ٱلۡـَٰٔنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمۡ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمۡ ضَعۡفٗاۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّاْئَةٞ صَابِرَةٞ يَغۡلِبُواْ مِاْئَتَيۡنِۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمۡ أَلۡفٞ يَغۡلِبُوٓاْ أَلۡفَيۡنِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
Now, Allah has lightened [the hardship] for you, and He knows that among you is weakness. So if there are from you one hundred [who are] steadfast, they will overcome two hundred. And if there are among you a thousand, they will overcome two thousand by permission of Allah. And Allah is with the steadfast
The reason for a lesser number of believers overcoming a large number of those who deny the truth has been explained by saying that the believers possessed fiqh, while those who deny the truth were devoid of it. The literal meaning of fiqh is understanding. This means the insight and wisdom which a man acquires as a result of faith. Faith in God is like the lighting of a lamp in a dark room. The lamp lights up the room in a such way that everything in it is seen clearly. Similarly, faith blesses man with a divine consciousness, after which he starts seeing all realities in their original shape. As a result of faith, man understands the reality of life and death. He comes to know that the most important thing is not the life of this world but the life of the Hereafter. This makes him fearless. He looks at death as if it is a door through which he may enter Paradise. A believer is God-fearing and he is anxious about the Hereafter. Such a temperament purifies him of all types of negative feelings. He rises above obstinacy, hatred, prejudice, revenge and haughtiness. The case of those who deny the truth is just the opposite. One who denies the truth acts emotionally, while the believer acts realistically. One who denies the truth carries out his dealings with narrow-mindedness, while the believer displays broad-mindedness.
اہلِ ایمان کی تعداد غیر اہل ایمان کی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی وجہ یہ بتائی کہ اہلِ ایمان کے اندر فقہ ہوتی ہے جب کہ غیر اہلِ ایمان فقہ سے محروم ہیں۔ فقہ کے لفظی معنی سمجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ بصیرت اور شعور ہے جو ایمان کے نتیجہ میںایک شخص کو حاصل ہوتاہے۔ خدا پر ایمان کسی آدمی کے ليے وہی معنی رکھتا ہے جو اندھیرے کمرے میں بجلی كے بلب كا جل جانا۔ بلب پورے کمرے کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ اس کی ہر چیز واضح طورپر دکھائی دینے لگے۔اسی طرح ایمان آدمی کو ایک ربانی شعور عطا کرتاہے جس کے بعد وہ تمام حقیقتوں کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔
ایمان کے نتیجہ میں یہ ہوتاہے کہ آدمی زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھ لیتاہے ۔ وہ جان لیتاہے کہ اصل چیز حیاتِ دنیا نہیں بلکہ حیات ِآخرت ہے۔ یہ چیز اس کو بے پناہ حد تک نڈر بنادیتی ہے۔ وہ موت کو اس نظر سے دیکھنے لگتاہے کہ وہ اس کے ليے جنت میںداخلہ کا دروازہ ہے۔ مومن شہادت کو جنت کا مختصر راستہ سمجھتاہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا اس کے ليے مطلوب چیز بن جاتاہے، جب کہ غیر مومن کی جنت یہی موجودہ دنیا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنت کا لطف اٹھاسکے۔ غیر مومن قومی شعور کے تحت لڑتاہے اورمومن جنتی شعور کے تحت، اور قومی شعور والا کبھی اتنی بے جگری کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔
مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتاہے، وہ آخرت کی فکر کرنے والا ہوتا ہے، یہ مزاج اس کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرتاہے۔ وہ ضد، نفرت، تعصب، انتقام اور گھمنڈ جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتاہے۔ دوسری طرف غیر مومن کا معاملہ سراسر اس کے برعکس ہوتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ غیر مومن کے اقدامات منفی نفسیات کے تحت ہوتے ہیں اور مومن کے اقدامات ایجابی نفسیات کے تحت۔ غیر مومن جذباتی انداز سے عمل کرتاہے اور مومن حقیقت پسندانہ انداز سے۔ غیر مومن انسانوں کا دشمن ہوتاہے اور مومن صرف انسانوں کی برائی کا۔ غیر مومن تنگ ظرفی کے ساتھ معاملہ کرتاہے اور مومن وسعتِ ظرف کے ساتھ۔
ہزار کے مقابلہ میں سو اور دوہزار کے مقابلہ میں ایک ہزار کے الفاظ بتاتے ہیں کہ قتال کا حکم جماعت اور فوج کے ليے ہے۔ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا کہ ایک دو آدمی ہوںتب بھی وہ لڑنے کے ليے کھڑے ہوجائیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →