ایک صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ کا قاری ہوں- مجھے الرسالہ کے دعوتی نقطہ نظر سے مکمل اتفاق ہے- میری عمر 63 سال ہے- میرے پانچ بچے ہیں- دعا کیجئے کہ میں اپنے بچوں کی ذمے داریوں سے فارغ ہوجاؤں- اِس کے بعدمیرا ارادہ ہےکہ میں اصحابِ صفہ کی طرح اپنی زندگی کا ہر لمحہ بالکل دین کی خدمت میں گزاروں گا-
یہاںاصحابِ صفہ کا حوالہ درست نہیں- اصحابِ صفہ نے ایسا نہیں کیا تھا کہ پہلے وہ اپنی اولاد کی ذمے داریوں سے فارغ ہوئے- اُس کے بعد وہ دین کی خدمت میں لگ گئے- اِس کے برعکس، اصحابِ صفہ کا معاملہ یہ تھا کہ جب انھیں سچائی کی دریافت ہوئی تو فوراً ہی انھوں نے اپنی زندگی سچائی کے لیے وقف کردی- انھوںنے اپنی دنیوی ذمے داریوں کو اللہ پرڈال دیا اور اپنے آپ کو دین کی ذمے داری اداکرنے کے لیے وقف کردیا-
دریافت حق میں کوئی انتظار نہیں ہوتا- جس آدمی کو حق کی دریافت ہوجائے، وہ اِس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ کسی عذر (excuse) کو لے کر انتظار کی پالیسی اختیار کرے- حق کی دریافت کے بعد وہ فی الفور اپنے آپ کو حق کے راستے پر ڈال دے گا-
اِس معاملے میں جو شخص کسی عذر کا حوالہ دے یا وہ انتظار کی پالیس اختیار کیے ہوئے ہو، اس کے بارے میں کہاجائے گا کہ اُس نے ابھی حق کو پایا ہی نہیں- اُس نے کسی اور چیز کو پایا ہے اور غلطی سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس نے حق کو پالیا ہے-
حق بلا شبہہ تمام چیزوں میں سب سے بڑی چیز ہے- حق کو پانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اُس چیز کو دریافت کرلیا جو اُس کے لیے سب سے بڑی چیز کی حیثیت رکھتی ہے- ایسا انسان عذر کو بھول جائے گا- انتظار کی پالیسی اختیار کرنا اُس کو ایسا لگے گا جیسے اُس نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیا ہو-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔