إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجۡعَىٰٓ
Indeed, to your Lord is the return
Those who wage aggressive campaigns against Truth or place impediments in the way of those who adopt the path of Truth, are destined to have a miserable fate. In such circumstances, the real prop for a preacher of Truth is his prayers to God. Having been disappointed by people, he should turn to God for fulfilment. He should distance himself from human beings and come close to the God of all humanity and submit to Him.
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →