Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Al Islam
Al Islam

دعوت کی ہماگیری

Urdu · 12 min

ابنِ اسحاق نے عبداللہ ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ایک بار قریش کے اشراف ابو طالب کے یہاں جمع ہوئے، ان میں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوجہل ابن ہشام، امیہ ابن خلف، اور ابو سفیان ابن حرب جیسے لیڈر شامل تھے۔ ابو طالب کی معرفت ان لوگوں نے پوچھا کہ آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ نے کہا: كلمةٌ واحدةٌ تعطونيها تملكون بها العرب وتدينوا لكم بها العجم میں صرف ایک بات کا مطالبہ کرتا ہوں: اگر تم اسے مان لو تو تم سارے عرب کے مالک بن جاؤ گے، اور عجم تمہارا مطیعِ فرمان ہوگا۔ البدایہ والنہایہ، جلد 2، صفحہ 123۔

توحید کا کلیمہ بظاہر صرف ایک اعتقادی کلمہ ہے، مگر اس کے اندر ہر قسم کی انسانی فتوحات کا راز چھپا ہوا ہے۔ یہ انسانی فطرت کی آواز ہے، اس لیے وہ انسانی نفسیات کی انتہائی گہرائیوں میں شامل ہو جاتا ہے، اور اکثر خود مخالفین کے اندر اپنے حامی پیدا کر لیتا ہے۔ خالد ابن ولید فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام لائے، مگر اسلام کی سچائی بہت پہلے سے ان کے قلب میں ان کا پیچھا کیے ہوئے تھی۔ اسلام کے بعد انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ میرے دل میں بہت پہلے یہ بات پڑ چکی تھی کہ حق قریش کی طرف نہیں بلکہ محمد کی طرف ہے، اور مجھے آپ کے ساتھ مل جانا چاہیے۔

قد شهِدتُ هذه المواطن كلها على محمد صلى الله عليه وسلم، فليس في موطنٍ أشهده إلا أنصرفُ، وأنا أرى في نفسي أني موضعٌ في غير شيءٍ البدایہ والنہایہ، جلد 4۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تمام جنگوں میں شریک رہا، مگر کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں میں شریک ہوا ہوں اور یہ خیال لے کر واپس نہ آیا ہوں کہ میں صحیح جگہ نہیں کھڑا ہوں۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کے بارے میں روایتیں ملتی ہیں کہ ان کے دل میں بہت پہلے سے اسلام کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو چکا تھا، حتیٰ کہ وہ اس کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ مثلاً خالد ابن سعید ابن العاص نے اسلام سے پہلے خواب دیکھا کہ وہ آگ کے بہت بڑے گڑھے کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، کوئی انہیں دھکا دے کر اس میں گرانا چاہتا ہے۔

اتنے میں پیغمبر اسلام آئے اور انہوں نے آپ کو آگ میں گرنے سے بچا لیا۔ دعوتی عمل بظاہر اقتصادیات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، مگر بالواسطہ طور پر وہ زبردست اقتصادی عمل ہے۔ کیونکہ دعوت کے نتیجے میں جب ایک شخص اسلام کو اختیار کرتا ہے تو اس کے تمام ذرائع بھی خود بخود اسلام کو حاصل ہو جاتے ہیں۔ مکے کے ابتدائی زمانے میں خدیجہ کی دولت اسلام کے کام آتی رہی، اس کے بعد حضرت ابوبکر ایمان لائے، جنہوں نے تجارت سے 40,000 درہم کمائے تھے۔

ان کا سرمایہ اسلامی تحریک کا اقتصادی سہارا بنا۔ ہجرت کے موقع پر وہ 6,000 درہم لے کر گھر سے روانہ ہوئے تھے، جس سے سفر کے تمام اخراجات پورے کیے گئے۔ غزوہ تبوک میں حضرت عثمان نے 10,000 دینار دیے، جس سے لشکر کی ضروریات کا تہائی حصہ ادا کیا گیا۔ حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے صرف ایک موقع پر 500 گھوڑے جہاد کے لیے دیے۔

اسی طرح جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے، ان کی جان کے ساتھ ان کا مال بھی اسلام کے خزانے کا ایک جز بن جاتا تھا۔ توحید کا نظریہ واحد نظریہ ہے، جس میں سماجی تقسیم اور طبقاتی امتیاز کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے جب اس نظریے کی بنیاد پر کوئی تحریک اٹھتی ہے تو وہ عوام کو حیرت انگیز طور پر متاثر کرتی ہے، کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ توحید کے زیرِ سایہ وہ مساوات اور انسانی عظمت کا حقیقی مقام پا سکتے ہیں۔ مغیرہ ابن شعبہ فارس کے سپہ سالار رستم کے دربار میں گئے تو درباریوں پر ان کی تقریر کا ردِعمل ابن جریر کی روایت کے مطابق یہ تھا: فقالت السفلى: صدق والله العرب، وقالت الدهاقین: والله لقد رمى بكلامٍ لا يزال عبيدنا ينزعون إليه قاتل الله أولينا ما كان أحمقهم حين كانوا يصغرون أمر هذه الأمة تاریخ طبری، جلد 3، صفحہ 36۔

نیچے کے لوگوں نے کہا: خدا کی قسم، اس عربی نے سچ بات کہی۔ سرداروں نے کہا: خدا کی قسم، اس نے ایسی بات پھینکی ہے کہ ہمارے سب غلام اس کی طرف چلے جائیں گے۔ خدا ہمارے پہلوں کو غارت کرے، وہ کس قدر احمق تھے کہ انہوں نے اس قوم کے معاملے کو ہلکا سمجھا۔ نبوت کے 13ویں سال پیغمبر اسلام حضرت ابوبکر کے ساتھ مدینہ پہنچے تو یہاں کی آبادی کے تقریباً 500 آدمی آپ کے استقبال کے لیے جمع ہوئے اور انہوں نے کہا: انطلقا آمنين مطاعين البدایہ والنہایہ، جلد 3۔

آئیے، آپ یہاں محفوظ ہیں۔ انطلقا آمنين مطاعين البدایہ والنہایہ، جلد 3۔ آئیے، آپ یہاں محفوظ ہیں اور ہمارے سردار ہیں۔ مدینے کی یہ سرداری آپ کو کس طرح حاصل ہوئی؟

جواب یہ ہے کہ دعوت کے ذریعے۔ مدینہ یعنی یثرب کا پہلا شخص جس کو آپ نے اسلام کی دعوت دی، غالباً سوید ابن ثامت خزرجی ہے۔ اس سے آپ نے اسلام کا ذکر کیا تو اس نے کہا: شاید آپ کے پاس وہی ہے جو میرے پاس ہے۔ آپ نے پوچھا: تمہارے پاس کیا ہے؟

وہ بولا: حکمتِ لقمان۔ آپ نے فرمایا: بیان کرو۔ اس نے کچھ اشعار سنائے۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس خران ہے جو اس سے بھی افضل ہے۔

اس کے بعد آپ نے اس کو خران سنایا، وہ فوراً مسلمان ہو گیا۔ یثرب واپس ہو کر جب اس نے اپنے قبیلے کے سامنے اسلام کا پیغام رکھا تو انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔ تاریخ طبری، صفحہ 232۔ اس کے بعد یثرب کے ایک سردار ابو الحیثم انس ابن رافع مکہ آئے۔

ان کے ساتھ بنی عبدالاشل کے جوانوں کی ایک جماعت بھی تھی۔ یہ لوگ اس لیے مکہ آئے تھے کہ قبیلے خزرج کی حمایت کے لیے قریش سے معاہدہ کریں۔ آپ کو ان کی آمد کی اطلاع ملی تو آپ ان کے پاس گئے اور کہا: تم لوگ جس کام کے لیے آئے ہو، اس سے زیادہ بھلی بات میں تم کو نہ بتاؤں؟ اس کے بعد آپ نے توحید کی دعوت ان کے سامنے پیش کی۔

ان کے ایک نوجوان، ایاس ابن معاذ، بولے: اے قوم، خدا کی قسم، یہ بات اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم آئے ہو۔ مگر وفد کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: دعنا منك، قد جئنا لغير هذا چھوڑ دو، ہم دوسرے کام کے لیے آئے ہیں۔ وہ یثرب واپس گئے اور اس کے جلد ہی بعد اوس اور خزرج کے درمیان وہ جنگ چھڑ گئی جو بعاث کے نام سے مشہور ہے۔

خبیب ابن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ یثرب کے دو شخص، سعد ابن ضرارہ اور زکوان ابن قیس، مکہ آئے اور عتبہ بن ربیعہ کے یہاں ٹھہرے۔ پیغمبر اسلام کا تذکرہ سنا تو آپ سے ملنے کے لیے آئے۔ آپ نے ان دونوں کو اسلام کی دعوت دی اور خران پڑھ کر سنایا۔ دونوں نے اسلام قبول کر لیا۔

پھر وہ اپنے میزبان عتبہ بن ربیعہ کے پاس نہیں گئے، بلکہ آپ کے یہاں سے سیدھے یثرب واپس چلے گئے۔ یہ ان پہلے لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اہل یثرب تک اولاً اسلام پہنچایا۔ یہ نبوت کے 10ویں سال کا واقعہ ہے۔ نبوت کے 11ویں سال حج کے موقع پر یثرب سے قبیلے خزرج کے 6 آدمی آئے۔

انہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور واپس جا کر اپنی بستی میں اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ اگلے سال، سن 12 نبوی، 12 آدمیوں نے آ کر بیعت کی، جو اسلام کی تاریخ میں عقبہ اولیٰ 621 کے نام سے مشہور ہے۔ نبوت کے 13ویں سال اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا اور یثرب کے 75 لوگ مکہ حاضر ہوئے اور بیعتِ عقبہ ثانیہ کا واقعہ وجود میں آیا۔ مکے کے برعکس یثرب میں ایک خاص بات یہ ہوئی کہ پہلے ہی مرحلے میں وہاں کے ممتاز لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، اسلم اشرافهم چونکہ یہ قبائلی دور تھا اور قبائل میں یہ رواج تھا کہ سردارِ قبیلے کا جو مذہب ہوتا تھا، وہی پورے قبیلے کا مذہب ہوتا تھا۔

اس لیے یثرب میں بہت تیزی سے اسلام پھیلنے لگا، حتیٰ کہ کوئی گھر نہ بچا جس میں اسلام داخل نہ ہو گیا ہو۔ حتّٰی لم تبقَ دارٌ من دورِ الأنصارِ إلا وفيها رهطٌ من المسلمين اس طرح جب یثرب کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہو گئی تو فطری طور پر وہی بستی میں سب سے زیادہ بااثر ہو گئی۔ فكان المسلمون أعز أهلها وصلح أمرهم، أخرجه الطبراني عن عروة پس مسلمان مدینے کے سب سے زیادہ بااثر گروہ بن گئے اور ان کا معاملہ درست ہو گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.