ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ
Then We return him to the lowest of the low
God has created man with superior capabilities. These capabilities have been given to man so that he should be able to recognise the Truth conveyed to him through the prophets, and to shape his life in accordance with it. Those who do so, will reach a high position of honour, which will be theirs for all eternity. On the contrary, those who do not make their God-given capabilities subservient to God’s will, will have even the existing blessings taken away and they will have no place to take refuge. Their lot will be total deprivation. The raising of prophets and the end-results of their mission, bear testimony to the veracity of this fact.
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔