← Al IslamAl Islam
صراط مستقیم
Urdu · 18 min
صراط مستقیم کیا ہے؟ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کے لیے ایک محکم راستہ مقرر کر دیا ہے، ہر چیز نہایت درجہ پابندی کے ساتھ اسی مقرر راستے پر چلی جا رہی ہے۔ حامم سجدہ 11۔
حتیٰ کہ شہد کی مکھی بھی۔ نحل 68 تا 69۔ جس طرح کائنات کی دوسری چیزوں کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سبیل اللہ پر بالکل ذلول بن کر چلتی رہیں، نحل 69۔ اسی طرح انسان کی کامیابی کا راز بھی اسی میں ہے، البتہ انسان چونکہ حالتِ امتحان میں ہے، اس لیے اس کو صرف بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے، اور اس کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ارادے سے، خواہ اس کو پکڑ لے یا اس سے انحراف کرے۔
سورہ دہر آیت 3۔ جب خدا نے خود یہ بتا دیا ہے کہ سبیل اللہ کیا ہے، تو انسان کو چاہیے کہ اس پر اعتماد رکھے۔ جب خدا نے خود یہ بتا دیا ہے کہ سبیل اللہ کیا ہے، تو انسان کو چاہیے کہ اس پر اعتماد کرے، اور اس یقین کے ساتھ اس کو اختیار کر لے کہ یہی واحد راستہ ہے جو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ سورہ ابراہیم آیت 12۔
اگر آدمی کسی وقتی سبب سے متاثر ہو کر کسی اور راستے کی طرف جھکا، تو سبیل اللہ اس سے چھوٹ جائے گی، اور جس سے سبیل اللہ چھوٹ جائے، اس کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ انعام 153۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی انسان انسان ہے جو صراط مستقیم پر ہو۔ جو صراط مستقیم سے ہٹ جائے، وہ گویا مقامِ حیوانیت پر جا گرا۔
أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّنْ يَمْشِي سَوِيًّا أَمَّنْ يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ ملک 22 تا 23۔ کیا وہ شخص جو جانور کی طرح اوندھے منہ چلتا ہو، راہ یافتہ ہے، یا وہ شخص جو انسان کی طرح سیدھا صراط مستقیم پر چل رہا ہو؟ کہہ دو: خدا ہی نے تم کو پیدا کیا، اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیے، مگر تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو۔ معلوم ہوا کہ صراط مستقیم پر ہونا یہ ہے کہ آدمی سم و بصر و فؤاد کی صلاحیتوں کو استعمال کر کے زندگی گزار رہا ہو۔
یہ سم و بصر و فؤاد کیا ہیں؟ یہ وہی چیزیں ہیں جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں، جو ایک جاندار کو محض جاندار کے مقام سے اٹھا کر انسان کے مقام پر کھڑا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس حیوانوں کی مثال ہے، جو اگرچہ چلتے پھرتے ہیں، مگر سم و بصر و فؤاد کی ان صلاحیتوں سے محروم ہیں جو مخصوص طور پر انسان کو دی گئی ہیں۔ اب جو لوگ انسانی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہوئے ان سے کام نہ لیں، انہوں نے گویا اپنے کو مقامِ انسانیت سے گرا کر مقامِ حیوانیت پر ڈال دیا۔
چنانچہ ان کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ وہ کتے کی مانند ہیں۔ اعراف 176۔ وہ گدھے کی مانند ہیں۔ سورہ جمعہ آیت 5۔
وہ چوپائے کی مانند ہیں۔ فرقان 44۔ حتیٰ کہ ان کی زیادہ بگڑی ہوئی قسموں کو بندر اور سور۔ مائدہ 60 قرار دیا گیا ہے، بلکہ ان سے بھی بدتر۔
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِ عِنْدَ اللَّهِ سُمُّ الْبُكْمِ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ انفال 22۔ خدا کے نزدیک بدترین جانور وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں، گونگے ہیں، کچھ نہیں سمجھتے۔ ایک بات جو عقل کے استعمال سے بخوبی سمجھی جا سکتی ہو، اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا گویا مخاطب کے پاس عقل ہی نہیں۔ اللہ کی نظر میں آدمی کو اندھا بہرا بنا دیتا ہے۔
قرآن کی سورہ نمبر 95 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین تقویم پر پیدا کیا ہے، پھر اس کو بدترین پستی میں ڈال دیا۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ سورہ التین۔ اول الذکر سے مراد مقامِ انسانیت اور ثانی الذکر سے مراد مقامِ حیوانیت ہے۔
آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مقامِ انسانیت پر پیدا کیا، پھر اس کو مقامِ حیوانیت میں ڈال دیا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پستی سے اٹھا کر بلندی کی طرف لے جائے۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ اعراف 176۔ اگر ہم چاہتے تو اپنی نشانیوں کی بدولت اس کو بلند مرتبہ کر دیتے، مگر وہ زمین سے لگ گیا اور اپنی خواہش کی پیروی کی۔
اس قسم کی آیتوں میں جن لوگوں کو اندھا، بہرا، بے عقل کہا گیا ہے، وہ ازویاتی معنوں میں اندھے بہرے نہیں ہو گئے تھے، نہ پاگلوں کی طرح فی الواقع کسی گڑھے میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے وقت میں علم اور دانش کے امام سمجھے جاتے تھے۔ وہ عالی شان مکانات اور قلعے بناتے تھے، تجارت، زراعت اور باغبانی کے ماہر تھے۔ وہ قوموں اور ملکوں کی قیادت کر رہے تھے۔
سورہ اعراف کی مذکورہ بالا آیت 176 کے سلسلے میں شان نزول کی جو روایتیں ہیں، ان میں عرب کے امیہ بن ابی الصلت کا نام آتا ہے، جو نہ صرف اپنی عمارت اور فیاضی کے لیے بلکہ شاعری اور حکمت کے لیے بھی مشہور تھا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ کے آخر زمانے کے ایک شخص بلعام ابن بعور کا نام آیا ہے، جو عالم اور زاہد کی حیثیت سے اس وقت کے عراق کا ایک ممتاز ترین آدمی تھا۔ عبادہ بن الصامت سے مروی ہے کہ وہ قریش کے سرداروں کو اس کا مصداق سمجھتے تھے، جو کعبے کے متولی ہونے کی وجہ سے پورے عرب کے لیڈر بنے ہوئے تھے۔ البحر المحیط۔
پھر اندھے بہرے ہونے کا مطلب کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے انسان اور حیوان کے فرق پر غور کیجئے۔ حیوان میں بظاہر وہ ساری چیزیں ہوتی ہیں جو انسان کے اندر ہیں: وہ چلتا پھرتا ہے، کھاتا پیتا ہے، دیکھتا سنتا ہے، دکھ درد کا احساس کرتا ہے۔ پھر وہ کیا چیز ہے جو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے؟
ماہرین حیاتیات بتاتے ہیں کہ وہ فرق یہ ہے کہ انسان تصوری فکر، یعنی کانسپچول تھاٹ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ سوچ کر کسی بات کو ماننا، بغیر اس کے کہ وہ چیز ایک مادی حقیقت کے طور پر اپنے آپ کو منوانے کے لیے سامنے موجود ہو۔ حیوانات اس قسم کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اسی سے مقامِ انسانیت اور مقامِ حیوانیت کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔
مقامِ حیوانیت یہ ہے کہ آدمی کو مادی حقائق اور مفاد و مزار کے سوا کوئی اور چیز متحرک نہ کر سکے۔ اس کے برعکس مقامِ انسانیت یہ ہے کہ ذہنی طور پر کسی چیز کی سچائی ثابت ہو جانے کے بعد اس کو مان لیا جائے، اور اس کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ بقرہ 2۔ اس کتاب میں کچھ شک نہیں، راہ دکھاتی ہے ڈرنے والوں کو، جو یقین کرتے ہیں بن دیکھے۔
قرآن میں ہدایت ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جن کا حال یہ ہو کہ صرف مادی حقائق کا زور یا نفع و نقصان کا اندیشہ ہی انہیں متاثر کر سکتا ہو۔ اس کتاب سے وہ لوگ ہدایت پاتے ہیں جو ایسی صداقتوں کو ماننے کے لیے تیار ہوں، جن کی اہمیت تمام تر ذہنوں میں ہوتی ہے۔ خارجی حقائق کا زور جن کو منوانے کے لیے دنیا میں موجود نہیں ہوتا۔ گویا ایمان بالشہود مقامِ حیوانیت ہے، اور ایمان بالغیب مقامِ انسانیت۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر کے قبول اسلام کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا دَعُوتُ أَحَدًا إِلَى الْإِسْلَامِ إِلَّا كَانَتْ عِنْدَهُ كَبْوَةٌ وَتَرَدُّدٌ وَنَظَرٌ إِلَّا أَبَى بَكْرٍ مَا عَكَمَ عَنْهُ حِينَ ذَكَرْتُهُ وَلَا تَرَدَّدَ فِيهِ البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 27۔ میں نے جس شخص کو بھی اسلام کی دعوت دی، اس کو کچھ نہ کچھ جھجک اور تردد اور فکر ضرور ہوا، سوائے ابوبکر کے۔ جب میں نے ان کو اسلام کے متعلق بتایا تو انہوں نے کسی تردد اور تعمل کے بغیر فوراً اسلام قبول کر لیا۔ یہ مقامِ انسانیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے جو ابوبکر صدیق کو حاصل تھا۔
وہ خالص جوہر ذاتی کی بنیاد پر کسی چیز کی قدر و قیمت کو سمجھ سکتے تھے۔ کوئی شخص پیغمبر اسلام کی اعلیٰ شخصیت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا، کوئی معجزات سے، کوئی قرآن کے مافوق ادب سے، کوئی فتح مکہ سے، کوئی اسلام کی مادی برکات سے۔ مگر ابوبکر صدیق اتنے بلند فکری مقام پر تھے کہ مجرد حسن و قبح کی بنیاد پر کسی چیز کو قبول یا رد کر سکتے تھے۔ اسی طرح جب حضرت ابوبکر نے مرض وفات کے وقت حضرت عمر فاروق کے حق میں خلافت کی وصیت فرمائی تو لوگوں میں عام بے چینی پیدا ہو گئی۔
فَدَخَلَ عَلَيْهِ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ مَنْ بَرَاءِي إِلَيْكَ يَقُولُونَ قَدْ عَلِمْتَ غِلْظَةَ عُمَرَ عَلَيْنَا فِي حَيَاتِكَ فَكَيْفَ بَعْدَ وَفَاتِكَ إِذَا أُفْضِيَتْ إِلَيْهِ أُمُورُنَا وَاللَّهُ سَائِلُكَ عَنْهُ فَانْظُرْ مَا أَنتَ قَائِلٌ لَهُ طلحہ بن عبیداللہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ لوگوں نے مجھے اپنا قاصد بنا کر آپ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگوں پر حضرت عمر کی سختی آپ نے اپنی زندگی ہی میں دیکھ لی ہے۔ پھر اپنے بعد جب ہمارے کام آپ ان کے حوالے کر دیں گے تو کیا حال ہوگا؟ اور اللہ آپ سے ان کے بارے میں سوال کرے گا، پھر آپ اس وقت کیا جواب دیں گے؟
مگر جو لوگ مقامِ انسانیت کے اعلیٰ درجے پر تھے، وہ ظاہر سے گزر کر باطن کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں نظر آ رہا تھا کہ حضرت عمر کی سختی اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ دین کے لیے ہوتی ہے۔ اور ان کے سینے کے اندر جو قلبِ خاشع ہے، وہ ان کے حق پر قائم رہنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ ان کے ظاہر پر نہ جاؤ، کیونکہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے۔
سَرِيرَتُهُ خَيْرٌ مِنْ عَلَانِيَّتِهِ یہی بات حضرت ابوبکر نے بھی دوسرے الفاظ میں فرمائی۔ جو شخص صراط مستقیم پر ہو، اس کے اندر اعتراف کا اعلیٰ ترین مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ قریش نے آپ کی زبان سے قرآن کو سنا تو بول اٹھے: یہ تو شاعر کا کلام ہے۔ شاعر کا لفظ ان کے یہاں کوئی برا لفظ نہ تھا، مگر اللہ کے نزدیک وہ ایمانِ قلیل تھا، ایمانِ کلی نہ تھا۔
سورہ حاقہ آیت 41۔ وہ اس کو شاعر کا کلام بتا کر یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ یہ بس ایک ادبی کارنامہ ہے۔ اس میں ملت ابراہیمی کی قدیم تعلیمات کو اچھوتے انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کتاب الہی کی یہ حیثیت ہو جاتی تھی کہ ایک ادبی اعتراف اس کا حق ادا کرنے کے لیے کافی ہے۔
حالانکہ قرآن کا اصلی حق یہ تھا کہ اس کو صداقت اعلیٰ کا اظہار سمجھا جائے، اور اس کو حق الیقین کے ساتھ پکڑ لیا جائے۔ مکے میں داخلے سے ایک دن پہلے جب آپ نے ابو سفیان سے کلمہ اسلام کا اقرار کرنے کے لیے فرمایا تو انہوں نے کہا: بِأَبِي أَنتَ وَأُمِّي مَا أَحْلَمَكَ وَأَكْرَمَكَ وَأَوْصَلَكَ هَذِهِ وَاللَّهِ كَانَ فِي النَّفْسِ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى الْآنَ اس کے بعد جب آپ کے چچا عباس نے صورتحال کی نزاکت کا احساس دلایا تو انہوں نے کلمہ پڑھ لیا۔ ابو سفیان کے لیے آپ کی شرافت، آپ کی بردباری کا اعتراف کرنا آسان تھا، کیونکہ اس کے بعد بھی ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی تھی کہ ان کے اور آپ کے درمیان اگر فرق ہے تو وہ صرف اخلاقی ہے، نہ یہ کہ آپ کا نظریہ صحیح ہے اور ان کا غلط۔ اور بلاشبہ نظریاتی اعتراف کسی انسان کے لیے اخلاقی اعتراف کے مقابلے میں بہت زیادہ دشوار ہوتا ہے۔