أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدٗا فِيهَاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡخِزۡيُ ٱلۡعَظِيمُ
Do they not know that whoever opposes Allah and His Messenger - that for him is the fire of Hell, wherein he will abide eternally? That is the great disgrace
Those who are engrossed in worldly considerations and therefore are not able to support God’s religion—rising above their reservations—are generally people of status in society. In order to keep their position intact, they try to spoil the image of those who have risen in true Islam. They run campaigns of false propaganda against them, devising different ways to distort their image, such as ferreting out various points in their statements which they claim to be objectionable. Such people forget that this is a very serious matter. For their part they are simply opposing the people of Faith, but it amounts to opposing God Himself; it is like setting themselves up as adversaries of God. Had these people admitted their wrongdoing, instead of trying to establish their innocence, and had they been the well-wishers of the believers at least in their hearts, they would perhaps have been treated as pardonable. But having adopted an obstinate and inimical attitude, they have written their names on the list of God’s enemies. Now, for them, there is nothing but dishonour and divine retribution. Fear of God softens a person’s heart. He patiently listens even to people’s baseless utterances—to such an extent that the hypocrites start saying that that person seems to be a simpleton, that he is unable to fully understand the points being made.
مدینہ کے منافقین اپنی نجی مجلسوں میں اسلامی شخصیتوں کا مذاق اڑاتے۔ مگر جب وہ مسلمانوں کے سامنے آتے تو قسم کھا کر یقین دلاتے کہ وہ اسلام کے وفادار ہیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان مدینہ میں طاقت ور تھے۔ وہ منافقین کو نقصان پہنچانے کی حیثیت میں تھے۔ اس ليے منافقین مسلمانوں سے ڈرتے تھے۔
اس سے منافق کے کردار کا اصل پہلو سامنے آتا ہے۔ منافق کی دین داری انسان کے ڈر سے ہوتی ہے، نہ کہ خدا کے ڈر سے۔ وہ ایسے مواقع پر اخلاق وانصاف والا بن جاتاہے جہاں انسان کا دباؤ ہو یا عوام کی طرف سے اندیشہ لاحق ہو۔ مگر جہاں اس قسم کا خطرہ نہ ہو اور صرف خدا کا ڈر ہی وہ چیز ہو جو آدمی کی زبان کو بند کرے اور اس کے ہاتھ پاؤں کو روکے تو وہاں وہ بالکل دوسرا انسان ہوتا ہے۔ اب وہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس کو نہ با اخلاق بننے سے کوئی دل چسپی ہو اور نہ انصاف کا رویہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت۔
جو لوگ مصلحتوں میں گرفتار ہوتے ہیں اور اس بنا پر تحفظات سے اوپر اٹھ کر خدا کے دین کا ساتھ نہیں دے پاتے وہ عام طورپر معاشرہ کے صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں ۔ اپنی حیثیت کو باقی رکھنے کے ليے وہ ان لوگوں کی تصویر بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو سچے اسلام کو لے کر اٹھے ہیں ۔ وہ ان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی مہم چلاتے ہیں ۔ ان کو طرح طرح سے بدنام کرنے کی تدبیريں کرتے ہیں ۔ ان کی باتوں میں بے بنیاد قسم کے اعتراضات نکالتے ہیں ۔
ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ بے حد سنگین بات ہے۔ یہ اہلِ ایمان کی مخالفت نہیں بلکہ خود خدا کی مخالفت ہے۔ یہ خدا کا حریف بن کر کھڑاہونا ہے۔ ایسے لوگ اگر اپنی معصومیت ثابت کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اقرار کرتے اور کم از کم دل سے اسلام کے داعیوں کے خیر خواہ بن جاتے تو شاید وہ قابلِ معافی ٹھہرتے۔ مگر ضد اور مخالفت کا طریقہ اختیار کرکے انھوں نے اپنے کو خدا کے دشمنوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔ اب رسوائی اور عذاب کے سوا ان کا کوئی ٹھکانا نہیں ۔
اللہ کا ڈر آدمی کے دل کو نرم کردیتاہے۔ وہ لوگوں کی بے بنیاد باتوں کو بھی خاموشی کے ساتھ سن لیتا ہے، یہاں تک کہ نادان لوگ کہنے لگیں کہ یہ تو سادہ لوح ہیں ، باتوں کی گہرائی کو سمجھتے ہی نہیں ۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →