Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala April 2015
Al-Risala April 2015

تفسیر قرآن کا ایک اصول

Urdu · 4 min read

قرآن میں اہلِ ایمان کے دو گروہوں کا ذکر ہے- ایک وہ جن کے لیے مُستَضْعفین (4:97) کا لفظ آیا ہے، یعنی کمزور (the weak)- ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن میں کہاگیا ہے کہ وہ ہجرت کرکے دوسرے پرامن مقامات پر چلے جائیں- اہلِ ایمان کا دوسرا گروہ وہ ہے، جو صاحب قوت ہو- ایسے لوگوں کو یہ حکم دیاگیا ہے کہ تم ائمہ کفر ( 9:12) سے جنگ کرو، اور ان کے اوپر غلبہ حاصل کرو-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام ابن تیمیہ (وفات: 728ھ) نے ان آیتوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو مسلمان کمزور حالت میں ہوں، وہ صبر اور صفح کے اصول پر عمل کریں- اور دوسرا مسلم گروہ ، جو صاحب قوت ہو اس کو چاہئے کہ وہ قتال کرکے مخالفین کو زیر کرے (الصارم المسلول: 2/412-414)- یہی تقریباً تمام مسلم علماء کا مسلک ہے- عام طورپر مسلمان اسی طرز فکر کو اسلامی طرز فکر سمجھتے ہیں- مگر یہ طرز فکر اسلامی بصیرت کے مطابق نہیں- یہ طرز فکر آج ایک غیر متعلق طرز فکر بن چکا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ضعیف اور قوی کے الفاظ مطلق (absolute) الفاظ نہیں- ان کا تعین ہمیشہ حالات کی نسبت سے ہوتا ہے- قدیم زمانے میں جو حالات تھے، ان کے تحت ضعیف اور قوی کی یہ تقسیم بنی تھی- نئے حالات میں یہ تقسیم ختم ہوچکی ہے- اب نہ کوئی ضعیف ہے اور نہ کوئی قوی- اب ہر آدمی خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، یکساں طورپر آزاد انسان کی حیثیت رکھتا ہے- موجودہ زمانہ حقوق انسان (human rights)کا زمانہ ہے، اب نئے حالات نے قدیم طرز کی تفریق ختم کردی ہے-

قدیم زمانہ بادشاہت (kingship) کا زمانہ تھا- قدیم سیاسی نظام کے تحت انسانوں کی تقسیم حاکم (ruler)اور محکوم (ruled)کی صورت میں کی جاتی تھی- اب نئے حالات میں جمہوری تصور کے تحت ہر انسان کو اپنے عمل کی مکمل آزادی حاصل ہے، بشرطیکہ وہ پرامن رہے، اور کسی دوسرے فرد یا گروہ پر تشدد نہ کرے- قدیم زمانہ اگر محکومی کا زمانہ تھا، تو موجودہ زمانہ آزادی کا زمانہ ہے- قدیم زمانے میں حاکم کے حکم کی خلاف ورزی جرم تھی، موجودہ زمانے میں امن کے اصول کی خلاف ورزی اور تشدد کی حیثیت جرم کی ہے-

قرآن میں قتال کا جو حکم دیاگیا تھا، وہ کوئی ابدی حکم نہیں تھا- اس کا مقصد کسی وقتی نظام کا خاتمہ نہ تھا، بلکہ اس کا مقصد اس عمومی دور کا خاتمہ تھا، جس کے تحت لوگوں کو عمل کی آزادی حاصل نہ تھی- جب لوگوں کو عمل کی آزادی حاصل ہوجائے تو قتال کا حکم بھی ایک غیر متعلق (irrelevant) حکم بن جائے گا-

یہی وہ بات ہے، جو قرآن کی اِس آیت میں کہی گئی ہے: وَقَٰتِلُوہُمْ حَتَّىٰ لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ ٱلدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ ۚ فَإِنِ ٱنتَہَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ.(8:39) یعنی اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے- پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے عمل کو دیکھنے والا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد قدیم زمانے کا وہ دور حکمرانی ہے، جس کو مطلق العنان حکومت (despotism) کہاجاتا ہے- یہ نظام خدا کی اسکیم کے خلاف تھا- یہ نظام چونکہ فوجی طاقت کے زور پر قائم تھا، اس لئے اس کو فوجی طاقت ہی سے ختم کیا جاسکتا تھا- چنانچہ حکم دیا گیا کہ اس نظام کو بذریعہ قتال ختم کردو- آیت میں ویکون الدین کلہ للہ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں حالت فطری قائم ہوجائے، مصنوعی رکاوٹ کا خاتمہ ہوجائے، اور انسان کھلے ماحول میں آزادی کے ساتھ اپنا عمل کرسکے- لمبے تاریخی عمل کے بعد، یہ مطلوب نظام اب ساری دنیا میں عملاً قائم ہوچکا ہے-

اگر آدمی تشدد (violence) کا ارتکاب نہ کرے تو وہ کہیں بھی ضعیف نہیں، اس کے لئے کہیں رکاوٹ نہیں- یہ دور جدید کا تقاضا ہے- نیا دور آزادی کا دور ہے، اور تشدد آزادی کا نقیض (opposite) ہے- ایک شخص یا گروہ کا تشدد، دوسرے شخص یا گروہ کی آزادی کو منسوخ (abolish) کرنے کے ہم معنی ہے- جس طرح توحید کے کلچر میں شرک امر ممنوع بن جاتا ہے، اسی طرح آزادی کے کلچر میں تشدد کی حیثیت ایک امر ممنوع کی ہے- تشدد کے سوا کوئی اور چیز نہیں جو موجودہ دورِ آزادی میں انسان کو اس کی آزادی سے محروم کرنے والی ہو-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content