وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبۡلِغۡهُ مَأۡمَنَهُۥۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡلَمُونَ
And if any one of the polytheists seeks your protection, then grant him protection so that he may hear the words of Allah. Then deliver him to his place of safety. That is because they are a people who do not know
When the Muslims attained a strong position, the Quraysh entered into treaties with them. However, the Quraysh were not happy with these agreements. They thought that their execution of these treaties with their ‘enemy’ was very much to their detriment. That is why they were always on the look-out for opportunities to violate their agreements and cause harm to Muslims or at least defame them. Obviously, when there is a clear breach of a treaty by one party, the carrying out of the agreement by the other party is no longer obligatory. This was the thinking of the Quraysh who felt that, with the rise of the Muslims, their leadership was at stake. However, there were other tribes (Banu Kinana, Banu Khuza’a, Banu Dhamra) who, unhampered by this psychological complication, had executed agreements with the Muslims and fulfilled them. When a period of respite of four months was announced, about nine months remained until the expiry of the periods of these agreements. The order was that these agreements be honoured till the last date, because that was the requirement of God-fearing. But after the expiry of this period, no such agreement was entered into with anybody and there were only two alternatives before the polytheists—either to embrace Islam or be ready for war.
مہلت کے چار مہینے گزرنے کے بعد یہاں جس جنگ کا حکم دیاگیا وہ کوئی عام جنگ نہ تھی یہ خدا کے قانون کے مطابق وہ عذاب تھا جو پیغمبر کے انکار کے نتیجہ میں ان پر ظاہر کیاگیا۔ انھوں نے اتمام حجت کے باوجود خدا کے پیغمبر کا انکار کرکے اپنے کو اس کا مستحق بنا لیا تھا کہ ان کے ليے تلوار یا اسلام کے سوا کوئی اور صورت باقی نہ رکھی جائے۔ یہ خدا کا ایک خصوصی قانون ہے جس کا تعلق پیغمبر کے مخاطبین سے ہے، نہ کہ عام لوگوں سے۔ تاہم اتمام حجت کے بعد بھی اس حکم کا نفاذ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ آخری مرحلہ میں پھر انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی۔
انتقام معاف کرنا نہیں جانتا۔ انتقامی جذبہ کے تحت جوکارروائی کی جائے اس کو صرف اس وقت تسکین ملتی ہے جب کہ وہ اپنے حریف کو ذلیل اور برباد ہوتے ہوئے دیکھ لے۔ مگر عرب کے مشرکین کے خلاف جو کارروائی کی گئی اس کا تعلق کسی قسم کے انتقام سے نہیں تھا بلکہ وہ سراسر حقیقت پسندانہ اصول پر مبنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے شدید حکم کے باوجود ان کے ليے یہ گنجائش ہر وقت باقی تھی کہ وہ دین اسلام کو اختیار کرکے اپنے کو اس سزا سے بچالیں اور اسلامی برادری میں عزت کی زندگی حاصل کرلیں ۔ کسی کی توبہ کے قابل قبول ہونے کے لیے صرف دو عملی شرط کا پایا جانا کافی ہے— نماز اور زکوٰۃ۔
جنگ کے دوران میں دشمن کا کوئی فرد یہ کہے کہ میں اسلام کو سمجھنا چاہتا ہوں تو مسلمانوں کو حکم ہے کہ اس کو امان دے کر اپنے ماحول میں آنے کا موقع دیں اور اسلام کے پیغام کو اس کے دل میں اتارنے کی کوشش کریں ۔پھر بھی اگر وہ قبول نہ کرے تو اپنی حفاظت میں اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچا دیں ۔ عام حکم کے تحت اگرچہ وہ گردن زدنی ہے مگر ایسا نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے دین کی بات نہیں مانی ہے تو اس کو قتل کردیا جائے۔ جب کوئی شخص امان میں ہو تو امان کے دوران اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں ۔
جنگ کے زمانہ میں دشمن کو اس قسم کی رعایت دینا انتہائی نازک ہے۔ کیوں کہ عین ممکن ہے کہ دشمن کاکوئی جاسوس اس رعایت کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے اندر گھس آئے اور ان کے فوجی راز معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ مگر اسلام کی نظر میں دعوت وتبلیغ کا مسئلہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس نازک خطرہ کے باوجو اس کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔
ایک شخص اگر بے خبری اور لاعلمی کی بنا پر ظلم کرے تو اس کا ظلم خواہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر اسی کے ساتھ ہر ممکن رعایت کی جائے گی تا وقتیکہ اس کی لاعلمی اور بے خبری ختم ہوجائے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →