خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
[They will be] abiding therein forever. Indeed, Allah has with Him a great reward
But this idea of the polytheists was absolutely wrong. They were making the mistake of comparing the outward appearances of things with the realities. Supplying drinking water to the visitors of the Sacred Mosque; cleaning the Mosque and lighting it; covering the Ka‘bah, attending to its floor and walls—all these are outward, showy deeds. How can they be equal to the deeds of a man who discovers God and spends the rest of his life caring about the Hereafter; who dedicates his life and property to God; who denies all other greatness and makes God his great one? The real discoverers of Truth are not those who discover it at the meaningless level of outward show, but those who are attached to Truth at the level of self-sacrifice and not simply at the level of superficial exhibitionism. There are two types of attachment: one is to ritual, in which a man performs deeds of a showy nature, but does not offer himself or his wealth for the cause of God. The other is one in which a man is so serious about his faith that if he is required to renounce anything for its sake, he does so willingly, and whatever he is required to give, he gives willingly. One who evinces the second kind of attachment will, after death, be blessed by God with great munificence.
نزولِ قرآن کے وقت عرب میں یہ صورت حال تھی کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع تھے اور مشرکین بیت اللہ کے گرد۔ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عظمتوں کی وہ تاریخ وابستہ نہیں ہوئی تھی جس کو آج ہم جانتے ہیں ۔ لوگوں کو آپ عام انسانوں کی طرح ایک انسان دکھائی دیتے تھے۔ دوسری طرف مسجد حرام ہزاروں برس کی تاریخ کے نتیجہ میں عظمت وتقدس کی علامت بنی ہوئی تھی۔ مشرکین کی نظر میں اپنی تصویر تو یہ تھی کہ وہ ایک مقدس ترین مرکز کے خادم اور آباد کار ہیں ۔ دوسری طرف جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے تو اس وقت کے حالات میں ان کو ایسا معلوم ہوتا جیسے کچھ لوگ بس ایک دیوانہ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔
مگر مشرکین کا یہ خیال سراسر باطل تھا۔ وہ ظواہر کا تقابل حقائق سے کرنے کی غلطی کررہے تھے۔ مسجد حرام کے زائرین کو پانی پلانا، اس کے اندر روشنی اور صفائی کاانتظام۔ کعبہ پر غلاف چڑھا دینا۔ مسجد کے فرش اور دیوار کی مرمت، یہ سب ظاہری نمائش کی چیزیں ہیں ۔ یہ بھلا ان اعمال کے برابر ہوسکتی ہیں جب کہ آدمی اللہ کو پالیتاہے اورآخرت کی فکر میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی زندگی اور اپنے اثاثہ کو خدا کے حوالے کردیتاہے۔ وہ دوسری تمام بڑائیوں کا انکار کرکے ایک خدا کو اپنا بڑا بنا لیتاہے۔ سچائی کو پانے والے دراصل وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کو معانی کی سطح پر پایا ہو، نہ کہ ظواہر کی سطح پر۔ جو قربانی کی حد تک سچائی سے تعلق رکھنے والے ہوں ، نہ کہ محض سطحی اورنمائشی کارروائیوں کی حد تک۔
اللہ سے تعلق کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک تعلق وہ ہے جو رسمی عقیدہ کی حد تک ہوتا ہے، جس میں آدمی کچھ دکھاوے کے اعمال تو کرتاہے مگر اپنے کو اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں نہیں دیتا۔ دوسرا تعلق وہ ہے جب کہ آدمی اپنے ایمان میں اتنا سنجیدہ ہو کہ اس راہ میں اس کو جوکچھ چھوڑناپڑے وہ اس کو چھوڑ دے اور جو چیز دینی پڑے اس کو دینے کے ليے تیار ہوجائے۔ یہی دوسری قسم کے بندے ہیں جو مرنے کے بعد خدا کے یہاں اعلیٰ ترین انعامات سے نوازے جائیں گے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →