Maulana Wahiduddin Khan
85 min left
0:00

← Al-Risala April 2007
Al-Risala April 2007

Main Content

Urdu · 85 min read

قرآن اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا ابدی نہیں ہے، ایک وقت آئے گا جب کہ وہ ختم کر دی جائے گی اور دوسری دنیا بنے گی جو کہ ابدی ہوگی ۔ موجودہ دنیا میں ایسے آثار پائے جاتے ہیں جن کو لے کر دور حاضر کے مفکرین یہ اندازہ کرتے رہے ہیں کہ تاریخ کا خاتمہ (end of history) قریب آچکا ہے۔ اب خالص سائنسی سروے کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا واقعۃً اپنے آخری دور ِحیات میں پہنچ چکی ہے۔ اب خالص سائنسی مطالعے کے ذریعے وہ نشانیاں سامنے آئی ہیں جو احادیث رسول میں پہلے سے موجود تھیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اقوام متحدہ (UNO) موجودہ دنیا کا سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت، ایک انٹر نیشنل پینل بنایا گیا۔ اس پینل میں ڈھائی ہزار سائنس داں شامل کیے گئے ۔ ان سائنس دانوں کا تعلق، دنیا کے 130 ملکوں سے تھا۔ یہ پینل موسمیاتی تبدیلی climate change)

پر رسرچ کے لیے تھا۔ اس پینل کا صدر دفتر پیرس میں تھا۔ اس پینل نے اپنی رسرچ مکمل کر کے اُس کی تفصیلی رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کر دی ہے۔ یہ ایک سنسنی خیز رپورٹ ہے، جو میڈیا میں آچکی ہے۔ ہمارے سامنے اس وقت ، نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کا شمارہ 3 فروری 2007 ہے۔ اس شمارے میں یہ رپورٹ تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا ٹائٹل با معنی طور پر یہ ہے انتباہی نشانیاں (Warning Signs)۔ اس عنوان میں ایک لفظ کا اضافہ کر کے یوں کہا جاسکتاہے:

Warning Signs of Doomsday

قرآن میں چودہ سو سال پہلے یہ آیت اتری تھی کہ : ‌ظَهَرَ ‌ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ [الروم: 41]یعنی خشکی اور سمندر میں انسان کے کیے ہوئے عمل کی بنا پر فساد ظاہر ہو گیا ۔ مذکورہ پینل کی رپورٹ اس قرآنی آیت کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ چناں چہ مذکورہ اخبار میں اس رپورٹ کی جو مین ہیڈ نگ قائم کی گئی ہے، وہ یہ ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Global warming is man-made

اس خبر کو لے کر قرآنی آیت کا مفہوم اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے :

Man-made corruption has spread in the land and in the sea.

مذکورہ رپورٹ میں جو باتیں بتائی گئی ہیں، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب زمین کے اوپر کی فضا بہت گرم ہو گئی ہے۔ اور اس کا امکان ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار تقریبا دو گنا ہو جائے۔

other sourceWords of another person or source

اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑھی ہوئی گرمی کی بنا پرقطبین کی برف (Polar Ice) اور پہاڑوں کے گلیشئر مسلسل پکھل رہے ہیں۔ اس کی بنا پر سمندر میں پانی کی سطح بلند ہوتی جارہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ قریبی مستقبل میں سمندروں میں پانی کی سطح ایک میٹر تک بلند ہو جائے اور ساحلی مقامات اُس کے تحت ڈوبنے لگیں، کہیں زیادہ اور کہیں کم ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہماری دنیا میں جو خطرناک تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں، وہ سب نا قابل منسوخی نقصان (irreversible damage) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تباہی کے اس عمل کو اب پیچھے کی طرف لوٹا نا ممکن نہیں۔

other sourceWords of another person or source

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں زمین پر قحط آئیں گے۔ شدید خشک سالی ہوگی ۔ لائف سپورٹ سسٹم شدید طور پر متاثر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ سب کچھ جو پیش آرہا ہے، وہ انسانی عمل کے نتیجے میں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم موجودہ زمین پر آباد تمام انواع حیات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ہم انسانی نسل کو نا قابل تلافی خطرے سے دوچار کر رہے ہیں:

other sourceWords of another person or source

We are endangering all species on earth, we are endangering the future of the human race.

حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت جب قریب آئے گی تو پیشگی طور پر بہت سی نشانیاں ظاہر ہوں گی ۔ مذکورہ رپورٹ میں جو باتیں کہی گئی ہیں، اُن کو دیکھا جائے تو یہ ساری علامتیں اب ظاہر ہو چکی ہیں۔ ان تمام علامتوں کا بیان یہاں مقصودنہیں ہے۔ یہاں اُن میں سے صرف بعض علامتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

1- حدیث میں آیا ہے کہ : إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ‌أُدْنِيَتِ ‌الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ ( مسند احمد ، 23813) یعنی جب قیامت کا دن قریب ہوگا تو سورج ، انسان کے نزدیک آجائے گا اور اس کی وجہ سے زمین کی گرمی بہت بڑھ جائے گی۔ اس حدیث میں عین وہی بات ہے جو مذکورہ سروے میں بتائی گئی ہے۔ یہ واضح ہو کہ سورج کے قریب آجانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود سورج کا آتشیں گولا ، فاصلے کے اعتبار سے قریب آجائے گا۔ کیوں کہ سورج اگر خود فاصلے کے اعتبار سے قریب آجائے تو زمین پر انسانی زندگی ہی سرے سے ختم ہو جائے گی۔ یہ قربت علامتی معنوں میں ہوگی ۔ یعنی خود سورج قریب نہیں آئے گا، بلکہ سورج کی گرمی انسان کے قریب آجائے گی ۔ درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2- قیامت سے پہلے جب سورج قریب آجائے گا تو انسان کا کیا حال ہوگا ، اُس کو حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے : یكون الناس على قدر أعمالهم في العرق، فمنهم منيكون إلى كعبيه، ومنهم من يكون إلى ركبتيه، ومنهم من يكون إلى حقويه، ومنهم من يلجمهم العرق الجاماً. وأشار رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده الى فيه ( مشكاة المصابيح، رقم الحدیث : 5540 ) یعنی اُس دن لوگ اپنے اعمال کے مطابق ، پسینہ پسینہ ہوں گے۔ اُن میں سے کوئی ٹخنے کے بقدر پسینے میں ڈوب جائے گا، اور اُن میں سے کوئی گھٹنے کے بقدر ، اوران میں سے کوئی اپنی کمر کے برابر ، اور اُن میں سے کوئی اپنے منھ تک پسینے میں ڈوب جائے گا۔ اس روایت میں عرق کا لفظ آیا ہے۔ عرق کے معنی عام طور پر پینے کے لیے جاتے ہیں،لیکن عرق کا اصل مفہوم نچڑا ہوا پانی (squeezed water) ہے۔ پیسنے کو عرق اس لیے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کے پورے جسم سے نچڑ کر نکلتا ہے۔ اسی طرح انگور سے نچوڑی ہوئی شراب کو عرق کہا جاتاہے، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس روایت میں دراصل علامتی طور پر اس حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں جب زمین پر سورج کی گرمی زیادہ پڑنے لگے گی تو قطبین پر جمی ہوئی برف اور پہاڑوں کے گلیشئر پگھلنے لگیں گے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ سمندروں کے پانی کی سطح بلند ہو جائے گی ۔ اس بنا پر سمندروں کے ساحلی علاقوں میں بستیاں ڈوبنے لگیں گی۔ زمین کی سطح مرتفع کے لحاظ سے یہ پانی کہیں زیادہ بلند ہو جائے گا اور کہیں کم سطح ارض کی بلندی اور پستی کی نسبت سے زمین کے کچھ حصے کم متاثر ہوں گے، کچھ زیادہ اورکچھ بالکل ڈوب جائیں گے۔

اسی طرح ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک دھواں ظاہر ہوگا۔ اس سلسلے میں روایت کے الفاظ یہ ہیں : يملأ الدخان ما بين المشرق والمغرب - ( القرطبي ، جلد 16 ، صفحہ 131) یعنی قیامت سے پہلے ایک دھواں ظاہر ہوگا جو پورب سے پچھم تک ہر طرف بھرجائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس روایت میں واضح طور پر اُس جدید ظاہرے کا ذکر ہے جو جدید صنعت کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، یعنی فضائی کثافت air pollution) ۔ اس قسم کی فضائی کثافت قدیم زمانے میں موجود نہ تھی اور نہ اس کا کوئی تصور پایا جاتا تھا۔ یہ روایت بلا شبہہ اُس جدید ظاہرے کی پیشین گوئی ہے جس کو صنعتی سرگرمیوں کی پیدا کردہ فضائی کثافت کہا جاتا ہے۔

4- اسی طرح حدیث میں قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ایک علامت اس طرح بیان کی گئی ہے : يُوشِكُ ‌الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ: لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيُذْهَبَنَّ بِهِ كُلِّهِ. قَالَ: فَيَقْتَتِلُونَ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ( صحیح مسلم، 2895)

hadithQuotes a hadith

یعنی عن قریب ایسا ہو گا کہ دریائے فرات میں سونے کا ایک پہاڑ ظاہر ہوگا۔ جب لوگ اُس کو سنیں گے تو وہ اُس کی طرف چلیں گے۔ اُس کے پاس جو شخص ہوگا، وہ کہے گا کہ اگر ہم ، لوگوں کو اس میں سے لینے دیں تو وہ سارا کا سارا لے جائیں گے۔ پھر وہ اُس پر قبضہ کرنے کے لیے باہم جنگ کریں گے۔ پھر اس جنگ میں ننانوے فیصد لوگ قتل کر دیے جائیں گے۔ اس روایت میں واضح طور پر زمین سے تیل نکلنے کی پیشین گوئی ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سیال سونا (liquid gold) کہا جاتا ہے۔ یہ سیال سونا دریائے فرات کے علاقہ ، بالفاظ دیگر شرق اوسط سے بہت بڑی مقدار میں نکلا ہے۔ اس صنعتی خزانے کے اوپر باقاعدہ لڑائیاں بھی ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں اور اس سے عظیم تباہی بر پا ہوئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

5- ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يبقى على وجه الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام ( مسند احمد ، مشكاة المصابيح، رقم الحدیث : 42 ) یعنی زمین کی سطح پر کوئی بھی گھر یا خیمہ باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کاکلمہ داخل کر دے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ حدیث رسول بھی واضح طور پر قرب قیامت کی ایک علامت کو بتاتی ہے۔ زمین کی سطح پر بنے ہوئے تمام چھوٹے بڑے گھروں میں کلمہ اسلام کا داخل ہو جانا ، قدیم زمانے میں ممکن ہی نہ تھا۔ یہ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے جب کہ مختلف قسم کے ذرائع ابلاغ وجود میں آئے ہیں ، جن کو ملٹی میڈیا (nmiltimedia) کہا جاتا ہے۔ یہ جدید ملٹی میڈیا ، اُس وقت ظہور میں آیا ہے جب کہ دوسری علامات قیامت بالکل ظاہر ہو چکی ہیں۔ اس لیے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ زمین کے ہر چھوٹے اوربڑے گھر میں کلمہ اسلام کا داخل ہونا، قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ کلمہ اسلام کا ہر گھر میں یہ داخلہ بالفعل واقع ہو چکا ہے۔ آج ٹیلی ویژن اور دوسرے وسائل ابلاغ کے ذریعے عملاً ہر گھر میں اسلام کا چرچا پہنچ چکا ہے۔ آج ہر جگہ اسلام نیوز میں آچکا ہے۔ بروقت اسلام کا یہ چر چا منفی خبر کی صورت میں ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس منفی خبر کو مثبت خبر بنا دیا جائے۔ یہ عمل بھی ساری دنیا میں مسلسل جاری ہے۔ اسلام کے منفی چرچا کی بنا پر یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا میں لوگوں کے اندر اسلام کو جاننے کے لیے تجسّس (cuiosity) پیدا ہو چکی ہے ۔ لوگ کثرت سے اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ گویا کہ اسلام کا کلمہ پچاس فیصد ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے۔ اور بقیہ پچاس فیصد داخلے کا عمل برابر جاری ہے۔ یقینی ہے کہ جلد ہی یہ عمل اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہوگا کہ وہ قیامت اب بالکل قریب آگئی جس کی خبر خدا کے پیغمبروں نے دی تھی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث کے مطالعے سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے تین نفخات، پیش آئیں گے نفخة الفزع، نفخة الصعق ، نفخة القيام نفخة، نفخ کا اسم مرّہ ہے۔ نفخ کے معنی پھونکنے کے ہوتے ہیں، اس لیے کہا جاتا ہے نفخت الریح ، یعنی ہوا کا جھونکا اچانک آگیا۔ اسی لیے صور پھونکے جانے کو نفخ ، کہا گیا ہے۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ حدیث میں جن تین نفخات کا ذکر ہے، وہ یہ ہیں۔ پہلا ، الارمنگ بلو (alarming blow) اور دوسرا، ڈیتھ بلو (death blow) اور تیسرا، رائزنگ بلو (rising blow) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

راقم الحروف کے اندازے کے مطابق ، سائنسی سروے کی مذکورہ رپورٹ جو انتباہی نشانیاں کا درجہ رکھتی )alarming blow( کے نام سے چھپی ہے، وہ نفخة الفزع )Warning Signs( ہے۔ یہ گویا قرب قیامت کا پہلا اعلان ہے جو سائنس کی زبان میں کیا گیا ہے۔ دوسر افتخہ موت کا فتحہ ہو گا جب کہ تمام انسان مر جائیں گے ۔ اُس کے بعد تیسر افتحہ ہوگا جب کہ لوگ دوبارہ زندہ ہو کر خدا کےسامنے میدان حشر میں اکھٹا کیے جائیں گے۔

قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ : إن الساعة لأتية لا ريب فيها (المؤمن: 59) يعنى قیامت یقیناً آنے والی ہے، اُس کے آنے میں کوئی شک نہیں ۔ علامات بتاتی ہیں کہ یہ آنے والا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے جب کہ انسان تو بہ کرے اور خدا کی رحمت میں پناہ لینے کی طرف دوڑ پڑے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

احيائے اسلام 8

احیائے اسلام

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ ‌مَنْ ‌يُجَدِّدُ ‌لَهَا دِينَهَا ( سنن ابي داؤد 4291 ، كتاب الملاحم ) ۔ یعنی اللہ ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو اُٹھائے گا جو دین اسلام کی تجدید کرے گا۔

hadithQuotes a hadith

جدّد کے لفظی معنی ہیں، نیا کرنا (to renew) ۔ حدیث میں یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے کہ امت کے اندر جب دین کا تصور گرد آلود ہو جائے تو اُس کو دوبارہ صاف کر کے اُس کی اصل صورت میں نمایاں کیا جائے ۔ اس عمل کے لیے حدیث میں دوسر الفظ احیاء (revival) بھی آیا ہے۔ دونوں لفظوں کا مطلب ایک ہے۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَيْرُ ‌الْقُرُونِ ‌قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ( سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اُس کے بعد، اور پھر اُس کے بعد ) اس حدیث میں تین ادوار کے بارے میں خیر کی شہادت دی گئی ہے۔ علماء نے ان تین دوروں کو قرون مشهود لها بالخیر قرار دیا ہے، یعنی وہ ادوار جن کے خیر ہونے کی گواہی دی جا چکی ہو۔ ان تین زمانوں سے مراد ہیں۔ عہد رسالت ، عہد صحابہ، عہد تا بعین۔اصل یہ ہے کہ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں توحید کی دعوت اُٹھی تو اُس وقت جو لوگ اُس میں شامل ہوئے وہ ایسے لوگ تھے جنھوں نے معرفت یا شعوری دریافت کے ذریعے دین حق کو پایا تھا۔ یہ اعلیٰ درجے کے لوگ تھے۔ دوسری نسل میں جولوگ اسلام میں داخل ہوئے ، وہ معرفت کے اعتبار سے پہلی نسل کے برابر نہیں ہو سکتے تھے۔ اس کے بعد تیسری نسل میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے وہ فطری طور پر معرفت میں کچھ اور کم ہو چکے تھے۔ اس طرح نسل در نسل یہ ہوتا رہا کہ بعد کے زمانے میں جو لوگ ملت اسلامی کا حصہ بنے اُنھیں اسلام زیادہ ترنسلی تعلق کے ذریعے حاصل ہواتھا، نہ کہ شعوری دریافت کی بنا پر۔ فطرت کے اس قانون انحطاط (degeneration) کی بنا پر وہ صورت حال پیش آتی ہے جس میں اسلام کی تجدید یا ملت کے احیاء کا عمل کیا جائے۔ ہر ایک سو سال، بالفاظ دیگر چند نسلوں کے گزرنے کے بعد، ملت کے اندر اتنا زوال آچکا ہوتا ہے کہ اُس وقت یہ ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی صاحب معرفت شخص اُٹھے جو افراد ملت کے رسمی ایمان کو دوبارہ عارفانہ ایمان بنائے۔ جو لوگوں کے تقلیدی اسلام کو دوبارہ تخلیقی اسلام کا درجہ دے۔ جو اسلام کو بعد کے اضافوں اور ملاوٹوں سے پاک کر کے اُس کو اُس کی خالص صورت میں پیش کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کام کوئی آسان کام نہیں ، وہ بے حد مشکل کام ہے۔ زمانہ گذرنے کے بعد ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اصلی اور ابتدائی اسلام کو بھول جاتے ہیں۔ وہ بعد کے مبتدعا نہ اسلام ہی کو اصل اسلام سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی کوئی مجدد اٹھتا ہے تو وہ لوگوں کے درمیان فوراً ایک نزاعی شخصیت بن جاتا ہے۔ اُس کا بتایا ہوا دین لوگوں کو اجنبی معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : بَدَأَ الإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا. فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، 145 کتاب الایمان ) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا توسعادت مندی ہے ایسے اجنبیوں کے لیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد امت میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جنھوں نے اپنے اپنے حالات میں تجدید کا کام کیا۔ مجددین کی کوئی حتمی فہرست بنا نا ممکن نہیں ۔ تاہم اس سلسلے میں مثال کے طور پر چند نام یہ ہیں۔ حسن بصری ، عمر بن عبد العزیز ، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ ، اشرف علی تھانوی، وغیرہ۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے بارے میں کہا تھا مجدد کامل تو نہیں ، مگر مجد د معاشرت ضرور ہوں۔ میرے نزدیک یہی معاملہ تمام مجددین امت کا ہے۔ پچھلے زمانوں میں جتنے مجددا ٹھے وہ سب جزئی معنوں میں مجدد تھے، نہ کہ کلّی معنوں میں ۔ میرے مطالعے کے مطابق ، مجدد کامل صرف آخری زمانے میں پیدا ہوگا اور غالباً وہ وہی ہے جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ مہدی دراصل مجد د کامل کا دوسرا نام ہے۔ مزید یہ کہ مہدی صرف مہدی ہو گا ، وہ ہادی نہیں ہوگا۔ یعنی وہ خود اعلی درجے کی معرفت دین کا حامل ہوگا اور وہ دوسروں کو اس سے باخبر کرے گا۔ مگر ایسا نہیں ہو گا کہ اُس کے گرد لوگوں کی بھیڑا کھٹا ہو جائے ، وہ سارے عالم میں ہدایت کا انقلاب بر پا کر دے اور وہ پورے کرہ ارض

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پر اسلام کی حکومت قائم کر دے۔

جزئی مجدد کا مطلب ناقص مجد دنہیں ہے اور نہ کامل مجدد کا مطلب معیاری مجدد ہے۔ یہ دونوں الفاظ نوعیت کار کو بتانے کے لیے ہیں، نہ کہ امتیازی رتبے کو بتانے کے لیے۔ اصل یہ ہے کہ پچھلے ادوار میں زندگی کا وہ روایتی نظام ٹوٹا نہیں تھا جو مذہبی اور اخلاقی اور روحانی قدروں پر بنا تھا۔ اُس میں صرف جزئی خرابیاں پیدا ہوئی تھیں۔ چنانچہ پچھلے زمانوں میں محدود تجدیدی کام مطلوب تھا جس کو جزئی مجددین نے انجام دیا۔ مگر سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد دنیا بالکل بدل گئی ہے۔ صدیوں کا روایتی ڈھانچہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ اس بنا پر بعد کے زمانے میں صرف محدود تجدیدی کام کافی نہیں ۔ بعد کے حالات میں ضروری ہوگا کہ ایسا شخص اُٹھے جو انقلابی معنوں میں تجدیدی کام انجام دے۔ یہ فرق درجے کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ضرورت کے اعتبار سے ہے۔

دور اول کے بعد کی صدیوں میں تجدید کے جو کام ہوئے ہیں اُن کی تفصیل بیان کرنا یہاں مقصود نہیں ۔ البتہ اس معاملے کی وضاحت کے لیے کچھ مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔

1۔ میرے اندازے کے مطابق، اسلام کی تاریخ میں پہلا انحطاط خلفاء راشدین کے آخری زمانے میں شروع ہوا۔ یہ انحطاط ، حدیث کے الفاظ میں ، خشوع کے خاتمے کی صورت میں پیدا ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اکثریت کے اندر دین کی اسپرٹ باقی نہ رہی ۔ دین اب بھی بظاہر پوری طرح موجود تھا مگر وہ فارم کے اعتبار سے تھا ، نہ کہ اسپرٹ کے اعتبار ہے۔ یعنی حدیث کے الفاظ میں مسجد میں بظاہر نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ، مگر وہ داخلی ہدایت سے خالی تھیں ( مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى)اس صورت حال کے پیدا ہونے کے بعد اُمت میں بہت سے مصلحین اُٹھے۔ ایک علامتی نام کے طور پر یہاں حسن بصری کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ حسن بصری اور دوسرے تابعین اور تبع تابعین نے روح اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی کوششیں کیں ۔ یہی وہ سلسلۂ اصلاح ہے جس نے بعد کو تصوف یا صوفی ازم کی زیادہ منظم صورت اختیار کی ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صوفی ازم اسلام کی اصل روح ( ربانیت ) کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ اگر چہ یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ صوفیاء اپنی اس کوشش میں کتنا کامیاب ہوئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2 - عمر بن عبد العزیز ( وفات 101ھ ) علم اور اخلاص دونوں میں اعلیٰ درجہ رکھتے تھے۔ اُن کو مجددین امت میں شمار کیا جاتا ہے۔ اُن کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے سیاست میں غیر دینی عناصر کو ختم کرنے کی کوشش کی ۔ اُنھوں نے اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت کو دوبارہ خلافت راشدہ کے نمونے پر قائم کیا۔ چنانچہ انھیں پانچواں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز اور بھی کئی اہم کام کرناچاہتے تھے، مثلاً احادیث رسول کی تدوین، مگر جلد وفات کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ 3- بنوامیہ کے دور میں یہ ہوا کہ اسلام کا شورائی نظام حکومت باقی نہ رہا۔ وہ ملوکیت کےڈھانچے میں تبدیل ہو گیا۔ اس تبدیلی کو جائز قرار دینے کے لیے اُنھوں نے خلیفہ کا لفظ استعمال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر صدیق ، عمر فاروق ، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب کو خلیفہ نہیں کہا گیا تھا بلکہ اُن میں سے ہر ایک کو امیر المؤمنین کہا جاتا تھا۔ بنوامیہ نے اپنے زمانے میں پہلی بار خلیفہ کا لفظ اپنے حکمرانوں کے لیے رائج کیا۔ یہ ایک قسم کی سیاسی بدعت تھی ۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس سیاسی بدعت کو ختم کرنا چاہا تھا۔ تاہم قلیل مدت کی بنا پر وہ اس میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 4۔ بنو عباس کے زمانے میں ایک نئی چیز وجود میں آئی ۔ وہ یہ کہ عباسی حکمرانوں کے زیر اثر فقہاء نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ دار الاسلام اور دار الحرب ۔ اُن کے نزدیک ، دارالاسلام وہ ملک تھا جہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو اور دار الحرب وہ ملک تھا جہاں مسلم حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہو اور اس بنا پر وہ امکانی طور پر مسلمانوں سے برسر جنگ (potentially at war) کی حیثیت رکھتا ہو۔ دار الاسلام اور دار الحرب کا یہ تصور قرآن اور حدیث میں موجود نہ تھا۔ وہ صرف اس لیے اختیار کیا گیا کہ وہ اُس وقت کے مسلم حکمرانوں کے توسیعی عزائم سے موافقت رکھتا تھا ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میرے نزدیک اس کی ضرورت تھی کہ دار الاسلام اور دار الحرب کی اس سیاسی بدعت کے خلاف تجدیدی آواز بلند ہو۔ مگر فقہاء نے اس تقسیم کو عمومی طور پر قبول کر کے اُسے ایک شرعی سند دے دی جو یقینی طور پر درست نہ تھی ۔ میرے نزدیک دار الاسلام کے سوا جو ملک ہیں اُن کو دار الانسان یا دارالدعوہ کہا جانا چاہیے، نہ کہ دارالحرب یا دار الکفر ۔

5۔ اسی طرح کے انحراف کی ایک مثال وہ ہے جو ترکوں کی عثمانی خلافت کے زمانے میں پیدا ہوئی۔ انیسویں صدی کے آخر میں مغربی افکار کے زیر اثر عرب قومیت کی تحریک عرب ملکوں میں پھیلی ۔ اُس وقت یہ عرب ممالک ترکی کی عثمانی خلافت کے ماتحت تھے۔ عرب ملکوں میں ان کے خلاف رجحان پیدا ہوا ۔ اس رجحان کا آغاز لبنان میں ہوا اور پھر وہ مصر اور دوسرے ملکوں میں پھیل گیا۔ اس تحریک کا نشانہ یہ تھا کہ ہر عرب ملک میں قومی اسٹیٹ بنائی جائے جو وطنی مفاد کے مطابق کام کرے۔

اس تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ترکی کے خلیفہ عبدالحمید ثانی کے زمانے میں الأمة کا تصور اُبھرا۔ اس کے مطابق ، تمام دنیا کے مسلمان ایک قوم تھے۔ مسلمانوں کی قومیت مبنی بر وطن نہ تھی بلکہ وہ ان کے مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ مذہبی قومیت کا یہ تصور مسلم لیڈروں میں عام طور پر مقبول ہو گیا۔ سید جمال الدین افغانی، امیر شکیب ارسلان، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، ابوالکلام آزاد، آیت اللہ خمینی،سیدابوالاعلیٰ مودودی، محمد علی جناح ، وغیرہ سب اس کے حامی بن گئے ۔

میرے نزدیک یہ ایک گمراہ کن نظریہ تھا۔ اس نظریے کے تحت بیش تر ملکوں کے مسلمان خود اپنےملک میں غیر وفادار بن کر رہ گئے ۔ کیوں کہ اس عقیدہ کے مطابق ، اُن کی قومیت مبنی بر وطن نہ تھی بلکہ مبنی بر مذہب تھی۔ بد قسمتی سے اس پورے دور میں کوئی قابل ذکر مسلم رہنما ایسا نہیں اُٹھا جو اس بے بنیاد نظریے کی غلطی واضح کرے اور مسلمانوں کو اس سے بچائے کہ وہ دور جدید میں خود اپنے وطن میں مشکوک ہو کر رہ جائیں۔ یہ بلا شبہ ایک تجدیدی کام ہے اور ضروری ہے کہ بلا تاخیر اس کو انجام دیا جائے۔

6- موجودہ زمانے میں ایک اور سنگین نوعیت کا انحراف پیدا ہوا ہے جس کو تہذیبوں کا تصادم (clash of civilizations) کہا جاتا ہے۔ یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ صلیبی دور ایک نئی صورت میں تاریخ میں دوبارہ واپس آگیا ہے۔ مسلمانوں کو دوسری قوموں کی سازش اور دشمنی کا سامنا ہے۔ یہ ایک سنگین چیلنج ہے جس کا مقابلہ صرف مسلح جہاد کے ذریعے ہو سکتا ہے (الجهاد هو الحل الوحيد ) – اس ذہن کی ترجمانی ایک عرب شاعر نے اس طرح کی ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

هات صلاح الدين ثانية فينا جددى حطين أو شبه حطينا اسی ذہن کی نمائندگی فلسطینیوں کے قومی ترانے میں اس طرح کی گئی ہے:

هلم نقاتل هلم نقاتل فإن القتال سبيل الرشاد میرے نزدیک یہ ایک سنگین نوعیت کا انحراف ہے۔ اس کے نتائج ہر اعتبار سے مسلمانوں کے لیے تباہ کن ہیں ۔ بد قسمتی سے یہاں بھی کوئی قابل ذکر رہنما نہیں اُٹھا جو اس معاملے میں تجدیدی ذمے داری کو انجام دے۔ وہ اس مفروضہ صلیبی جنگ کے تصور کو فکری اعتبار سے ختم کرے اور اس طرح مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کو مسلح جہاد کے بجائے پر امن دعوت کی بنیاد پر قائم کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

7 - اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اُس کے بعد تقریبا ایک ہزار سال تک اسلام اپنی پوری عظمت کے ساتھ تاریخ میں مارچ کرتا رہا۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں صورت حال بدل گئی۔ اب اسلام یا ملت اسلام کا زوال شروع ہو گیا ۔ یہ زوال مسلسل بڑھتا رہا اور وہ اب تک جاری ہے۔ پچھلے تقریباً تین سو سال کے درمیان تجدید اور احیاء نو کے نام پر بہت بڑی بڑی تحریکیں اُٹھیں ۔ کروڑوں مسلمانوں نے ان تحریکوں کا ساتھ دیا۔ اس جدو جہد کے دوران جان و مال کی اتنی زیادہ قربانی دی گئی جو اس سے پہلے ہزار سال کی مدت میں بھی نہیں دی گئی تھی ۔ مگر انجام کار کے اعتبار سےدیکھئے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ کوششیں سب کی سب عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں ۔

8۔ میرے نزدیک اس ناکامی کا بنیادی سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ موجودہ زمانے کی نسبت سے جو تجدیدی کام مطلوب تھا وہ انجام نہ پاسکا۔ حدیث کے الفاظ میں، مجدد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو ( أن يكون بصيرا بزمانه ) ۔ موجودہ زمانے میں جو مسلم رہنما تجدیدی کام کے لیے اٹھے وہ زمانی بصیرت سے خالی تھے۔ اس لیے وہ کوشش کے باوجود نتیجہ خیز طور پراس کام کو انجام نہ دے سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ حالیہ تین سو سالہ دور ایک نیا دور تھا جس کو سائنسی دور یا غیر روایتی دور کہا جا سکتا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے ہزار سالہ دور روایتی دور تھا۔ پچھلے روایتی دور میں تقلیدی قسم کی تجدید کافی تھی۔ چنانچہ پچھلے دور کے مسلم رہنما اپنے اندر کوئی نئی صلاحیت پیدا کیے بغیر تجدید کا کام اُس وقت کے روایتی ڈھانچے میں انجام دے سکتے تھے۔ مگر سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد دنیا ہر اعتبار سے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تجدید کے ساتھ اجتہاد کی ضرورت تھی ، وہ بھی کامل اجتہاد، نہ کہ جزئی اجتہاد ۔ اب ایک مجتہد مطلق درکار تھا جو قرآن اور سنت سے گہری واقفیت کے ساتھ زمانی تبدیلیوں سے بخوبی واقف ہو۔ زمانہ حاضر میں کسی ایسے صاحب بصیرت مجتہد کے فقدان کا نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب تجدیدی کام نہ ہو سکا ۔ کامل مجدد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہمہ گیر سیاسی انقلاب برپا کرے۔ کامل مجدد دراصل وہ ہے جو زمانی تبدیلی کے بعد نئے غیر روایتی حالات میں اسلام کی فکری تشکیل کر سکے۔

۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو مسلم رہنما اٹھے اور جنھوں نے بڑی بڑی تحریکیں چلائیں اُنھوں نے ہمیشہ حکومت کی تبدیلی کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ مقلدانہ ذہن کا نتیجہ تھا، نہ کہ مجتہدانہ ذہن کا نتیجہ ۔ قدیم زمانے میں زندگی کی تمام سرگرمیوں کا مرکز سیاسی اقتدار ہوتا تھا۔ سیاسی اقتدار کو ہر معاملے میں مرکزی عامل کی حیثیت حاصل تھی۔ اس لیے سمجھا جاتا تھا کہ سیاسی اقتدار پر قبضہ حاصل کیے بغیر تجدید کا کام مؤثر انداز میں انجام نہیں دیا جا سکتا۔

اس روایتی ذہن کی بنا پر یہ ہوا کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ تجدید کا کام کامل طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اقتدار پر قبضہ حاصل کیا جائے ۔ الاخوان المسلمون کے منشور میں یہ درج ہے کہ : الجهاد منهجنا ( جہاد ہمارا طریق کار ہے ) ۔ یہ اسی روایتی ذہن کی غمازی کرتا ہے۔ مسلح جہاد اقتدار کے خلاف ہوتا ہے۔ مسلح جہاد کو اپنا طریق کار بتانے کا مطلب یہ ہے کہ تحریک کے سامنے جو نشانہ ہے وہ سیاسی اقتدار ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں یہ صرف مقلدانہ ذہن کی علامت ہے، نہ کہ اجتہادی ذہن کی علامت ۔ نشانہ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10 - اصل یہ ہے کہ اس اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ دور حکومت اور دور ادارہ ۔ پچھلے زمانے میں جب کہ اقتصادیات کا پورا نظام زراعت پر مبنی ہوتا تھا، تمام اسباب اور ذرائع کا تعلق حکومت سے ہوا کرتا تھا۔ حکومت کے باہر کسی کے لیے کوئی بڑا کام کرنے کے مواقع موجود نہ تھے۔ موجودہ زمانے میں یہ صورت حال بدل گئی ہے۔ اب ایک نئی چیز ظہور میں آئی ہے جس کو ادارہ (institution) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حکومت کی حیثیت محدود طور پر انتظامیہ کی ہوگئی ہے۔ اس کے باہر بے شمار شعبے ہیں جن کا تعلق اداروں )administration

institutions) سے ہے اور ان کو حکومت کے بغیر آزادانہ طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ نئے انقلاب نے سیکڑوں قسم کے نئے شعبے پیدا کیے ہیں جن کو ادارہ کی صورت میں بھر پور طورپر انجام دیا جا سکتا ہے۔ ان اداروں نے موجودہ زمانے میں آزاد متوازی سلطنت کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ مثلاً ایجوکیشن، جرنلزم، مالیاتی تنظیمیں ، سوشل سروس، پروفیشنل ادارے، میڈیا، مطبوعاتی تنظیمات، اس طرح کی سیکڑوں غیر حکومتی تنظیمات (NGOs) ہیں جن کو اقتدار کے بغیر قائم کر کے تقریبا ہر وہ کام انجام دیا جا سکتا ہے جن کے لیے قدیم زمانے میں سیاسی اقتدار ضروری سمجھا جاتا تھا۔

موجودہ زمانے کے رہنما دور حکومت کے ذہنی نقشہ میں سوچتے رہے۔ وہ دور ادارہ کے ذہنی نقشہ میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اس لیے یہ رہنما حکومتی اقتدار سے ٹکراؤ کرتےرہے اور یک طرفہ تباہی کے سوا وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری طرف ایسے رہنما بھی ہیں جنھوں نے بظاہر پوشکل اقتدار حاصل کیا۔ چنانچہ بنگلہ دیش سے لے کرار میٹر یا تک 57 مسلم ممالک ہیں جو مسلم رہنماؤں کی کوشش کے نتیجہ میں وجود میں آئے ، مگر 57 مسلم ریاستوں کے قیام کے باوجود احیاء اسلام یا احیاء ملت کا کام کسی بھی درجے میں انجام نہ پاسکا۔ مسلم ملت موجودہ زمانے میں بدستور ایک کچھڑا ہوا انسانی قافلہ بنی ہوئی ہے۔ حدیث میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مہدی دور آخر کا وہ انسان ہو گا جس کو اوپر مجد د کامل کہا گیا ہے۔ وہ کوئی عالمی حکومت قائم نہیں کرے گا بلکہ اپنی معرفت اور بصیرت کی بنیاد پر وہ اس قابل ہوگا کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کو از سر نو دریافت کرے اور عصری انداز میں اس کی فکری تشکیل کر سکے۔ اس مھدی کی حیثیت ایک رول (role) کی ہے، اُس کی حیثیت پیغمبر کی مانند ایک نامزد عہدہ کی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہدی خود یہ دعویٰ نہیں کرے گا کہ وہ مہدی ہے۔ البتہ دوسرے لوگ اُس کے کام کو دیکھ کر یہ سمجھیں گے کہ یہی وہ شخص تھا جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ اس آنے والے انسان کو حدیث میں ہادی کے بجائے مَہدی کہنے میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ بہت بڑی تعداد میں اُس کے گرد کھٹا ہو جائیں۔ وہ ایک مفکر اور مصلح ہوگا، نہ کہ عالمی سیاسی لیڈر۔ اس کا وجود فکر اسلامی کے اظہار کا ذریعہ بنے گا، نہ کہ اہل اسلام کے عمومی سیاسی اقتدار کا ذریعہ۔ وہ نظریاتی معنوں میں عارف باللہ ہوگا نہ کہ سیاسی معنوں میں کوئی سُلطان۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے ۔ ایڈیشن کا نام دی اسپر بچول میچ : ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے )The Spiritual Message(

دی اسپر بچوں میسیج ، فی کاپی - 15 روپئے ، سالانہ 165 روپئے۔

خط و کتابت کا پتہ ہے :

The Spiritual Message

302, Koldongri CHS, Sahar Road

Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)

Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323

Email: hbshaikh@bom5.vsnl.net.in

كلچرل هيريٹج كا پريزرويشن 17

کلچرل ہیر ٹیج کا پریزرویشن

کلچرل ہیرٹیج (cultural heritage) اُس چیز کا دوسرا نام ہے جس کو عام طور پر ہسٹاریکل مانیومنٹ (historical monument) کہا جاتا ہے ۔ مقامی ریفرنس کے اعتبار سے وہ کلچرل ہیر ٹیج ہے اور یو نیورسل ریفرنس کے اعتبار سے وہ ہسٹاریکل مانو منٹ کلچرل ہیر ٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کی اہمیت اسلامی ٹریڈیشن میں بھی وہی ہے جو دوسرے ٹریڈیشن یا ڈسپلن میں مانی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلچرل ہیر ٹیج کا پریزرویشن (preservation) انسانیت کے اُن عمومی معاملات میں سے ہے جس میں سکولر پوائنٹ آف ویو اور اسلامک پوائنٹ آف ویو کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اسلام کے مطابق بھی وہ بلا شبہ اس قابل ہے کہ اُس کو پریز رو کیا جائے۔ ماضی کے ریکارڈ کو اگر محفوظ نہ رکھا جائے تو مستقبل کی نسلوں کے لیے علم کا ایک معتبر ذریعہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ ایک ایساتاریخی نقصان ہے جس کی تلافی کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں ۔

اسلام فطرت کا دین ہے۔ ہر وہ چیز جو فطرت اور ریزن کے مطابق قابل لحاظ ہو ، وہ یقینا اسلام میں بھی قابل لحاظ قرار پائے گی۔ کسی چیز کا فطری تقاضا ہونا بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اسلام کا تقاضا بھی ہے۔

اسلامی شریعت میں ایک اہم اور مسلّمہ اصول یہ ہے کہ : الأصل في الاشياء الإباحة چیزوں میں اصل ان کا مباح ہونا ہے ) اس شرعی اصول کی روشنی میں دیکھئے تو کلچرل ہر ٹیج کو پریز رو کرنا یقینی طور پر اسلام میں ایک جائز کام ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سنت میں کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ کلچرل ہرٹیج کو پریز رونہ کرو۔ اور جب قرآن اور سنت میں اس قسم کی کوئی ممانعت موجود نہیں تو کلچرل ہر ٹیج کو پریز رو کرنا اپنے آپ جائز قرار پائے گا۔ اس عمل کو جائز ٹھہرانے کے لیےمزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔

تا ہم قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کلچرل ہیر ٹیچ کی اہمیت کے بارے میں ایسے حوالے بھی موجود ہیں جو اُس کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے براہ راست ثبوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں اسلامی ما خد سے چند متعلق حوالے درج کئے جاتے ہیں ۔

1- قرآن میں اس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تم میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ یا کوئی علم جو چلا آتا ہو (46:4) قرآن کی اس آیت میں اثرة من علم کا مطلب (remnant of knowledge) ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آج کل کی زبان میں آر کیا لوجیکل ریکارڈ یا ہسٹا ریکل ریکارڈ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا ریکارڈ ماضی کے واقعات کو جاننے کے لیے نہایت اہم علمی ذریعہ ہے۔ ایسی حالت میں ماضی کے اس ریکارڈ کو محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے، علمی نقطۂ نظر سے بھی اور اسلامی نقطہ نظر سے بھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2 ۔کلچرل ریکارڈ یا ہسٹا ریکل ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کی ایک عملی مثال قرآن میں وہ ہے جو فرعون کے تذکرہ کے ذیل میں آئی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موسیٰ کا ہم عصر فرعون جب غرق ہو کر مرا تو اللہ تعالی نے اُس سے فرمایا کہ آج ہم تمھارے بدن کو محفوظ رکھیں گے تا کہ وہ تمھارے بعدوالوں کے لیے نشانی ہو (10:92)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جیسا کہ معلوم ہے، مذکورہ فرعون کا جسم مصری رواج کے مطابق ، مرنے کے بعد مومیائی کر کے ایک اہرام میں رکھ دیا گیا تھا۔ یہ بلا شبہہ قدیم مصری کلچر کا ایک حصہ تھا۔ مصری کلچر کا یہ حصہ خود خدا کے منصوبے کے تحت محفوظ رہا، یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخر میں اُس کو مصر کے ایک اہرام سے نکالا گیا۔ اور کاربن ڈیٹنگ کے جدید طریقہ کو اپلائی کر کے یہ معلوم ہوا کہ یہ وہی فرعون ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق ہوا تھا۔ فرعون کا یہ محفوظ جسم قاہرہ کے میوزیم میں قرآن کی مذکورہ آیت کی ایک شہادت کے طور پر آج بھی رکھا ہوا ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، فرعون ایک مشرک بادشاہ تھا۔ اس کے باوجود اللہ کی مرضی یہ ہوئی کہ اُس کے جسم کو محفوظ رکھا جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کلچرل ہسٹری کی نہ صرف عام چیزیں بلکہ مشرک بادشاہ کا جسم بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ با میان میں واقع بودھ کے دو ہزار سالہ مجسموں کو محفوظ رکھنا اسلام میں بھی اُسی طرح مطلوب ہے جس طرح دوسرے ٹریڈیشن یاڈسپلن میں مطلوب ہے یا ہو سکتا ہے۔

3- قرآن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے یہاں ایک وراثتی تابوت ( صندوق ) موجود تھا جو نسل در نسل اُن کے یہاں ذریعہ سکون کے طور پر محفوظ رہا۔ اس تابوت میں آل موسی اور آل ہارون کے تبرکات محفوظ کئے گئے تھے۔ گویا یہ عین وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانے میں کلچرل ہیر پنج کہا جاتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وراثتی تابوت کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل تھی کہ ایک موقع پر اس کو فرشتے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے گئے ۔ (2:248)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں سمجھتا ہوں کہ کلچرل ہیں بیج کو محفوظ کرنے کی یہ ایک براہ راست مثال قرآن میں موجود ہے۔ اس سے کلچرل ہیر نج کی اہمیت بھی ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ایسی چیز کونسل در نسل محفوظ رکھناشریعت الہی کے خلاف نہیں۔

4۔ قرآن میں مومن کی ایک صفت السائح بتائی گئی ہے (9:112) یعنی سیاحت کر کے زمین کے مختلف مقامات پر جانا اور پچھلی قوموں کے چھوڑے ہوئے آثار و مساکن کو دیکھ کر ان سے نصیحت لینا ( 28:58) ۔ قرآن میں بتکرار یہ آیت آئی ہے: قل سیروا في الأرض ثم انظروا كيف كان عاقبة المكذبين (6:11)

Qur'anQuotes the Qur'an

اس کے مطابق ، اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماضی کے تاریخی آثار کو اُس کی ابتدائی شکل میں محفوظ رکھا جائے تا کہ دیکھنے والے لوگ اُن سے سبق لے سکیں۔ تاریخی آثار کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں اسلام کا یہ سیاحتی مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

5 کلچر ہمیشہ ایک طبقہ یا ایک کمیونٹی کی وراثت ہوتا ہے۔ ہر کمیونٹی کو یہ مطلق رائٹ حاصل ہے کہ وہ اپنے کلچر کا تحفظ کرے۔ کلچر کے معاملے میں نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ اسلام کے موافق ہے یا اس کے خلاف۔ جب بھی کوئی کمیونٹی کسی پھر کو اپنا کلچر سمجھے اور اس کو محفوظ رکھنا چاہے تو یہ حق اس کو دیا جائے گا۔ یہ حق جس طرح سیکولرزم میں تسلیم کیا گیا ہے اس طرح وہ اسلام میں بھی تسلیم شدہ ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں یروشلم (ایلیا) فتح ہوا تو خود عمر فاروق مدینہ سے سفر کر کے یروشلم گئے ۔ اس وقت اسلامی خلافت اور مسیحی فرقہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اُس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا گیا کہ مسیحی چرچوں میں جو چیزیں ہیں وہ محفوظ رہیں گی۔ مثلاً مریم اور مسیح کے بت، وہ مقدس لکڑی جس پر مسیحی عقیدہ کے مطابق ، حضرت مسیح کو سولی دی گئی، وغیرہ ( تاریخ الطبری ) اس قسم کی چیزیں مسیحی کلچر کا حصہ تھیں مگر معاہدہ میں یہ لکھا گیا کہ مسیحی فرقہ کو یہ حق ہوگا کہ ان کے چرچ ڈھائے نہ جائیں اور ان کے کلچرل ہریج کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ وہ جس طرح چاہیں اپنے کلچر کی حفاظت کریں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

خلیفہ ثانی کے اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ جس چیز کو وہ اپنے کلچر کا حصہ سمجھتی ہے اُس کو وہ محفوظ رکھے، خواہ وہ مسلم حکومت کے اندر ہو یا مسلم حکومت کے باہر کسی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی گروہ کے کلچر کے معاملے میں دخل دے۔ کلچر کے تحفظ کا معاملہ حکومتی مداخلت سے آزاد معاملہ ہے۔

6۔ اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بین اقوامی اہمیت کی چیزوں میں اسلام کا نارم (nom) بھی وہی ہوگا جو دوسری قوموں کا متفقہ نارم ہو۔ انٹر نیشنل نارم کے معاملے میں اسلام کا یہ اصول پیغمبر اسلام کے بعض واقعات سے مستنبط ہوتا ہے۔

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے میں یمن کے ایک شخص مسیلمہ نے نبوت کا دعوی کیا۔ اُس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک وفد رسول اللہ کے پاس مدینہ بھیجا اور یہ کہلوایا کہ آپ میری نبوت کو قبول کریں۔ پیغمبر اسلام نے اُن دو آدمیوں سے پوچھا کہ مسیلمہ کے معاملے میں تمھاری اپنی رائے کیا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہم بھی اُس کو اُس کے دعوی کے مطابق ، نبی مانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ رواج نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں ضرور تم دونوں کو قتل کر دیتا (سیرت ابن ہشام) پیغمبر اسلام کے اس ارشاد سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز انٹر نیشنل طور پر تسلیم انٹرنیشنل کر لی جائے تو اسلام میں بھی اُس کو تسلیم کیا جائے گا۔ اس اصول کی روشنی میں کلچرل ہیر تیج کو محفوظ کرنا اسلام میں بھی اُتنا ہی اہم ہے جتنا کہ وہ دوسری قوموں کے نزدیک اہم ہے۔ جدید دنیا میں کلچرل ہیر سیج ا یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کو نہایت اہمیت کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں بھی بلاشبہ ایسا ہی کیا جائے گا۔ اس معاملے میں دوسروں سے الگ اسلام کا کوئی طریقہ نہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام مکہ میں پیدا ہوئے ۔ وہاں کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ اس کے بعد آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں کھجوروں کے باغ ہوا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ٹاؤن سے باہر ایک باغ کے پاس سے گزرے۔ یہاں کچھ لوگ کھجور کے درخت پر چڑھ کر اپنے ہاتھوں سے ہینڈ پالی نیشن(hand-pollination) کا کام کر رہے تھے۔ آپ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ اگلے سال کھجور کی فصل کم آئی ۔ آپ نے سبب پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ آپ نے پالی نیشن ( تا بیرنخل) سے منع کر دیا تھا جب کہ اُس سے کھجور میں اچھی فصل آتی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم جو کرتے تھے اُس کو کرو، کیوں کہ تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو ( أنتم اعلم بأمور دنياكم)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر کے اس قول سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے اور وہ ہے عقیدہ اور امور دنیا کا فرق ۔ اسلام کے مطابق ، زندگی کے وہ معاملات جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے امور دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو عقیدہ کے تابع نہیں رکھا جائے گا، بلکہ ایسے موضوعات علمی ریسرچ کے تابع ہوں گے۔ ان میں وہی چیز درست قرار پائے گی جو علمی ریسرچ سے درست قرار پاتی ہو۔ ایگری کلچر اور ہارٹی کلچر سے لے کر انجینئرنگ اور ہسٹری کے شعبے تک سب اس میں شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کلچرل ہر ٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کے پرزرویشن کا معاملہ بھی انھیں چیزوں میں سے ہے جو علمی ریسرچ کے تابع ہیں، نہ کہ عقیدہ (faith) کے تابع ۔

خلاصہ یہ کہ اصولی ہدایات اور عملی نظائر دونوں اعتبار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلچرل ہیر ٹیج یا ہسٹا ریکل مانومنٹ کے پریزرویشن کے معاملے میں اسلام کی رائے بھی وہی ہے جو دوسرے ٹریڈیشن یا ڈسپلن کی ہے۔ بالفرض اگر کسی مسلم ملک میں کوئی مانیومنٹ ایسا ہو جس کو کسی مصلحت کی بنا پر ملک کے اندر رکھنا مناسب نہ ہو تو ایسی حالت میں اُس کو تباہ نہیں کیا جائے گا بلکہ خواہش مند قوموں اور ملکوں کو اُسے ایکسپورٹ کر دیا جائے گا تا کہ وہ اُس کو اپنے میوزیم میں محفوظ کرسکیں ۔

افغانستان ( بامیان ) میں گوتم بدھ کے مجسموں کو جس طرح توڑا گیا وہ ہرگز اسلام نہ تھا، وہ غلو (ایکسٹریمزم ) تھا، اور قرآن اور حدیث کے مطابق، غلو (ایکسٹریمزم ) اسلام میں نہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ہند- پاک ڈائری ، صفحہ :247)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہند پاک ڈائری

معمار انسانیت

مولانا وحید الدین خاں

امن عالم

مولانا وحید الدین خاں

مولانا وحید الدین خاں

مطالعہ حدیث

مطالعہ سیرت

سیرت رسول

مولانا وحیدالدرین خال

مولانا وحید الدین خاں

مولانا وحید الدین خاں

آغاز كلام 23

آغاز کلام

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ وہ اپنی اصل عربی زبان میں پوری طرح محفوظ ہے۔ ایسی ایک کتاب کا ترجمہ کبھی اصل کتاب کا بدل نہیں بن سکتا ۔ ترجمہ قرآن کا مقصد صرف تقریب فہم ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو شخص عربی زبان نہ جانتا ہو، وہ قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔ قرآن، ایک غیر عربی داں کے لیے بھی ایک قابلِ فہم کتاب ہے۔ قرآن بظاہر عربی زبان میں ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ فطرت کی زبان میں ہے، یعنی وہ زبان جس میں خدا نے تخلیق کے وقت سارے انسانوں سے براہ راست خطاب کیا تھا۔ یہ خطاب ہر عورت اور مرد کے اندر غیر شعوری طور پر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اس لیے قرآن ہر انسان کے لیے ایک قابلِ فہم کتاب ہے، کسی کے لیے شعوری طور پر اور کسی کے لیےغیر شعوری طور پر ۔

اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے : بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي ‌صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ [العنكبوت: 49]  یعنی یہ کھلی ہوئی آیتیں ہیں اُن لوگوں کے سینوں میں جن کو علم ہوا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس حقیقت ربانی کو شعور کی زبان میں بتا رہا ہے، وہ غیر شعوری زبان میں پہلے سے انسان کے اندر موجود ہے۔ قرآن کا پیغام انسان کے لیے کوئی اجنبی پیغام نہیں، وہ اُسی معرفت کا ایک لفظی اظہار ہے جس سے انسان فطرت کی سطح پر پہلے سے آشنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو انسان بعد کے زمانے میں پیدا ہور ہے ہیں، وہ سب ابتدائی طور پر تخلیق آدم کے وقت ہی پیدا کر دیے گئے تھے۔ اُس وقت خدا نے ان انسانی روحوں سے براہ راست خطاب کیا ۔ اس معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھیرایا خود ان کے اوپر کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا: ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں ۔ یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔ (الاعراف: 172)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

خدا اور بندے کے درمیان ایک اور مکالمے کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے : ہم نے امانت (اختیاری عمل کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اُس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے ، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بےشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ (الاحزاب : 72)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا ءِتخلیق میں خدا نے تمام انسانوں کو براہ راست طور پر خطاب کیا تھا۔ اس خطاب میں جو بات کہی گئی تھی ، وہ تمام انسانوں کے لاشعور میں محفوظ کر دی گئی۔ گویا کہ خدا کے جس کلام کو انسان، قرآن کی صورت میں پڑھ رہا ہے، اس سے پہلے براہ راست خدائی خطاب کے تحت وہ اُس کو سن چکا ہے اور سمجھ چکا ہے۔ قرآن، انسان کے لیے ایک معلوم بات کو جاننا ہے، نہ کہ کسی نامعلوم بات کو اچانک سننا ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن انسانی ذہن کی ان فولڈنگ ہے۔ )unfolding(

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس بات کو سامنے رکھا جائے تو یہ جاننا مشکل نہیں کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے قرآن کا ترجمہ بھی ایک کافی ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس آدمی کی فطرت زندہ ہو، جس نے اپنے آپ کو بعد کی کنڈیشننگ سے بچایا ہو، وہ جب قرآن کا ترجمہ پڑھے گا تو اس کے ذہن کے وہ خانے کھل جائیں گے جہاں خدا کا خطاب اوّل پہلے سے محفوظ ہے۔ عہد الست اگر خدا کا خطاب اوّل ہے تو قرآن خدا کا خطابِ ثانی۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تصدیق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی آدمی اگر عربی زبان نہ جانتا ہو، یا کم جانتا ہو اور وہ صرف ترجمۂ قرآن پڑھنے کی پوزیشن میں ہو تو اُس کو فہم قرآن کے بارے میں مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن کا یہ تصور ِانسان موجودہ زمانے میں ایک سائنسی حقیقت بن چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں جنیٹک کوڈ کی سائنس اور انتھرا پالوجی کا مطالعہ، دونوں اس قرآنی نقطۂ نظر کی کامل تائید کرتے ہیں۔

ہر کتاب کا ایک موضوع (subject) ہوتا ہے۔ قرآن کا موضوع یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ(creation plan of God) سے انسان کو آگاہ کیا جائے ، یعنی انسان کو یہ بتایا جائے کہ خدا نے یہ دنیا کس لیے بنائی ہے۔ انسان کو زمین پر بسانے کا مقصد کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دور حیات میں انسان سے کیا مطلوب ہے، اور موت کے بعد کے دور حیات میں انسان کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کا سفر حیات موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ قرآن اس پورے سفر حیات کے لیے ایک رہنما کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کرنا،یہی قرآن کا مقصد ہے اور یہی قرآن کا موضوع کلام۔

خدا نے انسان کو ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ۔ پھر اس کے عرصہ حیات (life span) کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ اس کا بہت تھوڑا حصہ قبل از موت دور میں رکھا اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد از موت دور میں رکھ دیا ۔ موت سے پہلے کا جو دور ہے، وہ ٹسٹ کا دور ہے اور موت کے کا جو دور ہے، وہ ٹسٹ کے مطابق، اچھا یا برا انجام پانے کا دور۔ قرآن، زندگی کی اس حقیقت کے لیے ایک تعارفی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔

انسان کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ پیدائشی طور پر ایک متلاشی (seeker) ہے۔ ہر انسان کے دماغ میں یہ سوال چھپا ہوا ہے کہ میں کون ہوں ، میرا مقصد حیات کیا ہے، زندگی کی حقیقت کیا ہے اور موت کی حقیقت کیا ، اس دنیا میں آدمی کی کامیابی اور ناکامی کا راز کیا ہے، وغیرہ۔

قرآن کے مطابق، اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور بعد کی دنیا امتحان کا انجام پانے کی جگہ۔ قبل از موت دور حیات میں انسان کو جو کچھ ملا ہے، وہ سب امتحان کا پرچہ ہے۔ بعد از موت دور حیات میں انسان کو وہ چیز ملے گی جس کا استحقاق اس نے موجودہ دنیا میں پیدا کیا تھا۔ اس دنیا میں آدمی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کو سمجھے اور اس کے مطابق ، اپنےزندگی کی منصوبہ بندی کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک عام آدمی جب قرآن کو پڑھتا ہے تو اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ قرآن بظاہر متفرق بیانات (fragmentary statements) کا مجموعہ ہے۔ یہ احساس بظاہر خلاف واقعہ نہیں ۔ مگر قرآن کا یہ انداز کسی کمی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ وہ عین منصوبہ قرآن کے مطابق ہے۔ قرآن موجودہ حالت میں جیسا ہے، ویسا ہی اُس کو ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی تنبیہ کی ایک کتاب ہے۔ وہ اسباق اور نصیحت کا ایک مجموعہ ہے۔ قرآن، عام طرزِ تصنیف کے مطابق تیار نہیں ہوا۔ زیادہ صحیح طور پر قرآن ایک بک آف وزڈم ہے۔ قرآن کا مقصود یہ ہے کہ قرآن کو پڑھنے والا اگر قرآن کا صرف ایک صفحہ پڑھے، یا اُس کا صرف ایک جملہ سنے تب بھی اُس کو اُس میں ایک میسج مل جائے۔

قرآن ایک اعتبار سے منعم کی طرف سے انعام کی یاد دہانی ہے۔ خدا نے انسان کو استثنائی اور اوصاف کے ساتھ پیدا کیا۔ پھر اس کو زمین جیسے سیارے پر بسایا، جہاں انسان کے لیے ہر قسم کا لائف سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ قرآن کا مقصود یہ ہے کہ انسان ، فطرت کے ان انعامات سے استفادہ کرتے ہوئے منعم کو یاد رکھے۔ وہ انعامات کے خالق کو اکنالج کرے۔ انعامات کو استعمال کرتے ہو۔ منعم کو اکنالج کرنا اور اُس کے تقاضے پورے کرنا، یہی ابدی جنت کا سرٹفکٹ ہے۔ اور انعامات کو استعمال کرتے ہوئے منعم کو فراموش کر دینا، آدمی کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ قرآن دراصل اسی سب سے بڑی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کو پانے کے لیے صحبت ضروری ہے۔ ان کے نزدیک کسی صاحب کمال کی صحبت سے پر اسرار طور پر قرآن کے معانی آدمی کے اوپر کھل جاتے ہیں۔ یہ قرآن اور انسان دونوں کی تصغیر ہے۔ قرآن، انسان کی عقل کو خطاب کرتا ہے۔ اور عقل انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ عقل کی سطح پر قرآن کو پانا ہی قرآن کو پانا ہے۔ جو لوگ عقل سے کم تر کسی سطح پر قرآن کو پائیں، انھوں نے قرآن کو پایا ہی نہیں۔ عقل کی سطح پر پانے والے کے لیے قرآن اُس کی فکری دریافت بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ قرآن کو عقل کی سطح پر نہ پائیں ، وہ اُس کو صرف قومی روایت کے طور پرپائیں گے۔ اور قومی روایت کے طور پر پانا ، قرآن کو صرف کم تر سطح پر پانے کے ہم معنی ہے۔ قرآن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ صرف اصولی اور بنیادی باتوں کو بیان کرتا ہے۔ وہ ان باتوں کو مؤکد (emphasize) کرنے کے لیے انھیں بتکرار بیان کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جزئی باتیں یا ظاہری فارم سے متعلق باتیں قرآن میں اتنی کم ہیں گویا کہ وہ موجود ہی نہیں۔ اس سے قرآن کی اسکیم کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن کے نزدیک فارم کی اہمیت تمام تر سکنڈری ہے۔ قرآن کے نزدیک ساری اہمیت اُن چیزوں کی ہے جن کو خدائی دین میں اصولی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ کوئی بھی شخص جو قرآن کو پڑھے، وہ اس کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی شخصیت کی تعمیر میں ساری اہمیت داخلی اسپرٹ کی ہے۔ داخلی اسپرٹ اگر پیدا ہو جائے تو فارم اپنے آپ پیدا ہو جائے گا۔ ظاہری فارم کبھی بھی داخلی اسپرٹ کو پیدا کرنے والا نہیں بن سکتا ۔ البتہ داخلی اسپرٹ اگر بھر پور طور پر پیدا ہو جائے تو ظاہری فارم لاز ماً پیدا ہو کر رہتا ہے۔ اس لیے قرآن کی ساری کوشش یہ ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی انقلاب لایا جائے ۔ ذہنی انقلاب کے لیے قرآن میں معرفت، یا عرفان حق (المائدہ: (83) کا لفظ آیا ہے۔ قرآن کا سا راز ور اس پر ہے کہ آدمی معرفت کے درجے میں سچائی کو پائے۔ ایمان باللہ وہی ہے جو معرفت کی سطح پر کسی آدمی کو حاصل ہو۔معرفت نہیں تو ایمان بھی نہیں ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ اُس میں بار بار اس قسم کے بیانات پائیں گے کہ یہ خدا کا اتارا ہوا کلام (Word of God) ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات ہے، لیکن جب اس کو تقابلی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ دنیا میں بہت سی کتابیں ہیں جن کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ مقدس کتا بیں ہیں۔ لیکن قرآن کے سوا کسی بھی مقدس مذہبی کتاب میں آپ کو یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اس قسم کا بیان استثنائی طور پر صرف قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں اس قسم کا بیان ہونا، اُس کے قاری کو ایک نقطہ آغاز دیتا ہے۔ وہ اس کا مطالعہ ایک استثنائی کتاب کے طور پر کرتا ہے، نہ کہ عام انسانی کتاب کے طور پر۔

اسی طرح قرآن میں بار بار اس طرح کا انداز ِخطاب ملتا ہے اے انسان ، یہ تیرا رب ہے جو تجھ سے خطاب کر رہا ہے۔ تو اس خطاب کوسُن اور اس کا اتباع کرنا ۔ یہ اندازِ خطاب بھی انتہائی استثنائی ہے۔ کسی بھی دوسری کتاب میں اس قسم کا براہ راست خدائی خطاب موجود نہیں ۔ یہ طرز ِخطاب انسان کو غیر معمولی طور پر متاثر کرتا ہے ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ میرا خدا براہ راست طور پر مجھ کو خطاب کر رہا ہے۔ یہ احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بیان کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لے۔ وہ اُس کے ساتھ عام انسانی کتاب جیسا معاملہ نہ کرے۔

قرآن کا اسلوب بیان بھی ایک منفرد اسلوب بیان ہے۔ عام انسانی کتابوں کا طریقہ یہ ہے کہ اُس میں چیزیں تصنیفی ترتیب کے ساتھ درج ہوتی ہیں ۔ اُس میں اے سے زید تک سلسلہ وار ترتیب کی صورت میں چیزوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ مگر قرآن میں اس قسم کا اسلوب موجود نہیں ۔ عام انسان کو بظاہر قرآن ایک غیر مرتب کلام معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ ایک انتہائی مربوط اور مرتّب کلام نظر آئے گا۔

قرآن کے اسلوبِ کلام کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اُس کا اسلوب ایک شاہانہ اسلوب ہے۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کا مصنف ایک ایسے برتر مقام پر ہے جہاں سے وہ ساری انسانیت کو دیکھ رہا ہے۔ ساری انسانیت اُس کا کنسرن ہے۔ وہ اپنے مقامِ عظمت سے پوری انسانیت کو خطاب کر رہا ہے۔ البتہ اس خطاب کے دوران اُس کا رخ کبھی ایک گروہ کی طرف مڑجاتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کی طرف۔

قرآن کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اُس کا قاری کسی بھی لمحہ اُس کے مصنف سے کنسلٹ کر سکتا ہے۔ قرآن کا مصنف خدا ہے۔ وہ ایک زندہ خدا ہے۔ وہ سارے انسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ براہِ راست طور پر ہر انسان کی بات کو سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے۔ اس لیے قرآن کے قاری کے لیے ہر لمحہ یہ ممکن ہے کہ وہ خدا سے رابطہ قائم کر سکے۔ وہ خدا سے پوچھے اور خدا سے اپنے سوال کا جواب پالے۔

جو لوگ صرف میڈیا کے ذریعے قرآن کو جانتے ہیں ، وہ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ قرآن جہاد کی کتاب ہے، اور جہادان کے نزدیک نام ہے تشدّد کے ذریعے اپنے مقصد کو حاصل کرنا ۔ مگر یہ صرف غلط فہمی کی بات ہے ۔ جو آدمی بھی قرآن کو براہ راست پڑھے، اُس کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی کہ قرآن کا تشدّد سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن مکمل طور پر کتابِ امن ہے، نہ کہ کتابِ تشدّد ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ صحیح ہے کہ قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو جہاد کہا جاتا ۔لیکن جہاد پر امن کوشش کا نام ہے، نہ کہ کسی قسم کے متشدّدانہ عمل کا۔ قرآن کا تصورِ جہاد قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: ‌وَجَٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادٗا كَبِيرٗا[الفرقان: 52] یعنی قرآن کے ذریعے اُن کے ساتھ جہاد کرو،بڑا جہاد:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Do great Jihad with the help of the Quran. (25:52)

قرآن کی اس آیت میں قرآن کے ذریعے جہاد کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کوئی ہتھیار نہیں، قرآن ایک نظریاتی کتاب ہے۔ قرآن ، خدائی آئیڈیا لوجی کا تعارف ہے۔ اس سے قرآن کا تصور ِجہاد واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق ، جہاد دراصل پر امن نظریاتی جدو جہد (ideological struggle) کا نام ہے۔ اس نظریاتی جدو جہد کا نشانہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کا پیغام لوگوں کے دلوں میں اُتر جائے : وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا ‌بَلِيغٗا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

And speak to them a word to reach their very soul. (4:63)

اس آیت کے مطابق ، قرآن کا مطلوب قول وہ ہے جو قولِ بلیغ ، ہو، یعنی ایسا کلام جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرے۔ جولوگوں کو مطمئن کرنے والا ہو۔ جس کے ذریعے لوگوں کو قرآن کی صداقت پر یقین پیدا ہو۔ جس کے ذریعے لوگوں کے اندر فکری انقلاب برپا ہو جائے ۔ یہ قرآن کا مشن ہے۔ اور اس قسم کا مشن صرف دلائل کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ تشدد یا کسی بھی مسلح کارروائی کے ذریعےاس نشانے کو پا نا ممکن نہیں ۔

یہ صحیح ہے کہ قرآن میں کچھ ایسی آیتیں ہیں جو قتال (war) کی اجازت دیتی ہیں۔ لیکن یہ آیتیں صرف جنگی حالات کے لیے ہیں۔ وہ صرف حملے کے وقت دفاع کے معنی میں ہیں۔ دفاع کے سوا کوئی جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ یہ دفاع بھی صرف ایک قائم شدہ ریاست (established state)کر سکتی ہے۔ اسٹیٹ کے سوا کسی بھی فرد، یا تنظیم کو جہاد چھیڑنے کی اجازت نہیں۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم بات یہ ہے کہ قرآن کوئی قانونی کتاب نہیں ہے، قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا اسلوب کلام قانونی نہیں ہے، بلکہ دعوتی ہے۔ قانون کی زبان تعینات کی زبان ہوتی ہے۔ قانونی تحریر میں چیزیں لفظی طور پر مطلوب ہوتی ہیں۔ جب کہ دعوتی تحریر کا معاملہ ایسا نہیں۔ دعوتی تحریر میں اس کے معانی پر زور ہوتا ہے۔ دعوتی کتاب میں الفاظ کی حیثیت صرف ذریعے کی ہو جاتی ہے۔ جب کہ قانونی کتاب میں الفاظ خود مقصود بالذات بن جاتے ہیں۔

اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ دعوتی تحریر میں تاکید کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شدت کے اسلوب کو اختیار کیا جاتا ہے۔ دعوتی تحریر میں ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو بظاہر نہایت سخت معلوم ہوتے ہیں، مگر دعوتی کلام میں یہ سختی بر بناء حکمت ہوتی ہے۔ ایسے کسی کلام میں شدت کو دیکھ کر اُس کو قانونی شدت کے معنی میں لینا سر تا سر نادانی کی بات ہوگی ۔ اس حکمت کا یہ نتیجہ ہے کہ دعوتی کلام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُس میں ایک ایسی بات کہی جاتی ہے جو قانونی اسلوب کے اعتبار سے نہایت سخت معلوم ہوتی ہے، لیکن دعوتی اسلوب کے اعتبار سے وہ صرف جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہے، وہ صرف اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی کی فطرت کو جگایا جائے۔ اس کے اندر چھپے ہوئے احساسات کو متحرک کیا جائے۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

1 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بدر (2) ہجری) کی لڑائی پیش آئی۔ یہ لڑائی آپ نے دفاع کے طور پر کی تھی۔ اس لڑائی میں آپ کو جیت ہوئی ۔ جنگ کے بعد آپ نے مخالفین کے ستّر آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد یہ لوگ اسیرانِ جنگ کی حیثیت سے مدینہ لائے گئے ۔ اس واقعے پر قرآن میں یہ آیت اتری: مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسۡرَىٰ حَتَّىٰ ‌يُثۡخِنَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ [الأنفال: 67]  یعنی کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ اُس کے پاس قیدی ہوں، جب تک وہ زمین میں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اچھی طرح خوں ریزی نہ کرلے۔اس آیت کے الفاظ کو اگر قانونی مفہوم میں لیا جائے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسیران ِجنگ کو لاز ماً قتل کیا جانا چاہیے ۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ اسیرانِ جنگ بوقت ِنزول آیت پوری طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ اختیار میں تھے۔ ایسی حالت میں اگر یہ آیت قانون کی زبان میں ہوتی تو اُس میں اس قسم کے الفاظ ہونے چاہیے تھے کہ جن ستّر آدمیوں کو تم میدانِ جنگ سے گرفتار کر کے مدینہ لائے ہو، وہ سب کے سب اپنے جرم کی بنا پر گردن زدنی ہیں ۔ اس لیے فوراً انھیں قتل کر کے ان کا خاتمہ کر دو ۔ مگر نہ قرآن میں ایسی آیت اتری اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو قانونی آیت سمجھ کر اُس کی لفظی تعمیل کی۔

اس واقعے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اپنے ظاہری الفاظ کے اعتبار سے مطلوب ب تھی، بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطلوب تھی ، یہ شدّتِ کلام کا معاملہ تھا جو اس لیے تھا کہ اسیرانِ جنگ کے اندر اپنی اصلاح کا جذبہ ابھرے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں جو بات تھی ، وہ کوئی قانونی حکم نہ تھا بلکہ وہ صرف ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) تھی۔ اس آیت کا مطلب مجرمین کی اصلاح تھا، نہ کہ مجرمین کا قتل ۔ چناں چہ ان قیدیوں میں سے بیش تر لوگ بعد کو اسلام میں داخل ہو گئے ۔ مثال کے طور پر سہیل بن عمرو، وغیرہ۔

2- اس طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے : يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ ‌وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ [التوبة: 73]  یعنی اے نبی ، منکروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر کڑے بن جاؤ۔ اس آیت کو لے کر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ منکروں اور منافقوں سے جنگ کرے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر نے کبھی بھی وہاں کے منکروں اور منافقوں سے مسلح اقدام کر کے جنگ نہیں کیا ۔ پیغمبر اسلام جب بھی کسی جنگ میں شامل ہوئے تو وہ صرف دفاع کے طور پر ، نہ کہ اپنی طرف سے حملے کے طور پر ۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس آیت میں جہاد اور غلظہ کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، وہ صرف ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) کے طور پر ہیں ، نہ کہ کسی قانونی حکم کے طور پر ۔ اگر وہ کوئی قانونی حکم ہوتا تو پیغمبر اسلام ضرور اس پر عمل کرتے ہوئے اُن کے خلاف مسلح جنگی اقدام کرتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3- قرآن میں ہجرت کے وقت سورہ الکافرون اُتری۔ اُس میں اہل مکہ کو اے منکر کے لفظ سے خطاب کیا گیا اور کہا گیا کہ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ۔ مگر واقعات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ ماننا ہو گا کہ یہ ہیمرنگ کی زبان تھی۔ اگر ان الفاظ کا مطلب یہ ہوتا کہ اہل مکہ کا کفر متحقق ہو چکا ہے، وہ اب خدا کی نظر میں کافر قرار پاچکے ہیں، اب خدا کے نزدیک ان کے لیےدین کفر ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر یہ بات ہوتی تو اہل مکہ کفر پر جیتے اور کفر پر مرتے ، مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ اس کے بعد جو ہو اوہ یہ تھا کہ اہل مکہ میں سے کچھ لوگ جنگ بدر میں مارے گئے اور جولوگ بچے ، اُن سب نے بعد کو اسلام قبول کیا ۔ اسی عملی پہلو کو سامنے رکھ کر سورہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سورہ الکافرون کےالفاظ ہیمرنگ کی زبان میں تھے، وہ قانونی حکم کی زبان میں نہ تھے۔

قرآن کے اسلوب کے بارے میں یہ بات بے حد اہم ہے۔ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے اس اصول کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے کہ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن کوئی قانونی کتاب نہیں۔ قرآن میں جہاں بظاہر شدت ہے، وہ دعوتی حکمت کی بنا پر مخاطب کی ذہنی ہیمر نگ کے لیے ہے۔ قرآنی اسلوب کے بارے میں اس اصولی بات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کو صحیح طور پر سمجھا نہیں جا سکتا۔ قرآن خدا کی کتاب ہے، جو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی۔ قرآن ایک مجموعے کی صورت میں نہیں اُترا، بلکہ تئیس سال کی مدت میں متفرق اجزاء کی صورت میں وہ اتارا گیا۔ پیغمبر اسلام مکہ میں تھے ۔ جب کہ 610 عیسوی میں قرآن کا پہلا حصہ اترا۔ اس کے بعد برابر اُس کے مختلف حصے آپ اُترتے رہے۔ قرآن کا آخری حصہ آپ پر 632 عیسوی میں اترا، جب کہ آپ مدینہ میں تھے۔ قرآن کا یہ نزول فرشتہ جبریل کے ذریعے ہوتا تھا۔ آخر میں خود فرشتہ جبریل کی تعلیم کے مطابق ، قرآن کے مختلف حصوں کو ایک مجموعے کی شکل میں مرتب کیا گیا۔

قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں ، کچھ بڑی سورتیں ہیں اور کچھ چھوٹی سورتیں ۔ آیتوں کی تعداد تقریباً ساڑھے چھ ہزار ہے۔ تلاوت کی ضرورت کے لیے قرآن کو تھیں پاروں اور سات منزلوں کی صورت میں تقسیم کیا گیا ہے۔

قرآن ساتویں صدی کے ربع اول میں اترا۔ اُس وقت کا غذ وجود میں آچکا تھا۔ یہ کاغذ بعض کاغذ مخصوص درختوں کے ریشے سے لے کر دستی صنعت کے طور پر بنایا جاتا تھا۔ اُس کو پپائرس (Papyrus) کہا جاتا ہے۔ قرآن کا کوئی حصہ جب بھی اُتر تا تو اُس کو اس کا غذ پر لکھ لیا جاتا تھا۔ جس کو عربی زبان میں قرطاس (الانعام : (7) کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ لوگ قرآن کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتے تھے۔ کیوں کہ اُس وقت قرآن ہی واحد اسلامی لٹریچر تھا۔ قرآن کو نمازوں میں پڑھا جاتا تھا اور دعوہ ورک کے تحت اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ اس طرح قرآن بیک وقت لکھا بھی جاتا رہا اور اس کے ساتھ اس کو یاد بھی کیا جاتا رہا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام کے آخری زمانے تک قرآن کو محفوظ کرنے کا یہی طریقہ جاری رہا۔ آپ کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی، اس کے بعد ابوبکر صدیق اسلام کے پہلے خلیفہ بنے۔ انھوں نے با قاعدہ اہتمام کے تحت، قرآن کا ایک مجلد نسخہ بنایا۔ یہ نسخہ قدیم زمانے کے کاغذ یا قرطاس پر بنایا گیا تھا۔ یہ مجلد قرآن چوکور صورت میں تھا۔ چناں چہ اس کو ربعہ (square) کہا جاتا تھا ۔ اس طرح قرآن ، خلیفہ اوّل کے زمانے میں مجلد کتاب کی صورت میں محفوظ ہو گیا ۔ تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے زمانے میں اس مجلّد قرآن کے مزید نسخے تیار کیے گئے اور اس کو مختلف شہروں میں بھیج دیا گیا۔ یہ نسخے شہر کی جامع مسجدوں میں موجود رہتے تھے۔ لوگ اُن کو پڑھتے بھی تھے اور اُن سے مزید نسخے تیار کرتے تھے۔

کتابت قرآن کا یہ سلسلہ انیسویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور ساتھ ہی کا غذ بھی جدید صنعتی طریقے پر بڑی تعداد میں تیار کیا جانے لگا۔ اس طرح انیسویں صدی میں قرآن کو باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کے ذریعے چھاپنے کا آغاز ہو گیا۔ چھپائی کے طریقوں میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔ اس کے ساتھ قرآن کے مطبوعہ نسخے بھی زیادہ بہتر طور پر تیار ہونے لگے ۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے اتنے زیادہ عام ہو گئے ہیں کہ وہ ہر گھر میں اور ہر مسجد میں اور ہر لائبریری میں اور ہر مارکیٹ میں اس طرح وافر مقدار میں موجود ہیں کہ ہر انسان قرآن کے چھپےہوئے خوب صورت نسخے حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ گرہ ارض کے کسی بھی مقام پر ہو۔

ويل للمطففين 34

ويل للمطففين

قرآن کی سورہ نمبر 83 میں ارشاد ہوا ہے: ﵟوَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ ١ ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكۡتَالُواْ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسۡتَوۡفُونَ ٢ وَإِذَا كَالُوهُمۡ أَو وَّزَنُوهُمۡ ‌يُخۡسِرُونَﵞ [المطففين: 1-3]  یعنی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹاکردیں۔

Qur'anQuotes the Qur'an

تطفیف کے معنی ہیں، ناپ اور تول میں کمی کرنا۔ اس آیت میں ناپ اور تول میں کمی سے مراد سادہ طور پر صرف تراز و یا ناپ کا پیمانہ نہیں ہے بلکہ اس میں تمثیل کی زبان میں ایک انسانی صفت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے ، وہ یہ کہ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ایک معیار سے جانچے اور دوسرے کو کسی اور معیار ہے۔ وہ اپنی صرف خوبیاں لے اور دوسرے کی صرف برائیاں ۔ اور اس طرح غیر منصفانہ تقابل کے ذریعہ یہ ظاہر کرے کہ وہ صرف اچھا ہے اور اس کے مقابلے میں دوسراشخص صرف برا۔

تطفیف کا یہ انداز بہت عام ہے۔ ہر سماج میں لوگ کثرت سے اسی روش پر کار بند ہوتے ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر سماج کے اندر باہمی خیر خواہی اور حسن ظن کی فضا پیدا نہیں ہوتی ۔ مثلاً دو آدمیوں نے مل کر ایک کاروبار کیا۔ اُن میں سے ایک شخص نے دس لاکھ روپیہ کا سرمایہ دیا اور دوسرے شخص نے اپنی محنت اور قابلیت کو کاروبار میں وقف کر دیا۔ کچھ عرصے کے بعد کاروبار بڑھااور اس کی مالیت ایک کروڑ روپیہ کے برابر ہوگئی ۔

اب تطفیف یہ ہے کہ ابتدائی سرمایہ لگانے والا صرف اپنے سرمایہ کو جانے اور فریق ثانی نے اپنی محنت سے اس ابتدائی سرمایہ پر جو اضافہ کیا ہے اُس کو بھول جائے۔ دوسری طرف محنت کرنے والا فریق صرف اپنی محنت کو دیکھے اور دوسرے پارٹنر نے اپنے سرمایہ کے ذریعہ اس کو جو بنیاد فراہم کی اُس کو وہ فراموشی کے خانہ میں ڈال دے۔ اس قسم کی تخفیف دونوں شریکوں کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف منفی جذبات پیدا کرے گی یہاں تک کہ دونوں لڑکر ایک دوسرے سے الگ ہو جا ئیں جائیں گے۔

اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ دونوں ایک دوسرے کے حصہ (contribution) کو یا درکھیں اور اُس کا کھلا اعتراف کریں تو دونوں کے دل میں ایک دوسرے کی عزت اور اہمیت ہوگی ۔ ایسی حالت میں اُن کا مشترک کا روبار مسلسل چلتا رہے گا یہاں تک کہ وہ عظیم کامیابی تک پہنچ جائے گا۔

یہی معاملہ گروہی نزاعات کا ہے۔ گروہی نزاعات میں بھی عام طور پر لوگ تطفیف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنی طرف کے ظلم کو حذف کر کے دوسرے گروہ کے ظلم کو بیان کرتا ہے۔ مثلا ایک گروہ کے لوگوں نے دوسرے گروہ کے لوگوں پر پتھر برسا کر انھیں زخمی کر دیا۔ اُس کے بعد دوسرے گروہ کے لوگ مشتعل ہو گئے اور انھوں نے پتھر کے جواب میں بم کا استعمال کر کے مزید اضافہ کےساتھ فریق اول کو نقصان پہنچایا۔

اب یہ ہوتا نا ہے کہ دونوں فریق ، معاملے کی یک طرفہ رپورٹنگ کرتے ہیں۔ یعنی ایک فریق یہ کرتا ہے کہ وہ صرف دوسرے فریق کے بموں کا حال بتا کر اُس کو ظالم ثابت کرتا ہے۔ اسی طرح دوسرا فریق یہ کرتا ہے کہ وہ مخالف فریق کی طرف سے آنے والے پتھروں کا ذکر کر کے ظاہر کرتا ہے کہ وہی یک طرفہ طور پر ظالم ہے۔ یہ بلا شبہ تطفیف ہے۔ اس قسم کی تخفیف جس سماج میں رائج ہو جائے اُس کے معاملات کبھی درست نہ ہوں گے۔ اُس کے لوگوں کے درمیان ہمیشہ نفرت اور ٹکراؤ کا ماحول باقی رہے گا۔ اور نفرت اور ٹکراؤ کے ماحول میں نہ ایک گروہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ دوسرا گروہ ۔

اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ انصاف اور غیر جانب داری کا طریقہ اختیار کریں ۔ ہرایک یہ کرے کہ دوسرے کی کوتاہی بتانے کے ساتھ وہ خود اپنی کوتاہی کو بھی بتائے۔ دوسرے کے ظلم کی نشاندہی کے ساتھ وہ اپنے حصہ کے ظلم کا بھی گھلا اقرار کرے۔ یہی منصفانہ روش ہے اور اسی قسم کی منصفانہ روش سے یہ ہوتا ہے کہ کسی سماج میں اعلیٰ اخلاقی قدریں فروغ پائیں اور وقتی رکاوٹوں کے باوجود سماج کا ترقیاتی سفر مسلسل آگے کی طرف جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل پر پہنچ جائے ۔

يهود كي حيثيت 36

یہود کی حیثیت

قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر لعنت کی اور وہ اللہ کے غضب کا شکار ہوئے ۔ دوسری طرف صحیح البخاری (کتاب الجنائز ) میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار دیکھا کہ مدینہ کے ایک راستے سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ آپ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ کسی نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا : اليُسَتْ نَفْسًا ( کیا وہ انسان نہیں ) :

quoted sourceQuoted from another author or source

Was he not a human being?

یہاں یہ سوال ہے کہ قرآن کے بیان کے مطابق، یہودی قابل لعنت ہیں اور دوسری طرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق وہ قابل احترام ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دو مختلف بیانات کے درمیان تطبیق کیا ہے۔ غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن میں جو بات کہی گئی ہے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ یعنی یہ اللہ کے اپنے نزدیک یہود کی حیثیت کا بیان ہے اور صحیح البخاری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عمل بیان ہوا ہے، وہ یہود کی اس انسانی حیثیت کو بتاتاہے جو موجودہ دنیا میں انھیں انسان کی نسبت سے حاصل ہے۔

یہود یا غیر یہود کا ایک معاملہ وہ ہے جس کا تعلق براہ راست اللہ سے ہے۔ اس کا عمومی اظہار صرف آخرت میں ہوگا ۔ جہاں تک موجودہ دنیا کا تعلق ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے ساتھ وہی اخلاقی اور انسانی برتاؤ رکھیں جو ہر انسان کے لیے مقرر ہے، ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم اخلاقی تعلقات میں یہود اور غیر یہود کے درمیان فرق کریں ۔

اس سلسلے میں دوسری بات جو واقعات کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب یہود کی تمام نسلوں کے ساتھ علی الاطلاق طور پر نہیں ہے۔ بلکہ وہ صرف ان یہودی افراد سے ہے جو اللہ کے علم کے مطابق ، قابل لعنت فعل کے مرتکب ہوئے ہوں ۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ یہودی نسل کے بہت سے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق حاصل ہوئی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اور بعد کے زمانہ میں بھی۔ یہودی مردوں اور عورتوں کے قبول اسلام کا یہ سلسلہ آج تک

جاری ہے۔

جب یہودی نسلوں میں برابر ایسے افراد نکل رہے ہوں جو توبہ کریں اور دین حق کو اپنا دین بنائیں ، ایسی حالت میں دعوت کے نقطۂ نظر سے یہ جائز نہیں ہو سکتا کہ ان سے نفرت کر کے انھیں مستقل طور پر اپنے سے دور کر دیا جائے۔

قرآن کی سورہ الفاتحہ میں المغضوب عليهم كا لفظ آیا ہے۔ عام طور پر اس کی تشریح میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں مگر یہ صحیح نہیں ، اس میں ایک صفت کا ذکر ہے نہ کہ کسی خاص نسل کا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے ذاتی فعل کی بنا پر مغضوب قرار پاسکتا ہے، یہودی بھی اور غیر یہودی بھی حتی کہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو اپنے فعل کی بنا پر اس کے مستحق قرار پائیں ، مگر کسی قوم کی تمام نسلوں کے لیے یہ لفظ نہیں بولا جا سکتا۔

کتابوں کا اشتہار

دین و شریعت :دین اسلام کا ایک فکری مطالعہ

رہنمائے حیات :مولانا وحید الدین خان ،ڈائری

۱۹۹۳-۹۴

مولانا وحید الدین خان

تقابلي طريقِ مطالعه 38

تقابلی طریق مطالعه

عربی زبان کا ایک بامعنی مثل ہے: تعرف الاشياء بأضدادها (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ) اس بات کو المتنبی (وفات: 965) نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: وبضدھا تتبين الأشياء - مطالعہ کے اسی فطری اسلوب کو انگریزی ادیب ولیم شیکسپیر (وفات: 1616) نے اس طرح بیان کیا ہے۔ ہم تقابل کے ذریعہ باتوں کو سمجھتے ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

In comparison that we understand

یہ علمی طریق مطالعہ کا ایک اہم اصول ہے۔ وہ اسلام کے مطالعہ کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دوسرے علوم کے مطالعہ کے لیے۔ یہاں قرآن اور سنت سے اس معاملے کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

1۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔ 610ء میں آپ کو نبوت عطا کی گئی۔ اس وقت جو ابتدائی احکام قرآن میں اترے، اُن میں سے ایک حکم یہ تھا : وربک فکبر(المدثر : 3) یعنی اپنے رب کی تکبیر کر ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب اس آیت کو سمجھنے کے لیے تقابل کا طریقہ استعمال کیجئے ۔ اسلام کے دور اول میں جب مکہ میں یہ آیت اتری اس وقت مشرکین نے توحید کے گھر کعبہ پر قبضہ کر کے وہاں 360 بت رکھ دئے تھے۔ یہ واضح طور پر ایک نا قابل برداشت فعل تھا۔ ایسی حالت میں بظاہر یہ حکم اترنا چاہیے تھا کہ: والأصنام فدمر ( بتوں کو توڑ ڈالو ) مگر اس وقت قرآن میں تد میر امام کے بجائے تکبیر رب کا حکم نازل ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تقابل پر غور کیجئے تو ایک نہایت گہری حکمت معلوم ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ اسلامی تحریک یادینی دعوت کا طریقہ یہ ہے کہ افکار میں تبدیلی کی پر امن جدو جہد سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے ، نہ کہ نظام یا ظاہری ڈھانچہ کو تشدد کے ذریعہ توڑنے سے۔ اس ربانی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے موجودہ زمانہ کے مصلحین نے نظام کو توڑنے سے اپنے عمل کا آغاز کیا جو قانونِ الہی کے خلاف ہونے کی بنا پر اصلاح کے نام پر فساد کا باعث بن گیا۔

یہی وہ ذہن ہے جس کی ترجمانی اقبال نے اپنے اس شعر میں کی ہے:

گفتند جهان ما آیا بتو می سازد گفتم که نمی سازد گفتند که بر هم زن

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی 13 سال تک مکہ میں رہے۔ اس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے رسول اور اصحاب رسول کے خلاف طرح طرح کے مسائل پیدا کر دئے۔ مثلا مکہ میں آزادانہ طور پر عبادت کرنا سخت مشکل ہو گیا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اترى: إن مع العسر يسرا (الانشراح: (4) یعنی بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ تقابل کے اصول پر غور کیجیے تو یہاں دوسرا حکم یہ نازل ہو سکتا تھا کہ مشکلات کی چٹان کو توڑوتا کہ تمھارے لیے اسلام پر عمل کرنے کا راستہ ہموار ہو جائے ، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس تقابلی مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات سے ٹکرانا اسلام کا طریقہ نہیں، بلکہ مشکلات سے اعراض کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنے لیے عمل کے مواقع تلاش کرنا، یہ اسلام کا طریقہ ہے۔ ایک جملہ میں ، قرآن کا فارمولا یہ ہے۔ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Ignore the problems, avail the opportunities.

اس اسلامی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ ہوا کہ موجودہ زمانے کے مصلحین نے مسائل کو دیکھتے ہی مسائل کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا کیوں کہ خود ساختہ سوچ کے تحت انھوں نے یہ سمجھا کہ پہلے مسائل سے لڑ کر مسائل کا خاتمہ کرو، اس کے بعد ہی ہمارے لیے کام کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ ذہن ہے جو عرب دنیا کے رہنماؤں کے یہاں اس نعرہ کی شکل میں جاری ہوا: الجهاد هو الحل الوحيد (جہاد ہی واحد حل ہے ) حالانکہ اگر وہ قرآنی حکمت کو سمجھتے تو ان کا قول عکس طور پر یہ ہوتا :

unverifiedAttribution could not be verified automatically

الدعوة هي الحل الوحید ( دعوت ہی واحد حل ہے )۔

3۔ مکہ کے 13 سالہ دور میں اگر چہ سو سے زیادہ آدمی اسلام میں داخل ہو گئے تھے، مگر مشرکین کے غلبہ کی بنیاد پر وہاں رسول اور اصحاب رسول کے لیے حالات دن بدن سخت ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ تیرھویں سال ہجرت کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ آپ اور آپ کے اصحاب ملکہ کو چھوڑ کر مدنیہ چلے گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رات کے وقت مکہ کو چھوڑا تو صورت حال یہ تھی کہ وہاں کے مشرکین تلوار سے مسلح ہو کر آپ کے مکان کو گھیرے ہوئے تھے ۔ یہ گویا ان کی طرف سے ایک قسم کی دعوت ِقتال تھی ۔ مگر آپ مقابلہ سے اعراض کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ رات کے وقت مکہ سے نکلےاور 400 میل کا سفر طے کر کے مدینہ آگئے ۔

ہجرت کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ جیسا کہ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى ‌يَقُولُونَ ‌يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ ۔ (صحيح البخاري، 1772)ہجرت کا یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں اتنا اہم تھا کہ اس سے اسلامی کیلنڈر کا آغاز کیا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر تقابلی اعتبار سے دیکھیے تو یہاں ایک اور صورت ممکن تھی ۔ وہ یہ کہ ہجرت ، بالفاظ دیگر مقابلہ کے مقام سے ہٹ جانا، کے بجائے محاصرہ کیے ہوئے مشرکین سے جنگ کی جائے خواہ اس کا نتیجہ جس شکل میں بھی برآمد ہو ۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کے اعتبار سے دیکھیے تو اس معاملے میں یہی دوسرا طریقہ زیادہ معیاری تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی یہی عام سوچ رہی ہے ۔ اس ذہن کی ترجمانی سلطان ٹیپو (وفات: 1799) نے میں ان الفاظ میں کی تھی شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جولڑائیاں پیش آئیں ، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو غزوہ احد کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کے ستر افراد مارے گئے ۔ یہ مشرکین کی طرف سے بلا شبہہ ایک ظالمانہ واقعہ تھا۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ آیا تو مشرکین کو الزام دینے کے بجائے خود مسلمانوں کو نصیحت کی گئی۔ قرآن میں یہ آیت اتری : حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ ‌وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ [آل عمران: 152]  یعنی جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے کے بارے میں تمھارے اندر نزاع پیدا ہو گئی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تقابلی اعتبار سے دیکھیے تو اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حملہ آور مشرکین کے خلاف غصے کا اظہار کیا جاتا ، جیسا کہ اس طرح کے معاملات میں مسلم رہنماؤں کا عام طریقہ ہے۔ وہ ایسے مواقع پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہیں۔ اور احتجاج کی زبان میں کلام کرتے ہیں ۔ مثلاً بیسویں صدی کے ربع اول میں جب اٹلی کی فوجیں لیبیا میں داخل ہو گئیں تو ایک مشہور عالم نے اپنے جذبات کا اظہاران الفاظ میں کیا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

كيف القرار وقد نكس أعلامنا بطرابلس

5۔ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کے بعد بھی مشرکین نے اپنی مخالفانہ کارروائیوں کو ختم نہیں کیا۔ اب انھوں نے یکطرفہ جارحیت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے جنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مگر جنگوں کے ذریعے کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ اب اللہ تعالیٰ نے الصلح خير (النساء: 128) کے اصول کے مطابق، ایک ایسی تدبیر کا حکم دیا جس کے نتیجہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان امن کا معاہدہ طے پا گیا جو اسلام کی تاریخ میں صلح الحدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ صلح حدیبیہ کی تفصیلات حدیث میں اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہےکہ حدیبیہ کے مقام پر دو ہفتہ کی گفت و شنید جاری رہی ۔ مگر مشرک سردار اپنی ضد کو چھوڑ نے پر تیار نہیں ہوئے ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی شرطوں کو یکطرفہ طور پر منظور کرتے ہوئےان سے امن کا معاہدہ کر لیا اور مدینہ واپس آگئے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری : انا فتحنا لک فتحا مبينا(الفتح : 1) یعنی ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب اس معاملے کو تقابلی اصول پر دیکھیے ۔ حدیبیہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ صلح صلح نامہ کی ظاہری دفعات کے مطابق، بظاہر مشرکین کی جیت کے ہم معنی تھی۔ ایسی حالت میں دوسری بات جو کبھی جا سکتی تھی وہ یہ تھی کہ تم لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پر جو صلح کی ہے، وہ تو تمھارے لیے شکست مبین کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اس کے بجائے قرآن میں اس صلح کو فتح مبین کا نام دیا گیا، جیسا کہ حقیقت بعد کوپیش آیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تقابل پر غور کیجیے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ صلح اور جنگ کے معاملے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے کو عزت اور ذلت کا مسئلہ نہ بنایا جائے بلکہ مستقبل کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔ حال کی ظاہری پسپائی اگر مستقبل کی فتح بننے والی ہوتو حال کو نظر انداز کرتے ہوئے مستقبل کی بنیاد پر فیصلہ کر لینا چاہیے۔ بد قسمتی سے موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ چنانچہ بیسویں صدی کے آغاز میں جب عرب قوموں کا مقابلہ مغربی طاقتوں سے پیش آیا تو انھوں نے بر عکس طور پر اپنی قوم کو یہ جنگی نعرہ دیا: مُوتُوا الْيَوْمَ أَعِزَّاء ، قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا أَذِلَّاءَ . ( آج عزت کے ساتھ مر جاؤ، اس سے پہلے کہ کل تم کو ذلت کے ساتھ مرنا پڑے )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تراجم تذكير القرآن

تذکیر القرآن کے ہندی اور انگریزی ترجموں کے بعد اب دیگر مقامی زبانوں تلگو، تامل، آسامی، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، اُڑیا، کنڑ ، نیز مختلف عالمی زبانوں جرمن ، فرینچ ، اسپینش ، روسی ، جاپانی اور چینی ، وغیرہ میں اُس کا ترجمہ اور اشاعت مطلوب ہے۔ جو حضرات تذکیر القرآن کے ترجمہ اور کمپوزنگ اور اشاعت کا دعوتی کام کرنا چاہتے ہوں، وہ ادارے کو اپنا مخلصانہ تعاون دیں، اوراپنے مکمل پتے سے آگاہ فرمائیں ۔ اس سلسلے کے تمام اخراجات ادارے کے ذمے ہوں گے۔

كتاب، ترازو اور لوها 43

کتاب ، تراز و اور لوہا

قرآن کی سورہ نمبر 57 میں ایک آیت آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل کی ، تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں۔ اور ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں۔ اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے

unverifiedAttribution could not be verified automatically

بن دیکھے۔ بے شک اللہ طاقت والا، زبردست ہے۔ (الحدید: 25) قرآن کی اس آیت میں بنیادی طور پر تین چیزوں کے اتارنے کا ذکر ہے۔ نزول کتاب نزول میزان ، اور نزول حدید۔ نزول کتاب سے مراد رسولوں کے ذریعے خدائی کلام کو اتارنا ہے۔ نزول میزان اور نزول حدید میں نزول سے مراد پیدا کرنا ہے، جیسا کہ سورہ الزمر میں فرمایا: وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ‌ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ [الزمر: 6]- اس دوسری آیت میں نزول انعام سے مراد تخلیق انعام ہے، یعنی مویشیوں کو پیدا کرنا ۔ اسی طرح سورہ الحدید میں بھی نزول میزان اور نزول حدید سے مراد تر از واورلوہے کو پیدا کرنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا نے ہر زمانے میں پیغمبروں کے ذریعے اپنا کلام انسانوں کے پاس بھیجا۔ اب خدا کی آخری کتاب قرآن ہے جو کامل طور پر محفوظ کتاب ہونے کی بنا پر خدائی ہدایت کو معلوم کرنے کا واحد مستند ذریعہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن کا مطالعہ کر کے اپنے بارے میں خدا کی ہدایت کو معلوم کرے اور اس پر عمل پیرا ہو جائے۔

اس نظری ہدایت کے بعد خدا نے دو اور چیز پیدا کی وہ تر از و اور لوہا ہے۔ یہ دونوں چیزیں گویا دو مطلوب ربانی کردار کے لیے مادّی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تراز و اس بات کا ماڈل ہے کہ اخلاق اور معاملات میں آدمی اسی طرح منصفانہ برتاؤ کا طریقہ اختیار کرے جس طرح ایک ترازو برابری کی تول تولتا ہے اور نہایت منصفانہ طور پر حقوق کا تعین کر دیتا ہے۔ ایسا ہی منصفانہ طریقہ انسان کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنا چاہیے۔

یہی معاملہ لوہے کا ہے۔ انسان سے جو ربانی کردار مطلوب ہے، لوہا اس کا ایک مادّی ماڈل ہے۔ لوہے میں بیک وقت دو اعلیٰ صفت پائی جاتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ قابل اعتماد حد تک مضبوط ہے۔ دوسرا یہ کہ اس سے زندگی کے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ خدا کی کتاب سے ہدایت معلوم کرے اور اجتماعی زندگی میں لوہے کی طرح مضبوط کردار کا حامل بن جائے ۔ وہ دنیامیں اس طرح رہے کہ دوسروں کو اُس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے۔ اس آیت میں لوہے کی دو صفت بتائی گئی ہے۔ مضبوطی اور نفع بخشی ۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ نہیں، بلکہ وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مضبوطی ہی کا ایک پہلو نفع بخشی ہے۔ کوئی چیز مضبوط ہو ، اُس وقت وہ نفع بخش بن سکتی ہے ۔ مضبوطی نہیں تو نفع بخشی بھی نہیں ۔

آیت کا آخری حصہ بتاتا ہے کہ یہ سارا معاملہ حالتِ غیب میں پیش آتا ہے ۔ کیوں کہ انسان کو اس دنیا میں آزمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ آزمائش کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجبوری کے بغیر خود اپنے اختیار سے درست رویہ اختیار کرنا ۔ یہ بات حالتِ غیب ہی میں ہو سکتی ہے۔ اگر خدا اور اس کی طاقت آنکھوں کے سامنے ظاہر ہو جائے تو وہ حالت ہی ختم ہو جائے گی جس میں کسی کا امتحان لیا جائے اور اس کے بارے میں آخرت کے انجام کا فیصلہ کیا جائے۔

لکھنؤمیں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ

حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں :

Mohammad Hassan Nadwi

Star Mobiles & Electronics, Shop No. 6, Sabzi Mandi,

Sattya Market, Sector: 17, Lucknow. (U.P.) 226016

Mobile: 09305356090, Email: mhcps@yahoo.com

غیر حقیقی ذہن

ایک سفید فام امریکی نو مسلم ہیں اُن کا قدیم نام اسٹیو اسکلر (Steev Sklar) تھا۔ اُنھوں نے اپنا اسلامی نام محمد مصطفیٰ رکھا۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد دس سال سے زیادہ مدت مسلم ملکوں میں گزاری۔ انھوں نے عربی زبان اتنی سیکھ لی ہے کہ اب وہ بے تکلف عربی بولتے ہیں۔ دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ میرے مطالعہ کے مطابق ، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس وہی ہے جس کو انگریزی میں پیرانوئیا (paranoia) کہا جاتا ہے، یعنی اپنی بڑائی کا وہم ۔ محمد مصطفیٰ صاحب کئی بار دہلی آئے اور ہر بار مجھ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ وہ جب بھی میرے پاس آتے ، وہ روزے سے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنہا آپ کو چھوڑ کر موجودہ زمانے کا ہر مسلمان میرے نزدیک ایک پیرانو ئک کردار (paranoic character) بن گیا ہے۔

پیرانو نیا کا مفہوم تقریباً وہی ہے جس کو ایک فارسی مقولے میں پدرم سلطان بود کہا گیا ہے۔ میں اپنے تجربہ اور مطالعہ کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں جو نفسیات پیدا ہوئی ، وہ عین اس کے مطابق تھی ۔ مسلمانوں میں جب بادشاہت تھی تو اگر چہ بادشاہ صرف ایک ہوتا تھا مگر سارے مسلمان پدرم سلطان است کی نفسیات میں جیتے تھے۔ اور اب جب کہ قدیم طرز کی بادشاہت ختم ہو گئی تو اب سارے مسلمان پدرم سلطان بود کی نفسیات میں جیتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت پچھلے تقریباً ہزار سال سے اسی قسم کی نفسیات میں جی رہی ہے۔ مسلمانوں کی بعد کی نسلوں میں غلط طور پر شاہانہ عظمت ، ترقی اور تنزلی کا معیار بن گئی۔ اگر اُنھیں دنیا میں شاہانہ حیثیت حاصل ہو تو وہ اپنے آپ کو عظمت کے پہاڑ پر کھڑا ہوا محسوس کریں گے۔ اور اگر شاہانہ حیثیت ختم ہو جائے تو اُن کا وہی حال ہوگا جس کو اقبال نے اپنے ایک مصرعہ میں اس طرح بیان کیا ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا!

حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا ہونا یا نہ ہونا دونوں اضافی چیزیں ہیں۔ یہ مومن کا کمال ہے کہ وہ ہر حال میںفَفِرُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۖ [الذاريات: 50]  کا مصداق بنا ہوا ہو۔ وہ ہر حال میں اللہ کی طرف بھاگے۔ دنیا میں پانا اس کو آخرت کی محرومی کی یاد دلائے اور دنیا کی محرومی اُس کے لیے تعلق باللہ میں اضافہ کا سبب بن جائے ۔ اُس کو غلبہ حاصل ہو تو وہ آخرت کی باز پرس کے احساس سے کانپ اُٹھے ۔ وہ مغلوب ہو جائے تو اُس کا عجز اُس کو اللہ کی قدرت کی یاد دلائے۔ اُس کو دنیا کی نعمتیں ملیں تو وہ سہم اُٹھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آخرت میں اُس سے یہ کہہ دیا جائے کہ ‌أَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبَٰتِكُمۡ فِي حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنۡيَا [الأحقاف: 20]اور اگر دنیا کی نعمتوں میں اس کو حصہ نہ ملے تو وہ کہہ اُٹھے کہ خدایا،

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر تو مجھے آخرت کی نعمتوں سے محروم نہ کرے تو دنیا کی نعمتوں سے محرومی کی مجھے پروا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی پوری زندگی ایک مسلسل امتحان ہے۔ یہاں صاحب اقتدار ہونا بھی امتحان ہے اور بے اقتدار ہونا بھی امتحان ۔ یہاں ملنا بھی امتحان ہے اور چھن جانا بھی امتحان ۔ یہاں با عظمت ہونا بھی امتحان ہے اور بے عظمت ہونا بھی امتحان ۔ اصل قابل لحاظ چیز یہ ہے کہ آدمی کو جس آزمائش میں بھی ڈالا جائے اُس میں وہ پورا اُترے۔

سہارن پور ( یوپی ) میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں ۔ یہاں سے دعوتی مقصد کے لیے کتابیں مفت بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ پستہ درج ذیل ہے :

Dr. Mohd. Aslam

3/1108, Dehradun Chowk, Saharanpur-247001, U.P.

Mob. 9997153735, Email: dr_aslm@rediffmail.com

اسکیم برائے ادارہ اور مساجد

مساجد اور مدارس اور اداروں کے لیے مولانا وحید الدین خاں کی دس کتابوں کا ایک منتخب سیٹ تیار کیا گیا ہے۔ خواہش مند حضرات آرڈر روانہ کر کے ۴۰ فی صد کی خصوصی رعایتی قیمت پر اس کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈاک خرچ ادارے کے ذمے ہوگا۔ نیز یہ آرڈر صرف D.D یا .MO کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔ جو حضرات کتابوں کا یہ منتخب سیٹ مساجد اور مدارس اور اداروں کو اپنی طرف سے ہدیہ کرنا چاہتے ہوں، وہ بھی اس اسکیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہر آرڈر کے ساتھ ماہ نامہ الرسالہ (اُردو) ایک سال کے لیے مفت جاری کیا جائے گا۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں :

سیٹ برائے مساجد

1 تذكير القرآن ( اردو )

2 الله اكبر

3 مطالعه قرآن

سیٹ برائے ادارہ اور مدارس

1 تذكير القرآن ( اردو )

4 قال الله وقال الرسول

5 مطالعہ حدیث

2 اللہ اکبر

3 مطالعہ سیرت

4 الاسلام

5 فکر اسلامی

6 مطالعہ سیرت

6 دین و شریعت

7 سیرت رسول

7 تجدید دین

8 پیغمبر انقلاب

8 مذہب اور جدید چیلنج

و عظمت اسلام

10 انسان کی منزل

رعایتی قیمت صرف : 570 .Rs

و انسان کی منزل

10 راز حیات

رعایتی قیمت صرف 510 .Rs

Al-Risala Monthly

1, Nizamuddin West Market, New Delhi-110013

Tel. 24355454, 24355729, email: info@goodwordbooks.com

ایجنسی الرساله

الرسالہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے۔ الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچایا جائے ۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مشن کا تقاضا ہے کہ آپ نہ صرف اس کو خود پڑھیں بلکہ اس کی ایجنسی نے کر اس کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں دوسروں تک پہنچائیں ۔ ایجنسی گویا الرسالہ کے متوقع قارئین تک اس کو مسلسل پہنچانے کا ایک بہترین درمیانی وسیلہ ہے۔ الرسالہ (اردو) کی ایجنسی لینا ملت کی ذہنی تعمیر میں حصہ لینا ہے جو آج ملت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسی طرح الرسالہ (انگریزی) کی ایجنسی لینا اسلام کی عمومی دعوت کی مہم میں اپنے آپ کو شریک کرنا ہے جو کار نبوت ہے اور ملت کے اوپر سب سے بڑا فریضہ ہے۔

ایجنسی کی صورتیں

ا الرسالہ (اردو، انگریزی) کی ایجنسی کم از کم پانچ پر چوں پر دی جاتی ہے۔ کمیشن ۲۵ فی صد ہے۔ ۱۰۰ پر چوں سے زیادہ تعداد پر کمیشن ۳۳ فی صد ہے۔ پیلینگ اور روانگی کے تمام اخراجات ادارہ الرسالہ کے ذمہ ہوتے ہیں۔زیادہ تعدا د والی ایجنسیوں کو ہر ماہ پرچے بذریعہ وی پی روانہ کئے جاتے ہیں۔کم تعداد والی ایجنسی کے لیے ادائیگی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ پرچے ہر ماہ سادہ ڈاک سے بھیجےجائیں ، اور صاحب ایجنسی ہر ماہ یا دو تین ماہ بعد اس کی رقم بذریعہ منی آرڈر روانہ کردے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ چند ماہ ( مثلاً تین مہینے تک پرچے سادہ ڈاک سے بھیجے جائیں اور اس کے بعد والے مہینےمیں تمام پرچوں کی مجموعی رقم کی وی پی روانہ کی جائے۔

زر تعاون الرساله ہندستان کے لیے

ایک سال

دو سال

تین سال

پانچ سال

بیرونی ممالک کے چا ( ہوائی ڈاک )

$10/£5

Rs. 100

$20/£10

Rs. 200

$30/£15

Rs. 300

$45/£20

Rs. 480

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it