خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةٗ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٞ لَّهُمۡۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
Take, [O, Muhammad], from their wealth a charity by which you purify them and cause them increase, and invoke [Allah 's blessings] upon them. Indeed, your invocations are reassurance for them. And Allah is Hearing and Knowing
The proof of sincere repentance is a greater urge to serve the cause of religion. To absolve themselves of sin, they offered a part of their cherished property for the cause of God. On seeing such a positive response from them, the Prophet was asked not to reproach them but rather to give them psychological support, pray for them so that the burden (of guilt) in their hearts was lightened and their confidence in their faith restored. Doing wrong is not the real evil in the eyes of God; persistence in that wrong is the real evil. One who begins to justify his wrongs ruins himself, while one who admits his mistakes and tries his best to atone for them with good deeds is worthy of being pardoned by God.
کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی طبیعتوں میں اگرچہ شر نہیں ہوتا۔ وہ معمول والے دینی اعمال بھی کرتے رہتے ہیں ۔ مگر جب دین کا کوئی ایسا تقاضا سامنے آتاہے جس میں اپنے بنے ہوئے نقشہ کو توڑ کر دین دار بننے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی زندگی اور مال کو اس طرح دین کے ليے نہیں دے پاتے جس طرح انھیں دینا چاہیے۔ قوتِ فیصلہ کی کمزوری یا دنیا میں ان کی مشغولیت ان کے ليے دین کی راہ میں اپنا حصہ ادا کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ ایسے لوگ اگرچہ قصور وار ہوتے ہیں تاہم ان کا قصور اس وقت معاف کردیا جاتا ہے جب کہ یاد دہانی کے بعد وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دوبارہ دین کی طرف لوٹ آئیں ۔
اعتراف اور شرمندگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر از سرنو دینی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ اپنے احساسِ گناہ کو دھونے کے ليے اپنے محبوب مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں پیش کریں ۔ جب ان کی طرف سے ایسا رد عمل ظاہر ہو تو پیغمبر کو تلقین کی گئی کہ اب انھیں ملامت نہ کرو بلکہ ان کو نفسیاتی سہارا دینے کی کوشش کرو۔ ان کو دعائیں دو تاکہ ان کے دل کا بوجھ دوبارہ ایمانی عزم و اعتماد میں تبدیل ہوجائے۔
خدا کے نزدیک اصل برائی غلطی کرنا نہیں ہے بلکہ غلطی پر قائم رہنا ہے۔ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے وہ برباد ہوگیااور جو شخص غلطی کا اعتراف کرکے اپنی اصلاح کرلے وہ خداکے نزدیک قابل معافی ٹھہرا۔
غلطی کرنے کے بعد آدمی ہمیشہ دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے۔ دوسرا یہ کہ وہ ڈھٹائی کرنے لگے، جو شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرلے اس کے اندر تواضع پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوبارہ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، جو شخص ڈھٹائی کا طریقہ اختیار کرے وہ گویا خدا کے غضب کے راستہ پر چل پڑا۔ وہ اپنے کو بے خطا ثابت کرنے کے ليے جھوٹی تاویلیں کرے گا۔ ایک غلطی کو نبھانے کے ليے وہ دوسری بہت سی غلطیاں کرتا چلا جائے گا۔ پہلے شخص کے ليے خدا کی رحمت ہے اور دوسرے شخص کے ليے خدا کی سزا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →