فَرِحَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلَٰفَ رَسُولِ ٱللَّهِ وَكَرِهُوٓاْ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَالُواْ لَا تَنفِرُواْ فِي ٱلۡحَرِّۗ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرّٗاۚ لَّوۡ كَانُواْ يَفۡقَهُونَ
Those who remained behind rejoiced in their staying [at home] after [the departure of] the Messenger of Allah and disliked to strive with their wealth and their lives in the cause of Allah and said, "Do not go forth in the heat." Say, "The fire of Hell is more intensive in heat" - if they would but understand
The battle of Tabuk occurred in an extremely hot season. From Madinah to the Syrian border three hundred miles had to be travelled. The hypocritical Muslims asked others not to undertake such a long journey in such extremely hot weather. In saying this they forgot that, after hearing the call of God, refusal to set out for fear of some danger amounted to putting oneself in greater danger. It was like running away from the sun and taking refuge in the flames of a fire. Those who are fonder of themselves and their wealth than God are very pleased with themselves if, by their attractive devices, they manage to remain ‘Muslims’ and at the same time there is no danger to their lives and property. They consider themselves wise and treat those people as foolish who struggle so hard for the cause of God that they have no time for themselves. But this is absolute nonsense. They may laugh now, but they will end up crying, because in the life to come after death, their ‘cleverness’ is going to prove to be the worst type of foolishness. At that time they will feel extremely sorry that, though they wanted paradise, they refused to part with the very asset which whould have gained them entry into it.
غزوۂ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا۔ مدینہ سے چل کر شام کی سرحد تک تین سو میل جانا تھا۔ منافق مسلمانوں نے کہا کہ ایسی تیز گرمی ميں اتنا لمبا سفر نہ کرو۔یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خدا کی پکار سننے کے بعد کسی خطرہ کی بنا پر نہ نکلنا اپنے آپ کو شدید تر خطرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دھوپ سے بھاگ کر آگ کے شعلوں کی پناہ لی جائے۔
جو لوگ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو اور اپنے مال کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں وہ جب اپنی خوبصورت تدبیروں سے اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ وہ مسلمان بھی بنے رہیں اور اسی کے ساتھ ان کی زندگی اور ان کے مال کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے کو عقل مند سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کو بے وقوف کہتے ہیں جنھوں نے خدا کی رضا کی خاطر اپنے كو ہلکان کررکھا ہو۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ یہ ایسا ہنسنا ہے جس کا انجام رونے پر ختم ہونے والا ہے۔ کیوں کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں اس قسم کی ’’ہوشیاری‘‘ سب سے بڑی نادانی ہوگی۔ اس وقت آدمی افسوس کرے گا کہ وہ جنت کا طلب گار تھا مگر اس نے اپنے اثاثہ کی وہی چیز اس کے لیے نہ دی جو دراصل جنت کی واحد قیمت تھی۔
اس قسم کے منافق ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی تحفظاتی پالیسی کی وجہ سے اپنے گرد مال وجاہ کے اسباب جمع کرلیتے ہیں اس بنا پر عام مسلمان ان سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔ ان کی شان دار زندگیاں اور ان کے خوب صورت باتیں لوگوں کی نظر میں ان کوعظیم بنادیتی ہیں ۔ یہ کسی اسلامی معاشرہ کے ليے ایک سخت امتحان ہوتا ہے۔ کیوں کہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیے، نہ یہ کہ ان کو عزت کا مقام دیا جانے لگے۔
جن لوگوں کے بارے میں پوری طرح معلوم ہوجائے کہ وہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر حقیقۃً وہ اپنے مفادات اور اپنی دنیوی مصلحتوں کے وفادار ہیں ان کو حقیقی اسلامی معاشرہ کبھی عزت کے مقام پر بٹھانے کے ليے راضی نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہے کہ وہ اسلامی تقریبات میں صرف پیچھے کی صفوں میں جگہ پائیں ۔ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہ ہو۔ دینی مناصب کے ليے وہ نااہل قرار پائیں ۔ جس معاشرہ میں ایسے لوگوں کو عزت کا مقام ملاہوا ہو وہ کبھی خدا کا پسندیدہ معاشرہ نہیں ہوسکتا۔