وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا قَالُواْ قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هَٰذَآ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
And when Our verses are recited to them, they say, "We have heard. If we willed, we could say [something] like this. This is not but legends of the former peoples
Literally, ‘We can also produce such a discourse. If we speak untruths why do stones not rain down upon us?’ All such talk arises from haughtiness. When a man finds himself in a safe position in this world; when he observes that he has lost nothing by denying the Truth or by ignoring it, a certain false self-confidence is created in him. He thinks that whatever he has been doing is perfectly right. This feeling makes him utter such words as are not uttered by anyone in normal circumstances. This daring on the part of such people can manifest itself only because of God’s law of respite. God certainly punishes the guilty, but He follows the principle of seizing a man only when the work of clarifying to him Truth and falsehood has been fully performed. Before the completion of this task, nobody is struck down. Furthermore, if during the process of the missionary call, even one or two people at a time are influenced and start reforming themselves, God withholds His retribution so that all those who wish to respond positively to the call of truth may have the time and opportunity to do so.
ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم ناحق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا — یہ سب گھمنڈ کی باتیں ہیں۔ آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتاہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیداہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔
اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانونِ مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقینا ًمجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتاہے جب کہ اس کے اوپر حق وباطل کی وضاحت کا کام مکمل طورپر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگرا یک ایک دو دو آدمی اس سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کررہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہوجائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آچکی ہوں۔
امتوں میں بگاڑ آتاہے تو ایسانہیں ہوتاکہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ خوفِ خدا والا دین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم والا دین آجاتاہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدّیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہوکر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہوگئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔
مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں۔ ابراہیم واسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں۔ ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →