وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَأَنتَ فِيهِمۡۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ
But Allah would not punish them while you, [O Muhammad], are among them, and Allah would not punish them while they seek forgiveness
It does not happen that when communities are diverted from the true path, all forms of religion disappear from among them. It always happens during such a period that when religion based on the fear of God is submerged, its place is taken by a false, ostentatious religion. Now, the community relates not to the religion per se but to the hallowed personalities of the past. By attaching themselves to these personalities and by occupying their revered seats, they think that they have attained the greatness which those personalities enjoyed on historical grounds. Such people are hollow inside, but by performing showy deeds on the strength of big names, they think that they are undertaking tremendous religious feats. The people of Makkah were suffering from this psychological affliction. They were proud that they were the inheritors of the House of God; that they were the descendants of the great Prophets, Abraham and Ishmael; they had the honour of being the servants of the Kabah. So, they thought that when they had such religious honours and performed such ‘religious’ deeds, it was not possible that God would cast them into hell.
ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم ناحق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا — یہ سب گھمنڈ کی باتیں ہیں۔ آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتاہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیداہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔
اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانونِ مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقینا ًمجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتاہے جب کہ اس کے اوپر حق وباطل کی وضاحت کا کام مکمل طورپر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگرا یک ایک دو دو آدمی اس سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کررہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہوجائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آچکی ہوں۔
امتوں میں بگاڑ آتاہے تو ایسانہیں ہوتاکہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ خوفِ خدا والا دین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم والا دین آجاتاہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدّیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہوکر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہوگئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔
مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں۔ ابراہیم واسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں۔ ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →