أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ حَقّٗاۚ لَّهُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
Those are the believers, truly. For them are degrees [of high position] with their Lord and forgiveness and noble provision
This chapter was revealed after the battle of Badr (2 A.H.). In this battle the Muslims were victorious and thereafter considerable spoils of war fell to their lot. After the battle a dispute arose over the distribution of the booty. All such quarrels go against the God-fearing spirit. The fear of God develops the psychology of responsibility in man. The attention of a believer is focussed on his duties and not on his rights. Instead of looking at himself, he should look towards God. His heart softens in obedience to God and His prophet. He becomes a praying and worshipping subject of God. He derives satisfaction from giving to people and not from snatching things away from them. These qualities create in man the attitude of realism and readiness to admit the truth. The inevitable result of realism and admission of truth is that all mutual quarrels vanish and if at all quarrels emerge incidentally, a warning given once is enough to set matters right.
سورہ انفال جنگ بدر (2 ہجری) کے بعد اتری۔ اس جنگ میںمسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اور اس کے بعد میدانِ جنگ سے کافی مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔ مگر یہ اموال عملاً ایک گروہ کے قبضہ میں تھے۔اس بنا پر جنگ کے بعد غنیمت کی تقسیم پر نزاع پیدا ہوگئی۔ جنگ میں کچھ لوگ پچھلی صف میں تھے۔ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ آخری مرحلہ میں دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس طرح میدان جنگ سے مالِ غنیمت لوٹنے کا موقع ایک خاص فریق کو ملا۔ دوسرے لوگ جو اس وقت میدانِ جنگ سے دور تھے وہ دشمن کے چھوڑے ہوئے اموال کو حاصل نہ کرسکے۔
اب صورتِ حال یہ تھی کہ اصولی طو رپر تو جنگ کے تمام شرکاء اپنے کو مال غنیمت میں حصہ دارسمجھتے تھے۔ مگر مالِ غنیمت عملاً صرف ایک گروہ کے قبضہ میں تھا۔ ایک فریق کے پاس دلیل تھی اور دوسرے فریق کے پاس مال۔ ایک کے پاس اپنے حق کو ثابت کرنے کے ليے صرف الفاظ تھے، جب کہ دوسرے کا حق کسی دلیل وثبوت کے بغیر خود قبضہ کے زور پر قائم تھا۔
اس قسم کے تمام جھگڑے خدا کے خوف کے منافی ہیں۔ خدا کا خوف آدمی کے اندر ذمہ داری کی نفسیات ابھارتا ہے۔ ایسے آدمی کی توجہ فرائض پر ہوتی ہے، نہ کہ حقوق پر۔ وہ اپنی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ اس کادل خدا و رسول کی اطاعت کے ليے نرم پڑ جاتاہے۔ وہ خدا کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کو دے کر اسے تسکین ملتی ہے، نہ کہ لوگوں سے چھین کر۔ یہ اوصاف آدمی کے اندر حقیقت پسندی اور حق کے اعتراف کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔حقیقت پسندی اور اعترافِ حق کی فضا کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کبھی اتفاقاً ابھرتے ہیں تو ایک بار کی تنبیہ ان کی اصلاح کے ليے کافی ہوجاتی ہے۔
خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہرایک کو اس حد پر پہنچا دیتاہے جس حد پر اس کو فی الواقع ہونا چاہیے تھا۔ اور جہاں ہر آدمی اپنی واقعی حد پر ركنے کے ليے راضی ہوجائے وہاں جھگڑے کا کوئی گزر نہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →