وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوۡمَۢا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰهُمۡ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
And Allah would not let a people stray after He has guided them until He makes clear to them what they should avoid. Indeed, Allah is Knowing of all things
Abraham, being a very compassionate person, was greatly concerned about the salvation of humanity. Swayed by these sentiments, he had made a pledge to pray to God for his pagan father. But, when he was made aware of God’s will, he desisted. God has instilled in every human being a natural instinct for discerning evil. When an individual receives a message which is intended to stop him from committing an evil deed, his whole inner being testifies to its truth. A silent check is produced in his heart. For ‘God would never lead a people astray after He has guided them.’ But if the man ignores this impulse arising from within, and does not save himself, in spite of the hint given him by nature, his natural sensitivity gradually goes on weakening, till a time comes when it dies altogether. This danger threatens Muslims as well as non-Muslims.
ایک شخص کافر ومشرک ہو اور اس کے سامنے اتمام حجت کی حد تک دین کی دعوت آجائے، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو خداکے قانون کے مطابق وہ جہنمی ہوجاتاہے۔ ایسے شخص کے ليے اس کے بعد نجات کی دعا کرنا گویا ایمان کو بے وقعت بنانا اور خدائی انصاف کی تردید کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی دعا سے منع کردیاگیا۔
تاہم آیت میں مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَکا لفظ بتاتا ہے کہ اس حکم کا تعلق زمانہ رسالت کے مشرکین سے ہے جن کے بارے میں وحی کے ذریعہ بتا دیاگیا تھا کہ وہ جہنمی ہیں ۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ منافقین کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور ان کے حق میں مغفرت کی دعا نہ کریں (التوبہ،
9:84
) یہ بات مدینہ کے منافقوں کو بہت ناگوار ہوئی۔ انھوں نے اس کو لے کر آپ کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ وہ کہتے کہ یہ نبی تو نبی رحمت ہیں اور اپنے کو ابراہیم کا پیرو بتاتے ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بھائیوں اور اپنے رشتہ داروں کے ليے استغفار سے روکتے ہیں ۔ حالاں کہ ابراہیم کا حال یہ تھا کہ اپنے مشرک باپ کے لیے بھی انھوں نے مغفرت کی دعا کی۔
جوا ب دیا گیا کہ ابراہیم بڑے درد مند اور انسانیت کے غم میں گھلنے والے تھے۔ اپنے اس جذبہ کے تحت انھوں نے عہد کرلیاکہ وہ اپنے مشرک باپ کے حق میں خدا سے دعا کریں گے۔ مگر جب وحی نے تنبیہ کی تو اس کے بعد وہ فوراً اس سے باز آگئے۔
اللہ نے ہر آدمی کی اند ربرائی کی فطری تمیز رکھی ہے۔ جب آدمی کے سامنے ایک ایسا پیغام آتاہے جو اس کو برائی سے روکتا ہے تو اس کا وجود اندر سے اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے دل کے اندر ایک خاموش کھٹک پیداہوتی ہے۔ آدمی اگر اس کھٹک کو نظر انداز کردے، وہ فطرت کی گواہی کے باوجود بچنے والی چیز سے نہ بچے تو اس کی فطری حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو گم راہ کرنے سے تعبیر کیاگیا ہے۔ ’’ہدایت دینے کے بعد گمراہ کرنا‘‘ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس کا خطرہ مسلمانوں کے ليے بھی اسی طرح ہے جس طرح غیر مسلموں کے ليے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →