Maulana Wahiduddin Khan
80 min left
0:00

← Al-Risala April 2011
Al-Risala April 2011

Main Content

Urdu · 80 min read

الرساله ، اپريل 2011

خصوصي شماره

انسانی تاریخ کا مطالعہ

خدا کے تخلیقی پلان کی روشنی میں

انسانی تاریخ کا مطالعہ

خداکے تخلیقی پلان کی روشنی میں

انسان پوری کائنات میں ایک انوکھا استثنا (exception) ہے۔ قرآن میں انسان کی تخلیق کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (38:75) یعنی انسان کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ حدیث میں انسان کے بارے میں آیا ہے خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ (صحیح البخاري، حدیث نمبر 6227 ) یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ قرآن اور حدیث کے اِن حوالوں سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ نے ایک استثنائی مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے، اور استثنائی مخلوق کے طورپر اس کو پیدا کرنا اپنے آپ میں اِس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے خالق کو اُس سے ایک استثنائی کردار (role) مطلوب ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کائنات کی تاریخ کو اگر بگ بینگ(Big Bang) کے واقعے سے شمار کیا جائے تو کائنات کی تاریخ تقریباً 15 بلین سال تک پھیلی ہوئی ہے۔اس مدت میں خالق نے بے شمار چیزیں پیدا کیں۔ آخر میں اُس نے انسان کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، خالق نے انسان کو احسنِ تقویم (التین، 95:4) کے ساتھ پیدا کیا اور اس کو ایک مکرَّم مخلوق (exalted creature) کا درجہ دیا (الاسراء، 17:70)۔ قرآن سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے سوا جو بقیہ موجودات ہیں، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اِس بات کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الجاثیۃ، 45:13) ۔ قرآن کی یہ آیت ساتویںصدی عیسوی میں نازل ہوئی۔ عجیب بات ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی میں سائنسی تحقیقات نے اِس حقیقت کی علمی تصدیق کی ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پوری کائنات ایک کسٹم میڈ کائنات (custom-made universe) ہے۔ اِس تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے برٹش سائنس داں الفریڈ رسل (Alfred Russel Wallace) نے لکھا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Such a vast and complex universe as that which we know exists around us, may have been absolutely required in order to produce a world that should be precisely adapted in every detail for the orderly development of life culminating in man. (The Times of India, New Delhi, September 26, 2010)

other sourceWords of another person or source

انسانیت کی تاریخ

مورخین نے تاریخ نگاری کے مختلف اسلوب اختیار کیے ہیں۔ مثلاً شاہی خاندان (dynasty) کو یونٹ (unit) بنا کر تاریخ لکھنا، جیسے مصر کے فرعون کی خاندانی بادشاہت، روس کے زار (Tzar) کی خاندانی بادشاہت، یا ایمپائر (empire) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا۔ مثلاً رومن ایمپائر، ساسانی ایمپائر (Sasanid empire)، یا تہذیب (civilization) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا، جیسے مسلم تہذیب، مغربی تہذیب، وغیرہ۔ لیکن تاریخ نگاری کا ایک اور اسلوب ہے جو زیادہ با معنی اسلوب ہے، وہ یہ کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کی بنیاد پر تاریخ لکھی جائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حقیقت یہ ہے کہ مورخین نے انسانیت کے جن پہلوؤں کو اہم قرار دے کر ان کی نسبت سے تاریخ لکھی ہے، وہ سب تاریخ کے اضافی (relative) پہلو ہیں۔ تاریخ نگاری کا حقیقی پہلو (real) یہ ہے کہ خدا کے منصوبۂ تخلیق کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق، انسانی تاریخ کو مرتب کیا جائے۔ اِس اعتبار سے بنیادی طورپر انسانی تاریخ کے چار دور ہیں

1 - انبیاء (prophets) کا دور، یہ دور حضرت آدم سے حضرت محمد تک پھیلا ہوا ہے۔

2 - صحابہ کا دور، یعنی پیغمبر اسلام کے اصحاب (companions) کا دور۔

3 - الاخوان کادور، یعنی وہ لوگ جن کو حدیث میں اخوانِ رسول کہاگیا ہے۔

hadithQuotes a hadith

4 - الصالحون کا دور، یہ دور قیامت کے بعد آخرت میںشروع ہوگا۔

خدا نے انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ بہت سے انسانوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، اور کچھ لوگوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا۔ اِس طرح یہ تاریخ مختلف حالات سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے خدا اِس تاریخ کو مینیج (manage) کررہا ہے۔ آخر کار خدا قیامت برپا کرے گا۔ اس کے بعد وہ لوگ منتخب کر لیے جائیں گے جنھوں نے خدا کی نظر میں، اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا اور جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، وہ چھانٹ کر الگ کردئے جائیں گے۔ اِس معاملے کو بائبل میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The descendants of the wicked shall be cut off. (Psalm 37: 38)

other sourceWords of another person or source

جن اور انس کی تخلیق

قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیارہ زمین (planet earth) کو استثنائی طورپر اِس طرح بنایا ہے کہ یہاں زندگی کی بقا ممکن ہوسکے۔ خدا نے زمین پر وہ موافق نظام قائم کیا جس کو معاونِ حیات نظام (life support system) کہاجاتا ہے۔ اِس کے بعد زمین پر سب سے پہلے جنات (الحجر، 15:27) کو آباد کیا۔ زمین ایک عرصے تک جنات کے چارج میں رہی۔ جن، آگ سے پیدا کئے گئے تھے۔ انھوں نے زمین پر فساد برپا کیا۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنات کو معزول کرکے انسان کو پیدا کیا اور ان کو زمین پر بسایا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے جب انسان کو بنایا، اُس وقت یہاں دو اور مخلوق جن اور ملائکہ (angels) موجود تھے۔ خدا نے دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ انسان کے آگے سجدہ کریں۔ یہ سجدہ اِس بات کی علامت تھا کہ جن اور ملائکہ انسان کے لیے رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ وہ انسان کو آزادی کے ساتھ عمل کا موقع دیں گے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (2:30)۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خلیفۃ اللہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خلیفۃ الجن ہے، یعنی جنات کو ہٹا کر ان کی جگہ زمین پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں بتایا گیاہے کہ جب خدا نے انسان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو فرشتوں نے اِس پر اپنے تردد کا اظہار کرتے ہوئے کہا أتجعل فیها مَن یفسد فیها ویسفك الدماء (2:30) ۔ یہ بات فرشتوں نے غالباً جنات کے متعلق اپنے سابق تجربے کی بنیاد پر کہی ۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ جب آزادی پاکر جنات نے زمین پر فساد برپا کیا، تو اِسی طرح انسان بھی آزادی پاکر زمین میں فساد برپا کرے گا۔ اِس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا إنّي أعلم ما لا تعلمون (2:30) یعنی میں وہ جانتا ہوں جس کو تم نہیں جانتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جن اور انسان میں ایک بنیادی فرق ہے، وہ یہ کہ انسان کے خالق نے اس کی تخلیق میں استثنائی طورپر ایک طاقت ور جذبہ شامل کیا جس کو ندامت (feeling of guilt) کہاجاتا ہے، یعنی انسان اپنی آزادی کا بے جا استعمال کرکے ایک غلطی کرتا ہے، لیکن اس کے بعد اس کے اندر ندامت کا احساس جاگتا ہے اور وہ اپنی اصلاح کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ یہ جذبۂ ندامت جنات کے اندر موجود نہ تھا جن کو خالق نے آگ سے پیدا کیا تھا۔ اِسی جذبۂ ندامت کی بنا پر یہ امید تھی کہ انسان غلطی کرکے مستقل طور پر سرکش نہیں بن جائے گا، جیسا کہ ابلیس نے کیا، بلکہ وہ غلطی کرنے کے بعد نادم ہوگا اور دوبارہ اصلاح کے راستے پر چلنے لگے گا۔

ندامت (repentance) کا یہ جذبہ انسان کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔ اِس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی صراطِ مستقیم سے بھٹکنے کے بعد دوبارہ مزید شدت کے ساتھ اُس پر قائم ہوجائے۔ اِس معاملے کی پہلی مثال خود انسانِ اول آدم کی زندگی میں ملتی ہے۔ قرآن کے مطابق، انھوں نے ایک غلطی کی اور پھر توبہ کرکے انھوں نے نبوت کا درجہ حاصل کیا(20:121-122) ۔ بعد کی تاریخ میں اِس قسم کی ایک معلوم مثال عمر بن عبد العزیز اموی (وفات720 ء) کی ہے۔ اُن سے ایک غلطی ہوئی اور پھر انھوں نے توبہ کی(البدایۃ و النہایۃ، 9/103)۔ اِس کے بعد اُن کو یہ درجہ حاصل ہوا کہ وہ اسلام کی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز فرد قرار پائے، حتی کہ اُن کو خلفاءِ راشدین کی فہرست میں شامل کرکے پانچواں خلیفہ کہا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان کا مقصد حیات

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنات اور انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں(51:56) ۔ عبد اللہ بن عباس شاگرد مجاہد کی تفسیر کے مطابق، اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت ہے (القرطبی 17/55 )۔ معرفت سے مراد کوئی پراسرار معرفت نہیں ہے۔ یہ دراصل خدا کے تخلیقی منصوبہ کی معرفت ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی فکری صلاحیت (intellectual ability) کو استعمال کرکے اپنے خالق اور اپنے رب کو دریافت کرے۔ پھر وہ اپنے آپ کو خالق کے منصوبہ میں شامل کرے، وہ اپنے آپ کو اِس کا اہل بنائے کہ خدا اس کو اپنے اعلیٰ انعامات سے نوازے، وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے لائق امیدوار (deserving candidate) ثابت کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی یہ آیت اس سلسلے میں رہنما آیت کی حیثیت رکھتی ہے خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم أیکم أحسن عملاً (67:2) ۔ قرآن کی اِس آیت کے مطابق، موجودہ دنیا ایک انتخابی مقام (selection ground) ہے۔ یہاں آزادی کے ماحول میں انسان کو رکھ کر یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct) ثابت کرتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زندگی کا یہ تصور، زندگی کو نہایت بامعنیٰ بنادیتا ہے۔ برٹش سائنس داں سر جیمز جینز (James Jeans) نے دیکھا کہ انسان اس دنیا میںآتا ہے اور اس کا انجام یہ ہوتاہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال نہیں کرپاتا، اس کی خواہشوں کو فُل فِل مینٹ(fulfillment) نہیں ملتا اور وہ مرکر اِس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا کہ — انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اُس کے لیے بنائی نہیں گئی تھی

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Man has strayed into a world which has not been made for him.

لیکن قرآن کے مذکورہ تصورِ حیات کی روشنی میں دیکھئے تو انسانی زندگی ایک انتہائی با معنی واقعہ بن جاتی ہے۔

قرآن میں خدا کی صفت احسن الخالقین (المومنون، 23:14) بتائی گئی ہے۔ دوسری طرف انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ احسن العمل (67: 2) بنے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ خدا کی جو صفت خدائی سطح پر ہے، وہی صفت انسان سے انسانی سطح پر مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خدا کی یہ صفت، قدرت کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور انسان کے اندر یہ صفت، اطاعت (obedience) کی سطح پر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک مشہور قول ہے تخلّقوا بأخلاق اللہ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ، صفحہ 120 ) یعنی اللہ والے اخلاق کو اپناؤ۔ یہ قول حدیث رسول نہیں ہے، لیکن وہ قرآن کے مذکورہ بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاقِ خداوندی کے مشابہ بنائے، کسی مجبوری کے بغیر وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے احسن العمل بنے۔ جو لوگ اِس معیار پر پورے اتریں، وہ خدا کے مطلوب انسان قرار پائیں گے۔ ان کو آخرت کی معیاری دنیا میں خدا کے پڑوس میں جگہ ملے گی (66:11)۔ وہ اِس قابل ٹھہریں گے کہ ان کو خدا کی مہمان داری (hospitality)کا شرف حاصل ہوگا (41:32) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات اللہ کی اطاعت کررہی ہے (آل عمران، 3:83)۔ اِس اعتبار سے، مادّی کائنات انسان کے لیے اطاعت ِالٰہی کے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان کامل آزادی کے باوجود خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں دے دیتا ہے، جب کہ بقیہ کائنات جبر (compulsion) کے تحت یہ اطاعت کررہی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اختیارانہ اطاعت (submission by choice) ایک استثنائی ظاہرہ ہے جس کا ثبوت اِس دنیا میں صرف انسان دیتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز، ذرہ سے لے کر ستاروں (stars) اور سیاروں (planets) تک، کامل طورپر خالق کی عظمت بیان کررہی ہے، مگر اُن کا یہ بیان خاموش زبان میں ہے۔ ایسی ایک دنیا میں انسان کھڑا ہو کر نُطق (speech) کی زبان میں کہتا ہے کہ — خدایا، تو سب سے بڑا ہے۔ میں تیری عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو تیرے آگے جھکاتا ہوں۔ یہ صرف انسان ہے جو شعور کی سطح پر خالق کو دریافت کرتاہے اور پھر اپنے شعور کی سطح پر خالق کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے آگے مکمل طورپر اپنے آپ کو سرینڈر (surrender) کردیتا ہے۔ یہی شعوری سرینڈر جنت کی قیمت ہے۔

انبیاء کا دور

خالق کے منصوبہ (creation plan) کے مطابق، انسان کو ٹسٹ (test) کے لیے اِس دنیا میں رکھا گیا ہے۔ ٹسٹ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کا معیار (criterion) کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ کون شخص ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اِس ملی ہوئی آزادی کا غلط استعمال کرتاہے۔ صحیح اور غلط کا فرق جاننے کے لیے خالق نے پہلا انتظام یہ کیا کہ انسان کی فطرت میں صحیح اور غلط کی تمیز رکھ دی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے فألہمہا فجورها وتقواها (91:8) صحیح اور غلط کو جاننے کے لیے فطرت کی یہ رہنمائی گویا کہ ایک غیر منطوق رہنمائی (unspoken guidance) ہے۔ یہ رہنمائی پیدائشی طورپر ہر عورت اور مرد کے اندر یکساں طور پر موجود رہتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِسی کے ساتھ خالق نے منطوق رہنمائی (spoken guidance) کا انتظام کیا۔ اِس دوسرے انتظام کے تحت، اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اور ہر بستی میں اپنے پیغمبر بھیجے (35:24) ۔ اِن پیغمبروں کو وحی (revelation) کے ذریعے وہ رہنمائی بھیجی گئی جس کو قرآن میں الصراط المستقیم (1:5) کہاگیا ہے۔ یہ پیغمبرتاریخِ انسانی کے ہر دور میں مسلسل آتے رہے (23:44) ۔ آدم، پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اِس کے بعد حضرت محمد تک جو پیغمبر آئے، اُن کی تعداد حدیث میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار (1,24000) بتائی گئی ہے (مسند احمد بن حنبل،حدیث نمبر 22288)۔ قرآن میں نام کے ساتھ 25 پیغمبروں کا حوالہ آیاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم جدید ذہن کے نزدیک، یہ تمام پیغمبر غیرتاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں، اُن کے نزدیک اِن پیغمبروں کو تاریخی پیغمبر (historical prophets)کا درجہ حاصل نہیں۔ پیغمبروں کی پوری تاریخ میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا استثنا ہے۔ پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب مکمل طورپر ایک تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس حقیقت کا اعتراف ایک مغربی اسکالر نے اِن الفاظ میں کیا ہے کہ — محمد تاریخ کی مکمل روشنی میں پیدا ہوئے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Muhammad was born within the full light of history.

پچھلے پیغمبروں کا ذکر تاریخ میں کیوں موجود نہیں، اِس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق ہے۔ قدیم زمانے میں صرف بادشاہوں کے حالات یا جنگ اور فتح کے واقعات قابلِ ذکر سمجھے جاتے تھے۔ چوں کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ اِس طرح کے سیاسی واقعات جمع نہیں ہوئے، اِسی لیے قدیم مورخین نے پیغمبر کو تاریخی طورپر قابلِ ذکر نہیں سمجھا۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بڑے بڑے سیاسی واقعات پیش آئے، اِس لیے آپ کے ہم عصر مورخین نے آپ کے ظہور کو ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت دی اور اپنی کتابوں میں ایک واقعہ کے طورپر اس کا اندراج کیا۔

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، سب ایک ہی پیغام لے کر آئے اور وہ توحید کا پیغام تھا، یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ ایک خدا کا عابدبن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم جمع نہ ہوسکی، اِس لیے ہر پیغمبر کا مشن عملاً توحید کے اعلان (announcement) کے درجے تک پہنچا، وہ توحید پر مبنی انقلاب کے درجے تک نہ پہنچ سکا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ غیرموحّدانہ آئڈیالوجی پر چلتی رہی، تاریخ کا سفر موحدانہ آئڈیالوجی پر جاری نہ ہوسکا۔

خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ دعوت کے لیے اٹھنے والوں کی تائید فرماتا ہے۔ پچھلے پیغمبروں کو اِس مقصد کے لیے جو تائید دی گئی، وہ معجزہ (miracle) تھا۔ مثلاً حضرت موسیٰ کو یہ معجزہ کہ اُن کا عصا ایک زندہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ مگر اِس طرح کے خارقِ عادت معجزات کے باوجود لوگ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے پر راضی نہ ہوسکے، معجزہ کو انھوں نے جادو (magic) قرار دے کر رد کردیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نئی منصوبہ بندی

خالق کا وجود ایک ناقابلِ مشاہدہ وجود ہے۔ اِس کے مقابلے میں، مخلوق ایک قابلِ مشاہدہ چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس بنا پر تاریخ کے آغاز ہی سے ایسا ہوا کہ انسان، مخلوق پرستی یا فطرت پرستی (nature worship) میں مبتلا ہوگیا۔ عبودیت کے فطری جذبات جو خالق کے لیے تھے، اُس کو انسان نے مخلوق کے ساتھ وابستہ کردیا۔قرآن کی ایک آیت میںاِس حقیقت کی طرف اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیا ہے ربّ إنّهن أضللن کثیراً (14:36) یعنی جو چیزیں انسان کو زیادہ نمایاں دکھائی دیں، اُن کواُس نے خدائی کا درجہ دے کر پوجنا شروع کردیا۔ مثلاً سورج، چاند، ستارہ، پہاڑ اور سمندر، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس طرح تاریخ میں انسان کبھی عمومی طورپر مذہبِ توحید کو اختیار نہ کرسکا۔ تمام انسانی آبادیوں میں ایک ہی مذہب رائج ہوا، اور وہ مظاہر پرستی کا مذہب تھا۔ اِسی مظاہر پرستی کو قرآن میں شرک یا مشرکانہ مذہب کا نام دیاگیا ہے۔ یہ سلسلہ نسل درنسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک کی روایات تاریخ کے تسلسل میں شامل ہوگئیں۔ اِسی واقعہ کو قرآن کی ایک آیت میں، اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے ولا یلدوا إلاّ فاجراً کفّاراً (71:27) ۔ اِسی تاثر پذیری کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہر پیدا ہونے والا مشرکانہ روایات کے ماحول میں پیدا ہوتا تھا اور دھیرے دھیرے وہ اُسی میں پختہ ہوجاتا تھا۔ اِس طرح ہر انسان کنڈیشننگ (conditioning) کا کیس بن گیا۔ اِسی کنڈیشننگ کی طرف ایک حدیث میں اِن الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت ابراہیم بن آزر (وفات1985 ق م ) قدیم عراق میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے۔ اُن کی غیر معمولی دعوتی کوشش کے باوجود ان کی قوم انکار کی روش پر قائم رہی۔ اُن کے زمانے تک یہ واضح ہوگیا کہ مجرد دعوت یا انذار وتبشیر لوگوں کی مشرکانہ کنڈیشننگ کو توڑنے کے لیے کافی نہیں۔نسل در نسل کے روایتی تسلسل نے لوگوں کے ذہن کو شرک پر اتنا زیادہ پختہ کردیا ہے کہ اب اُن کے ذہنی شاکلہ (framework) کو توڑنے یا ان کی ڈی کنڈیشننگ کرنے کے لیے ایک اور انقلابی منصوبہ درکار ہے۔ یہی وہ خدائی فیصلہ تھا جس کے تحت ہاجرہ اور اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسایا گیا۔

خدا کے حکم سے حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو لے کر فرشتہ جبریل کی رہنمائی میں شام سے نکلے۔ جب بھی وہ راستے میں کسی بستی سے گزرتے تو وہ جبریل سے پوچھتے کہ اے جبریل، کیا مجھ کو یہاں ٹھہرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ جبریل کہتے کہ نہیں۔ اِس طرح چلتے ہوئے وہ موجودہ مکہ کے مقام پر پہنچے۔ اُس وقت یہاں کوئی آبادی نہ تھی، صرف صحرا تھا یا خشک پہاڑ۔ بالآخر جبریل کے حکم سے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی اور اپنے چھوٹے بچے اسماعیل کو یہاں بسا دیا۔

حضرت ابراہیم جب اِس طرح ہاجرہ کو چھوڑ کر وہاں سے جانے لگے تو ہاجرہ نے پوچھا کہ آپ ہم کو اِس صحرا (desert) میں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں۔ ہاجرہ نے کئی بار پوچھا، مگر حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہیںدیا۔ آخر میں ہاجرہ نے کہا کہ کیا آپ کو اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے (اٰللہ أمرک بہذا) حضرت ابراہیم نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر ہاجرہ نے کہا إِذَنْ لاَ يُضَيِّعُنَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364 ) یعنی پھر اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعہ چار ہزار سال پہلے عرب کے صحرا میں پیش آیا۔ اِس کے بعد تحریکِ توحید کا ایک نیادور شروع ہوا۔ اِس نئے دور کو ایک جملے میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے — ایک ایسی قوم تیار کرنا جو مشرکانہ ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ یہ مقام جہاں ہاجرہ اپنے چھوٹے بچے کو لے کر آباد ہوئیں، وہ متمدن شہروں سے بہت دور تھا۔ یہاں دن کے وقت صحرا اور پہاڑ اور سورج دکھائی دیتے تھے اور رات کے وقت چاند اور ستارے نظر آتے تھے۔ اِس طرح ایک بے آمیز ماحول میں توالد وتناسل کے ذریعے ایک نئی نسل بنناشروع ہوئی، جو تاریخ میں بنو اسماعیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ اِس نسل کی پرورش ایک انتہائی سادہ اور غیر متمدن ماحول میں ہوئی۔ اِس بنا پر وہ مشرکانہ ماحول کی کنڈیشننگ سے محفوظ رہی۔

عام طور پر مورخین اِس نسل کو ایک منفرد نسل کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ اِس نسل کے افراد میں انسانی اوصاف اعلیٰ درجے میں موجود تھے۔ قدیم عرب اِن اوصاف کو ’المروء ۃ‘ کہتے تھے۔ زیادہ درست طورپر اس کو ’الفطرۃ‘ کہاجاسکتا ہے۔ اُس دور کے بنو اسماعیل کی اِن غیر معمولی صفات کی بنا پر ایک مغربی اسکالر نے اُن کو ہیروں کی قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہاجرہ اور اسماعیل کے لیے یہ صحرائی زندگی غیر معمولی قربانی کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ قربانی کسی میدانِ جنگ میں لڑ کر مرجانے سے ہزاروں گنا زیادہ بڑی قربانی تھی۔ اِسی لیے قرآن میں اُس کو ذِبحِ عظیم (37: 107) کہاگیا ہے، یعنی عظیم قربانی۔ قرآن کی اِس آیت میں ذبحِ عظیم سے مراد مینڈھے کا ذبیحہ نہیں، بلکہ وہ خود اسماعیل کا ذبیحہ ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت اسماعیل کا بے آب و گیاہ صحرا میں آباد ہونا بلا شبہہ ایک عظیم ترین قربانی کا درجہ رکھتا تھا، جسمانی معنوں میں نہیں، بلکہ روحانی معنوں میں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آخری رسول کا ظہور

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے، دوسرے رسولوں کی طرح ایک رسول تھے، آپ کی مزید صفت یہ تھی کہ اِسی کے ساتھ آپ خاتم النبیین (33:40) تھے۔ خاتم النبیین کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ پیغمبروں کی لسٹ کے آخری فرد تھے، پیغمبر اسلام کی اصل حیثیت یہ ہے کہ آپ دو دوروں کے درمیان حدِ فاصل (line of demarcation) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کے اوپر دعوتِ توحید کا ایک دور ختم ہوا۔ آپ کے بعد دوسرے دورِ دعوت کا آغاز ہوا جو قیامت تک مختلف صورتوں میں جاری رہے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں سوال یہ ہے کہ ختمِ رسالت کے باوجود انسانی نسل کا سلسلہ برابر جاری ہے، پھر آپ کے بعد آنے والی نسلوں کی پیغمبرانہ ہدایت کی صورت کیا ہو۔اِس کا جواب قرآن کی اِس آیت میں ملتا ہے عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا (17:79) ۔ قرآن کی اس آیت میں ’’مقامِ محمود‘‘ سے مراد کوئی پر اسرار مقام نہیں ہے، بلکہ ایک معلوم مقام ہے۔ اِس کا مطلب ہے— تاریخی طورپر مانا ہوا پیغمبر (historically acknowledged prophet) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر آئے، اُن کی پیغمبرانہ حیثیت کا تعلق دنیا میں ان کی جسمانی موجودگی سے تھا۔ اُن کی وفات کے بعد اُن پر یقین کرنے کے لیے تاریخی شہادت درکار تھی، مگر تاریخی ریکارڈ میں ان کا حوالہ موجود نہ تھا، اِس لیے بعد کی نسلوں کے لیے اُن کی حیثیت تاریخی اعتبار سے، ایک غیر تسلیم شدہ پیغمبر کی ہوگئی۔ جب آدمی زندہ موجود نہ ہو تو صرف تاریخ اس کی زندگی کا ثبوت ہوتی ہے۔ اِس بنا پر یہ ہوا کہ انبیائِ سابقین اپنی بعد کی نسلوں کے لیے خالص تاریخی اعتبار سے، ہدایت کے مستند مرجع (authentic reference) کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔

مثال کے طورپر مشہور بر ٹش فلسفی برٹرنڈ رسل (وفات1970 ) نے اپنی کتاب ’میں مسیحی کیوں نہیں‘(Why I am not a Christian) میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ — تاریخی اعتبار سے یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا

other sourceWords of another person or source

Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all.

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ محمود پر کھڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسے اسباب اکھٹا کئے جائیں کہ آپ کو تاریخی طورپر ایک مسلَّم پیغمبر کی حیثیت حاصل ہو جائے، تاکہ آپ اپنی وفات کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے بھی اُسی طرح ایک قابلِ حوالہ پیغمبر کی حیثیت سے باقی رہیں، جیسا کہ آپ اپنی زندگی میں ایک قابلِ حوالہ پیغمبر کی حیثیت رکھتے تھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم واحد پیغمبر ہیں جن کی زندگی اور مشن کے بارے میں مکمل تاریخی ریکارڈ موجود ہے۔ اِسی مسلّمہ تاریخی ریکارڈ کو قرآن میں ’مقامِ محمود‘ کہاگیا ہے۔ یہی ختمِ نبوت کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ جب ایک پیغمبر کی زندگی اور اس کے مشن سے متعلق تمام تفصیلات قابلِ اعتماد صور ت میں لکھی ہوئی محفوظ ہوجائیں، تو اس کے بعد یہ مستند تاریخی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتاہے۔ اِس کے بعد یہ ضرورت باقی نہیں رہتی کہ دوسرا پیغمبر آئے۔

اصحابِ رسول کا دور

مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود کی ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے إِنَّ اللهَ تَعَالَى نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، وَانْتَخَبَهُ بِعِلْمِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ النَّاسِ فَاخْتَارَ أَصْحَابَهُ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأنصارَ دِينِهِ (المعجم الكبير للطبراني، حدیث نمبر 8583)۔ یعنی اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا، پس اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا۔ پیغمبری کے لیے آپ کی بعثت فرمائی اور آپ کو اپنے علم کے مطابق،منتخب کرلیا۔ اِس کے بعد اللہ نے لوگوں کے دلوں کو دیکھا، اور رسول اللہ کے لیے آپ کے اصحاب کو چن لیا۔ اُن کو اپنے نبی کا وزیر بنایا، اور اپنے دین کا مدد گار ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس روایت سے اور اِس طرح کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول ایک منتخب گروہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ اصحابِ رسول کون لوگ تھے۔ یہ بنو اسماعیل کی اُس نسل میں پیداہونے والے افراد تھے جو خصوصی منصوبہ کے تحت، عرب کے صحرا میں تیار کئے گئے۔ ان کے اندر استثنائی طورپر وہ انسانی کردار موجود تھا جودعوتِ توحید کی بنیادپر ایک ٹیم بنانے کے لیے درکار تھا۔ اِس کردار کے اہم پہلو قرآن کی ایک آیت میں اِن الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (48: 29)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت میں ’والذین معہ‘ سے مراد ہے — تاریخی عظمت قائم ہونے سے پہلے خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبر کو پہچاننا، اور اس کی تصدیق کرکے اس کے مشن میں کامل طورپر اس کا ساتھی بن جانا۔ صحابہ کی جماعت میں یہ صفت ایک تاریخی استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیغمبر اسلام سے پہلے جو پیغمبر آئے، ان کے معاصرین ان کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ صحابہ کے اندر یہ صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ اِس صحرائی تربیت نے اُن کو آخری حد تک حقیقت پسند (realist) بنا دیا۔ وہ اِس قابل ہوگئے کہ ایک حقیقت کو وہ اس کی مجرد صورت میں پہچان سکیں۔ عام طورپر لوگ کسی انسان کو صرف اُس وقت پہچانتے ہیں جب کہ بعدکو اس کے گرد تاریخ کی عظمتیں جمع ہوگئی ہوں۔ صحابہ وہ معاصر اہلِ ایمان تھے جنھوں نے تاریخی عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس کی ساعتِ عسرہ (التوبۃ، 9:117) میں پہچانا اور اس کے مشن کے لیے اپنے آپ کو پوری طرح وقف کردیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’أشداء علی الکفار‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ منکرین پر سخت یا بے رحم تھے۔ عربی زبان میں کہاجاتا ہے  ہو شدید عليّ (وہ میرا اثر قبول نہیں کرتا)۔ اِس اعتبار سے، اشداء علی الکفار کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ اہلِ انکار کے لیے غیر اثر پذیر افراد کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کا شعور اتنا زیادہ بیدار تھا کہ وہ ماحول کا اثر قبول کئے بغیر اپنے اسلامی کردار پر قائم رہ سکتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس واقعہ کو دوسرے الفاظ میں، اِس طرح کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ اپنے ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning)کو قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ پوری طرح کنڈیشننگ سے پاک شخصیت (de-conditioned personality) کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے اندر یہ استثنائی صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ یہ لوگ بنو اسماعیل کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، اور بنو اسماعیل کے لیے ان کے صحرائی ماحول میں وہ تمدنی اسباب سرے سے موجود ہی نہ تھے جو لوگوں کی کنڈیشننگ کریں اور اِس طرح اُن کو ان کی فطرت سے ہٹا دیں۔

’رُحماء بینهم‘ کا مطلب سادہ طورپر یہ نہیں ہے کہ صحابہ دوسروں کے لیے مہربان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے لیے مہربان ہونا، ایک نہایت مشکل کام ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں باربار دوسروں کی طرف سے ناپسندیدہ روش کا تجربہ ہوتا ہے۔ اِس بنا پر عمومی طورپر یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے نفرت اور شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اِس بنا پر دوسروں کے لیے مہربان ہونا، صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی شکایتوں سے اوپر اٹھ جائے۔ وہ اتنا زیادہ باشعور ہو کہ وہ منفی تجربات کو مثبت احساس میں تبدیل کرسکے۔

دوسروں کے لیے مہربان ہونے کا مطلب ہے، یک طرفہ طورپر دوسروں کے لیے مہربان ہونا۔ اِس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحابہ کے اندر وہ خصوصی صفت موجود تھی جس کو مثبت سوچ (positive thinking)کہاجاتا ہے۔ صحابہ مثبت ذہن رکھنے والوں (positive thinkers) كا ایک گروہ تھے۔ اِسی یک طرفہ مثبت سوچ کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ شکایات کے باوجود لوگوں کے لیے ہمدرد بن جائیں، لوگوں کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آنے کے باوجود وہ لوگوں کے لیے خیر خواہ بنے رہیں۔

فتنہ کا خاتمہ

صحابہ کی جماعت نے جو کام انجام دیا، اُس میں سے ایک خاص کام وہ ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ، ویکون الدین کلّہ للہ (8:39)۔ فتنہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہاجاتا ہے۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر، مذہب کی نسبت سے سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اِسی حقیقت کی طرف قرآن کی سورہ البروج (85:4-8) میں اشارہ کیاگیا ہے۔

اِس عمومی مذہبی جبر کی بنا پر قدیم زمانے میں صرف یہی نہیں تھا کہ مذہب کے بارے میں اختیار (choice) ختم ہوگیا تھا، بلکہ ہر پہلو سے آزادانہ غور وفکر کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ حکومتیں اِس مذہبی جبر کی سرپرستی کرتی تھیں، کیوں کہ اربابِ حکومت اس کو اپنے سیاسی اقتدار کے باقی رکھنے کے لیے نہایت مفید سمجھتے تھے۔ جمہوری دور میں ایک سیاسی پارٹی ووٹروں سے مینڈیٹ (mandate) حاصل کرتی ہے۔ قدیم زمانے میں بادشاہ مشرکانہ عقائد سے اپنے لیے حکومت کا حق حاصل کرتے تھے۔

اصحاب رسول کا رول

اصحاب رسول کی تاریخ عملاً چار ہزار سال پہلے، ہاجرہ اُمّ اسماعیل سے شروع ہوتی ہے۔ ہاجرہ کی قربانی اِس مشہورقول کی کامل مصداق ہے کہ — ہر بڑے واقعہ کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتاہے

There is a woman at the beginning of all great things.

ہاجرہ کی قربانی سے وہ اعلیٰ نسل بنی جو تاریخ میں بنو اسماعیل (Ishmilites) کے نام سے مشہور ہے۔ اِسی نسل سے وہ استثنائی افراد نکلے جن کے مجموعے کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔

اصحابِ رسول کا رول تاریخ میں کیا تھا، وہ ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر (2ہجری) کے موقع پر دعا کرتے ہوئے اپنے اصحاب کے بارے میں کہا تھا اللهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْض(صحیح مسلم،حدیث نمبر 1763)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس قولِ رسول میں العصابۃ سے مراد صحابہ کی جماعت ہے۔ صحابہ نے ہاجرہ کے بعد دوبارہ بے مثال قربانی کے ذریعے عہد ساز رول(epoch-making role) ادا کیا تھا۔ اصحاب رسول کے اِس غیر معمولی رول سے انسانی تاریخ میں وہ انقلاب آیا جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین (وفات1935 ) نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے — اسلام نے زمین کے نقشہ کو بدل دیا۔ تاریخ کے روایتی ڈھانچے کو اکھاڑ کر پھینک دیاگیا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrone.

صحابہ کی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں جو تبدیلی آئی، اس کو ایک لفظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ — صحابہ نے تاریخ میں پہلی بار مخلوق کی پرستش (nature worship) کے دور کو ختم کیا اور خالق کی پرستش کے دور کا آغاز کیا۔ بعد کے زمانے میں انسانی تاریخ میں جو دوررس تبدیلیاں آئیں، وہ سب اُسی انقلاب کا نتیجہ تھیں جو صحابہ کے ذریعہ ساتویں صدی عیسوی میں برپا ہوا تھا۔

الحمد للہ کلچر

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے الحمد للہ رب العالمین (1:2) ۔ یہ آیت دنیا کی زندگی کے بارے میں ربُّ العالمین کے مطلوب کو بتاتی ہے۔ ٹھیک یہی آیت قرآن میں آخرت کے حوالے سے آئی ہے وقیل الحمد للہ رب العالمین (39:75) ۔ یہ دوسری آیت آخرت میں خدا کے مطلوب کو بتا رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالقِ کائنات کو انسان کی زندگی میں ایک ہی کلچر مطلوب ہے، اور وہ الحمد للہ کلچر ہے، موجودہ دنیا میں بھی الحمد للہ کلچر، اور قیامت کے بعد بننے والی اگلی دنیا میں بھی الحمد للہ کلچر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسانوں کے درمیان اِسی الحمد للہ کلچر کو فروغ دینے کے لیے خدا نے مسلسل اپنے پیغمبر بھیجے۔ اِس کے نتیجے میں کچھ افراد (individuals) ایسے پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی ذاتی زندگی میں الحمد للہ کلچر کو اپنایا، لیکن عمومی حیثیت سے، پوری تاریخ میںالحمد لغیر اللہ کلچر چھایا رہا، انسانی زندگی کا پورا نقشہ الحمدلغیرا للہ کلچر کا عملی نمونہ بن کر رہ گیا۔ یہ معاملہ انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ کے سراسر خلاف تھا۔ اس لیے خدا نے تاریخ میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ خدائی مداخلت (divine intervention) کا یہ واقعہ ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے ذریعے ظہور میں آیا۔

قرآن میں اصحابِ رسول کے رول کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیاہے وقاتلوهم حتی لا تکون فتنۃ، ویکون الدین کلّہ للہ (8:39) یعنی اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ اِس آیت میں فتنہ سے مراد شرک ہے، جیسا کہ مفسرینِ قرآن نے عام طورپر بیان کیا ہے۔ شرک کیا ہے، شرک دراصل الحمد لغیر اللہ کلچر کا دوسرا نام ہے۔ انسان، خالق کو دیکھ نہ سکا تو اُس نے دکھائی دینے والی مخلوقات کی پرستش شروع کردی۔ وہ خالق کے بجائے مخلوق کی عظمت (glory) میں جینے لگا۔ اِسی کا نام شرک ہے۔ اور اِسی کو ہم نے الحمد لغیر اللہ کلچر کا نام دیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حمد کیا ہے

حمد صرف اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور اِس کا سزاوار نہیں کہ اس کی حمد کی جائے۔ حمد کی اصل مدح ہے، لیکن حمد میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اِس لحاظ سے، حمد کا مطلب اعلیٰ تعریف (high praise) ہے۔ جس ہستی کی تعریف کی جائے اُس کے لحاظ سے تعریف کرنے والے کے اندر جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص اللہ کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ الحمد للہ، تو یہ سادہ طورپر صرف مدح اور تعریف کا ایک کلمہ نہیں ہوتا، اُس میں شکر واعتراف، احسان مندی اور جذباتی تعلق جیسے تمام اعلیٰ احساسات لازمی طور پر شامل ہوجاتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے حمد، مدح کے معنی میں ہے، لیکن استعمال کی نسبت سے اس میں معنوی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حمد کے لغوی معنی اگرچہ وہی ہیں جو مدح کے معنی ہیں، لیکن حمد کا لفظ جب رب العالمین کی نسبت سے بولا جائے تو وہ مدح پلس (praise plus) کے ہم معنی بن جائے گا۔

ایک انسان جب اپنے وجود پر غور کرتا ہے، وہ کائنات کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیق کے مظاہر میں خالق کو دریافت کرتا ہے، تو اس کے اندر احساسات کا سمندر موج زن ہوجاتاہے۔ اُس وقت وہ بے تابانہ طور پر کہہ اٹھتا ہے الحمد للہ ربّ العالمین۔ یہ شعوری حمد خدا کی ہستی کا اعلیٰ ترین اعتراف ہے، اِس کے بعد اعتراف کا اور کوئی درجہ نہیں۔

انسان کی فطرت میں پیدائشی طورپر یہ شعور موجود ہے کہ وہ ایک اعلیٰ ہستی کو پائے اور اس کے لیے اپنی طرف سے کمالِ اعتراف کے جذبات پیش کرے۔ انسان جب ایک خدا کو اپنی اِس فطرت کی پکار کے جواب کے طورپر دریافت کرے، تو اِسی کا نام توحید ہے۔ اور جب انسان اپنے اِن جذبات کو کسی غیرِ خدا کی طرف منسوب (attribute) کردے اور اُس سے وہ تعلق پیدا کرلے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے یحبّونهم کحب اللہ (2:165) تو اِسی کا نام شرک ہے۔ توحید پر مبنی دین، اللہ کا مطلوب دین ہے اور شرک پر مبنی دین، اللہ کا غیر مطلوب دین۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصحابِ رسول کا ایک استثنائی رول تھا۔ وہ رول یہ تھا کہ وہ تاریخ میں الحمد لغیر اللہ کلچر کے غیرمطلوب تسلسل کو توڑیں اور الحمد للہ کلچر کے مطلوب دور کاآغاز کریں۔ قرآن کی مذکورہ آیت (الانفال، 8:39) میں قتال (جنگ) کا لفظ زمانے کی رعایت سے آیا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ صورتِ حال تھی کہ الحمد لغیرا للہ کلچر نے سیاسی اقتدار (political power) کی سرپرستی حاصل کرلی تھی، اِس لیے الحمد لغیراللہ کلچر کا خاتمہ کرنے کے لیے وقت کے سیاسی اقتدار سے مسلّح ٹکراؤ پیش آیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ساتویں صدی عیسوی میں دو بڑے سیاسی ایمپائر تھے جو الحمد لغیراللہ کلچرکے فعّال سرپرست بنے ہوئے تھے۔ یہ تھے — رومن ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر۔ وہ اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ الحمد لغیر اللہ کلچر کا رواج پوری طرح قائم رہے۔ چناں چہ انھوں نے عرب کے صحرا میں اٹھنے والی تحریکِ توحید یا الحمد للہ کلچر کو اپنے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا اور اس کے خلاف خود اپنی طرف سے مسلّح کارروائی کا آغاز کردیا۔ اِس کے نتیجے میں اصحابِ رسول کو رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں دفاعی طورپر جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں اصحاب رسول کی طاقت تقریباً صفر(zero) کی حیثیت رکھتی تھی۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی مدد کی۔ ایسے اسباب پیداہوئے کہ دونوں ایمپائر دس سال کے اندر دوبار خود ایک دوسرے کے خلاف مسلح جنگ میں مبتلا ہوگئے۔ اِس باہمی ٹکراؤ نے دونوں کو آخری حد تک کمزور کردیا۔ باہمی جنگ کے ذریعے پیش آنے والی یہی دو طرفہ مغلوبیت ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ الروم کی ابتدائی آیتوں میں اشارہ کیا گیا ہے (30: 2-5)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بائبل میں کئی ایسی پیشین گوئیاں ہیں جن کا تعلق اصحابِ رسول سے ہے۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی وہ ہے جس کا تعلق رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کی مغلوبیت کے اِسی واقعے سے ہے۔ اِس واقعے کو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے — اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگئے، قدیم ٹیلے جھک گئے

other sourceWords of another person or source

He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6)

other sourceWords of another person or source

خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب کے زمانہ خلافت (634-644 ء) میں صحابہ کی جماعت ایران میں داخل ہوئی۔ ان کی فتوحات کو دیکھ کر ایران کا سپہ سالار رستم مرعوب ہوگیا۔ اس نے صحابہ کے وفد کو اپنے دربار میں گفت وشنید کے لیے بلایا۔ گفتگو کے دوران رستم نے صحابی رسول ربعی بن عامر سے پوچھا کہ تم لوگ ہمارے ملک میں کیوں داخل ہوئے۔ ربعی بن عامرنے بے خوفی کے ساتھ جواب دیا اللَّهُ ابْتَعَثَنَا، وَاللَّهُ جَاءَ بِنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ (تاریخ الامم والملوک للطبری، جلد3 ، صفحہ 520)۔ یعنی اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تاکہ وہ جس کو چاہے ہم اُس کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحابی رسول کے اِس قول کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ اللہ نے اپنے ایک منصوبے کے تحت ہم کو اٹھایا ہے، وہ منصوبہ یہ ہے کہ دنیا سے الحمد لغیر اللہ کلچر کے غیر مطلوب دور کا خاتمہ ہو، اور دنیا میں الحمد للہ کلچر کا ربانی دور شروع ہوجائے۔ اصحابِ رسول کا یہ اقدام اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کسی قسم کا سیاسی غلبہ قائم کرنے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ زیادہ وسیع تر معنی میں تھا۔ اصحاب رسول کا مشن یہ تھا کہ وہ دنیا میں ایک نئی تہذیب (civilization) کا غلبہ قائم کریں۔ یہ ایک دورِ تہذیب کی جگہ دوسرے دور تہذیب کو لانا تھا، نہ کہ محدود معنوں میں ایک حکومت کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری حکومت کو لانا، یعنی الحمد لغیر اللہ پر مبنی تہذیب کی جگہ الحمد للہ پر مبنی تہذیب۔

حقیقی تصویر، تاریخی تصویر

آج جب اصحابِ رسول کا نام لیا جاتا ہے تو اُس وقت تک اُس کو مکمل نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ اُن کے نام کے ساتھ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسے تعظیمی الفاظ شامل نہ کیے جائیں۔ آج اصحاب رسول کا لفظ مسلّمہ طور پر ایک پُر عظمت لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصحابِ رسول کی یہ تصویر اُس وقت بنی ہے، جب کہ اُن کے ساتھ بعد کی تاریخی عظمتیں شامل ہوگئیں۔ لیکن اصحاب رسول کی تصویر اُن کے معاصرین کے لیے بالکل عام انسانوں جیسی تھی۔ صلح حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح کی گفتگو ہوئی تھی۔ اُس وقت آپ کے ساتھ چودہ سو اصحاب تھے۔ اُس موقع پر قریش کے نمائندہ عروہ بن مسعود الثقفی نے صحابہ کو دیکھ کر حقارت کے ساتھ اُن کو أشواب یعنی محض ایک بھیڑ (crowd) کا نام دیا تھا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر 3/331)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی معاملہ یقینی طور پر بعد کے زمانے کے گروہ، اخوان رسول کے ساتھ بھی پیش آئے گا۔ اُن کے معاصرین کی اکثریت ان کو پہچاننے میں ناکام رہے گی۔ یہ عام انسانی کمزوری ہے۔ مشہور مثل ہے کہ پیغمبر اپنے زمانے میں پہچانا نہیں جاتا(A prophet is never honored in his own land)۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اپنے معاصرین کو عام انسانوں جیسا دکھائی دیتاہے۔ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو ایسے فرد یا گروہ کے ساتھ بعد کو پیش آنے والے تاریخی واقعات اُن کے نام کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔ بعد کے زمانے کے لوگ جب اُن کا نام لیتے ہیں تو ایک تاریخی انسان یا تاریخی گروہ کا تصور ان کے ذہن میں آتا ہے، نہ کہ اُس انسان یا اُس گروہ کا تصور جو کہ خود اپنے زمانے میں پایا جاتاتھا۔ حقیقی انسان اور تاریخی انسان کا یہی فرق دوبارہ کام کرے گا اور لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ سابق اصحاب رسول کی عظمت تو خوب بیان کریں گے، لیکن وہ اپنے معاصر اخوان رسول کو کم تر سمجھ کر اُنھیں نظر انداز کردیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مشترک تائیدی عمل

ساتویں صدی عیسوی میںاصحاب رسول کی جماعت کا بننا کوئی سادہ واقعہ نہ تھا، وہ ایک لمبے تائیدی عمل کے ذریعے انجام پایا۔ یہ تائیدی عمل تھا — صحرائی حالات میں خصوصی تربیت کے ذریعے بنو اسماعیل کی نسل کو وجود میں لانا۔ اس نسل کی خاص صفت یہ تھی کہ وہ غیر فطری ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک تھی۔ اِس بنا پر یہ لوگ حق کو قبول کرنے کی استثنائی صلاحیت رکھتے تھے۔ اِسی صلاحیتِ قبولیت کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ (24:35)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بیسویں صدی عیسوی میں ڈی کنڈیشننگ کا یہ واقعہ ایک اور نظام کے تحت پیش آیا۔ یہ سیکولر تہذیب کے تحت سیکولر تعلیم اور سیکولر افکار (secular thoughts) کا نظام تھا۔ موجودہ زمانے کے سیکولر تعلیمی اداروں کو بعض لوگوں نے منفی نام دے کر ’’قتل گاہ‘‘(slaughter house)بتایا۔ اِسی طرح انھوں نے جدید سیکولر تہذیب کو اسلام دشمن تہذیب کہا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ادارے ڈی کنڈیشننگ کے ادارے (institutions of de-conditioning) تھے۔ اِن جدید تعلیمی اداروں نے یہ کیا کہ وہاں تعلیم پانے والے افراد کے سابق شاکلہ کو توڑ کر اُن کو اِس قابل بنایا کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور تعصبات (prejudices) سے خالی ہو کر چیزوں کو ایز اِٹ اِز (as it is) دیکھ سکیں۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہی کام جدید سیکولر تہذیب نے بھی انجام دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس طرح جدید سیکولر اداروں میں تعلیم پاکر جو افراد تیا رہوئے، وہ گویا کہ بیسویں صدی کے ’’بنو اسماعیل‘‘ تھے۔ یہ لوگ اپنی تربیت کے تحت، غیر متعصبانہ ذہن رکھتے تھے۔ وہ اِس قابل تھے کہ اُن کے سامنے بے آمیز حق پیش کیا جائے تو وہ اُس کے بارے میں آزادانہ طورپر سوچیں اور اس کو قبول کرلیں۔ اِس طرح یہ جدید نسل اُن لوگوں کے لیے ایک موافق نسل بن گئی جن کو موجودہ زمانے میں اخوانِ رسول کا رول ادا کرنا تھا۔ یہ ایک مشترک تائیدی عمل کا واقعہ ہے جو دونوں گروہوں کے لیے خصوصی خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔

مسلم دورِ اقتدار

رسول اور اصحاب رسول 622 عیسوی میں مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مدینہ میں مسلمانوں کا ایک سٹی اسٹیٹ (city state) قائم ہوگیا، یعنی شہری ریاست۔ 632 عیسوی میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو پورا عرب مدینہ کے سیاسی سنٹر کے تحت آچکا تھا۔ اِس کے بعد مسلمانوں کا سیاسی اقتدار تیزی سے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے میں پھیل گیا۔ یہ مسلم اقتدار مختلف نشیب وفراز کے ساتھ تقریباً ایک ہزار سال تک باقی رہا۔

یہ مسلم سیاسی اقتدار اپنی وسعت کے اعتبار سے ایک ایمپائر (empire) کا درجہ رکھتا تھا۔ وہ اصولاً اسلام کی آئڈیا لوجی پر قائم تھا۔ اِس طویل دورِ اقتدار میں انسانیت کو بہت سے مثبت فائدے حاصل ہوئے۔ مثلاً انسانی مساوات کے دور کا آنا، توہم پرستی کا خاتمہ، عدل وانصاف کا قیام، وغیرہ۔ اگرچہ فطرت کے عام قانون کے مطابق، مسلم اقتدار کے طویل دور میں بہت سی کمیاں پائی جاتی تھیں، لیکن عملی اعتبارسے اِس دور نے انسانی تاریخ کو ایک نئے دورِ ترقی سے آشنا کیا۔

مسلم دورِ اقتدار کا سب سے زیادہ دور رس رول یہ تھا کہ اُس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار علم کو عمومی توسیع کے درجے تک پہنچایا۔ اسلام کے ظہور سے پہلے علم کادائرہ بہت محدود تھا۔ عام طورپر لوگ ناخوانداہ (illiterate) ہوتے تھے۔ مطالعۂ کتب کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی کتابیں برکت کے طورپر پڑھی جائیں یا بادشاہوں کے حالات کا مطالعہ کیا جائے۔

علمی توسیع کا اصل سبب

علم کی اِس توسیع کا اصل سبب بلا شبہہ قرآن تھا۔ قرآن، انسانی تاریخ کی پہلی کتاب ہے۔ جس میں بار بار نہایت تاکیدکے ساتھ یہ بات کہی گئی کہ زمین وآسمان کی چیزوںمیں غور کرو۔ قرآن نے اِس غور وفکر کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ اس کو عبادت کا درجہ دے دیا۔ سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں کائنات میں غور وفکر کرنے والوں کو خصوصی مقام دیتے ہوئے فرمایا وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (3:191) ۔ اور سورہ فاطر میں بارش کے نظام، نباتات اور حیوانات اور پہاڑوں کی ساخت وغیرہ کا مطالعہ کرنے والوں کو علماء (35:28) کا درجہ دیاگیا۔ قرآن میں پہلی بار اس حیثیت کا انکشاف کیاگیا کہ زمین وآسمان کو اس کے خالق نے انسان کے لیے مسخر (subservient) بنا دیا ہے (45:13)۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیچر انسان کو اپنا خادم نظر آنے لگی، نہ کہ معبود۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ قرآن کی اِن آیتوں نے اہلِ ایمان کو علم کے ایک توسیعی مفہوم سے متعارف کیا۔ اِس کے مطابق، پوری کائنات گویا کہ ایک وسیع لائبریری قرار پائی۔ علم ایک محدود شعبہ نہ رہا، بلکہ وہ ایک آفاقی شعبہ بن گیا۔

یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اسلام کے ظہور سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا رواج تھا۔ شرک دراصل مظاہرِ فطرت کی پرستش (nature worship) کادوسرا نام ہے۔ شرک کے نظریے کے تحت، فطرت (nature) پرستش کی چیز بنی ہوئی تھی۔ جو چیز پرستش کا موضوع (object of worship) کادرجہ رکھتی ہو، وہ اُسی وقت تحقیق کا موضوع (object of investigation) نہیں بن سکتی۔

مسلم دورِ اقتدار میں، قرآن کی آئڈیالوجی کے تحت، یہ ہوا کہ عمومی طور پر فطرت (nature) کو اُلوہیت (divinity) کے درجے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعدیہ ہوا کہ مظاہر فطرت بڑ ے پیمانے پر تحقیق و مطالعے کا موضوع بن گئے۔ اِس نئے کلچر کا پہلا مرکز مدینہ بنا۔ اس کے بعد وہ دمشق پہنچا۔ اس کے بعد قاہرہ اور بغداد میں اس کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس کے بعد وہ مسلم اسپین تک پہنچا اور قرطبہ اور غرناطہ اس کا مرکز بنے۔ مسلم اقتدار کے تحت، اِس دورِ علم نے کائنات کی تمام چیزوں کو مطالعہ اور تحقیق کا موضوع بنادیا ، جب کہ اِس سے پہلے اُس کو صرف تقدس اور عبودیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

اِس حقیقت کا اعتراف مختلف اہلِ علم نے کیا ہے۔ مثال کے طورپر بر ٹش مورخ آرنلڈ ٹائن— (وفات1975 ) نے یہ سوال قائم کیا ہے کہ فزیکل سائنس (physical science) تمام تر فطرت(nature) کی دریافت کا نام ہے۔ یہ فطرت ہمیشہ سے دنیا میں موجود تھی۔ انسان، اول دن سے اس کو دیکھ رہا تھا، پھر ایسا کیوں ہوا کہ فطرت کی یہ دریافت بہت زیادہ تاخیر کے ساتھ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوسکی۔آرنلڈ ٹائن بی نے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ قدیم زمانے میں انسان نے نیچر (فطرت) کو مقدس (sacred) سمجھ لیا تھا۔ وہ نیچر کو خدائی کا درجہ دئے ہوئے تھا۔ اِس بنا پر انسان، نیچر کی تحقیق یا اس کو مسخر کرنے کی بات نہ سوچ سکا۔ ٹائن بی (Arnold Toynbee) کے مطابق، بعد کے زمانے میں جب توحید (monism) کو فکری غلبہ حاصل ہوا اور اس نے شرک کے نظریے کو ختم کیا تو اس کے بعد انسان کے اندر نیچر کے بارے میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی جو آخر کار سائنسی انقلاب کا سبب بنی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’اسلام دورِ جدید کا خالق‘‘)۔

انسان مرکزی پلان

خدا کا تخلیقی منصوبہ انسان مرکزی منصوبہ (man-centered plan) ہے۔ اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (1345:) یعنی زمین اور آسمان کا پورا نظام انسان کی ضرورت کے مطابق، بنایا گیاہے۔ ہر چیز براہِ راست یا بالواسطہ طورپر انسان کی کسی نہ کسی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن نازل ہوا، اس وقت یہ بات صرف ایک عقیدہ کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اکیسویں صدی عیسوی میں یہ چیز ایک سائنسی حقیقت بن چکی ہے۔ جدید ترین سائنسی تحقیقات نے بتایا ہے کہ پوری کائنات کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی مکمل طورپر انسانی تقاضوں کے مطابق۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کرنے کے لیے ہر دور میں خدا کی طرف سے پیغمبر بھیجے گئے۔ یہ پیغمبر عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتے تھے، اِس لیے اُن کے معاصرین اُن کو پہچان نہ سکے۔ انھوں نے ان کا استہزا (یٰس، 36:30) کیا اور ان کو ماننے سے انکار کردیا۔ دعوتی مشن کے لیے ہمیشہ ایک خارجی تائید کی ضرورت ہوتی ہے، اِس لیے انبیاء کو یہ تائید معجزہ (miracle) کے ذریعے دی گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حسّی معجزہ نہیں دیا گیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4981) ۔ اِس کے برعکس، آپ کے لیے خصوصی منصوبہ کے تحت، قابلِ کار انسانوں کی ایک طاقت ور ٹیم فراہم کی گئی۔ اِس ٹیم کی تائید سے پیغمبر اسلام نے اپنے تاریخی مشن کو مکمل کیا۔ اِسی ٹیم کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ یہ ٹیم ایک صحرائی کلچر (desert culture) کے ذریعے تیار کی گئی۔ اِس صحرائی کلچر نے گویا کہ تائید کا وہ کام کیا جو پیغمبروں کے زمانے میں معجزہ کے ذریعے انجام پایا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اخوان رسول کا دور

تاریخ میں تیسرا رول اُس گروہ کا ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کہاگیا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک حدیث رسول اِن الفاظ میں آئی ہے وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قَالُواأَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَأَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249) یعنی رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی مشن میں ساتھ دینے والے معاصر اہلِ ایمان (contemporary believers) کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ تاریخ کے آخری دور میں پیغمبراسلام کے دعوتی مشن کے لیے دوبارہ اٹھنے والے غیر معاصر اہلِ ایمان کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دعوت الی اللہ کے مشن کو دوبارہ دریافت کریں گے اور آخری زمانے کے انسانوں تک حق کا پیغام پہنچائیں گے۔ اخوانِ رسول کا مشن ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس میں اُن کے دعوتی مشن کو اِدخالِ کلمہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی زمین کی پشت پر کوئی خیمہ یا کوئی گھر باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ کردے۔

hadithQuotes a hadith

اِس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آخری زمانے میں اسلام کی سیاسی حکومت ساری دنیا میں قائم ہوجائے گی۔ یہ حدیث واضح طورپر دعوتی توسیع کے معنی میں ہے، نہ کہ حکومتی توسیع کے معنی میں۔ حدیث میں ’کلمۂ اسلام‘ کا لفظ ہے، نہ کہ حکومت اسلام کا لفظ۔ دعوت کی عالمی توسیع کا یہ کام آخری زمانے میں سائنٹفک کلچر کی تائید سے انجام پائے گا۔ آخری زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے ایسے وسائل اور ایسی ٹکنالوجی دریافت ہوگی جو تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنا دے گی کہ کرہ ارض پر بسے ہوئے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچ جائے۔ خواہ نہ ماننے والے اُس کو نہ مانیں، اور ماننے والے اس کو مان کر خداکے انعام کے مستحق بنیں۔ اِس پیشین گوئی سے مراد واضح طور پر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ظاہر ہونے والا وہ دور ہے جس کو کمپیوٹرایج (computer age) کہاجاتا ہے۔ تاریخ کا آخری رول الصالحون (الانبیاء، 21:105)کے لیے مقدر ہے۔ یہ رول قیامت کے بعد جنت میں ملکوتی کلچر (angelic culture) کی تائید سے انجام پائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، آخری زمانے میں اخوانِ رسول کا ظاہر ہونا یقینی ہے، تاکہ وہ دعوتی عمل انجام پائے جو آخری زمانے کے لیے مقدر کیاگیا ہے۔ جس طرح ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے لیے ایک رول مقدر تھا جس کو انھوںنے انجام دیا، اِسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے لیے ایک رول مقدر ہے جس کو وہ اللہ کی توفیق سے انجام دیں گے۔ دنیا میں کوئی فرشتہ ظاہر ہو کر یہ اعلان نہیں کرے گا کہ فلاں گروہ اخوانِ رسول کا گروہ ہے۔ اِس قسم کا اعلان صرف آخرت میں ہوگا۔ البتہ صاحب معرفت افراد اُس کو پہچانیں گے اور اس کا ساتھ دے کر آخرت کے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اخوانِ رسول کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے اس کو یقینی طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی تاریخ دو بڑے دوروں (periods) میں تقسیم ہے — روایتی دور، اور سائنسی دور۔ امتِ مسلمہ سے ہر زمانے میں ایک ہی کام مطلوب ہے، اور وہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ روایتی دور میں جن لوگوں نے اِس کام کو پیغمبرانہ نمونے کے مطابق انجام دیا، وہ اصحاب رسول کہے جاتے ہیں۔ اسی طرح بعد کے سائنسی دور میں جو لوگ دعوت کے کام کو پیغمبرانہ نمونے کے مطابق انجام دیں، وہ اخوان رسول قرار پائیں گے۔

مزید مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول نے جو کام انجام دیا، وہ قرآن کے الفاظ میں، اظہارِ دین (48: 29) کا کام تھا۔ بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول جو کام انجام دیں گے، وہ حدیث کے الفاظ میں، ادخالِ کلمۂ اسلام کا کام ہوگا(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ ادخالِ کلمہ کا لفظ اپنے آپ یہ متعین کررہا ہے کہ اس کا زمانہ کیا ہوگا۔ دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں ادخالِ کلمہ کا کام صرف اُس وقت انجام دیا جاسکتاہے جب کہ اُس کے لیے اُس کے موافق اسباب پیدا ہوچکے ہوں۔ مثلاً عالمی کمیونکیشن، مذہبی آزادی، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام اسباب پیدا ہوچکے ہیں، اِس لیے یقینی ہے کہ وہ زمانہ اب وقوع میں آچکا ہے جب کہ اخوانِ رسول کی جماعت ظاہر ہو اور وہ نئے مواقع کو استعمال کرکے عالمی ادخالِ کلمہ کا کام انجام دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سارا کام بشرکی سطح پر ہوگا، نہ کہ فوق البشر کی سطح پر۔ اصحاب رسول بشر تھے۔ انھوں نے بشر کی سطح پر اپنے رول کو انجام دیا۔ اصحاب رسول کو اُن کے معاصرین میں سے صرف اُن لوگوں نے پہچانا جویہ جانتے تھے کہ اصحاب رسول بشر ہیں، نہ کہ فوق البشر۔

اِسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کا رول بھی بشر کی سطح پر ہوگا۔ اِس بنا پر اخوانِ رسول کو پہچاننے اور ان کا ساتھ دینے کی توفیق صرف وہ لوگ پائیں گے جو اُن کو بشر کی سطح پر پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جو لوگ اخوانِ رسول کے بارے میں کوئی پراسرار تصور رکھتے ہوں، جو اُن کو بشر کے بجائے فوق البشر کی سطح پر دیکھنا چاہتے ہوں، وہ اخوانِ رسول کے زمانے میں اخوانِ رسول کو پہچاننے میں اُسی طرح ناکام رہیں گے جس طرح اصحاب رسول کے زمانے میں لوگ اصحاب رسول کو پہچاننے میں ناکام رہے۔

تائید بذریعہ سیکولر تہذیب

ایک حدیث رسول اِن الفاظ میں آئی ہےإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی اللہ ضرور اِس دین کی تائید کرے گا، ان لوگوں کے ذریعے جو اہل (دین) میں سے نہیں ہوں گے ۔ اِس حدیث کے مطابق، سیکولر یا غیر مومن (unbeliever) کےذریعے اللہ اس دین کی تائید کرے گا ۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ باربار ایساہوا کہ ایک غیر مومن یا غیرمتقی انسان نے کسی موقع پر دینِ خداوندی کی مدد کی۔ مثلاً ہجرت کے مشکل سفر میں عبد اللہ بن ارقط کی رہنمائی، خیبر کے غزوہ میں قُزمان الظُفری کا صحابہ کے ساتھ لڑنا، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس قسم کی تائیدِ دین کا غالباً سب سے بڑا واقعہ وہ ہے جو بیسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ جدید دور میں مغرب کے مفکرین اور سائنس دانوں نے غیر معمولی محنت کرکے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا۔ اِس کے نتیجے میں جدید مغربی تہذیب وجود میں آئی۔ یہ تہذیب ایک سیکولر تہذیب تھی اور اس کو وجود میں لانے والے افراد بھی سب کے سب سیکولر تھے۔ نیز اس کا استعمال بھی عام طورپر سیکولر مقاصد کے لیے کیاگیا، لیکن اِس جدید تہذیب کے اندر ایک اور عظیم امکان چھپا ہوا تھا۔ یہ دعوتی امکان تھا۔ اِن دعوتی مواقع نے تاریخ میں پہلی بار اِس بات کو ممکن بنایا کہ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام موثر انداز میں پہنچا دیا جائے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں ادخالِ کلمہ کہاگیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

عالمی سطح پر ادخالِ کلمہ کا دعوتی کام پر اسرار طور پرنہیں کیا جاسکتا۔یہ کام قدیم روایتی وسائل کے ذریعے بھی انجام دینا ممکن نہ تھا۔ مثلاً عُقبہ بن نافع تابعی (وفات 683 ء) گھوڑے پر سوار ہو کر افریقہ کی شمالی سرحد تک گئے، لیکن اُس زمانے میں بحرِ اٹلانٹک کو (Atlantic Ocean) کو پار کرنے کا کوئی وسیلہ موجود نہ تھا، اِس لیے اُن کا دعوتی مشن افریقہ کے ساحل سے آگے نہ بڑھ سکا (الکامل فی التاریخ، 3/206)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مغربی تہذیب کے ذریعے دعوت کے جو نئے مواقع کھلے، وہ بنیادی طورپر دو قسم کے مواقع تھے۔ اس کا ایک پہلو وہ تھا جس کو فکری پہلو کہاجاسکتا ہے، یعنی فکری اور نظریاتی اعتبار سے نئے دعوتی مواقع کا پیدا ہونا۔ مثلاً مکمل مذہبی آزادی، عمومی سطح پر روحِ تجسس (spirit of enquiry) کا وجود میں آنا، مذاہب کا غیر اعتقادی مطالعہ، وغیرہ۔ اِس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ یہ ہوا کہ سائنسی مطالعے کے نتیجے میں فطرت (nature) میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہوئے۔ یہ دریافتیں گویا کہ آلاء اللہ (wonders of God) کی دریافتیں تھیں۔ اِن دریافتوں کے نتیجے میں مذہبِ توحید کو خود انسان کے قائم کردہ علمی معیار پرمدلل کرنا ممکن ہوگیا۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی عظیم دعوتی امکان ہے جس کو قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بطور پیشین گوئی اِس طرح بیان کیاگیا تھا سنریهم آیاتنا في الآفاق وفی أنفسهم حتی یتبین لهم أنہ الحق(41:53) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس سلسلے میں پہلا اہم واقعہ اٹھارہویں صدی عیسوی میں باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کا وجود میں آنا تھا۔ اِس ٹکنالوجی نے دعوت کے کام کو دستی کتابت کے مرحلے سے نکال کر پرنٹنگ کے مرحلے میں پہنچا دیا۔ اِسی طرح جدید کمیونکیشن کی دریافت ہے۔ جدید کمیونکیشن اور ملٹی میڈیا نے بیسویں صدی عیسوی میں پہلی بار حقیقی طورپر اِس بات کو ممکن بنادیا کہ خدائی پیغام کو نہ صرف سارے عالم میں پہنچایا جاسکے، بلکہ اس کو اتنی سُرعت کے ساتھ انجام دیا جائے کہ وقت کا معاملہ اضافی (relative) ہوجائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں فوری مواصلات (instant communication) کہاجاتاہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمیونکیشن اور میڈیا کے میدان میں یہ ناقابلِ قیاس ترقی اِسی لیے ہوئی کہ آخری دور کے داعیوں کی جماعت (اخوانِ رسول) اُس کو استعمال کرکے ادخالِ کلمہ کے عمل کو موثر طور پر انجام دے سکے۔

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کامشترک رول

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول ایک ہی امت کے دو مختلف گروہ ہیں۔ دونوں گروہوں کے درمیان بظاہر ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہوگا۔ دونوں اپنے اپنے دور کے اعتبار سے دعوت الی اللہ کا کام انجام دیں گے، مگر دونوں گروہوں کے درمیان ایک چیز مشترک (common) ہوگی، وہ یہ کہ دونوں اللہ کی خصوصی توفیق سے ایک ایسے منفی اتحاد (nexus) کو توڑیں گے جو دعوتی مشن کے راستے میں سنگین رکاوٹ کی حیثیت اختیار کرچکا تھا۔

اصحابِ رسول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں یہ صورتِ حال تھی کہ ہزاروں سال کی روایات کے نتیجے میں شرک اور پولٹکل پاور کے درمیان خطرناک قسم کا اتحاد (nexus)قائم ہوگیا تھا۔ یہ اتحاد، دعوت الی اللہ کے کام کو آگے بڑھانے میں ایک مستقل رکاوٹ (road block) بنا ہوا تھا۔ شرک کے علم بردار پولٹکل پاور کی مدد سے توحید کی دعوت کو ابتدا ہی میں کچل کر ختم کردیتے تھے۔ اصحابِ رسول نے شرک اور پولٹکل پاور کے اِس منفی اتحاد کو اپنی بے پناہ قربانیوں کے ذریعے ختم کیا۔

ساسانی ایمپائر اور رومی ایمپائر کے خلاف مسلح ٹکراؤ اِسی قسم کا آخری اور فیصلہ کن واقعہ تھا۔ اِس ٹکراؤ کا آغاز دونوں ایمپائر کی طرف سے کیاگیا۔ اُس وقت اصحابِ رسول نے خلیفہ عمر فاروق کی قیادت میں بے مثال قربانی کا ثبوت دیا، یہاں تک کہ دونوں ایمپائر ٹوٹ گئے۔ اِس کے بعد یہ ہوا کہ توحید کا رکا ہوا سیلاب ایک طوفان بن کر سارے عالم میں پھیل گیا۔

اِسی طرح بیسویں صدی میں ایک نیا غیر مطلوب اتحاد (nexus) قائم ہوا ہے۔ اِس اتحاد کو الحاد (atheism) اور سائنس کے درمیان اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، علم ِ فطرت کا نام ہے، لیکن الحادکے علم برداروں نے سائنس کو غلط تعبیر کے ذریعے الحادی نظریات کی حمایت کے لیے استعمال کیا، انھوں نے سائنس کو اپنے مقصد کے لیے ہائی جیک (hijack) کرلیا۔یہ گویا سیکولرائزیشن آف سائنس(secularization of science) کا معاملہ تھا۔ اِس طرح عملاً یہ ہوا کہ جدید سائنس دعوتِ توحید کی معاون بننے کے بجائے اس کی رقیب (rival) بن گئی۔ بد قسمتی سے لوگوں نے ہائی جیکڈ سائنس (hijacked science) کو جانا، وہ پیور سائنس (pure science)سے بے خبر رہے۔ اس لیے وہ سائنس کے بارے میں منفی ہوگئے، انھوں نے سائنس اور الحاد کو ہم معنی سمجھ لیا۔

بعد کے زمانے کے اخوانِ رسول دوبارہ یہ کارنامہ انجام دیں گے کہ وہ سائنس اورالحاد کے اِس اتحاد کو توڑیں اور دوبارہ توحید کو ایک فکری اور نظریاتی سیلاب کا درجہ عطاکردیں۔ اصحاب رسول کو اِس مقصد کے لیے مسلح جہاد کرنا پڑا تھا۔ اخوانِ رسول کے زمانے میں حالات بدل چکے ہوں گے۔ اخوانِ رسول اپنا مقصد فکری جہاد (ideological jihad) کے ذریعے حاصل کریں گے۔

اخوانِ رسول کا رول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعوتی مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ میں کیا۔ آپ خدا کے آخری رسول تھے۔ آپ کے زمانے میں پہلی بار آپ کے متبعین (followers) کی ایک طاقت ور ٹیم بنی۔ اِس ٹیم کو تاریخ میں، اصحابِ رسول کہاجاتاہے۔ پیغمبر اسلام کی ایک پیشین گوئی کے مطابق، آخری زمانے میں دوبارہ آپ کے متبعین کی ایک طاقت ور ٹیم بنے گی۔ اِس دوسری ٹیم کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ یہ دوسری ٹیم خدا کی خصوصی مدد سے آخری زمانے میں اہم دعوتی رول ادا کرے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِن دونوں جماعتوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الفتح کی آخری آیتوں کے مطالعے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اِن آیتوں کا ترجمہ یہ ہے’’محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں کے اوپر شدید ہیں۔ وہ باہم ایک دوسرے کے لیے مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں، سجدہ میں دیکھو گے، وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی اُن کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہوگیا۔ وہ زارعین کو بھلا معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور ایک بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے‘‘۔ (48: 29) ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کے اِس حصے میں دو حوالوں کا ذکر ہے، تورات اور انجیل۔ تورات کے حوالے سے اصحاب رسول کا وہ انفرادی کردار بیان ہوا ہے جس کا اظہار دورِ اول میں خود زمانہ رسالت میں پیش آیا۔ انھوں نے خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبر اسلام کو پہچانا اور کسی تحفظ (reservation) کے بغیر آپ کا ساتھ دیا۔ وہ اعلیٰ درجے کے بااصول افراد تھے۔ وہ کامل معنوں میں عبادت گزار تھے۔ وہ اللہ پر اعتماد کرنے والے تھے۔ موجودہ تورات میں ان کے لیے قدسیوں (saints) کا لفظ آیا ہے (Deuteronomy 33:2) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اصحابِ رسول کا جو ذکر آیا ہے، وہ درخت کی تمثیل کے روپ میں ہے(Mathew 13:31-32) ۔ درخت کی تمثیل سے مراد تاریخی عمل (historical process) ہے۔ اصحابِ رسول کا ایک رول وہ ہے جو انھوں نے اپنے زمانے میں ادا کیا۔ ان کا دوسرا رول وہ تھا جو پراسس کے روپ میں انجام پایا۔ اصحابِ رسول کے انقلابی عمل نے تاریخ میں ایک پراسس جاری کیا جو مختلف صورتوں میں بعد کی نسلوں میں آگے بڑھتا رہا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چار ہزار سال پہلے ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک پراسس جاری ہوا تھا۔ اِس پراسس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طور پر ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول (companions of the Prophet) کا گروہ وجود میں آیا۔ اس کے بعد دوسرا تاریخی پراسس وہ تھا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے انقلابی عمل کے ذریعے تاریخ میں شروع ہوا۔ اِس دوسرے تاریخی پراسس کا نقطہ انتہا (culmination) وہ لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوانِ رسول (brothers of the Prophet) کہاگیا ہے۔

احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ اخوانِ رسول کا یہ گروہ غالباً اُس زمانے میں پیدا ہونے والا تھا جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اخوانِ رسول کا گروہ سائنسی زمانے کی دریافتوں سے واقف ہو کر اعلیٰ معرفتِ رب حاصل کرے گا۔ دوسری طرف وہ نئے طاقت ور ذرائع کو استعمال کرکے اُس عالمی دعوت کو انجام دے گا جس کو حدیث (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)میں ادخالُ الکلمۃ في کلِّ البیوت (ہر گھر میں کلمۂ اسلام کا داخلہ) کہاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بعد کے دور کے اہلِ ایمان

روایات میں بعد کے دور کے ایسے اہلِ ایمان کا ذکر ہے جو ایمان واسلام کے خصوصی اوصاف کے حامل ہوں گے۔ اِس سلسلے میں چند روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں

حضرت انس کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ المَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2869 ) یعنی میری امت کی مثال بارش کی مثال جیسی ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا پہلا زمانہ بہتر ہوگا یا اس کا آخری زمانہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس حدیث میں بارش کی مثال کے ذریعے ایک تاریخی پراسس (historical process) کو بتایا گیا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، وہ اپنے آغاز کے اعتبار سے، ایک زمانی ظاہرہ تھا۔ اُس کے ذریعے جو تاریخی پراسس جاری ہوا، وہ اپنے مابعد انجام کے اعتبار سے مستقبل کا ایک واقعہ ہے۔ اِس مستقبل سے مراد غالباً وہی تاریخی ظاہرہ ہے جس کا حوالہ دوسری روایت میں اخوان رسول کے الفاظ میں ملتاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت مالک الاشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا إِنَّ لِلَّهِ عِبَادٌ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ؛ لِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (مسنداحمد، حدیث نمبر 22894) ۔یعنی خدا کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو پیغمبر ہیں اور نہ شہید ہیں، ان کے اوپر پیغمبر اور شہید بھی رشک کریں گے، اُن کے اُس درجے اور قربت کی وجہ سے جو قیامت کے دن انھیں خدا کے یہاں حاصل ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس روایت میں غالباً اُن اہلِ ایمان کا ذکر ہے جو دورِ سائنس میں پیدا ہوں گے، جب کہ فطرت میں نئی دریافتوں کی بنا پر معرفت کا نیا فریم ورک وجودمیں آئے گا اور اس کو استعمال کرکے کسی کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ اعلیٰ معرفت کا تجربہ کرے۔ غالباً اِس جماعت سے مراد وہی لوگ ہیں جن کو دوسری روایت میں اخوانِ رسول کہاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں کا معاملہ ایک اعتبار سے یکساں ہے۔ وہ ہے اپنے زمانے کے مواقع کادینی استعمال۔ اصحاب رسول نے بنو اسماعیل کے ذریعے پیدا ہونے والی صحرائی تہذیب کے مواقع کو استعمال کیا۔ اخوانِ رسول بعد کے زمانے میں سائنسی دور کے مواقع کو دین کے لیے استعمال کریں گے۔ ان مواقع کو اخوانِ رسول کے ذریعے استعمال کئے جانے کی جو صورتیں مطالعہ کے ذریعے سمجھ میں آتی ہیں، وہ غالباً یہ ہوں گی

1۔ فطرت میں سائنسی دریافتوں کے ذریعے پیدا ہونے والے استدلالی مواقع کا استعمال۔ مثلاً خدا کے وجود پر فلاسفہ اور متکلمین کے مبنی بر معنویت استدلال (argument from design) کو جدید شواہد کے ذریعے مدلل کرنا۔

2۔ جدیدمواصلاتی مواقع کا عالمی دعوت کے لیے استعمال، یعنی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اور دوسرے ذرائع کو استعمال کرتے ہو ئے دعوت کی عالمی اشاعت۔

3۔ بعد کے دور میں حاصل ہونے والی مذہبی آزادی کا بھر پور استعمال، دعوتِ حق کی عمومی اشاعت کے لیے پر امن جدوجہد۔

عالمی انذار وتبشیر

قرآن کی سورہ الفرقان میں یہ آیت آئی ہے تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1) ۔یعنی بہت برکت والاہے وہ جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا، تاکہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ اِس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کو عالمی انذار وتبشیر کے لیے اتارا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سوال یہ ہے کہ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اترا۔ اُس وقت اور اس کے بعد ہزار سال تک وہ ذرائع موجود نہ تھے جن کو استعمال کرکے قرآن کرہ ارض کے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے، نہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے موجود تھے، نہ تیز رفتار سواریاں تھیں ، نہ جدید کمیونی کیشن تھا۔اُس زمانے میں ساری دنیا میں صرف علاقائی زبانیں (regional languages) تھیں۔ کوئی ایسی بین الاقوامی زبان (international language) موجود نہ تھی جس میں ترجمہ کیا جائے تو قرآن تمام لوگوں کے لیے قابل فہم بن سکے، وغیرہ۔ ایسی حالت میں کیوں کر یہ ممکن تھا کہ قرآن کا مقصدِ نزول پورا ہو اور پہنچانے والے اس کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کا جواب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ الانعام میں یہ آیت آئی ہے وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ(6:19)۔یعنی اے رسول کہہ دو کہ مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تاکہ میں تم کو اُس سے خبردار کردوں، اور وہ بھی جسے یہ قرآن پہنچے، یعنی میں اپنے زمانے کے لوگوں کو آگاہ کروں، اور میرے بعد آنے والے اہلِ ایمان اپنے زمانے کے لوگوں کو اس سے آگاہ کرتے رہیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنے ہم زمانہ (contemporaries) لوگوں تک قرآن کو پہنچا دے۔ اس کے بعد امت کی یہ مستقل ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور کے لوگوں تک قرآن کو پہنچاتی رہے۔ امت کی ہر نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں تک اُسی طرح قرآن کو پہنچائے جس طرح پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں تک قرآن کو پہنچایا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی دعوتی اشاعت کا یہ کام نسل درنسل کیا جانے والا کام ہے۔ اِس ابتدائی دور میں قرآن کی دعوتی اشاعت کا کام جن لوگوں نے انجام دیا، اُن کو صحابی اور تابعین اور مفسرین، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اِسی طرح دور آخر میں بھی امت کا ایک خصوصی گروہ ہوگا جو اپنے زمانے کے نئے پیدا شدہ مواقعِ دعوت کو استعمال کر کے قرآن کی عمومی اشاعت کا یہ کام انجام دے گا۔ آخری دور کا یہی وہ خصوصی گروہ ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا نام دیا گیا ہے(صحیح مسلم، حدیث نمبر249) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیکولر سویلائزیشن، اسپریچول سویلائزیشن

قرآن کی سورہ الذاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما خلقتُ الجنّ والإنس إلا لیعبدون (51: 56) ۔ اِس آیت میں ’یعبدون‘ سے مراد ’یعرفون‘ ہے، یعنی اللہ نے جن اور انس کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ غور وفکر (contemplation)ہے، یعنی تخلیقات میں غور کرکے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور پھر اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مقصدِ تخلیق کے بارے میں ایک مشہور قول یہ ہے  کنتُ کنزاً مخفیاً، فأحببتُ أن أعرَفَ، فَخلَقتُ خَلْقًا (کشف الخفاء، حدیث نمبر 2016) یعنی اللہ نے فرمایا کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، تو میں نے اِس مقصد کے لیے خلق (انسان) کو پیدا کیا۔ کسی عارف کا یہ قول اصلاً سورہ الذاریات کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔ قائل نے کلام کی رعایت سے اس کو حدیث قدسی کے اسلوب میں بیان کردیا ہے۔ اگر اسلوب کو بدل دیا جائے اور اس کو معروف تفسیری اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کان اللہ کنزاً مخفیاً، فأحبّ أن یُعرف، فخلق الخَلْق۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ تعالیٰ نے پہلے جنات کو پیدا کیا۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ کائنات میں چھپے ہوئے رموزِ معرفت کو دریافت کریں اور خدا کی عظمت کا اعلان واظہار کریں۔ مگر جنات کے سردار ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات أنا خیر منہ (7: 12) کی نفسیات میں مبتلا ہوگئے، وہ اللہ کی کبریائی کی معرفت حاصل نہ کرسکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنات نے خود اپنی عظمت (self-glory)کو جانا، مگر وہ خدا کی عظمت (glory of God) کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کی تخلیق اِس لیے ہوئی کہ وہ جنات کے بعد اُن کا جانشین بنے۔ اُس وقت یہ معاملہ فرشتوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ انھوں نے یہ اشکال ظاہر کیا کہ جس طرح جن، مقصد تخلیق کو پورا کرنے میں ناکام رہے، اُسی طرح انسان بھی ناکام رہے گا، وہ تخلیق کے مقصد کو پورا نہ کرسکے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فرشتوں کے اشکال کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ (demonstration) کا انتظام کیا۔ اِس مظاہرے کا خلاصہ قرآن کے اِن الفاظ میں ملتا ہے علّم آدم الأسماء کلَّہا (2:31) ۔ اِس آیت میں اسماء سے مراد مسمَّیات ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے اضافی انعام کے طورپر انسان کو تمام اشیا کا علم عطا فرمایا، اُس نے انسان کی فطرت میں تمام تخلیقات کا علم داخل کردیا۔ اِس طرح انسان اپنے لاشعور(unconscious mind) کی سطح پر بطور امکان (potentially) ہر چیز سے واقف ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے وقتی طورپر اِس کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس کے بعد فرشتے مطمئن ہوگئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کے اِس حصے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات کو دماغ دیا گیا تھا، لیکن اجزائِ معرفت کا پیشگی علم اُنھیں حاصل نہ تھا۔ اُن سے مطلوب تھا کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کرکے کائنات میں چھپے ہوئے رموزِ معرفت کو دریافت کریں۔ انھیں غور وفکر کے ذریعے اپنے نامعلوم کو معلوم بنانا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام کے ساتھ انسان کو پیدا فرمایا۔ وہ مزید اہتمام یہ تھا کہ جن اجزاءِمعرفت کو اُسے دریافت کرنا تھا، اس کو پیشگی طورپر اس کے لاشعور میں داخل کردیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کوقرآن کی اِس آیت میں بیان کیا گیاہے بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (29:49)۔ یعنی تمام اجزاءِ معرفت پیشگی طورپر انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں موجود ہیں۔ اب انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اِس لاشعور کو شعور میں لے آئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دریافت یا ان فولڈنگ

مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو علمی دنیا میں دریافت (discovery) کہاجاتا ہے، وہ حقیقت میں دریافت نہیں ہے، بلکہ وہ ان فولڈنگ (unfolding) ہے، یعنی جو چیزیں انسان کی فطرت میں پہلے سے بالقوہ (potential) طور پر موجود ہیں، اُن کو بالفعل (actual) طور پر وقوع میں لانا۔ جنات کو اپنے لامعلوم کو معلوم بنانا تھا، اِس میں وہ ناکام ہوگئے۔ اِس لیے اللہ تعالیٰ نے اگلی مخلوق کے لیے تیسیر کا معاملہ فرمایا، یعنی غیر شعوری سطح پر موجود چیزوں کو شعور کی سطح پر معلوم بنانا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

سائنس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سائنس دانوں کی ہر دریافت اتفاقی دریافت ہے، وہ صرف اتفاقی طورپر سائنس داں کے علم میں آتی ہے

It is discovered by scientist by the way of accident.

مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سائنسی دریافتوں کا معاملہ ایکسیڈنٹ (accident) کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ کو انسیڈینس (co-incidence) کا معاملہ ہے، یعنی سائنس داں کوئی تجربہ کررہا ہوتاہے، اُس وقت ایک چیز فلیش (flash) کرتی ہے۔ یہ فلیش اس کے لاشعور میں موجود ایک علم سے مطابقت کرتا ہے۔ اس کے بعد سائنس داں مزید تجربہ کرکے ایک نئی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے، جس کو دریافت کہاجاتاہے۔

مثال کے طورپر ایک سائنس داں ایک بار ایک برتن کا مشاہدہ کررہا تھا۔ اِس برتن کے اوپر ایک ڈھکن تھا اور برتن میں پانی بھرا ہوا تھا۔ برتن کے نیچے آگ جل رہی تھی۔ پانی کا درجۂ حرارت جب 100ڈگری تک پہنچ گیا تو اس کے اندر پیدا ہونے والی بھاپ سے ڈھکن اوپر اٹھ گیا۔ سائنس داں اس پر غور کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے دریافت کیا کہ پانی کا درجہ حرارت جب بڑھتا ہے تو اس کے مالکیول (molecule) ٹوٹ کر اِدھر اُدھر اڑنے لگتے ہیں۔ مالکیول کے اِس انتشار (moleculor disintegration) سے اسٹیم پاور پیداہوتا ہے۔ اِس پاور کے ذریعے انجن چلائے جاسکتے ہیں— پانی کی یہ خاصیت پہلے سے اس کے لا شعور میں موجود تھی۔ مذکورہ مشاہدہ اس کے لاشعور سے مطابقت کرگیا۔ مطابقت کے نتیجے میں انسان نے وہ چیز دریافت کی جس کو اسٹیم پا ور (steam power) کہاجاتا ہے۔ اِس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ —دریافتیں کو انسیڈینس کا نتیجہ ہوتی ہیں

Discoveries are results of co-incidence.

حصولِ معرفت کاذریعہ

یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ معرفت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود پر سوچتا ہے، وہ کائنات کے مظاہر میں غور وفکر کرتا ہے۔ اِس طرح غور وفکر کے ذریعے وہ رموزِ معرفت کو دریافت کرتا ہے۔ اِن رموزِ معرفت میں پچاس فی صد حصہ خارجی مظاہر کا ہے، اور پچاس فی صد حصہ داخلی اعتبار سے علم ِ اشیا کا۔ یہی وہ علم ِ اشیا ہے جس کو وجدان(intuition) کہاجاتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ آدمی دونوں کے درمیان مطابقت کو دریافت کرتاہے۔ یہ واقعہ مسلسل پیش آتا ہے اور اِس طرح مومن کا سفرِ معرفت مسلسل طورپر جاری رہتاہے۔

معرفت کا حصول کوئی پر اسرار چیز نہیں، وہ تخلیق میں تدبر کرکے خالق کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ یہ عمل اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں میں ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوگیا تھا۔ قرآن کے ذریعے ان کے اندر تحریک ہوئی اور وہ کائنات کی چیزوں میں معرفت کے نقطۂ نظر سے غور وفکر کرنے لگے۔ مثال کے طورپر ایک صحابی رسول ابو ذر غفاری کہتے ہیں کہ لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا (مسند أحمد بن حنبل، حدیث نمبر 21361 )یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس حال میں چھوڑا کہ ایک چڑیا بھی آسمان میں اپنا پر پھڑپھڑاتی تھی تو آپ اُس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تخلیق کے نظام میں غور وفکر کرکے معرفت کی خوراک حاصل کرنے کا کام مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر شروع ہوا اور صدیوں تک جاری رہا۔ علم کلام میں جس چیز کو مبنی بر براہین استدلال کہاجاتا ہے، وہ یہی ہے۔ مگر مسلمان علم ِ معرفت یا سائنس آف معرفت کو ایک حد سے آگے نہ بڑھا سکے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں غور وفکر کے لیے صرف روایتی فریم ورک (traditional framework) موجود تھا، اور روایتی فریم ورک میں مشاہدہ اور تجربہ کا عمل صرف محدود دائرے میں ممکن ہوتا تھا۔

اِس معاملے میں زیادہ وسیع غور وفکر صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا، جب کہ دور بین (telescope) اور خورد بین (microscope) جیسے آلات ایجاد ہوئے۔ دور بین کو پہلی بار گلیلیو نے 1609 میں فلکیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیا۔ خورد بین پہلی بار 1590 میں دریافت ہوئی۔ اِن دریافتوں کے بعد عالم ِ کبیر (macro world) اور عالم صغیر (micro world) دونوں کا مشاہدہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ممکن ہوگیا۔ معرفت کے حقائق جو اب تک انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ تھے، وہ اب انسان کے براہِ راست علم میں آنے لگے۔ بعد کے دور میں یہ کام تمام تر اہلِ مغرب نے انجام دیا۔

انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مغربی علماء کے ذریعے فطرت کی تحقیقات سامنے آئیں، انھوںنے معرفتِ خدا وندی کے نئے وسیع تر دروازے کھول دئے۔ اِس کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ پہلے جو چیز صرف عقیدہ کا درجہ رکھتی تھی، وہ اب علمی مسلّمہ کے درجے میں ایک ثابت شدہ واقعہ بن گئی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ’مذہب اور جدید چیلنج ‘ )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مغربی سائنس دانوں نے موجودہ زمانے میں جو کام کیا، وہ علم ِمعرفت کے اعتبار سے بہت بڑا کام تھا۔ اِس اعتبار سے، یہ مغربی علماء پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس پیشین گوئی کا مصداق تھے إِنَّ اللهَ جَلَّ وعَزَّ لَيُؤَيِّدُ الإِسْلاَمَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِه (المعجم الکبیر ، حدیث نمبر 14640)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک مغالطہ

جدید سائنس کی دریافتیں دراصل آلاء اللہ (wonders of God) کی دریافتیں تھیں۔ وہ خالق کی معرفت کا ایک نیا خزانہ کھولنے کے ہم معنی تھیں۔لیکن جن مغربی علماء نے اِس میدان میں کام کیا، وہ سب سیکولر ذہن کے لوگ تھے۔ اِس بنا پر عملاً یہ ہوا کہ یہ دریافتیں معرفتِ رب کے بجائے سیکولر نظریے کی حمایت بن کر رہ گئیں۔ حالاں کہ سائنس کا یہ سیکولرائزیشن(secularization) صرف ایک مغالطہ (fallacy) کی حیثیت رکھتا تھا۔

مثلاً ایک مغربی مفکر نے جدید سائنس کی دریافتوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اِن دریافتوں سے معلوم ہوا کہ فطرت (nature) میں ایک قانونِ اسباب (law of causation) قائم ہے، یعنی ہر واقعہ اسباب وعلل کے نظام کے تحت واقع ہوتا ہے۔ اِس کا حوالہ دیتے ہوئے اُس نے لکھا ہے کہ — اگر واقعات فطری اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں تو وہ فوق الفطری اسباب کا نتیجہ نہیں ہوسکتے

unverifiedAttribution could not be verified automatically

If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.

مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے، کیوں کہ فطرت کا قانون اپنے آپ میں توجیہہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیہہ کا طالب ہے۔ اِس اعتبار سے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ — اگر واقعات قوانین سے کنٹرول ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس کا ایک کنٹرول کرنے والا ہو

If events are controled by laws, then there must be a controller of laws.

جرمن سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن (وفات1955 ) نے فطرت کے نظام کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس کو نظرآیا کہ فطرت کے نظام میں نہایت با معنی ڈیزائن پایا جاتا ہے۔ اِس طرح وہ گویا کہ معرفت کے دروازے تک پہنچ گیا، لیکن اس نے یہ کہہ دیا کہ — فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے

The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible.

یہ بلاشبہہ ایک مغالطہ آمیز بیان ہے۔ آئن اسٹائن نے جب فطرت میں غیر معمولی معنویت دیکھی تو اس کو برعکس طورپر یہ کہنا چاہیے تھا کہ — فطرت میں اتنی زیادہ معنویت پائی جاتی ہے کہ ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈزائنر ہو

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Nature is so well-designed that it is inconceivable that there is no designer of it.

جنت کا دور

قرآن کی سورہ الکہف کی آخری چند آیتیں یہ ہیں إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ۔ خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ۔ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (18:107-109) یعنی بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے، تو سمندر ختم ہوجائے گا، اِس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں، اگر چہ ہم ایسا ہی اور سمندر اس کی مددکے لیے لے آئیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِن آیات کے چار حصے ہیں۔ اس کے پہلے حصہ (إن الذین آمنوا وعملوا الصالحات) میں یہ بتایا گیا ہے کہ تخلیقی منصوبہ کے مطابق، خدا کا مطلوب انسان کون ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو خالق کو دریافت کرے۔ یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ اس کی پوری زندگی ہر اعتبار سے اس کے مطابق ڈھل جائے، وہ کامل معنوں میںایک ربانی انسان بن جائے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جو آخرت کی دنیا میں خدا کے سب سے بڑے انعام کا مستحق قرارپائے گا۔

آیت کا دوسرا حصہ یہ ہے کانت لہم جنات الفردوس نزلاً۔ اِس حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ربانی انسان کو آخرت میں یہ موقع ملے گا کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طور پر قیام کرسکے۔ جنت کی دنیا میں یہ قیام مہمانی (hospitality) کے طور پر ہوگا، یعنی جنت میں ان ربانی انسانوں کا قیام سادہ طورپر صرف عیش کے لیے نہ ہوگا، بلکہ وہ مہمانی کے طورپر ہوگا۔ یعنی خدائی منصوبہ کے مطابق، اہلِ جنت مکمل طورپر ایک سرگرم زندگی گزاریں گے۔ یہ زندگی ان کے لیے پوری طرح تعب اور مشقت سے خالی ہوگی۔ وہ اُن کے لیے شُغلِ فاکہ (یٰس، 36:55) کے ہم معنی ہوگی، یعنی پُرلطف سرگرمیوں (enjoyable activities) کی زندگی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس جنتی زندگی کے بارے میں تیسری بات یہ فرمائی کہ خالدین فیہا، لا یبغون عنہا حولاً۔ یعنی اس میں ہمیشہ رہنے کے باوجود اہل جنت کبھی اکتاہٹ (boredom) کا شکار نہ ہوں گے۔ وہ دوامی طور پر انتہائی معنوں میں ایک پر لطف مشغولیت کے ساتھ جنت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ یہ سرگرمیاں کبھی ختم نہ ہوں گی اور نہ کبھی ان کی دل چسپیوں کی حد آئے گی۔ یہ اہلِ جنت کے لیے ایک ایسی مسرت ہوگی جو کامل بھی ہوگی اور ابدی بھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ قرآنی بیان کا چوتھا حصہ یہ ہےقُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا۔ قرآن کے یہ الفاظ اہل جنت کی اُس اعلیٰ ترین سرگرمی کو بتاتے ہیں جس میں اہلِ جنت کامل لذت ومسرت کے ساتھ مشغول رہیں گے۔ یہ سرگرمی ہے— کلمات اللہ کی دریافت (discover) کرنا اور اِس طرح اعلیٰ معرفت کے حصول کے لا متناہی سفر میں مشغول رہنا۔انسان کے لیے سب سے زیادہ محبوب چیز یہ ہے کہ اس کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں، اس کو پورا فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہو۔ اِس کو انسان کی زندگی کا مادی تقاضا کہہ سکتے ہیں۔ یہ تمام تقاضے جنت میں انتہائی کامل اور آئڈیل صورت میں پورے ہوں گے۔ قرآن میں اِسی کی طرف اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیا ہے وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)۔ یعنی تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے، اور تمھارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تم طلب کروگے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اہلِ جنت کا مشن

دوسری اعلیٰ چیز جو ربانی انسان کو جنت میں مشن کی صورت میں حاصل ہوگی، وہ معرفت کی مسلسل دریافت ہے۔ یہ معرفت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مختلف الفاظ میں مثلاً کلمات اللہ (الکہف، 18:109)، آلاءِ رب (الرحمن، 55:30) اور آیاتِ رب (فصلت، 41:53) ، وغیرہ جیسے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ جس خالق نے یہ انتہائی با معنی کائنات بنائی ہے، وہ خود بلا شبہہ ہزاروں با معنی کائنات سے زیادہ بامعنی ہے۔ اس کی معنویت کا ایک بہت چھوٹا حصہ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے۔ مگر سائنس دانوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کی دریافتیں اتنی زیادہ حقیر ہیں کہ وہ کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے (knowing more and more about less and less) کے ہم معنی ہیں۔ایسے لامحدود حد تک بامعنی خالق کی دریافت بیک وقت ایک انتہائی پر مسرت تجربہ ہے اور اِسی کے ساتھ وہ ایک لامتناہی عمل بھی۔ یہی وہ پرمسرت مشن ہے جس میں اہلِ جنت ہمیشہ کے لیے پر مسرت طور پر مشغول رہیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان اصلاً ذہن (mind) کا نام ہے۔ ذہن سوچنے کا کام کرتا ہے۔ ذہن کے اندر سوچنے کی صلاحیت (thinking capacity) لامحدود حد تک پائی جاتی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا کہ پوری کائنات میں جتنے پارٹیکل (particle) ہیں، اتنے پارٹیکل صرف ایک فرد کے ذہن (individual brain) میں ہوتے ہیں۔انسان کا ذہن لامحدود ہے، اس کے مقابلے میں انسان کی عمر بہت زیادہ محدود ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے ذہنی فل فل مینٹ (intellectual fulfilment) حاصل ہونا ممکن نہیں ،جب کہ ذہنی فل فل مینٹ ہی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انسان کے لیے سب سے بڑی خوشی (pleasure) کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کو استعمال کرکے سوچے اور نئی نئی دریافتیں کرے۔ دریافت (discovery) انسان کی سب سے بڑی لذت ہے اور یہی لذت انسان کو اِس دنیا میں حاصل نہیں ہوتی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا کا تخلیقی منصوبہ اِس سوال کا جواب ہے۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ بتاتا ہے کہ انسان کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ موت کے بعد ابدی طورپر جاری رہتی ہے۔ موت کے بعد کی یہ دنیا نہ صرف ابدی ہے، بلکہ وہ معیاری اور کامل بھی ہے۔ اس اگلی دنیا میں انسان کے لیے یہ موقع ہوگاکہ وہ اپنے ذہن کے پوٹنشل کو ان فولڈ (unfold) کرے، وہ اپنی تخلیقیت (creativity) کو ابدی طورپر جاری رکھے۔ وہ مسلسل طورپر وجد آمیز دریافتوں (thrilling discoveries) کی فضا میں جیتا رہے۔

یہ ابدی موقع انسان کو آخرت کی جنت میں ملے گا۔ جنت سادہ طور پر عیش کا مقام نہیں ہے۔ جنت کا زیادہ بڑا پہلو یہ ہے کہ جنت کی آفاقی وسعتوں میں وہ تمام اسباب انتہائی معیاری صورت میں موجود ہوں گے جو دنیامیں صرف ناقص صورت میں ملے تھے۔ قرآن کے مطابق، دنیامیں انسان کو سب چیزیں دی گئی ہیں، لیکن وہ سب بقدر ضرورت ہیں (وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ)ابراہیم، 14:34۔ لیکن آخرت میں یہ تمام چیزیں بقدر خواہش دی جائیں گی (وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ) فصلت، 41:31۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان پیدائشی طورپر معیار پسند(idealist) ہے۔ہر عورت اور مرد اپنی فطرت کے اعتبار سے کامل پسند (perfectionist) ہوتے ہیں، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی شخص اِس دنیا میں اپنے آئڈیل کو نہیں پاتا۔ ہر انسان ایک ایسی چیز کا متلاشی ہے جو موجودہ دنیا میں اُس کے لیے آخری حد تک ناقابلِ حصول ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ہر انسان ایک متلاشی ٔ جنت حیوان ہے

Man is a paradise-seeking animal.

یہ جنت انسان کو صرف آخرت میں ملے گی، اُس انسان کو جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنت میں بسائے جانے کا استحقاق ثابت کرے۔ موجودہ دنیا جنت کا استحقاق ثابت کرنے کے لیے ہے اور آخرت عملی طورپر جنت کو پانے کے لیے۔

الصالحون کا دور

قرآن کی سورہ الانبیاء میں بعد کے زمانے کی ایک پیشین گوئی اِن الفاظ میں آئی ہے وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (21:105) ۔ یعنی زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ یہ پیشین گوئی موجودہ بائبل میں اِن الفاظ میں ملتی ہے— شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی اور صادق، زمین کے وارث ہوں گے۔ وہ اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land, and dwell in it forever. (Psalm 37: 28-29)

other sourceWords of another person or source

قرآن کی مذکورہ آیت میں ’الصالحون‘سے مراد پوری تاریخِ بشری کے منتخب مومنین (selected believers) ہیں۔ یہ واقعہ قیامت کے بعد آخرت کی دنیا میں پیش آئے گا۔ قیامت کے بعد تمام پیدا ہونے والے انسان حشر کے میدان میں اکھٹا کئے جائیں گے۔ خداوند ذوالجلال اور اس کے فرشتے ظاہر ہوں گے۔ قبل از قیامت دور میں ہر ایک کے عمل کے ریکارڈ کے مطابق، اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کچھ لوگ رد کئے ہوئے (rejected) قرار پائیں گے، کچھ لوگوں کو ان کے قول و عمل کے بہتر ریکارڈ کی بنا پر منتخب کیا جائے گا۔ یہ منتخب لوگ ابدی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، جو ہر اعتبار سے ایک کامل دنیا (perfect world) ہوگی۔ اِس جنتی دنیا میں ابدی طورپر خوف وحزن کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ یہاں داخل ہونے والی عورتوں اور مردوں کے لیے ہر اعتبار سے، کامل طورپر فل فل مینٹ (fulfillment) کا انتظام ہوگا۔

قیامت کے بعد کا جنتی دور ایک آئڈیل دور ہوگا۔ یہ انسان کی وہ آخری منزل ہوگی جس کے لیے موجودہ دنیا کی تخلیق کی گئی تھی۔ موجودہ دنیا کو بنانا اور یہاں انسان کو آباد کرنا امتحان کے لیے تھا، یعنی عملی زندگی میں امتحان لے کر اُن نادر افراد کا انتخاب کرنا جو اعلیٰ معرفت کی سطح پر جینے والے ہوں، جو مکمل طورپر مثبت شخصیت (positive personality) کے مالک ہوں، جو اختیار کے باوجود مکمل طور پر ربانی ڈسپلن کے پابند ہوں، جو اپنے اعلیٰ اوصاف کی بنا پر اِس قابل ہوں کہ وہ خدا کے پڑوس میں رہ سکیں، جواپنی تخلیق کے اعتبار سے انسان، مگر اپنے اوصاف کے اعتبار سے فرشتوں کے مانند ہوں، جو پوری کائنات کا خلاصہ ہوں، جس طرح گلاب کا پھول ایک پورے درخت کا خلاصہ ہوتا ہے۔

یہ خوش قسمت لوگ ابدی جنت میں رہیں گے، لیکن جنت محض عیش وآرام کا مقام نہیں ہوگا، بلکہ وہ کامل معنوں میں نفیس سرگرمیوں کا مقام ہوگا۔ جنت میں عیش وآرام کی حیثیت دراصل خدائی میزبان (divine hospitality) کی ہوگی۔ اہلِ جنت کا اصل مشن وہ ہوگا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا (39:69) ، یعنی اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔ نیز وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (39:75) یعنی کہا جائے گا کہ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، عالم کا خداوند۔ یعنی یہ اہلِ جنت اپنی سرگرمیوں کے ذریعے انوارِ رب کو ظاہر کرنے کا ابدی پراسس شروع کریں گے۔ جنت کی دنیا میں الحمد للہ کلچر اپنی کامل صورت میں ظہور پذیر ہوگا۔ اہلِ جنت کے لیے یہ عمل ایک پر لطف سرگرمی (enjoyable activity) ہوگی۔ جنت کی یہ دنیا اتنی زیادہ پر مسرت ہوگی کہ اہلِ جنت کبھی وہاں تھکن یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جنت کی اِس دنیا کو دوسرے لفظوں میں اسپریچول سویلائزیشن یا ربانی سویلائزیشن کہاجاسکتا ہے۔ یہ دور ابتدائی طورپر موجودہ دنیا میں شروع ہوا، لیکن موجودہ دنیا ایک محدود دنیا تھی، اِس لیے ربانی سویلائزیشن کا فروغ اِس دنیا میں صرف محدود طورپر ہوسکا۔ آخرت کی لامحدود دنیا میں اِس ربانی سویلائزیشن کا فروغ اپنی آخری صورت میں ہوگا۔ اہلِ ایمان آلاء اللہ کو جنت کی دنیا میں ابدی طورپر ان فولڈ (unfold) کرتے رہیں گے۔ ہر دن ان کے لیے نئی دریافت کی خوشی کا دن ہوگا۔ یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyhadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it