Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala April 2012
Al-Risala April 2012

قلب، عقل

Urdu · 4 min read

قدیم روایتی زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ تزکیہ اور معرفت کا ذریعہ قلب (heart) ہے، مگر جدید سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کا قلب صرف گردشِ خون (circulation of blood) کا ذریعہ ہے۔ اِس کے مطابق، معرفت اور تزکیہ ایک مبنی بر دماغ (mind-based) علم ہے، وہ مبنی بر قلب (heart-based) علم نہیں۔

یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ قرآن میں کچھ ایسے حوالے ہیں جن میں معرفت اور تزکیہ کو قلب سے منسوب کیاگیا ہے، پھر اس کا مطلب کیا ہے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں صرف قلب کا حوالہ نہیں ہے، بلکہ عقل کا حوالہ بھی قرآن میں بار بار آیا ہے۔ مثلاً : لعلکم تعقلون (43: 3) ، اور ولیتذکر أولوا الألباب (38: 29) ، اور إن فی ذلک لآیات لأولی النُہی (20: 54) اور ہل فی ذلک قسم لذی حجر (89:5) ، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِن آیتوں میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ سب عقل (mind) کے معنی میں ہیں۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ دونوں قسم کے قرآنی بیانات میں تطبیق کس طرح پیدا کی جائے۔ اِس طرح کے معاملات میں بلاغت کا اصول یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کے تابع قرار دیا جائے۔ اِس اصول کو منطبق (apply) کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کس بیان کے حق میں اضافی قرینہ (additional evidence) موجود ہے،اور پھر جس بیان کے حق میں اضافی قرینہ موجود ہو، اس کو اصل مان کر دوسرے کو اس کے تابع قرار دیا جائے۔

قلب اور دماغ کی اِس بحث میں، دماغ کے حق میں ایک اضافی قرینہ موجود ہے، اور وہ ہے سائنس کی جدید دریافت۔ اِس لیے اِس معاملے میں یہ کیا جائے گا کہ جن آیتوں میں عقل کا حوالہ ہے، ان کو اس کے اصل معنی میں لیا جائے گا، اور جن آیتوں میں قلب کا حوالہ ہے، اُن کو اس کے ادبی معنی (literary meaning) پر محمول کیا جائے گا۔ اِس طرح قرآن میں استعمال کئے گئے دونوں لفظ (قلب اور عقل) ہم معنی قرار پائیں گے۔

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قلب میں سوچنے کی صلاحیت ہے۔ وہ انسانی جسم کا ایک تفکیری عضو (thinking organ) ہے، مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ اِس دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ عضویاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قلب اور عقل کے درمیان ایک رابطہ موجود ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر یہ دعویٰ صرف ایک مغالطے پر مبنی ہے۔ اِس قسم کا ربط دماغ اور دوسرے تمام اعضا کے درمیان ہمیشہ موجود رہتاہے۔ مگر یہ ربط فکری ربط نہیں ہوتا، وہ صرف ڈائریکشن (direction) کے معنی میں ہوتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضا (organs) دماغ کی ہدایت (direction) ہی پر اپنا اپنا عمل انجام دیتے ہیں۔ کوئی بھی عضو دماغ سے آزاد ہو کر اپنا فنکشن انجام نہیں دیتا۔

اِس استدلال کی غلطی یہ ہے کہ اُس میں ربط کے معاملے کو بیان کرنے کے لیے ایک غلط لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی کمیونکیشن (communication) کا لفظ۔ اِس معاملے کو بیان کرنے کے لیے صحیح لفظ ڈائریکشن ہے، نہ کہ کمیونکیشن۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ڈائریکشن کاعمل یک طرفہ (unilateral) ہوتا ہے اور کمیونکیشن کا عمل دو طرفہ(bilateral) ۔ ڈائریکشن کا لفظ بتاتا ہے کہ دماغ یک طرفہ طورپر اعضا کو اپنی ہدایت جاری کرتا ہے، جب کہ کمیونکیشن کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ دماغ اور جسم کے اعضا کے درمیان یہ عمل دو طرفہ طورپر ہوتا ہے۔

مذکورہ استدلال میں یہ کیا گیا ہے کہ پہلے ربط کے لیے کمیونکیشن کا لفظ استعمال کیا گیا اور پھر اُس سے یہ مطلب نکال لیا گیا کہ قلب ایک تفکیری عضو (thinking organ) ہے، حالاں کہ اِس مفروضہ کے لیے کوئی علمی بنیاد (scientific base) موجود نہیں۔

اس غلطی کا عظیم نقصان یہ ہوا کہ حکمت (wisdom) اہلِ سائنس کی اجارہ داری بن گئی۔ مبنی بر قلب معرفت کے نظریے کے حاملین عام طور پر حکمت سے محروم ہوکر رہ گئے، کیوں کہ وہ حکمت کو قلب میں تلاش کررہے تھے، جب کہ قلب میں حکمت سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ اہلِ مذہب کے یہاں فرضی کہانیوں کا جو دفتر دکھائی دیتا ہے، اس کا سبب حکمت کی اِسی کمی کی تلافی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content