قرآن کی آیتوں میں کچھ آیتیںوہ ہیں جن کا تعلق حال سے ہے، اور کچھ آیتیں وہ ہیں جن کا تعلق مستقبل سے ہے- مثلاً قرآن میں یہ حکم ہے کہ: فَآمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہِ (7:158) یعنی پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر- یہ آیت جس وقت اتری، اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی- اسی طرح مثلاً قرآن میں یہ آیت آئی ہے کہ: وَاَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِکْرِیْ (20:14) یعنی اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو- قرآن کی یہ آیت جس وقت اتری اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی- اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا (6:152) یعنی اور جب بولو تو انصاف کی بات بولو- یہ آیت بھی جس وقت اتری، اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی-
قرآن میں اس طرح کی کثیر آیتیں ہیں، جو باعتبار حال (present)مطلوب تھیں- یعنی جس وقت یہ آیتیں اتریں، اسی وقت اہلِ ایمان کے لیے ضروری ہوگیا کہ ان آیتوں میں جو احکام دئے گئے ہیں ان کی وہ بلا تاخیر تعمیل کریں- جو آدمی ان آیتوں کو سننے کے بعد، اُن کی تعمیل نہ کرے، اس کے لئے اندیشہ تھا کہ وہ اللہ کے نزدیک خارج از اسلام قرار پائے-
ان کے علاوہ قرآن میں کچھ اور آیتیں ہیں جن کا تعلق مستقبل (future)سے تھا- یعنی بوقت نزول ان کی حیثیت پیشین گوئی کی تھی، اور ان آیتوں کا تحقق نزول کے بعد آنے والے دور میں ہونے والا تھا- اس طرح کی آیتیں دو قسم کی ہیں- ایک وہ جن میںصراحتاً مستقبل کا صیغہ استعمال کیاگیا ہے، اور دوسری آیتیں وہ ہیں، جن میں بظاہر مستقبل کا صیغہ نہیں ہے، لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ظہور صرف مستقبل میں ہونے والا تھا-
مستقبل کی آیتیں
پہلی قسم کی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ( 41:53)یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی- یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے- قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیاہے- یعنی اس میں ایک ایسے واقعے کا ذکر ہے، جو قرآن کے نزول کے بعد آنے والے زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا-
اسی طرح قرآن میں حضرت موسی کے زمانے کے فرعون مصر کے تذکرے کے تحت یہ آیت آئی ہے: فَٱلْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ ءَایَةً ۚ وَإِنَّ کَثِیرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَایَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ.(10:92)یعنی پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں- قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ اگر چہ نزول قرآن سے پہلے مصر میں پیش آچکا تھا، لیکن عملاً وہ لوگوں کے لئے ایک غیر معلوم واقعہ تھا- کیونکہ معاصر تاریخ میں اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا- اس لحاظ سے آیت کے اس مصداق کی حیثیت ایک پیشین گوئی کی تھی، جو بعد کو ظاہر ہونے والی تھی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔