Maulana Wahiduddin Khan
22 min left
0:00

← Al-Risala April 2014
Al-Risala April 2014

اظہارِ دین

Urdu · 22 min read

اللہ کا ایک خصوصی منصوبہ قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۭ وَکَفٰى بِاللّٰہِ شَہِیْدًا (48:28) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ وہ اُس کو تمام ادیان پر غالب کردے اور اللہ کافی گواہ ہے- یہ آیت قرآن کی تین سورتوں میں آئی ہے- ایک سورہ میں مزید یہ الفاظ آئے ہیں: وَیَاْبَى اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ 9:32))-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں ’ہدی‘ سے مراد آئڈیالوجی (divine ideology)ہے اور ’دین‘ سے مراد اِس آئڈیالوجی پر مبنی طریقِ زندگی(way of life)ہے- اللہ نے ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعے ہدایت اور دین بھیجا، لیکن اس کے بعد انسان اُس میں تبدیلی کرتا رہا، یہاں تک کہ دینِ خداوندی کا اصل ورزن (original version) باقی نہیں رہا، بلکہ دینِ خداوندی کے نام پر ایک خود ساختہ انسانی ورزن وجود میں آگیا- اس کے بعد اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ابدی طورپر دینِ خداوندی کا صحیح ورزن وجود میں آئےاور اس کو تاریخ میں پوری طرح محفوظ کردیاجائے-

تمام ادیان پر اظہار ِ دین کا مطلب کسی قسم کا سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ دینِ خداوندی کی تصویر بے آمیز صورت میں انسان کے سامنے آجائے- اِسی طرح اتمامِ نور کا مطلب بھی کسی سیاسی نظام کا نفاذ نہیں، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدائی دین کی تصویر کو بگاڑنا چاہتا ہے، مگر اللہ کا یہ حتمی فیصلہ ہے کہ وہ خدائی دین کو اس کی اصل صورت میں محفوظ کردے- اللہ نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی ہے- اللہ نے اپنی سنت کے مطابق، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے حفاظتِ دین کے اِس منصوبے کو انجام دیا-

فکری بنیاد کی اہمیت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں ہوا- آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ صحابہ کی صورت میں ایک طاقت ور ٹیم بنائیں- اِس طرح آپ نے اور آپ کے اصحاب نے غیر معمولی محنت کے ذریعے وہ کام انجام دیا جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اظہارِ دین کہاگیا ہے، یعنی خدا کے دین کو اس کی اصل صورت میں مبرہن کردینا- مگر یہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا- لوگوں کے درمیان اِس کی قبولیت کے لیے ضروری تھا کہ اس کے لیے موافق فکری بنیاد (intellectual base) موجود ہو- ہزاروں سال کے مذہبی بگاڑ کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان یہ موافق فکری بنیاد موجود نہ تھی، اِس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے اپنے زمانے میں کامیابی کے ساتھ دینِ خداوندی کو اس کی اصل صورت میں قائم کیا،مگر ایک محدود مدت کے بعد خود امتِ مسلمہ کے درمیان مذہب کا قدیم تصور واپس آگیا- یہ محدود مدت امت کی ابتدائی تین نسلوں تک باقی رہی-

یہی وہ واقعہ ہے جس کو ایک حدیث رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے:إن الناس دخلوا فی دین اللہ أفواجاً وسیخرجون منہ أفواجاً (مسند أحمد، رقم الحدیث : 14696) یعنی لوگ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہوئے اور عن قریب وہ فوج در فوج خدا کے دین سے نکل جائیں گے- اِس حدیث رسول میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ محدود طورپر صرف مکہ یا عرب کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ پوری تاریخ کے بارے میں ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ اسلام نے دینِ خداوندی کی جو تصویر پیش کی تھی، وہ ایک انقلابی تصویر تھی- اُس زمانے میں مذہب کے بارے میں جو عمومی شاکلہ پایا جاتا تھا، وہ اس کے مطابق نہ تھا- اس لیے ابتدائی تین نسلوں کے بعد قدیم مذہبی شاکلہ عملاً دوبارہ لوگوں کے درمیان واپس آگیا- دوبارہ ایسا ہو ا کہ خدا کا دین اپنی اصل صورت کے بجائے ایک بدلی ہوئی صورت پر قائم ہوگیا- اسلام کا نام اور اسلام کی اصطلاحیں ضرور باقی رہیں، لیکن اسلام کی حقیقت تقریباً غیرموجود ہوگئی- یہی مطلب ہے اُس حدیث رسول کا جس میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کا صرف رسم الخط: ’’لا یبقى من الإسلام إلا اسمہ، ولا یبقى من القرآن إلا رسمہ‘‘- (رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، رقم الحدیث: 1763)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام سے پہلے خدا کا عقیدہ ایک رسمی قسم کا مبنی بر قلب (heart-based)عقیدہ تھا، اسلام نے خدا کے عقیدہ کو ایک زندہ شعور کے طورپر مبنی بر ذہن (mind-based) عقیدے کی حیثیت سے زندہ کیا، لیکن وقت کا عمومی شاکلہ اِس کے موافق نہ تھا، اِس لیے بہت جلد ایسا ہوا کہ مسلمانوں کے درمیان خدا کا عقیدہ زندہ عقلی شعور کے طورپر باقی نہ رہا- وہ دوبارہ مبنی بر قلب قسم کا رسمی عقیدہ بن کر رہ گیا-

اسلام سے پہلے ہر مذہب میں عبادت کا تصور موجود تھا، لیکن ان کی عبادت محض ایک مبنی بر فارم عمل بنی ہوئی تھی- اسلام نے دوبارہ عبادت کو مبنی بر اسپرٹ (spirit-based)عبادت کی حیثیت سے زندہ کیا، لیکن چند نسلوں کے بعد دوبارہ قدیم مزاج واپس آگیا اور خدا کی عبادت محض کچھ رسمی اعمال کا مجموعہ بن کر رہ گئی- یہی معاملہ پیغمبر کے عقیدہ (رسالت) کا بھی تھا- پچھلی امتوں نے بعدکے زمانے میں اپنے پیغمبروں کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ خدا اور پیغمبر میں صرف نام کا فرق باقی رہا- یہی وہ برائی ہے جس کو پیغمبر اسلام نے پیشگی طورپر اِن الفاظ میں بیان فرمایا تھا: لا تطرونی کما أطرت النصارى عیسى بن مریم (صحیح البخاری، رقم الحدیث:3445 (

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان فضیلت کے نام پر ایسے عقیدے رائج ہوئے جس کے بعد عملاً پیغمبر اسلام کی تصویر بھی وہی بن گئی جو پچھلی امتوں کے یہاں رائج تھی، یعنی خدا اور پیغمبر کے درمیان صرف نام کا فرق باقی رہا-

اِسی طرح پچھلے مذاہب میں مقدس جنگ (holy war) کا تصور تھا- اسلام نے اِس تصور کو ختم کیا- اسلام میں قتال اور جہاد کو ایک دوسرے سے الگ کردیاگیا- قتال صرف دفاعی جنگ کے لیے مخصوص ہوگیا اور جہاد کو پرامن دعوتی جدوجہد (25:52) کے ہم معنی قرار دیاگیا- لیکن بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان قتال کو جہاد کا عنوان دے دیاگیا- اِس طرح مقدس جنگ کا تصور مسلمانوں کے درمیان دوبارہ لوٹ آیا-

اِسی طرح اسلام میں اجتماعی نظام کو شوری (42:38) کے تابع کیاگیا تھا، یعنی کسی خارجی معیار کے بجائےلوگوں کی عمومی رائے کی بنیاد پر اجتماعی نظام کا فیصلہ کرنا- لیکن بعد کے زمانے میں قدیم خاندانی حکمرانی (dynasty) کا طریقہ واپس آگیا- شخصی حکمرانی کا یہ ذہن بعد کے زمانے کے مسلمانوں پر اتنا زیادہ غالب ہوا کہ اگر کسی مسلم ملک میں بظاہر جمہوریت کو اختیار کیاگیا تو وہ بھی عملاً آمریت (dictatorship) بن کر رہ گئی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِسی طرح اسلام میںقدیم تصور کے برعکس، مذہبی آزادی کو اختیار کیا گیا، لیکن چند نسلوں کے بعد عملاً اس کا بھی خاتمہ ہوگیا- اِس کے مظاہر آج بھی مسلمانوں کے اندر مختلف صورتوں میں دیکھے جاسکتے ہیں- مثلاً فرقہ وارانہ تشدد، تکفیر کے فتوے، مرتد اور شاتمِ رسول کے لیے سزائے قتل، وغیرہ- اِس قسم کے تمام مظاہر بلا شبہہ قدیم زمانے کے مذہبی جبر کی نئی صورتیں ہیں-

امتِ مسلمہ کے بعد کے دور میں یہ تمام خرابیاں اِس لیے پیدا ہوئیں کہ اسلام کی انقلابی اصلاحات کے حق میں فکری بنیاد موجود نہ تھی- اسلام نے مذہب کو دوبارہ اس کی اصل خدائی صورت میں زندہ کیا، لیکن زمانی عامل (age factor) اِن اصلاحات کے موافق نہ تھا- قانونِ فطرت کے مطابق، فکری بنیاد اچانک وجود میں نہیں آتی، بلکہ وہ لمبے تدریجی عمل کے بعد وجود میں آتی ہے- یہ نہایت مشکل منصوبہ ہے، کیوں کہ انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے اس کو وجود میں لانا پڑتا ہے- اِس لیے اللہ نے اِس منصوبے کو ظہور میں لانے کے لیے تاریخ میں ایک متوازی عمل (parallel process) جاری کیا- فکری بنیاد کو ظہور میں لانے کا یہ متوازی عمل تقریباً ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی عیسوی میں اپنی تکمیل تک پہنچا- اِس عمل کا آغاز پیغمبر اور اُن کے اَتباع (followers)نے کیا اورآخرکار اس کی تکمیل ہزار سال بعد اہلِ مغرب کے ذریعے انجام پائی-

استبدالِ قوم

قرآن میں فطرت کے جو قوانین بتائے گئے ہیں، اُن میں سے ایک قانون وہ ہے جس کو استبدال (replacement) کہاگیا ہے- اِس سلسلے میں قرآن کی آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ (47:38) یعنی اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمھاری جگہ دوسری قوم کولے آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

If you turn back, He will bring in your place another people, who will not be like you.

Qur'anQuotes the Qur'an

استبدالِ قوم کا یہ قانون فطرت کا ایک عمومی قانون ہے- اس کا تعلق مذہبی قوم سے بھی ہے اور غیر مذہبی قوم سے بھی- اسلام کی انقلابی اصلاحات کے لیے جس فکری بنیاد کی ضرورت تھی، اس کو مسلمان پورے طورپر وجود میں نہ لاسکے- مسلمان بعد کے زمانے میں قدیم مذہبی تصورات کے زیر اثر آچکے تھے- اِس بنا پر وہ اس مقصد کے لیے اہل نہ تھے- چناں چہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوا کہ اِس متوازی رول کاذریعہ وہ ایک ایسی قوم کو بنائے جو اِس عمل کو اس کی تکمیل تک پہنچا سکے-

اہلِ مغرب کا تائیدی رول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کے طورپر یہ بات بتادی تھی کہ اللہ تعالی ایک سیکولر قوم سے دین کی تائید کا کام لے گا (إن اللہ لیؤیدہذا الدین بالرجل الفاجر)- اہل مغرب کی تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ بتاتا ہے کہ اہلِ مغرب نے جو تہذیب برپا کی اور جس کو مغربی تہذیب کہاجاتا ہے، وہ سیکولر مغرب کے ذریعے اِسی تائید دین کی مثال ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب کے ذریعے جو نئے علوم اور نئے حالات پیدا ہوئے، وہ اپنے عملی نتیجے کے اعتبار سے، اسلام کے حق میں فکری بنیاد فراہم کرنے والے تھے، تاکہ رسول اور اصحابِ رسول کا جاری کردہ عمل اپنے تکمیلی مرحلے تک پہنچ سکے- اس تکمیلی عمل کے چند پہلو یہاں بیان کیے جاتے ہیں:

1- جدید تہذیب کے تحت جو میڈیکل سائنس وجود میں آئی، اس نے تاریخ میں پہلی بار اُس نظریے کو ختم کردیا جس کو سوچنے والا دل (thinking heart) کہاجاتا تھا- اب یہ پوری طرح ثابت ہوگیا ہے کہ دل انسانی جسم میں صرف گردشِ خون (circulation of blood) کا ذریعہ ہے- اِس معاملے میں جدید میڈیکل سائنس یہاں تک پہنچی ہے کہ اُس نے مصنوعی دل (artificial heart) تیار کیا- ایسے مریض جن کے دل عملاً نان فنکشنل (non-functional)ہونے والے تھے، اُن کے جسم میں ڈاکٹروں نے مصنوعی دل نصب کردیا- یہ مصنوعی دل عملاً فطری دل کا بدل بن گیا- ایسے مریضوں کا دل عملاً معطل تھا، اُن کے جسم میں دل کی جگہ ایک مادی ڈیوائس (material device) نصب کیا گیا، اس کے باوجود اُن کا دماغ پہلے کی طرح کام کررہا تھا- اُن کا حافظہ، اُن کے سوچنے کی صلاحیت، کسی کمی کے بغیر، پہلے کی طرح برقرار تھی- اِس طرح تجرباتی طورپر ثابت ہوگیا کہ تفکیر کے عمل (thinking process) کا تعلق انسان کے دل سے نہیں ہے، بلکہ اس کے دماغ سے ہے-

یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے جس سے قدیم زمانے کا انسان مکمل طورپر بے خبر تھا-اسلام میں معرفت کو قدیم تصور کے برعکس، دل کے بجائےدماغ پر مبنی قرار دیاگیا- قرآن میں دماغ (mind)کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں- مثلاً قلب، فواد، عقل، لُب،حِجر، نُہى- واضح ہو کہ قلب کا لفظ عربی زبان میں عقل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے (لسان العرب: 687/1)- غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں اِس سلسلے میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ سب تفکیری عضو (thinking organ) کے معنی میں ہیں، قرآن میں گردشِ خون کے ذریعے کے طورپر کسی عضو کا ذکر نہیں-پچھلے ہزار سال کے دوران مسلمانوں میں فکری ارتقا نہ ہوسکا- اِس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان فکری عمل کا سرچشمہ غلط طور پر دل کو قرار دیےہوئے تھے- جدیددریافت نے یہ راستہ کھول دیا ہے کہ مسلمانوں میں فکری ارتقا کا عمل حقیقی سطح پر جاری ہوسکے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانے میں تمام مذاہب میں معرفت حق (realization of truth) کا منبع (source) دل کو سمجھاجاتا تھا- اِس لیے قدیم زمانے میں مراقبہ (meditation) کے طریقے رائج ہوئے، مگر اِن طریقوں کے ذریعے قدیم زمانے کے لوگوں کو کبھی حقیقی معنوں میں معرفتِ حق کا تجربہ نہیں ہوا، کیوں کہ دل صرف گردشِ خون کا ذریعہ تھا- معرفت صرف تفکیر اور تدبر کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے، جس کا مرکز انسان کا دماغ ہے- دل سے اِس کا کوئی تعلق نہیں-

رسول اور اصحابِ رسول کے مختصر زمانے کے بعد خود امتِ مسلمہ میں یہی دل پر مبنی تصورِ معرفت دوبارہ لوٹ آیا-یہی وجہ ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران امتِ مسلمہ حقیقی معرفت سے تقریباً محروم رہی- موجودہ زمانے میں جدید میڈیکل سائنس کے ذریعے جو نیا دور آیا، اُس نے پہلی بار یہ کیا کہ دل پر مبنی معرفت کے افسانہ (myth) کو ختم کردیا- اب تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوگیا کہ مبنی بر ذہن (mind-based)معرفت کو ڈیولپ کیا جائے اور معرفت الہی کے اعلی درجات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے-اِس اعتبار سے، جدید میڈیکل سائنس قدیم نظریے کی تصحیح کی حیثیت رکھتی ہے-

2- قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مطلق العنان بادشاہت (despotism) کا طریقہ رائج تھا- اِس سیاسی کلچر کے تحت ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر عام تھا- جدید مغربی تہذیب کے تحت پہلی بار ایسا ہوا کہ دنیا میں جمہوریت کا زمانہ آیا- جمہوریت ایک اعتبار سے، سیاسی طاقت کی عدم مرکزیت (decentralization) کا کلچر ہے- اِس کلچر کے تحت مذہب کے معاملے کو سیاسی اقتدار سے الگ کردیا گیا- اِس طرح تاریخ میں پہلی بار مذہبی آزادی کو ایک مسلّمہ بین اقوامی اصول (international norm) کے طورپر مان لیاگیا اور اقوامِ متحدہ (UNO) کے تحت تمام قوموں نے اس کی متفقہ تصدیق کردی- اسلام ایک دعوتی مشن ہے اور اسلام کے دعوتی مشن کی عالمی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کو ایک مسلّمہ بین اقوامی اصول کے طور پر مان لیا گیا ہو- یہ واقعہ پہلی بار مغربی تہذیب کے دور میں کامل طورپر انجام پایا ہے-

3- قدیم زمانے میں مذہب کی بنیاد صرف عقیدہ (belief) ہوا کرتا تھا- انسان ایک عقلی وجود (rational being) ہے- ضرورت تھی کہ انسان کو ایسا مذہب دیا جائے جو اس کے عقلی ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو- لیکن اِس مقصد کے لیے عقلی ڈیٹا (rational data) درکار تھا جو کہ قدیم زمانے میں دستیاب نہ تھا- مغربی تہذیب کے تحت پیدا ہونے والی سائنس نے فطرت (nature) میں تحقیق کے ذریعے یہ عقلی ڈیٹا فراہم کیا- اِس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دینِ خداوندی کے عقائد کو عقلی بنیاد (rational ground) پر قابلِ فہم (understandable) بنایا جاسکے-اِس حقیقت کا اعلان قرآن مجید میں پیشگی طورپر اِن الفاظ میں کیا گیا تھا: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ(41:53)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں ’آفاق اور انفس‘ سے مراد تمام وہ مادی اور غیر مادی تخلیقات ہیں جو وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں- اِس پورے مجموعے کو فطرت (nature) کہاجاتا ہے- فطرت کی اِس دنیا میں بے شمار ربانی نشانیاں (signs of God)موجود تھیں- ضرورت تھی کہ اِن نشانیوں کو دریافت کیا جائے، تاکہ امرِ حق خود انسانی مسلّمات کی بنیاد پر مدلل ہوسکے- خدائی نشانیوں کی انفولڈنگ کا یہ کام ہزاروں سال سے نہیں ہوا تھا- موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے پہلی بار سائنسی تحقیقات کے ذریعے اِن نشانیوں کو کھولا اور اُن کو انسان کے لیے ایک معلوم واقعہ بنایا- یہ موافق دلائل فطرت (nature) میں آیاتِ الہی کے طورپر موجود تھے، وہ مخفی حالت میں تھے- مغربی سائنس نے قوانینِ فطرت کے نام سے جن حقائق کو دریافت کیا ہے، وہ دراصل یہی دلائل ہیں- اِس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کے علمِ کلام (theology) کو قیاسات کے بجائے برہانیات کی بنیاد پر قائم کی جائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4- قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا- اُس وقت قرآن میں یہ کہاگیا تھا کہ: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25:1)- اِس آیت کے مطابق، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کی تعلیمات کو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچایا جائے- مگر قدیم زمانے میں عملاً ایسا ہونا ممکن نہ تھا- اِس عالمی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ پوری دنیا کا جغرافیہ معلوم ہو- پرنٹنگ پریس اور کمیونکیشن کا دور دنیا میں آجائے، ساری دنیا میں بہ آسانی سفر کرنا ممکن ہوجائے، لوگوں کے درمیان کھلا پن (openness) کی فضا موجود ہو، ترقی یافتہ زبانیں دنیا میں پائی جاتی ہوں، وغیرہ-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عالمی دعوت کو ممکن بنانے کے لیے یہ تمام چیزیں لازمی طورپر ضروری ہیں- قدیم زمانے میں یہ اسباب موجود نہ تھے، اِس لیے قدیم زمانے میں اسلام کی عالمی اشاعت کا یہ نشانہ عملاً پورا نہیں ہوسکتا تھا- انیسویں صدی کے بعد کے زمانے میں پہلی بار یہ اسباب حاصل ہوئے ہیں اور اِن اسباب کا حصول براہِ راست مغربی تہذیب کے ذریعے ممکن ہوا ہے-

5- قرآن اصلاً ایک کتابِ دعوت ہے، لیکن دعوت کی نکات کو مدلل کرنے کے لیے قرآن میں بہت سے حوالے دئے گئے ہیں جن کا تعلق تاریخ یا عالمِ فطرت سے ہے- مگر ساتویں صدی کے ربع اول میں اِن حوالوں کی ضروری تفصیلات معلوم نہ تھیں- اِس بنا پر قرآن کے یہ حوالے عملاً صرف عقیدہ کا مسئلہ (matter of belief) بنے ہوئے تھے- اِس قسم کی مثالیں قرآن میں بڑی تعداد میں موجود ہیں- مثلاً قرآن میں کائنات کے آغاز کے لیے ایک حوالہ یہ ہے: اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا (21:30)- اِسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان جب بطنِ ماد ر میں ہوتا ہے تو وہ تین پردوں (فی ظلمات ثلاث) کے درمیان ہوتا ہے (39:6)- اِسی طرح قرآن میں فرعون کے جسم کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَةً(10:92)- قرآن میں کثرت سے اِس طرح کے حوالے پائے جاتے ہیں- ضرورت تھی کہ اُن کےمتعلق تاریخی اور سائنسی معلومات دریافت کی جائیں، تاکہ قرآن کے یہ بیانات انسان کے لیے پوری طرح قابلِ فہم ہوجائیں- یہ کام بھی پہلی بار مغربی علوم کے ذریعے انجام پایا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6- قدیم زمانے میں مذہبی جبر عام تھا- اِس بنا پر دعوتِ حق کا کام معتدل انداز میں نہیں ہوسکتا تھا- یہ صورتِ حال ایک سیاسی سبب کی بنا پر تھی- قدیم زمانے کے حکمراں اپنا حقِ حکمرانی (mandate) مذہب کی بنیاد پر حاصل کرتے تھے، اِس لیے وہ اِس کو برداشت نہیں کرتے تھے کہ اُن کے علاقے میں سلطنت کے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب پایا جائے- مذکورہ آیت میں اظہارِ دین کا ایک پہلو یہ تھا کہ حقِ حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے جدا کردیا جائے- دورِ اول میں جو اسلامی انقلاب آیا، اُس نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا- یورپ کی جمہوریت اِسی عمل کی تکمیل ہے- مغربی جمہوریت نے یہ کیا کہ حقِ حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے الگ کرکے اس کو عوامی رائے سے وابستہ کردیا- اِس کے نتیجے کے طور پر دنیا میں پہلی بار مذہبی امن کا دور آگیا- اِس دور کی باقاعدہ تکمیل اقوامِ متحدہ کی صورت میں ہوئی- جس کے تحت مذہب کے معاملے میں تشدد کو بطور اصول ممنوع قرار دے دیا گیا- یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے گویا دورِ جدید میں حکمتِ حدیبیہ کی عالمی توسیع ہے جو اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

7- مغربی دنیا کے سیکولر اہلِ علم نے اسلام کا مطالعہ اپنے اصول کے مطابق، خالص موضوعی انداز میں کیا- اِس بنا پر وہ اسلام کے کئی ایسے پہلو کو دریافت کرسکے جو مسلم اہلِ علم سے اعتقادی مطالعے کی بنا پر مخفی تھے- مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کے سلسلے میں غیر معمولی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا- اِس مقابلے میں پیغمبر اسلام کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی- اِس کامیابی کو مسلم اہلِ علم عام طورپر ’’فضیلت رسول‘‘ کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں- اِس کامیابی کو فضیلتِ رسول کے خانے میں ڈالنے کا نقصان یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سے کوئی سبق نہیں ملا- اِس طریقِ مطالعہ سے عام مسلمانوں کو صرف فخر کی غذا ملی- وہ اپنے پیغمبر کو ’’فخر ِ موجودات‘‘ کہنے لگے-

لیکن مغرب کے سیکولر اہلِ علم نے اِن واقعات کا تجزیہ غیر جانب دارانہ ذہن کے ساتھ کیا تو انھوں نے ایک ایسی حقیقت دریافت کی جس میں تمام مسلمانوں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے کامیابی کا اعلی اصول موجود تھا- مثلاً ایک برٹش رائٹر (E.E. Kellet)نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کے تحت لکھا ہے کہ — انھوں نے مشکلات کا مقابلہ اِس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He faced adversity with the determination to wring success out of failure.

یہ صرف ایک تاریخی تجزیہ نہیں، اِس سے زندگی کا ایک اہم اصول دریافت ہوتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو اُن کے خالق نے ایک انوکھی صلاحیت کے ساتھ پیدا ;کیاہے، اور وہ ہے اپنے مائنس کو اپنے پلس میں تبدیل کرلینا-

انسانی شخصیت کا یہ امکان (potential)فطرت کا ایک عظیم عطیہ ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کے ذریعے اِس انسانی فطرت کا ایک کامیاب مظاہرہ کیا، مگر مسلمان اپنے عقیدت مندانہ مطالعے کی بنا پر اِس پہلو کو بطور سنتِ رسول اپنی زندگیوں میں شامل نہ کرسکے- مغربی سیرت نگاروں نے سیرت نبوی کے اِس پہلو کو دریافت کرکے مسلمانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اس کو اختیار کریں اور اس کے ذریعے اپنے منصوبوں کو حقائق کی بنیاد پر قائم کرکے اس کو کامیاب بنائیں-

شہادتِ اعظم

مغربی تہذیب کا دینِ خداوندی کے حق میں سب سے بڑا تائیدی رول یہ ہے کہ اس نے اہلِ اسلام کے لیے وہ ضروری اسباب فراہم کیے جن کو استعمال کرکے وہ دورِ آخر کے اُس اہم ترین رول کو کامیابی کے ساتھ ادا کرسکیں، جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے- شہادتِ اعظم سے مراد دعوتِ اعظم ہے- اِس دعوتِ اعظم کے دو پہلو ہیں — نظری اعتبار سے، اس کا اعلی حجت (superior reason) پر قائم ہونا، اور وسعت کے اعتبار سے، اس کے دائرے کا عالمی (global)ہونا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحیح مسلم میں ایک لمبی روایت آئی ہے- اِس روایت میں دورِ آخر کے ایک اہم رول کا ذکر بطور پیشین گوئی کیاگیا ہے- اِس کی بابت حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: ہذا أعظم الناس شہادة عند رب العالمین (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 5230) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک سب سے بڑی شہادت ہوگی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں ’شہادت‘ سے مراد جسمانی قتل نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد نظریاتی معنوں میں ایک عظیم دعوتی رول ہے جو دورِ آخر میں انجام پائے گا- غالباً اِس سے مراد انسانی تاریخ کے آخری زمانے کا ایک فائنل دعوتی رول ہے- اِس دعوتی رول کی صراحت اگر چہ حدیث میں موجود نہیں ہے، لیکن قرآن وحدیث میں ایسے اشارات موجود ہیں جن پر غور کرکے اِس رول کو متعین کیا جاسکتا ہے-

1- شہادتِ اعظم کے نظری پہلو کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اِس آیت سے رہنمائی ملتی ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَق (41:53)- قرآن کی اِس آیت میں ’آیات‘ سے مراد تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیاں ہیں- ان نشانیوں کو موجودہ زمانے میں مغربی سائنس دانوں نے غیر معمولی تحقیق کے ذریعے دریافت کیا- اِس طرح دینِ خداوندی کی تاریخ میں ایک نیا دور آگیا- قبل از سائنس دور (pre-scientific era)میں جو ایمان پیغمبروں کے بتائے ہوئے عقیدہ (belief) کی حیثیت رکھتا تھا، وہ بعد از سائنس دور(post-scientific era) میں خود انسان کے اپنے دریافت کردہ علوم کے تحت ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں کائنات ایک پر اسرار ظاہرہ بنی ہوئی تھی-قدیم زمانے میں نہ عالمِ اکبر (macro world) کو دیکھنے کے لیے دور بین موجود تھی اور نہ عالمِ اصغر (micro world) کو دیکھنے کے لیے خورد بین دستیاب تھی- موجودہ زمانے میں اعلی سائنسی نوعیت کے مشاہدے اور تجربے کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ کائنات میں نہایت اعلی درجے کی ذہین ڈیزائن موجود ہے- یہ دریافت اِس مذہبی تصورکو یقینی بنادیتی ہے کہ یہ کائنات ایک باشعور خالق کی ایک باشعور تخلیق ہے- ( ملاحظہ ہو:(The Intelligent Universe by Fred Hoyle

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2- شہادت کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق عالمی دعوت (global dawah) سے ہے- اسلام اول دن سے سارے انسانوں کے لیے ایک دین ِ رحمت کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن اسلام کے پیغام کو سارے انسانوں تک پہنچانا قدیم زمانے میں ذ رائع کے اعتبارسے عملاً ممکن نہ تھا- موجودہ زمانے میں مغربی سائنس نے پہلی بار اُن تمام ذرائع کو انسان کی دسترس میں دے دیا جن کو استعمال کرکے اسلام کی عالمی دعوت کو ایک واقعہ بنایا جاسکتا ہے-

اِس کی ایک مثال موجودہ زمانے میں اُس ذریعے کی ایجاد ہے جس کو الیکٹرانک کمیونکیشن کہاجاتا ہے- یہ دریافت اب نہایت ترقی یافتہ سائنس بن چکی ہے- اِس دریافت کا ایک جز موبائل فون ہے- اِس دریافت کے تحت موجودہ زمانے میں وہ آلہ تیار ہوگیا ہے جس کو اسمارٹ فون (smartphone) کہاجاتاہے- یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اس کو اپنی جیب میں رکھ سکتا ہے- اسمارٹ فون میں بظاہر لامحدود گنجائش (capacity) ہوتی ہے-

موجودہ زمانے میں تمام بڑے بڑے ادارے اپنے کتابوں کو اپ لوڈ کرکے انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون پر ڈال رہے ہیں- اِس دریافت نے ایک نئے دعوتی امکان کو واقعہ بنا دیا ہے- اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ قرآن کے ترجمے مختلف زبانوں میں تیار کیے جائے- یہ ترجمے ایسی زبان میں ہوں جو قاری کے لیے بہ آسانی قابلِ فہم ہوں- پھر قرآن کے اِن ترجموں کو انٹرنیٹ پر ڈال دیا جائے اِس کے بعد زمین پر بسنے والے ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ اپنی جیب سے اسمارٹ فون نکالے اور اس کے ایک سوئچ کو ٹچ کرے اور پورے قرآن کا ترجمہ اس کی اپنی قابلِ فہم زبان میں اس کے سامنے آجائے-دعوت کا یہ عالمی ذریعہ آج مغربی سائنس کی بناپر عملاً ایک واقعہ بن چکا ہے-

غالباً دورِ آخر کایہی وہ دعوتی امکان ہے جس کا ذکر بطور پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول (لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام بعز عزیز وذل ذلیل)میں کیا گیا ہے-اِس حدیث میں ’کلمۂ اسلام‘ سے مراد قرآن ہے- یہ ایک قابلِ غور بات ہے کہ حدیث میں ’إدخال الکلمة فی کل القلوب‘ کا لفظ نہیں آیا ہے، بلکہ حدیث میں ’إدخال الکلمة فی کل البیوت‘ کا لفظ آیا ہے- اِس کا مطلب واضح طورپر یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کہ کرۂ ارض پر بسنے والے تمام لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں، بلکہ جو واقعہ ہوگا، وہ یہ کہ ہرچھوٹے بڑے گھر میں جہاں کوئی انسان رہتا ہے، وہاں قرآن داخل ہوجائے گا، خواہ انسان چاہے یا نہ چاہے- مذکورہ حدیث کے آخر میں عزت اور 'ذلت کے الفاظ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہیں، بلکہ وہ اِسی معنی میں ہیں کہ آدمی چاہے یا نہ چاہے، ہر حال میں ایسا ہوگا کہ خدا کا کلام اس کے گھر میں داخل ہوجائے گا —انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی ایجاد کے بعد یہی واقعہ اپنی کامل صورت میں عملاً ظہور میں آگیا ہے- (2014)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
Explained aloudIslam & The Prophet of Islam October 21, 2012 · from 16:47 · 3 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudIslam A Religion of Peace November 25, 2024 · from 30:50 · 15 moreExplained aloudIslam & The Prophet of Islam October 21, 2012 · from 36:02 · 14 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudPhysical Science or Divine Science November 25, 2012 · from 3:29 · 24 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudQuran for All Mankind June 3, 2012 · from 1:12 · 24 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudLessons from The Story of Prophet Moses Part 5, October 30 · from 2:35 · 16 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudPhysical Science or Divine Science November 25, 2012 · from 3:29 · 24 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it