ایک طویل روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اِس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: واللہ لا یُلقی اللہُ حبیبَہ فی النار (السلسلۃ الصحیحۃ للألبانی، 5/531 ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم، اللہ اُس شخص کو آگ میں نہیں ڈالے گاجس سے وہ محبت کرتاہے۔
یہ حدیث کسی پُراسرار معنی میں نہیں ہے۔ اِس حدیث میں جس محبت کا ذکر ہے، وہ دو طرفہ ہے، نہ کہ یک طرفہ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان غور وفکر کے ذریعے اپنے خالق کو پہچانے ، جو اللہ کو اپنے منعم کی حیثیت سے د ریافت کرے، ایسے انسان کا حال یہ ہوگا کہ اللہ اس کا محبوب بن جائے گا، اُس کے تمام قلبی جذبات اللہ سے وابستہ ہوجائیں گے۔
جب کسی انسان کا یہ حال ہو کہ اس کے شعوری ادراک کے نتیجے میں اللہ اس کا محبوب بن جائے تو اس کے بعد ایسا انسان خود بھی اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اور جب اِس اعتبار سے کوئی شخص اللہ کا محبوب بن جائے تو یہ محبوبیت اُس آدمی کے لیے اِس بات کی ضمانت ہوگی کہ اللہ اُس کو قیامت کے دن ہر گز آگ میں نہیں ڈالے گا۔
کسی انسان کا محبوبِ خدا بن جانا کوئی پُر اسرار چیز نہیں، یہ فطری اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ سے اتنا زیادہ وابستہ کرے کہ اللہ سے اُس کو محبت کے درجے میں تعلق پیداہوجائے، تو ایسا انسان، اللہ کی نظر میں اِس کا مستحق بن جاتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے اور اس کو آخرت کے عذاب سے بچا لے۔
اللہ کا کسی انسان سے محبت کرنا بربنائِ رحمت ہوتاہے، اور انسان کا اللہ سے محبت کرنا بربنائِ انعام ہوتا ہے۔ اللہ کی محبت کسی بندے کے لیے ایک عطیۂ الٰہی ہے، اور بندے کی محبت اللہ کے لیے شکرواعتراف کا ایک معاملہ ہے۔ یہی شکر و اعتراف بلاشبہہ جنت کی قیمت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔