يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٞ لِّنَفۡسٖ شَيۡـٔٗاۖ وَٱلۡأَمۡرُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ
It is the Day when a soul will not possess for another soul [power to do] a thing; and the command, that Day, is [entirely] with Allah
Literally ‘when they give by measure to others, or weigh out to them’.
موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔
جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔