔ تمام لوگ یہ تلاش کررہے ہیں کہ ایسی کوئی سوسائٹی ملے جہاں اِس قسم کا پُر امن ماحول قائم ہو۔ اور جب وہ ایسی سوسائٹی نہیں پاتے تو وہ توڑ پھوڑ کی پالٹکس چلانے لگتے ہیں تاکہ اپنے خیال کے مطابق، موجودہ غیر معیاری سماج کو توڑ کر وہ مطلوب معیاری سماج بنائیں۔

میںنے کہا کہ اِس معاملے میں تمام لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ ایک غلط پیمانہ (yardstick) سے سماج کو ناپتے ہیں۔ میں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا کو بنانے والے نے اِس دنیا کو ٹسٹنگ گراؤنڈ کے طورپر بنایا ہے۔اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی دی گئی ہے۔ ہر آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی آزادی کو چاہے تو صحیح طورپر استعمال کرے اور چاہے تو غلط طورپر استعمال کرے۔ یہ صورت حال اِس بات کو ناممکن بنادیتی ہے کہ یہاں کبھی آئڈیل معنوں میں پُر امن سماج بن سکے۔ کیوں کہ چند آدمی بھی اگر اپنی آزادی کو غلط استعمال کریں تووہ سماج کے پُر امن ماحول کو خراب کرسکتے ہیں۔ ایسی حالت میں صحیح بات یہ ہے کہ کسی سماج کو آئڈیل پیمانے سے نہ ناپا جائے بلکہ اس کو پریکٹکل پیمانے سے ناپا جائے۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ انسانی سماج کو آئڈیل پیمانے سے ناپتے ہیں۔ اس لیے وہ فوراً منفی رائے بنا لیتے ہیں۔

صحیح اور قابلِ عمل بات یہ ہے کہ سماج کو پریکٹکل پیمانے سے ناپا جائے۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سے وہ سماج جن کو آپ غیر پُر امن سماج مانتے ہیں وہ سب پُرامن سماج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً ہندستان، امریکا، اور یورپ کے اکثرممالک ۔ پریکٹکل پیمانے کے اعتبار سے یہ سارے ملک پُرامن ملک کہے جاسکتے ہیں۔ لیکن آئڈیل پیمانے سے ناپنے کی وجہ سے سارے لوگ اِن ملکوں کو غیر پُر امن ممالک کہتے ہیں۔

احمد بھائی نے سوال کیا کہ دعوہ ورک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے۔ میںنے کہا کہ دعوہ ورک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس کو سیاسی مسائل اور قومی مسائل کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طورپر قومی شکایتوں میں جیتے ہیں۔ وہ سیاسی محرومی کے احساس میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کی یہی نفسیات دعوہ ورک میںسب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اِس منفی نفسیات کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ مسلمان دوسری قوموں کو ’’غیر قوم‘‘ سمجھنے لگے ہیں۔ وہ ان کو اپنے حریف یا دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اِس بنا پرمسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا نہیںہوتا۔ حالاں کہ دوسری قوموں کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ ہی دعوہ ورک کا اصل سرمایہ ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، خود غیر مسلموں کی طرف سے دعوہ ورک کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیںہے۔ بظاہر اگر کوئی رکاوٹ نظر آتی ہے تو وہ صرف اِس لیے ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان غیر مسلموں کے بارے میں معتدل نفسیات سے خالی ہوگیے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلمان اِنھیں غیر مسلم قوموں سے بزنس کے تعلقات رکھتے ہیں۔وہ انھیں کے دفتروں میں جاب کرتے ہیں۔ اِس طرح ایسا ہورہا ہے کہ غیرمسلموں کے پاس مادّی مفادکے جومواقع ہیں ان کو تو مسلمان خوب خوب حاصل کررہے ہیں لیکن خود مسلمانوں کے پاس غیر مسلموں کو دینے کے لیے جو سچائی ہے اس کو غیر مسلموں تک پہنچانے کا کوئی جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔

اِس معاملے کی ایک انتہائی مجرمانہ صورت یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان امریکا اور یورپ سے نفرت کرتے ہیں۔ امریکا اور یورپ کا نام لیتے ہی وہ اس کے خلاف نفرت کی بولی بولنے لگتے ہیں۔ لیکن یہی مسلمان پہلا موقع پاتے ہی اپنے بیٹے اور بیٹی کو امریکا اور یورپ بھیج دیتے ہیں۔ تاکہ وہ وہاں رہ کر وہاں کے مادّی فوائد حاصل کرسکیں۔ یہ تضاد بلا شبہہ وہی چیز ہے جس کو اسلام میں منافقت کہاگیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ یہ لوگ قرآن کی اِس آیت کو پڑھ کر اس سے ڈرتے نہیں إن المنافقین في الدرک الأسفل من النار۔ (النساء ۱۴۵)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ غصہ ایک فطری چیز ہے۔ اصل یہ ہے کہ غصہ آنا بُرا نہیں ہے۔ بلکہ غصے کا بُری شکل اختیار کرنا بُرا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وإذا ما غضبوہم یغفرون (الشوریٰ ۳۷) اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن کو بھی غصہ آتا ہے۔ لیکن مؤمن غصے کی آگ کو اندر ہی اندر ڈفیوز کردیتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آتا تھا۔ چنانچہ روایات میں آپ کے بارے میںاِس طرح کے الفاظ آتے ہیں فغضب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حتی احمرّت وجنتاہ، اور أغضب کما تغضبون، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ غصے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی ذات پرکوئی شخص تنقید کرے تو آپ غصہ ہوجائیں۔ اِس قسم کا غصہ کبر کی علامت ہے۔ مؤمن کو چاہیے کہ وہ ایسے غصے سے اپنے آپ کو بچائے۔ دوسری صورت ہے اصول کے معاملے میں غصہ آنا۔ ایسا غصہ جائز ہے، اور معتدل دائرے میں اس کا اظہار بھی جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو غصہ آتا تھا وہ اپنی ذات کے معاملے میں نہیں تھا۔ آپ کو صرف اُس وقت غصہ آتا تھا جب کہ آپ اصول کے معاملے میں کسی کو خلاف ورزی کرتے ہوئے پاتے تھے۔ آپ کا یہ غصہ اصلاح کے لیے ہوتا تھا، وہ کسی کی تحقیر کے لیے نہیں ہوتا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی صبح کو فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک نشست ہوئی۔ اِس میں کئی لوگ شریک ہوئے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ الرسالہ میں یہ بات آئی ہے کہ تزکیۂ قلب سے مراد حقیقتاً تزکیۂ ذہن ہے۔ تزکیہ کا عمل معروف معنوں میں مبنی بر قلب عمل نہیں ہے بلکہ وہ مبنی بر ذہن عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن اور حدیث میں تو اس سلسلے میں قلب کا لفظ آیا ہے پھر آپ اس کو ذہن سے کس طرح وابستہ کرتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے کہا کہ قرآن میں ایک طرف یہ آیت ہے کہ تبیاناً لکل شیٔ (النحل ۸۹) دوسری طرف یہ آیا ہے کہ سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفی أنفسہم حتی یتبین لہم أنہ الحق (حم السجدہ ۵۳) پہلی آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بوقت نزول، قرآن میں ہر بات کی تبئین ہوچکی ہے۔ جب کہ دوسری آیت بتاتی ہے کہ قرآن کی کچھ حقیقتوں کی تبئین بعد کے زمانے میں ہوگی۔ اِس اصول کو سامنے رکھیے تو مذکورہ معاملے کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ قرآن انسانی زبان میںاُترا ہے۔ قدیم زمانے میں دل کو فکر او راحساس کا مرکز مان لیا گیا تھا۔ دنیا کی تمام زبانوں میں یہ تصور اتنا رائج ہوا کہ وہ ادب کا لازمی جُز بن گیا۔ ایسی حالت میں مؤثر کلام وہی ہوسکتا تھا جو مروّجہ ادب کی زبان میں ہو۔ مثلاً انگریزی میںکہا جاتا ہے ہول ہرٹڈلی (whole heartedly) ۔ اس جملے کو اگر بدل کر ہول مائنڈڈلی(whole mindedly) کہا جائے تو ادبی اعتبار سے یہ جملہ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام زبانوں میں ادبی اعتبار سے قدیم اسلوب ہی رائج ہے۔ اگر چہ خالص سائنسی اعتبارسے صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ قرآن اور حدیث میں بھی اِسی پہلو کی رعایت کی گئی ہے۔

ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے مولانا محمد علی جوہر کو ایک خط لکھا تھا۔ اس خط کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا محمد علی چوں کہ انگریزی جانتے ہیں اس لیے انھیں غیر مسلموں کے انگریزی داں طبقے میں دعوت کا کام کرنا چاہیے تھا۔میرے نزدیک یہ ایک سادہ لوحی کی بات تھی۔ دعوت کا کام کرنے کے لیے دعوتی شعور کی ضرورت ہے، صرف انگریزی دانی اس کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ مولانا محمد علی کا ذہن سیاسی ذہن تھا۔ وہ جانتے ہی نہیں تھے کہ دعوت کیا ہے اور دعوت کے آداب کیا ہیں۔

میںنے کہا کہ جواہر لال نہرو نے اپنی آٹو بائیوگریفی میںلکھا ہے کہ محمد علی نے ایک بار مجھ سے کہا کہ آپ کلمہ پڑھ لیجئے۔پھر جس طرح ہم لوگ دنیا میں ایک ساتھ ہیں مرنے کے بعد بھی جنت میں ایک ساتھ رہیں گے۔ جواہر لال نہرو نے اِس بات کا مذاق اُڑایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی تعلیم یافتہ آدمی اِس قسم کی بات پر ایسا ہی ردّ عمل پیش کرے گا۔ دعوتی کلام وہ ہے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ مذکورہ قسم کا کلام سادہ لوحی کی مثال توہوسکتا ہے مگر وہ دعوتی شعور کی مثال نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب کے توسّط سے ماہ نامہ الفرقان (لکھنؤ) کا شمارہ مارچ ۲۰۰۶ دیکھنے کو ملا۔ اِس میںایک سبق آموز بات ملی جو یہاں قابلِ ذکر ہے۔ اِس شمارے کا اداریہ (نگاہِ اوّلیں) مسلمانوں کے خلاف مغرب کی جارحیت پر تھا۔ اور اس کا عنوان الطاف حسین حالی کے اِس شعر سے لیاگیا تھا

اے خاصۂ خاصانِ رُسُل، وقتِ دعا ہے امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے

پانچ صفحے کے اِس مضمون میںکہاگیا تھا کہ—’’۹؍۱۱ کے حادثے پر صدر بش نے اپنے جوابی فوجی عزائم کے اظہار کے لیے کروسیڈ (crusade) کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ وہ لفظ تھا جو فلسطین میں مسلمانوں کے خلاف مسیحی یورپ کے دورِ وحشت کی جنگی مہمّات کے اُس طویل سلسلے کو یاددلاتا تھا جو صلیبی جنگوں کے نام سے معروف ہے… اور اب ڈنمارک سے اٹھنے والے جس کارٹونی فتنے پر عالمِ اسلام اِس وقت سراپا احتجاج ہے، اس کے مقابل میں پورے مغرب (بشمول امریکا) نے جس طرح ڈنمارک کے ساتھ بیک آواز یکجہتی کا اظہار کرکے اُسے سہارا دیا ہے کہ پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں۔ اِس پر اگر گمان ایک انداز میں صلیبی مسیحیت کے لوٹ آنے اور ایک نئی کروسید کا بگل بجا دیے جانے کا گذرنے لگے تو کیسے اُسے بیجا کہا جاسکے گا‘‘ ۔(صفحہ ۳)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

الفرقان کے اِس مضمون کو پڑھ کر قاری کے ذہن میں جو تأثر آتا ہے وہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں پر جو ’’بُرا وقت‘‘ آیا ہے اس کا اصل سبب مغربی قوموں کی سازش اور اُن کا ظلم ہے۔ دوسری طرف اِسی الفرقان میں اس کے ایڈیٹر کی طرف سے ایک اور مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے سفر حج سے واپسی پر۔

اس دوسرے مضمون کو پڑھ کر قاری کا جو تأثر بنتا ہے وہ پہلے تأثر سے یکسر مختلف ہے۔ دوسرا مضمون بتاتا ہے کہ رمی ٔ جمرات کے موقع پر جو سنگین حادثہ ہوا اس کا سبب خود مسلمان تھے۔ یہ مسلمانوں کی اپنی داخلی بدنظمی ہے جس کی بنا پر یہ سنگین حادثہ پیش آیا ۔

الفرقان کے مدیر محترم اِس حج میں موجود تھے۔ انھوںنے رمی ٔجمرات کے اُس منظر کو دیکھا تھا جس میں تقریباً ساڑھے تین سو مسلمان شہید ہوگیے۔ اِس حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوںنے لکھا تھا کہ—’’دنیا کا وہ حصہ جسے مشرقی دنیا یا تیسری دنیا کہا جاتا ہے اس میں بسنے والوں کے مزاج سے قانون اور ضابطے کی پابندی، جسے ڈسپلن کہا جاتا ہے، عرصے سے مفقود ہے۔ بدقسمتی سے اپنے دورِ انحطاط میں ہم مسلمانوں کا حال بھی اِس پہلو سے کچھ مختلف نہیں رہا‘‘۔ (صفحہ ۲۸)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پہلے اقتباس کے مطابق، مسلمان خارجی ظلم کا شکار ہیں۔ اِس کے برعکس دوسرے اقتباس کے مطابق، مسلمان اپنی داخلی اور مزاجی کمزوریوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان کیوں ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ خود بھی ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی وہ ذہنی انتشار میں مبتلا کررہے ہیں۔ ایسی حالت میں وہی ہوسکتا ہے جو کہ عملاً ہو رہا ہے۔

موجودہ حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ داخلی اعتبار سے مسلمانوں کے اندر بے اصولی اور بدنظمی کا جو مزاج بن گیا ہے اس کی اصلاح کی جائے۔ دوسروں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف احتجاج کرنا کسی بھی درجے میں مسئلے کا حل نہیں ۔

اس غلط مزاج نے مسلمانوں کے اندر ایک اور شدید تر برائی پیدا کردی ہے اور وہ ہے دو عملی۔ باربار ایسا ہورہا ہے کہ مسلمان مغربی ملکوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں اٹھاتے ہیں۔ اپنی تقریروں اور تحریروں میں پُر جوش طورپر یہ اعلان کرتے ہیں کہ مغربی دنیا اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہوگئی ہے۔ لیکن وقتی مظاہروں کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ یہ تمام مسلمان مغربی ملکوں کے ساتھ عملاًموافقت کرلیتے ہیں۔ اور انھیں ملکوں میں بدستور آرام کے ساتھ رہنے لگتے ہیں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرتا کہ وہ ’’اسلام دشمن‘‘ ملکوں کو چھوڑ کر اپنے وطن واپس آجائے۔ مغربی ملکوںکی مصنوعات سے بائکاٹ کا شور تو کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایسا نہیں کرتا کہ وہ مغربی ملکوں سے بائکاٹ کا اعلان کرکے وہاں رہنا بسنا چھوڑ دے اور وہ اپنے عزیزوں کو وہاںآباد نہ کرے،حتیٰ کہ خود الفرقان کے مذکورہ اداریہ نگار بھی۔ یہ صورتِ حال بلاشبہہ نہایت سنگین ہے، یہاں تک کہ مغربی ملکوں کی مفروضہ سازش سے بھی زیادہ۔

۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کو صبح ۱۰ بجے حبیب بھائی کے قائم کردہ مرکز میں پروگرام تھا۔ چنانچہ میں وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچا۔ یہ مرکز جبلی ہل میں حیدرآباد کے ایک اہم علاقے میں قائم ہے۔ یہاںالرسالہ کے قارئین اور الرسالہ مشن سے اتفاق کرنے والے لوگ بڑی تعداد میں اکھٹا ہوئے۔ اِس موقع پر میں نے ایک تفصیلی تقریر کی۔

اِس خطاب میں سب سے پہلے میںنے یہ کہا کہ حیدرآباد میں جو لوگ الرسالہ مشن سے اتفاق کرنے والے ہیں ان سب کو حبیب بھائی کے مرکز سے جُڑ جانا چاہیے۔ اِس مرکز کو بیس بنا کر دعوتی مہم کو چلانا چاہیے۔ یہاںآپ لوگوں کا ہفتے وار اجتماع ہونا چاہیے۔ جس میں دعوتی عمل کی منصوبہ بندی کی جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِس وقت وہ تمام اسباب موجود ہیںجب کہ اِس مرکز کو ایک عمومی مرکز بنایا جاسکے، اور یہاں سے نہ صرف حیدرآباد بلکہ بیرونی دنیا کو بھی دعوت کا نشانہ بنایا جاسکے۔

پھر میں نے کہا کہ کچھ لوگ ہم کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کو غیر تنقیدی انداز میں اپنا مشن چلانا چاہیے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں میں کہوں گا کہ یہ لوگ ہمارے مشن کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ اصل یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس وقت دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو روایتی انداز میں سوچتے ہیں۔ ان کو اسلام سے جوڑے رکھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ ان کے سامنے پُر جوش تقریر کی جائے یا فضائل کے قصے سنائے جائیں۔ یہ کام پہلے سے بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ مگر ہمارا نشانہ اصلاً وہ لوگ ہیں جو ما بعد سائنس افکار سے متاثر ہوئے ہیں اور اسلام کے بارے میں ان کا یقین متزلزل ہوگیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری بنائی جائے۔ اِس کام کے لیے روایتی اسلوب کار آمد نہیں ہوسکتا۔

میں نے کہا کہ تقریباً پچاس سال پہلے لا ہورسے ڈاکٹرمحمد رفیع الدین کی کتاب چھپی ۔ اس کانام تھا— قرآن اور علم جدید۔ اِس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے لکھا تھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اس کو انھوں نے ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) سے تعبیر کیا تھا۔انھوں نے لکھا تھا کہ جدیدتعلیم یافتہ طبقے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اندر سے وہ اسلام میں اپنا یقین کھو چکے ہیں۔ یہ ایک نیے قسم کا ارتداد ہے جس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کتاب کو پڑھ کر مولانا ابو الحسن علی ندوی نے ایک عربی مقالہ لکھا تھاجو اسی زمانے میں پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوا۔ اس کا نام یہ تھا ردۃ ولا ابابکر لہا(ایک ارتداد ہے مگر اس کے لیے کوئی ابوبکر نہیں)۔ اس زمانے میں دوسرے کئی لوگوں نے بھی اس قسم کے مضامین شائع کیے تھے۔ لیکن میرے علم کے مطابق، نہ ڈاکٹر رفیع الدین نے، نہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے ، نہ مولانا ابوالاعلی مودودی نے اور نہ کسی دوسرے شخص نے اِس’ذہنی ارتداد‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ایسا لٹریچر تیار کیا جو وقت کے فکری مستوی کے مطابق، اِس فتنے میں مبتلا لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرسکے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مسلم دنیا میں غالباً میں پہلا شخص تھا جس نے خدا کی توفیق سے اِس مسئلے کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی، اور پھر اِس موضوع پر بہت سی کتابیں تیار کیں جو عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کے طور پر اردو اور انگریزی اور دوسری کئی زبانوں میں شائع ہوئیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اِن کتابوں سے ہزاروں لوگوں کے لیے اسلام ان کی دوبارہ دریافت بنا۔ اِسی بنا پر میری کتاب الاسلام یتحدی(God Arises) کو پڑھ کر ایک عرب شیخ نے اس کا ذیلی ٹائٹل یہ تجویز کیا تھا مدخل علمی للإیمان (ایمان میںداخلے کا علمی دروازہ)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس خطا ب میں میں نے کئی اور باتیں کہیں جن کا تعلق ذاتی عمل سے تھا۔ آخر میں میں نے کہا کہ دعوتی عمل کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم چیز دعا ہے۔ دعا ہی کے ذریعے دعوت کے عملی مراحل طے ہوتے ہیں۔ دعا ایک مکمل عمل ہے۔ دعا کے بغیر دعوت کا کام انجام نہیں دیا جاسکتا۔ دعا ہر چیز کا بدل ہے۔

پروگرام کے بعد جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز ہوئی۔ یہاں نماز کے بعد جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی۔ ان میں سے ایک جناب حسن الدین احمد آئی اے ایس تھے۔ ان کی عمر اب ۸۳ سال ہوچکی ہے۔ میں نے کہا کہ اب تو آپ سروس سے رٹائر ہوچکے ہیں پھر آپ کی مصروفیات کیا رہتی ہیں۔ انھوںنے کہا کہ—میں رٹائر ملازمت سے ہوا ہوں، زندگی سے نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

نمازِ ظہر کے بعد سینٹر میںایک نشست ہوئی جس میں شہر کی کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین شریک ہوئیں۔ مرد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ خواتین کی طرف سے یہ سوال آیا کہ آپ کا مشن کیا ہے اور اس میں خواتین کا رول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ہمارا مقصد اور انٹرنیشنل سینٹر فار پیس دونوں کا مقصد ایک ہے۔ وہ یہ کہ عالمی سطح پر امن اور انسانیت کا ماحول قائم کرنا تاکہ خدا کا پیغام معتدل حالات میں لوگوں تک پہنچایا جاسکے، اور وہ دنیا بنائی جاسکے جہاں لوگ ایک طرف خدا کے پرستار ہوں اور دوسری طرف انسانوں کے خیر خواہ۔ یہی ہماری سرگرمیوں کا نشانہ ہے۔

پھر میںنے کہا کہ خواتین کا مطالعہ عام طورپر پردہ اور حجاب کے عنوان سے کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اِس موضوع پر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں ان کا نام بھی پردہ اور حجاب جیسا ہوتا ہے۔ مگر یہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے میں عورت کا ایک مثبت رول (positive role) ہے۔ میںنے اِس بات کی وضاحت کے لیے ایک پوری کتاب لکھی ہے جو ’’عورت، معمار انسانیت‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ وہ دو سو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔

میری گفتگو جاری تھی کہ ایک صاحب نے درمیان میںایک غیر متعلق (irrelevant) سوال کردیا۔ یہ ایک مسلمان تاجر تھے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان پیدائشی طورپر جھگڑالو ہے۔ ایسی حالت میں وہ لوگوں کے درمیان امن کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے۔ ان کا یہ سوال ایک غیر متعلق سوال تھا اور اِسی کے ساتھ ایک اچانک اور غیر معقول مداخلت بھی۔ میں ایک بے حد اصول پسند آدمی ہوں۔ مجھے ذاتی طورپر کوئی بُرا کہے تو مجھ کو غصہ نہیں آتا۔ لیکن بے اصولی کی بات پر مجھے غصہ آجاتا ہے۔ چنانچہ مجھے سخت غصہ آگیا۔ میںنے سختی کے ساتھ کہا کہ آپ کو سوال کرنے سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ سوال کرنے کا طریقہ کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سوال کے سلسلے میں پہلا کام چپ رہ کر اُس کے بارے میں سوچنا ہے۔ لوگ اکثر سوچے بغیر سوال کیا کرتے ہیں۔ جو سوال انھیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے اس کو دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔ اسی لیے ایک صحابی نے کہا نُہینا عن کثرۃ السؤال وعن کثرۃ القیل والقال (ہم کو زیادہ سوال کرنے سے اور زیادہ قیل و قال کرنے سے منع کیا گیا ہے)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میراانداز سخت تھا۔ چنانچہ مذکورہ مسلمان کافی غصہ ہوگیے۔ اگر چہ اس وقت وہ خاموش ہوگیے مگر ان کے چہرے سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ بہت زیادہ غصے میں ہیں۔ پروگرام ختم ہوا تو میں فوراً اٹھ گیا۔ اس کے بعد میرا ایک اور پروگرام تھا وہاں مجھے پہنچنا تھا۔ اس لیے میں تیزی کے ساتھ باہر آیا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا تاکہ آگے جاسکوں۔ بقیہ لوگ ابھی اندر تھے۔

حاضرین میں مولانا محمد ذکوان ندوی موجود تھے۔ انھوں نے بعد کو بتایا کہ میرے جانے کے بعد مذکورہ مسلمان غصے کی حالت میں کافی بولنے لگے، اور مجھ کو زور زور سے بُرا بھلا کہنے لگے۔ الرسالہ کے قارئین کا حلقہ اور سی پی ایس ٹیم کے لوگ وہاں موجود تھے۔ انھوںنے جب یہ دیکھا کہ مذکورہ مسلمان شدید غصے میں مجھے بُرا بھلا کہہ رہے ہیں اور شکایت کررہے ہیں تو انھوںنے یک طرفہ طور پر اُن سے کہا کہ آپ بجا فرما رہے ہیں۔ یہ ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم لوگوں نے آپ کو سوال کرنے کا موقع نہیں دیا۔ہم آپ سے معذرت چاہتے ہیں۔ آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر یہاں آئے ہم کو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔

اِس کے بعد مذکورہ مسلمان بولتے ہوئے باہر نکل آئے۔ اُس وقت میںاپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔ حافظ عبد الغفار صاحب کے بتانے پر میںگاڑی سے باہر آیا اور مذکورہ مسلمان سے کہا کہ اِس معاملے میں ساری غلطی میری تھی آپ مجھے معاف فرمائیں۔ وہ اتنا زیادہ غصے میں تھے کہ وہ معاف کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ میںنے بہت زیادہ کہا یہاں تک کہ قریب تھا کہ میں ان کا پاؤں پکڑ لوں۔ آخر کار وہ نرم پڑے اور کہا کہ کوئی بات نہیں، ایسا تو کبھی ہوجاتا ہے۔

پھر میںان کو لے کر قریب کی ایک جگہ پر باہر ہی بیٹھ گیا۔ اُس وقت بہت سے لوگ کھڑے ہو کر ساری باتیں سُن رہے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ نے جو سوال کیا تھا، موجودہ واقعہ گویا اسی کا ایک عملی جواب تھا۔ آپ کا سوال قرآن کی اِس آیت کے بارے میں تھا وکان الانسان اکثر شیٔ جدلاً۔ (الکہف ۵۴) ان کا کہنا تھا کہ جب قرآن میں بتایا گیاہے کہ انسان فطری طورپر ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ پھر وہ صبر کیسے کر سکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کے بارے میں مطلوب معیار یہ نہیں ہے کہ وہ غصّہ یا جھگڑا نہ کرے۔ بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ اپنی فطری ساخت کے مطابق، اس کے اندر غصے کے جذبات پیدا ہوں اور وہ جھگڑنے لگے۔ مگر وہ اس پر قائم نہ رہے۔ بلکہ اس کے بعد وہ توبہ کرے اور معافی مانگے۔خدائی نقشے کے مطابق، اعلیٰ انسان وہ نہیں ہے جو سرے سے کوئی غلطی ہی نہ کرے۔ بلکہ اعلیٰ انسان وہ ہے جو غلطی کرے اور پھر غلطی کا اعتراف کرکے اس سے معافی مانگے۔ توبہ اور غلطی کا اعتراف خود بہت بڑی نیکی ہے۔ اس نیکی کو حاصل کرنے کے قابل آدمی اُسی وقت بن سکتا ہے جب کہ اس کے اندر غلطی کرنے کا رجحان ہو۔ اعتراف ہمیشہ احساسِ غلطی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ احساسِ غلطی نہیں تو اعتراف بھی نہیں۔

اِس گفتگو کے وقت جو لوگ وہاں موجود تھے ان میں سے ایک مسٹر جَیوَنت راؤ پاٹل بھی تھے وہ ناندیڑ کے رہنے والے ہیںاور شروع ہی سے ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوںنے اِس پورے منظر کو دیکھا۔ آخر میں انھوں نے کہاکہ الرسالہ میں ہم معافی اور یک طرفہ صبر اور اعتراف کے بارے میں بہت پڑھتے تھے لیکن سمجھتے تھے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ مگر آج اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

الرسالہ مشن اور سی پی ایس سے جُڑے ہوئے کئی لوگ وہاں موجود تھے انھوں نے اِس پورے واقعے کو دیکھا۔ آخر میں انھوںنے کہا کہ اِس پورے پروگرام کا خلاصہ یہی واقعہ تھا جو گویا ہمارے الرسالہ مشن کا پریکٹکل نمونہ ہے۔ الرسالہ مشن کا خاص پہلو یہ ہے کہ منفی واقعے کو مثبت پہلو میں تبدیل کیا جائے۔ یہ واقعہ اِس اعتبار سے اِس حقیقت کا ایک عملی نمونہ تھا۔

حیدرآباد کے پروگرام کے بارے میں حبیب بھائی نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ہر اعتبار سے نہایت کامیاب تھا۔انھوں نے کہا کہ جس مقصد کے لیے یہ پروگرام کیاگیا تھا وہ مقصد پورا ہوا۔ خاص طورپر مجھے ذاتی اعتبار سے اِس بات کی خوشی ہے کہ میرے بیٹے اور بہوجو اس سے پہلے اسلام سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے اب انھوںنے باقاعدہ نماز شروع کردی ہے۔ اور وہ انگریزی کتابیں مطالعے کے لیے لے گیے ہیں۔

حیدر آباد کے روزنامہ اخبار ’’مُنصف‘‘ (۱۱مارچ ۲۰۰۶) میں ایک خبر اِس عنوان کے تحت تھی ’’برطانوی باشندوں میںاسلام سے واقفیت کا رُجحان‘‘۔ یہ خبر اسلامی دعوت کے امکان کو بتاتی ہے۔ منصف سے لے کر اِس خبر کو یہاں نقل کیا جاتا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’ریاض۔ ۱۰ ؍مارچ (ایجنسیز) برطانوی باشندوں میںعربی زبان اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ پروفیسرلیسلی میک لاگلن نے اپنے دورۂ سعودی عرب کے اختتام پر بتایا کہ غیر مسلم دنیا مسلمانوں کے تعلق سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کررہی ہے۔ پروفیسر میک لاگلن نے جنھوں نے ریاض اور جدہ میںعربی اور اسلامی تعلیمات پر لکچر دیے ہیں، عرب نیوز کو بتایا کہ برطانیہ کی ۱۲ یونیورسٹیز میںعربی زبان اور اسلامک اسٹڈیز کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا میں ۱۱ ستمبر کے بعد غیر مسلم دنیا میںاسلام سے متعلق واقفیت حاصل کرنے کی دلچسپی بڑھ گئی ہے، اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں عربی جاننے والوں کے لیے بڑھتے ہوئے روزگار کے مواقع کے پس منظر میں بھی برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میںعربی جاننے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ۱۹۶۱ میں برطانیہ میں عربی سیکھنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ فی الحال عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے ۵۰ فی صد تعداد خواتین کی ہے۔ برطانوی پروفیسر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ میڈیا آرگنائزیشن میںحتیٰ کہ برطانیہ کے دفتر خارجہ میں بھی عربی جاننے والوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں‘‘۔ (صفحہ ۵)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

منصف کے اسی شمارے میںایک اور خبر تھی، جس کا عنوان یہ تھا— ’’اٹلی کے کارڈینل اسکولوں میںمسلم طلباء کو قرآن پڑھانے کے حامی‘‘۔مذکورہ خبر کے الفاظ یہ تھے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’روم۔۱۰؍ مارچ (ایجنسیز) اٹلی کے ایک سرکردہ عیسائی رہنما کارڈینل نے اٹلی کے سرکاری اسکولوں میں قرآن حکیم کے درس و تدریس کی حمایت کی ہے۔ کارڈینل کی یہ اجازت عالم اسلام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے وٹیکن کی خواہش کا اظہار سمجھا جارہا ہے۔ عیسائی رہنما نے کہا کہ اطالوی مسلم تنظیموں کی اس تجویز سے وہ اتفاق کرتے ہیں جس میں مسلم طلباء کو سرکاری اسلکوں میں قرآن حکیم کی تعلیم دینے کی بات کہی گئی ہے‘‘۔ (صفحہ ۵)

other sourceWords of another person or source

یہ دونوں خبریں منصف کے ایک ہی شمارے میں تھیں۔ مغربی دنیا میں، بشمول ڈنمارک ،ہر دن اِس طرح کی سیکڑوں خبریں وجود میں آتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اِس قسم کی مثبت خبروں کو نمایاں طورپر مسلم اخباروں میں چھاپا جائے۔ اِس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مغربی ملکوں کے بارے میں مسلمانوں کے منفی جذبات ختم ہوں گے اور دونوں کے درمیان وہ معتدل فضا قائم ہوجائے گی جو دعوت الی اللہ کے لیے ضروری ہے۔ مسلمانوں کے اوپر سب سے بڑا فرض دعوت الی اللہ ہے۔ مگر مسلمانوں کے منفی ذہن کی بنا پر یہ کام عملاً تقریباً رُک گیا ہے۔

۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی سہ پہر کو ہم لوگ ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ حیدرآباد کے ائر پورٹ پر پہنچے تو یہاں کافی بھیڑ نظر آئی۔ حیدرآباد کے لیے میرا پہلا ہوائی سفر جنوری ۱۹۸۳ میںہوا تھا۔ اس وقت کے مقابلے میں آج حیدرآباد ائر پورٹ پر بہت زیادہ بھیڑ دکھائی دی۔ پچھلے برسوں میں حیدرآباد نے کاروباری اعتبارسے بہت زیادہ اہمیت حاصل کرلی ہے۔ اِس بنا پر یہاں ہوائی جہاز کی آمدورفت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لیکن جس نسبت سے ہوائی سفر بڑھا ہے اُس نسبت سے ایر پورٹ کی توسیع نہیں ہوئی ہے۔معلوم ہوا کہ حکومت ایک نیا ہوائی اڈّہ بنانا چاہتی ہے۔ جو بہت بڑا ہوگا اور وہ انٹرنیشنل معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔

واپسی کا یہ سفر ایر دکن کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ جہاز میں مطالعے کے لیے ویکلی اخبار تہلکہ(Tehelka) کا شمارہ ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ موجود تھا۔ اخبار میں ایک رپورٹ اِس عنوان کے تحت چھپی تھی— قتل کی آزادیFreedom to Kill ۔

یہ رپورٹ نئی دہلی کے مسٹر مہیش کمار کے قلم سے تھی۔ اِس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اظہارِ خیال کی آزادی کا مطلب حد کو پارکرنا اور صحافتی ضابطے کو توڑنا نہیں ہے۔ کارٹون کے خلاف احتجاج کرناواضح طورپر ایک فطری ردّعمل ہے۔ لیکن احتجاج کو مہذب انداز میں ہونا چاہیے، اور مسلّمہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ نہ کہ لوگوں کی جائدادوں کو نقصان پہنچا کر اور لوگوں کو خوف زدہ کرکے

Freedom of expression doesn't mean crossing limits and the code of Journalism. The protests against such cartoons is an obvious and automatic reaction. But the protests, too, should be in a civilised manner and as per the accepted terms of law, and not by damaging public property or by harassing the people. (p. 2)

اکثر لوگ اِس قسم کی باتیں لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہ الفاظ گریمر کے اعتبار سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہیں۔ ایسے لوگ جو ایک کاغذی خاکے پر مشتعل ہوجائیں ان سے یہ امید کرنا کہ جب وہ اپنے مشتعل جذبات کے ساتھ بھیڑ کی صورت میں سڑکوں پر آئیں گے تو وہ پُر امن رہیں گے، اِس قسم کا نظریہ ایک ناممکن مفروضے پر قائم ہے۔ اِسی ناممکن مفروضے پر تنقید کرتے ہوئے ایک فارسی شاعر نے کہا تھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

درمیانِ قعرِ دریا تختہ بندم کردۂ باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش

اس ناممکن مفروضے کا تجربہ بار بارہوچکا ہے۔ بار بار یہ واقعہ پیش آیا کہ مشتعل جذبات کے حامل لوگوں کویہ کہہ کر جلوس کی اجازت دے دی جاتی ہے کہ تم لوگ پُر امن رہنا۔ مگر ایسے جلوس کبھی پُرامن نہیں رہتے۔ ایسی حالت میں اِس ناکام تجربے کو مزید دہرانا ایک ایسی نادانی ہے جس کی کوئی عقلی توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔

تہلکہ کے مذکورہ شمارے میں ایک مفصل رپورٹ بمبئی کے مدرسوں کے بارے میں تھی۔ رپورٹ کے مطابق، بمبئی میں ان مدرسوں کی تعداد ۸۰ ہے۔ دو صفحے کی اِس رپورٹ کا عنوان یہ تھا

Please leave us to our devices, they work fine

اِس رپورٹ میں محمد علی روڈ پر واقع ایک مدرسے کی تصویر تھی۔ اِس میں تحفیظ القرآن کے ایک کلاس کا منظر دکھایا گیا تھا۔تقریباً ۲۵ طلبا قرآن کے نسخے لے کر اس کو حفظ کررہے ہیں۔ درمیان میں ایک تنومند استاد مخصوص انداز سے گاؤ تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ منہہ میں پان ہے اور سر پر اونچی ٹوپی۔ اتنے میں ان کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں موبائل لے کر نہایت اطمینان کے ساتھ بات کرنے لگتے ہیں۔ تصویر کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے

Wait and watch: a phone call interrupts classes.

یہ زمانہ گویا موبائل انفجار (mobile explosion)کا زمانہ ہے۔ موبائل کا استعمال اتنا عام ہوگیا ہے کہ ہر مولوی اور غیر مولوی کے ہاتھ میں موبائل دکھائی دیتا ہے۔ موبائل بلا شبہہ موجودہ زمانے کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اِس کے بے شمار فائدے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ میں نے موبائل استعمال کرنے والوں میں سے کسی میں اس پر حقیقی شکر کا جذبہ نہیں پایا۔ موجودہ زمانے کا یہ عام مزاج ہے—نعمتوں کا استعمال، لیکن مُنعم کا اعتراف نہیں۔

۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو تاخیر کے ساتھ جہاز دہلی کے ائر پورٹ پر اترا۔ ائر پورٹ پر اترنے کے بعدبھی مزید تقریباً آدھ گھنٹہ تاخیر ہوئی۔ کیوںکہ جہازوں کی کثرت کی وجہ سے جہاز فوراً آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ تاخیر کا مسئلہ صرف بسوں اور ٹرینوں میں ہے لیکن اب تاخیر کا مسئلہ ہوائی جہازوں تک پہنچ چکا ہے۔ ترقی کے ہجوم کے درمیان عدم ترقی کا یہ ماحول صرف ہندستان میں دیکھا جاسکتا ہے۔

آزادی سے پہلے ہمارے لیڈروں نے یہ سُہانا خواب دیکھا تھا کہ آزادی کے بعد ہر طرف ترقی کا سیلاب جاری ہوجائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ میرے نزدیک اِس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد ملک نے صحیح رخ پر اپنا سفر شروع نہیں کیا۔ آزادی کے بعد یہ ہوا کہ ملک کولونیل ایکسپریس سے نکل کر سوشلسٹ ایکسپریس میں بیٹھ گیا ۔ عجیب بات ہے کہ سوشلسٹ نظریہ کمیونسٹ ملکوں میں ختم ہوگیا۔ لیکن ہندستان میںوہ شان دار طور پر جاری رہا۔ میرے نزدیک سوشلسٹ طریقہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ سوشلسٹ طریقے کو اختیار کرکے کوئی ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it