يَحۡذَرُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُورَةٞ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلِ ٱسۡتَهۡزِءُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ مُخۡرِجٞ مَّا تَحۡذَرُونَ
They hypocrites are apprehensive lest a surah be revealed about them, informing them of what is in their hearts. Say, "Mock [as you wish]; indeed, Allah will expose that which you fear
Those who are engrossed in worldly considerations and therefore are not able to support God’s religion—rising above their reservations—are generally people of status in society. In order to keep their position intact, they try to spoil the image of those who have risen in true Islam. They run campaigns of false propaganda against them, devising different ways to distort their image, such as ferreting out various points in their statements which they claim to be objectionable. Such people forget that this is a very serious matter. For their part they are simply opposing the people of Faith, but it amounts to opposing God Himself; it is like setting themselves up as adversaries of God. Had these people admitted their wrongdoing, instead of trying to establish their innocence, and had they been the well-wishers of the believers at least in their hearts, they would perhaps have been treated as pardonable. But having adopted an obstinate and inimical attitude, they have written their names on the list of God’s enemies. Now, for them, there is nothing but dishonour and divine retribution. Fear of God softens a person’s heart. He patiently listens even to people’s baseless utterances—to such an extent that the hypocrites start saying that that person seems to be a simpleton, that he is unable to fully understand the points being made.
غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ میں یہ فضا تھی کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ ارباب عزیمت شمار ہورہے تھے اور جو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے وہ منافق اور پست ہمت سمجھے جاتے تھے۔ بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اور اصحابِ رسول کے عمل كو کم تر ظاہر کرنے کے ليے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ کسی نے کہا: یہ قرآن پڑھنے والے ہمیں تواس کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتے کہ وہ ہم میں سب سے زیادہ بھوکے ہیں ، ہم میں سب سے زیادہ جھوٹے ہیں ۔ اور ہم میں سب سے زیادہ بز دل ہیں :مَا أَرَى قُرّاءنا هَؤُلَاءِ إِلَّا أَرْغَبَنَا بُطُونًا، وَأَكْذَبَنَا أَلْسِنَةً، وَأَجْبَنَنَا عِنْدَ اللِّقَاءِ(تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
171
)کسی نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ رومیوں سے لڑنا بھی ویسا ہی ہے جیسا عربوں کا آپس میں لڑنا۔ خدا کی قسم کل یہ سب لوگ رسیوں میں باندھے ہوئے نظرآئیں گے( أَتَحْسِبُونَ جَلَّادَ بَنِي الْأَصْفَرِ كَقِتَالِ الْعَرَبِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا! وَاَللَّهِ لَكَأَنَّا بِكَمْ غَدًا مُقَرَّنِينَ فِي الْحِبَالِ )سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ
525
۔کسی نے کہا: یہ صاحب سمجھتے ہیں کہ وہ روم کے محل اور ان کے قلعے فتح کرنے جارہے ہیں ، ان کی حالت پر افسوس ہے (يَظُنُّ هَذَا أَنْ يَفْتَحَ قُصُورَ الرُّومِ وَحُصُونَهَا. هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ (تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
172
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا۔ وہ کہنے لگے: ہم تو صرف ہنسی کھیل کی باتیں کررہے تھے (إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ( تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
171
۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا اللہ اور اس کے احکام اور اس کے رسول کے معاملہ میں تم ہنسی کھیل کررہے تھے۔
اللہ اور رسول کی بات ہمیشہ کسی آدمی کی زبان سے بلند ہوتی ہے۔ یہ آدمی اگر دیکھنے والوں کی نظر میں بظاہر معمولی ہو تو وہ اس کا استہزاء کرنے لگتے ہیں ۔ مگر یہ استہزاء اس آدمی کا نہیں ہے خود خدا کا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ صرف یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں ، ان کی جھوٹی تاویلیں ان کی حقیقت کو چھپانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔
نفاق اور ارتداد دونوں ایک ہی حقیقت کی دو صورتیں ہیں ۔آدمی اگر اسلام اختیار کرنے کے بعد کھلم کھلا منکر ہوجائے تو یہ ارتداد ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ ذہن اور قلب کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور ہو مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرے تو یہ نفاق ہے۔ ایسے منافقین کا انجام خدا کے یہاں وہی ہے جو مرتدین کا ہے، إلاّ یہ کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی غلطیوں کا اقرار کرکے اپنی اصلاح کرلیں ۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →